Home Blog

ویب سائٹ کا ڈھانچہ بنانے کی اہمیت

0

ویب سائٹ کا ڈھانچہ بنانے کی اہمیت

ویب سائٹ کا ڈھانچہ مرتب کرنا کیوں اہم ہے۔

( سید عبدالوہاب شاہ )

ویب سائٹ کا ڈھانچہ مرتب کرنا کیوں اہم ہے۔ 

1۔ ویب سائٹ کے مواد کو گروپس میں تقسیم  کریں۔ 

2۔ ڈھانچےاور کیٹگریز  کو مینیو میں شامل کریں۔ 

3۔ کمپیوٹر اور موبائل کے لیے الگ الگ مینیو 

4۔ مواد کا یو آر ایل بہتر بنائیں ۔ 

5۔ اپنے تمام صفحات پر بریڈکرمب شو کریں۔ 

6۔ وزٹرز کے لیے سائٹ میپ بنائیں۔ 

جیسا کہ میں نے پچھلے مضمون میں یہ بتایا تھا کہ  آپ  ویب سائٹ کسی مقصد کے لیے بناتے ہیں۔ اور وہ مقصد تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب آپ کی ویب سائٹ پر ٹریفک زیادہ سے زیادہ آئے۔ ٹریفک لانے کے لیے ویب سائٹ کی سرچ انجن کے مطابق اصلاح کرنا ضروری ہے، جسے ایس ای او یعنی سرچ انجن آپٹیمائزیشن کہا جاتا ہے۔

ٹیکنیکل ایس ای او کا ایک اہم حصہ اپنی ویب سائٹ کا ایک ایسا ڈھانچہ تیار کرنا ہے جس سے گوگل سرچ کو آپ کی ویب سائٹ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ نہ صرف گوگل بلکہ وزٹر کے لیے بھی آسانی ہو اور ان کا قیمتی ٹائم ضائع نہ ہو۔ یعنی وزٹر کم سے کم کلکس پر اپنی مطلوبہ چیز تک پہنچ جائیں۔

آج کے مضمون میں چند ایسی ہی چیزوں کا ذکر کیا جائے گا جن کا تعلق ٹیکنیکل ایس ای او کے حصے سائٹ سٹکچر سے ہے۔

1۔ ویب سائٹ کے مواد کو گروپس میں تقسیم  کریں۔

سب سے پہلا کام یہ کریں کہ اپنی ویب سائٹ کے سارے مواد کی درجہ بندی کریں اور گروپس میں تقسیم کریں۔

مثلا: ہوم پیج،  پروڈکٹس،  بلاگ، آرٹیکلز، نیوز

پھر ان کی ذیلی درجہ بندی کریں، مثلا پروڈکٹس کے ذیل میں: کمپیوٹر، کپڑے، کھانے کی چیزیں، کھلونے وغیرہ۔

اسی طرح  نیوز کے ذیل میں ملکی خبری، انٹرنیشنل خبری، سائنس و ٹیکنالوجی کی خبری، سیاست کی خبریں وغیرہ۔

یہ درجہ بندی پیجز بنا کر بھی کی جاتی ہے، اور مختلف کیٹگریز بنا کر بھی کی جاتی ہے۔

2۔ ڈھانچےاور کیٹگریز  کو مینیو میں شامل کریں۔

جب آپ اپنی ضروت کے مطابق ڈھانچہ تیار کرلیں، یا درجہ بندی کر لیں تو اب ایک مینیو بنائیں جس میں وہ  ڈھانچہ دیا جا سکے جو آپ نے تیار کیا ہے۔

مینیو بناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ کا ہر پیج زیادہ سے زیادہ تین کلکس کی دوری پر ہونا چاہیے۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ آپ کے کسی پیج پر پہنچنے کے لیے وزٹر کو چار، پانچ یا چھ سات کلکس کرنے پڑیں۔ یہ چیز یوزر ایکسپیرنس کو خراب کرتی ہے۔ اس لیے کسی مینیو کے اندر سب مینیو بنانے سے اجتناب کریں۔ البتہ اگر ضرورت ہو تو سب مینیو بنایا بھی جاسکتا ہے۔

3۔ کمپیوٹر اور موبائل کے لیے الگ الگ مینیو

چونکہ کمپیوٹر اور موبائل کا ڈسپلے مختلف ہوتا ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ موبائل کے لیے الگ مینیو اور کمپیوٹر کے لیے الگ مینیو بنایا جائے۔

چونکہ کمپیوٹر کی سکرین بڑی ہوتی ہے اور اس میں آپ زیادہ تفصیلی مینیو بھی بنا لیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن موبائل میں بہت بڑا مینیو بنانے سے کئی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلا اگر آپ نے بہت بڑا مینیو بنایا تو موبائل کی سکرین پر سارا نظر نہیں آئے گا اور وزٹر سارا مینیو دیکھنے کے لیے انگلی سے نیچے یا اوپر کرنے کی کوشش کرے گا تو مینیو بند ہو جائے گا، اسی طرح اور کئی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے موبائل کے لے الگ اور مختصر مینیو بنانا چاہیے۔

4۔ مواد کا یو آر ایل بہتر بنائیں ۔

بہترین یو آر ایل وہ کہلاتا ہے جو مختصر بھی ہو،  اور اسے  وزٹر یاسرچ انجن کو سمجھنے میں آسانی بھی ہو۔ مثلا:

Home page / Electronics / Android / Samsung / A52-128gb

اس یو آر ایل کو دیکھ کر وزٹر اور گوگل دونوں کو بہت رہنمائی ملتی ہے۔ مثلا: اگر آخری حرف ہٹا دیا جائے تو سام سنگ کے تمام موبائل سامنے آجائیں گے، اور اگر سام سنگ کو بھی ہٹا دیا جائے تو، تمام اینڈا رائیڈ موبائل سامنے آجائیں گے، اور اگر اینڈا رائیڈ کو بھی ہٹا دیا جائے تو آپ کی ویب سائٹ پر تمام الیکٹرانکس پروڈکٹس سامنے آجائیں گیں۔

نوٹ:

 اگر آپ اپنے URL کو  تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو آپ کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی SEO اور درجہ بندی سے محروم نہ ہو جائیں۔  اس لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ 301 ری ڈائریکٹ کا استعمال ضرور کریں تاکہ صارفین اور سرچ انجنوں کو معلوم ہو سکے کہ صفحہ کا URL تبدیل ہو گیا ہے۔

5۔ اپنے تمام صفحات پر بریڈکرمب breadcrumbs شو کریں۔

جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بتایا کہ یو آر ایل ایسا بنائیں کہ وہ وزٹر اور گوگل دونوں کی مکمل رہنمائی کرے، اور اس میں آپ کے دیگر صفحات بھی نظر آرہے ہوں اور جب یو آر ایل سے کسی لفظ کو مٹایا جائے تو اس سے پچھلا والا صفحہ اوپن ہو جائے۔

بالکل ایسے ہی بریڈ کرمب کا معاملہ بھی ہے۔ بریڈ کرمب میں بھی آپ کے صفحہ کا پورا پاتھ نظر آتا ہے، اسی لیے بریڈ کرمب کو چھپانا نہیں چاہیے بلکہ بریڈکرمب نظر آنے چاہیں۔

بریڈ کرمب کے ذریعے وزٹر اور گوگل دونوں مزید صفحات تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔

breadcrumbs desktop 1

6۔ وزٹرز کے لیے سائٹ میپ بنائیں۔

ایک سائٹ میپ گوگل کے لیے بنایا جاتا ہے، جب کہ جس سائٹ میپ کی میں بات کر رہا ہوں یہ اس سے الگ ہے، یعنی وزٹرز کے لیے سائٹ میپ بنانا۔ اس سائٹ میپ کا مقصد ویب سائٹ پر موجود تمام صفحات، کیٹگریز اور دیگر اہم چیزوں کو ایک پیج پر ایک نظر کے سامنے لانے ہے۔ عام طور پر یہ سائٹ میپ ویب سائٹ کے فوٹر میں بنادیا جاتا ہے، جہاں وزٹر ایک ہی نظر میں ویب سائٹ پر موجود مواد کو دیکھ لیتے ہیں اور پھر اپنی ضرورت کے مطابق کلک کرتے ہیں۔ چونکہ اس سے وزٹرز کو سہولت ملتی ہے اس لیے اسے بنانا بھی بہت ضروری ہے۔

یاد رکھیں آپ اپنے وزٹر کو جتنی سہولت دیں گے، اور جتنی آسانی پیدا کریں گے، وزٹر اتنا ہی خوش ہوگا۔ گوگل بھی ایسی ہی ویب سائٹس کو رینک دیتا ہے جو وزٹرز کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرتی ہیں۔

شکریہ

عود کیا ہے

0

 عود ہندی  

لاطینی:

Aquilaria Agalocha

دیگر نام:

  عربی میں عود غرقی ٗ فارسی میں عود ہندی ٗ سندھی میں اگر کاٹھی ٗ سنسکرت میں اگرو جبکہ انگریزی میں ایگل وڈ کہتے ہیں ۔

ماہیت:

  ایک سدا بہار درخت ستر سے سو فٹ اونچا ہوتا ہے۔  جب یہ درخت تیس چالیس برس کا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے اندر ایک سیاہ ٗ وزنی خوشبودار مادہ پیدا ہو کر لکڑی کے وزن کو بھاری کر دیتا ہے اور وہ سوکھی لکڑی بھی پانی میں ڈوب جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کو عود غرقی کہا جاتا ہے ۔

Aquilaria Agalocha اگر عود 3

چھال پتلی ٗ مضبوط اور ہموار ہوتی ہے۔  اس کی شاخیں نرم اور ملائم ہوتی ہیں۔  پتے دو تین انچ لمبے چمکدار اور بانسہ کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں اور اپنے ڈنٹھل کے ذریعے مضبوطی سے لگے رہتے ہیں۔  آندھی سے بھی نہیں گرتے۔  پھول چھتر دار ملائم سفید رنگ اور موسم بہار میں لگتے ہیں۔  جب پھول جھڑ جاتے ہیں تو اس کے بعد پھل لگتے ہیں۔ جو ڈیڑھ سے دو انچ لمبے باہر کی طرف مخملی اور اندر کی طرف گھنے بالوں والے پیدا ہوتے ہیں اور امرود کی شکل کے ہوتے ہیں ۔

مقام پیدائش:

  آسام ٗ مشرقی ہمالیہ ٗ سلہٹ ٗ کھاسیاں کی پہاڑیوں ٗ پوربی بنگال ٗ برما وغیرہ میں کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔  بنگلہ دیش کا عود بہتر خیال کیا جاتا ہے۔  رنگ سیاہ اور بھورا لیکن سیاہ رنگ کی لکڑی بہ نسبت ہلکے رنگ والی لکڑی کے زیادو بہتر اور قیمتی ہوتی ہے۔

ذائقہ اور بو:

  تلخ ٗ تیز اور خوشبودار ۔

مزاج:

  گرم و خشک درجہ دوم

افعال:

  مقوی اعضائے رئیسہ ٗ مقوی معدہ ٗ کاسر ریاح ٗ ملطف و مفتاح ٗ مطیب دہن ٗ منفث بلغم ۔

استعمال:

  ضعف معدہ و کمی بھوک کو دور کرتا ہے مقوی باہ ادویہ میں شامل کرتے ہیں یعنی مقوی اعضائے رئیسہ ٗ مقوی معدہ اور ملطف ہونے کی وجہ سے تقویت کے لئے بکثرت استعمال کی جاتی ہے اگر کھانا ہضم کرتا ہے اور پیٹ کی غلط ریاح تحلیل کرتا ہے اور منفث بلغم ہونے کی وجہ سے بلغمی کھانسی اور دمہ میں استعمال کرتے ہیں۔  محافظ جنین ہے اس کو کھانے کے علاوہ زیر ناف بھی لٹکتے ہیں۔  منہ کی بدبو کو دور کرنے کے لئے اسے منہ میں رکھ کر چباتے ہیں یا “اگر”  کا باریک سفوف پیس کر پان میں ڈال کر چباتے ہیں نیز اس کا منجن دانتوں اور مسوڑوں کو فائدہ (agarwood benefits) بخشتا ہے اس کی لکڑی کی خوشبو سے ہوا مہک سی جاتی ہے ۔ اور اس کی دھونی بھی خوشبودار ہوتی ہے۔  کپڑوں پر اس کا سفوف چھڑکنے سے کھٹمل اور جوئیں دور ہو جاتے ہیں ۔

نفع خاص:

  مقوی اعضائے رئیسہ۔

مضر:

محرورین۔

مصلح:

کافور /غلاف

بدل:

  دار چینی ٗ قرنفل ٗ زعفران وغیرہ

کیمیاوی صفات:

  اڑنے والا تیل ٗ فکسڈ آئیل ٗ رال جو الکحل میں حل ہو جاتی ہے لیکن ایتھر میں حل پزیر نہیں ۔

مقدار خوراک:

  تین سے چار گرام (ماشہ)

تاج المفردات

(تحقیقاتِ)

خواص الادویہ

ڈاکٹروحکیم نصیر احمد طارق

Aquilaria Agalocha اگر عود agar wood Powder 4


عود (Oud (Agar Wood 

عود ’’اگر‘‘ کی لکڑی جو سونے سے زیادہ قیمتی ہے!
عرب لوگ زمانہ قدیم سے عود کی دھونی لیتے ہیں!
Aquilaria Agalocha اگر عود agar wood 2 5
‎خانہ کعبہ کے اندر آج بھی آپ کو مختلف تاریخی ادوار کے بخور دان لٹکے نظر آئیں گے جو
یہاں عود اور دیگر خوشبویات کے بخور دینے کے لئے استعمال ہوتے آئے ہیں۔
عود کے درخت برما کمبوڈیا ویتنام اور سری لنکا میں پائے جاتے ہیں!
‎ایک بیماری جو اگر کے درخت کو خاک سے لاکھ کا کردیتی ہے!
غلاف کعبہ اور حجر اسود کو بھی خالص عود لگایا جاتا ہے!
بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک کلو عمدہ عود کی لکڑی کی قیمت 30ہزار ڈالر یعنی تقریبا” 45 لاکھ روپے ہے!

عود کی نایاب قسم کیا ہے؟

رسول اللہ ﷺ کو عطر بہت پسند تھا۔ خاص طور پر مشک اور عود کی خوشبو محبوب تھی۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تمہیں چاہئے کہ عود ہندی کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔ان میں ایک ذات الجنب۔۔۔۔
’’
عودِ ہندی دوقسم کی ہوتی ہے، ایک تو قسط، جو دوائوں میں مستعمل ہے اور اسے عام طور پر قسط کہتے ہیں اور دوسری قسم کو خوشبو میں استعمال کیا جاتا ہے اس کو القرہ کہتے ہیں، سب سے عمدہ سیاہ اور نیلگوں رنگ کی ہوتی ہے جو سخت، چکنی اور وزن دار ہوتی ہے اور سب سے خراب ہلکی پانی پر تیرنے والی ہوتی ہے۔مزاج گرم خشک ہے ، مقوی قلب وحواس ہے۔
’’ آنحضرتﷺ نے کئی مرتبہ القرہ میں کافورڈال کر بخور کیا ہے۔‘‘( ابودائود)
اور عودِ ہندی ، جسے قسط کہتے ہیں، اس کے بارہ میں ارشاد نبویﷺ ہے:’’ تم اس عودِ ہندی کو لازم جانو کہ اس میں سات طرح کی شفاء ہے ،عذرہ بیماری میں اس کا سعوط کیا جاتا ہے اور ذات الجنب میں لدود کرتے ہیں۔( رواہ البخاری)
عود کی خوشبو سونگھتے ہی سب سے پہلے حجر اسود اور غلاف کعبہ کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ وہ خوش نصیب افراد جنہیں حج یا عمرے کی سعادت نصیب ہوئی ہے اور خانہ کعبہ میں حاضری کا موقع ملا ہے، انہوں نے دوران طواف حرم کے ماحول میں ایک مخصوص خوشبو رچی بسی محسوس کی ہوگی۔ یہ مخصوص خوشبو معطر غلاف کعبہ سے پھوٹتی ہے اور اس دھونی میں بھی ہوتی ہے جس کا اہتمام خاص اوقات میں حرم مکی میں کیا جاتا ہے۔ یہ دھونی بخور میں ایک مخصوص لکڑی میں موجود ریزش کے سلگنے سے اُٹھتی ہے۔ یہ عود (Oud) کی خوشبو ہے۔ یہ وہی عود ہے جسے اگر (Agar) کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
برصغیر اور مشرق بعید میں بھی ماحول کو خوشبو دار بنانے کے لئے اگر بتی زمانہ قدیم سے استعمال ہورہی ہے۔ اس کو اگر بتی اسی لئےکہا جاتا ہے کہ بانس کی باریک تیلیوں پر عود یعنی اگر کی لکڑی کے برادے کو چپکا کر اسے مقدس مذہبی مقامات پر خوشبو کے لئے سلگایا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عود مہنگا ہوتا گیا اور اس کی جگہ اگر بتی کی تیلی پر دوسرے سستے خوشبودار مصالحے استعمال کئے جانے لگے۔
Aquilaria Agalocha اگر عود agar wood 1 6

عود کی اقسام

عود کی کئ اقسام ہوتی ہیں جن میں سیاہ، زرد، زمردی اور سفید شامل ہیں۔ عمدہ قسم کا عود پانی میں ڈوب جاتا ہے اس لئے اس کو عود غرقی بھی کہا جاتا ہے۔ لاطینی زبان میں اس کا نام (Aloexylon, Agalloch) ہے۔
عود اس وقت دنیا کی قیمتی ترین لکڑی ہے جس سے دنیا کا سب سے بیش قیمت پرفیوم تیار کیا جاتا ہے۔ عود کی لکڑی ایک خاص قسم کےسدا بہار درخت ایکولیریا (Aquilaria) سے حاصل کی جاتی ہے جو صرف جنوب مشرقی ایشیا کے چند مخصوص ممالک میں پایا جاتا ہے۔ اس کی لکڑی میں ایک خاص قسم کا گوند پایا جاتا ہے جس کے سلگنے سے خوشبو پیدا ہوتی ہے۔
ایکولیریا کے ہر درخت میں عود نہیں ہوتا لیکن خدا کی شان کہ جب یہ درخت ایک خاص قسم کی پھپھوندی (Mould) جسے ‏ (Phialophora parasitica) کہا جاتا ہے سے متاثر ہوتا ہے تو اس میں عود پیدا ہوجاتا ہے۔ عام عود کے درخت میں کسی قسم کی خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس پھپھوند سے متاثر ہونے کے بعد اس میں سرخی مائل گوند پیدا ہوجاتا ہے جسے عود یا اگر کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اور برادہ اگردانوں یا بخور دانوں میں سلگا کر دھونی دی جاتی ہے۔ عرب حضرات عود کی دھونی کے انتہائ شوقین ہیں اور عود کی دھونی لینا ان کی تہزیب و روایات میں شامل ہے۔
عود کا ذکر ہمیں دنیا کی قدیم ترین مذہبی کتاب سنکرت کی رگ ویدا میں بھی ملتا ہے جو کہ 1400 BC میں لکھی گئ تھی۔ اس کتاب میں عود کے طبی فوائد بیان کئے گئے ہیں جو آ یور ویدک طریقہ علاج کہلاتا ہے۔
اگر کا لفظ سنسکرت کے لفظ اگورو سے نکلا ہے جبکہ عربی میں اس کو عود کہا جاتا ہے جس کے لغوی معنی چھڑی یا لکڑی کے ہیں۔ قدیم تاریخ کے مطابق عود کے درختوں کی پیداوار ویتنام سے شروع ہوئ تھی۔ ہندو، بدھ ،اور مذہب اسلام میں اسے ایک متبرک اور مقدس مقام حاصل ہے کہ اس کو مزہبی و مقدس عبادت گاہوں میں بطور بخور سلگایا جاتا ہے۔
اس کے درخت میں چپٹا سا پپیتے نما پھل بھی گچھوں کی صورت میں لگتا ہے جس کے اندر اگر کے درخت کے بیج ہوتے ہیں۔
عود کی لکڑی سے تیل نکال کر اس سے عطر اور پرفیومز تیار کئے جاتے ہیں جو دنیا کے سب سے مہنگے پرفیوم مانے جاتے ہیں کیونکہ یہ اگر کی جس لکڑی سے تیار کئے جاتے ہیں وہ سونے سے بھی زیادہ مہنگی ہے۔
‎قدیم آیور ویدک اور چینی طریقہ علاج میں اگر کے تیل کو بطور دوا استعمال کیا جاتا تھا جس کے مندرجہ ذیل طبی فوائد بیان کئے جاتے ہیں۔

دماغ اور اعصاب کو سکون بخشتا ہے

‎خواب آور ہے، ہڈی اور جوڑوں کے درد کو مفید ہے، مختلف اقسام کی الرجیز کے نافع ہے۔ ہاضمے کی خرابی دور کرتا ہے۔ کینسر اور جلدی امراض میں فائدہ کرتا ہے۔
. جو لوگ مراقبہ یا اس قسم کی ذہنی مشقیں کرتے ہیں یا پاکیزگئ نفس کے خواہش مند ہیں انھیں بخورات عود و عنبر بہت فائدہ دیتے ہیں.
گھریلو بی بیاں اگر شوہر کے گھر لوٹنے سے پہلے ذرا سا بخور عود سلگا دیا کریں تو یہ ذہنی تھکاوٹ بھگانے اور موڈ بلاوجہ خوشگوار کرنے کا سبب بھی بنتا ہے،
‎اس کے پانچ ملی لیٹر آئل کی قیمت چارسو ڈالر ہوتی ہے۔
دنیا میں عود کا سب سے زیادہ استعمال عرب ممالک اور مشرق وسطی میں کیا جاتا ہے۔ عرب لوگ نہ صرف عود کا عطر استعمال کرتے ہیں بلکہ گاہے بگاہے اس کی دھونی بھی لیتے رہتے ہیں جس کے لئے ایک مخصوص ساخت کے بخورردان استعمال کئے جاتے ہیں۔یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ مختلف علاقوں کے عود کی خوشبو بھی مختلف ہوتی ہے۔
مغربی ممالک کے پرفیوم ساز ادارے تو کافی عرصہ سے عود کی خوشبو پر مشتمل پرفیومز اور کلوز تیار کررہے ہیں لیکن اب کچھ عرصہ سے چین کے سرمایہ کاروں نے بھی عود کی مصنوعات تیار کرنا شروع کردی ہیں جس نے عود کی قیمت کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ دن بدن خالص عود کی دستیابی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے۔
سعودی عرب کے کچھ تاجر ایسے بھی یں جن کا آباواجداد سے خاندانی پیہ عود کی خرید و فروخت ہے۔ یہ لوگ عود کی پہچان کے اس قدر ماہر ہیں کہ محض عود ی لکڑی کی آواز سن کر یا اس کو دانتوں تلے دبا کر ذائقہ محسوس کر کے عود کی کوالٹی بتا سکتے ہیں بلکہ اس کا کس ملک یا علاقے سے تعلق بھی بتادیتے ہیں۔
عود کی لکڑی جس درخت سے حاصل کی جاتی ہے اس کا مشہور عام نام ایکیولیریا ہے۔ دن بدن اگر کی بڑھتی ہوئ طلب کی وجہ سے اس درخت کی کٹائ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کہ وجہ سے یہ درخت معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ جنوبی ایشیا ے کئ ممالک نے اس درخت کی کٹائ پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ عود برامد کرنے والے ممالک انڈونیشیا، ملائشیا اور میانمار نے اس کی برامد کا ایک کوٹا مقرر کررکھا ہے جبکہ اس کی کھپت اور طلب میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں ایک کلوگرام عود کی لکڑی کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے بھی زائد ہوچکی ہے۔
عود کے بیش و بہا ہونے کی وجہ اس کی کمیابی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایکیولیریا کے ہر درخت میں عود موجود نہیں ہوتا بلکہ بمشکل دو فیصد درختوں سے عود دستیاب ہوتا ہے۔ عود کی لکڑی کے جنگلات میں ہر دس میں سے ایک درخت میں یہ نایاب جوہر ملتا ہے۔
عود کے درخت کی لکڑی میں بیرونی طور پر ایسی کوئ شناخت نہیں ہوتی جس سے پتہ چل سکے کہ اس میں عود موجود ہوگا۔ اگر کچھ معمولی سی علامت مل بھی جائے تو بھی اس درخت کو کاٹے بغیر یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ اس میں عود کی کتنی مقدار شامل ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ایکولیریا کے درخت بنا سوچے سمجھے کاٹے جارہے ہیں۔ کئ ممالک نے اس درخت کی کٹائ پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہے۔ اس درخت کو ” کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان انڈیجرڈ اسپیشز آف وائلڈ فوانا اینڈ فلورا” (CITES) کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے جس کے تحت کچھ ممالک میں اس درخت کی کٹائ پر مکمل پابندی جبکہ کچھ ممالک کو اس کو کاٹنے کے لئے CITES کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا پڑتا ہے۔
کچھ عشروں قبل تک بھارتی آسام میں عود کے کافی جنگلات تھے لیکن اندھا دھند کٹائ نے آسام میں اس درخت کو معدومیت کے خطرے سے دوچار کردیا اور اب بھارت میں اس درخت کی کٹائ پر مکمل پابندی عائد ہے۔ جو ملک کبھی عود کا برامد کنندہ تھا وہ اب اپنی ضروریات کے لئے خود عود درامد کرنے پر مجبور ہے۔ کئ ممالک میں بڑے پیمانے پر اس درخت کی شجر کاری کی جارہی ہے لیکن بڑھتی ہوئ طلب پر اس کے کوئ اثرات نظر نہیں آتے۔
ہندوستانی ریاست آسام کے بغل میں ہی ایک اور ریاست ہے جسکا نام آگرتلہ ہے جہاں عود کو آگر بولا جاتا ہے وہاں عود کی اتنی پیداوار ہے کہ پوری ریاست کا نام ہی آگرتالہ پڑ گیا.
معروف عطر کمپنی اجمل و عنفر کے مالکان آسام کے ہی رہنے والے ہیں۔
ریاست آسام میں کریم گنج سیلہٹ سلچار وغیرہ عود کے لئے بہترین علاقہ ہے جہاں عود کے ساتھ ساتھ پہاڑوں پر چائے کی پتیاں بھی کاشت کی جاتی ہیں.
اس وقت تمام مشہور و معروف پرفیوم ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات میں عود پر انحصار کرتی ہیں۔ ایک مارکیٹ ریسرچ کمپنی NPD گروپ کے مطابق خوشبویات کی بیش قدر مارکیٹ میں عود سے تیار عطریات کی فروخت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ یہ مارکیٹ عالمی سطح پر 3؍ ارب ڈالر مالیت کا کاروبار کرتی ہے۔ 2013ء کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عود سے بنی خوشبویات کی فروخت میں 68؍ فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ فرانس کی ایک مشہور پرفیوم کمپنی ’’ہنری جیکس‘‘ گزشتہ 30؍ سال سے عود پر مبنی خوشبویات تیار کررہی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب مغرب میں عود کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ کمپنی کے بانی ہنری جیکس کی صاحبزادی اور ماہر عطریات این لیزکریمونا کا یہ کہنا ہے کہ اچانک ہر ایک کو عود کی خوبیوں کا پتہ چل گیا اور وہ اس کے سحر میں مبتلا ہوگیا ہے۔ٹام فورڈ
کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم میں سب سے پہلے چینی تاجر عود لے کر بزریعہ شاہراہ ریشم مشرق وسطی پہنچے تھے۔ آج بھی چینی تاجر عود کی تجارت پر چھائے ہوے ہیں بلکہ گزشتہ پندرہ سال سے تو چینی عود کی تجارت میں انتہائ سرگرم ہیں اور ان کی جانب سے عود کی بڑھتی طلب نے ہی عود کی قیمت کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ چینی لوگ اس کو ادویات میں بھی استعمال کرتے ہیں۔
اس وقت عود کی خریداری کا بڑا مرکز بنکاک کی عرب اسٹریٹ بھی ہے جہاں کمبوڈیا، ویتنام، سری لنکا اور برما سے عود منگوائے جاتے ہیں اوریہاں عام فروخت کے لئے ان کی کئی دکانیں موجود ہیں۔ یہ سارا جنگلی عود بلیک مارکیٹ عود کہلاتا ہے کیونکہ یہ ان ممالک سے برامد کیا جاتا ہے جہاں عود کے درختوں کی کٹائ پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اس دھندے میں پولیس اور کسٹم حکام سے لے کر انڈر ورلڈ مافیا تک سب ملوث ہیں۔ اس کالے دھندے کا آغاز عود کے جنگلات سے ہوتا ہے جہاں عود مافیا بھاری رشوت کے عوض چوری چھپے درخت کاٹتی ہے اور پھر پولیس اور کسٹم کی ملی بھگت سے یہ مختلف ذرائع اور چور راستوں سے بنکاک تک پہنچتی ہے۔تھائ لینڈ اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں کیونکہ اگر کے درختوں کی کٹائ پر مکمل پابندی عائد ہے اس لئے ان ممالک میں عود کی شجرکاری زور شور سے جاری ہے۔ ان درختوں کے تنوں اور شاخوں میں سوراخ کرکے ایک خاص کیمیکل داخل کیا جاتا ہے تاکہ یہ درخت اپنا گندہ بیروزہ تیار کرسکے۔ اس گندے بیروزے سے ہی عود حاصل کیا جاتا ہے۔ عام طور پر عود کے درخت کو دس سال تک بڑھنے دیا جاتا ہے جس کے بعد وہ عود حاصل کرنے کے قابل بنتا ہے۔ لیکن بہترین قسم کا عود حاصل کرنے کے لئے ان درختوں کو سوسال تک بڑھنے دیا جاتا ہے جس کے بعد ہی عمدہ ےرین عود کا حصول ممکن ہے۔
ہیرے سے زیادہ قیمتی لکڑی ” کینام”
اگر‘‘ کی لکڑیوں کے معیار کے لحاظ سے کئی درجے ہیں اور اگر کے ایک تجربہ کات تاجر کے بقول سب سے نایاب قسم کی عود کی لکڑی کو کینام (Kynam) کہتے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے کم پائی جانے والی لکڑی سمجھی جاتی ہے اور یہ ٹیٹانیم، یورینیم اور پلاٹینیم جیسی دھاتوں بلکہ ہیرے سے بھی زیادہ نایاب ہے۔ اس کی خوشبو ’’اگر‘‘ کی تمام قسموں میں سب سے زیادہ مسحور کن بتائی جاتی ہے۔ اس تاجر نے اپنے کسی خریدار کے لئے اب تک سب سے زیادہ مقدار میں جو کینام حاصل کیا ہے وہ 16؍کلوگرام ہے۔ اگر کی یہ لکڑی 600؍ سال پرانے درخت سے حاصل کی گئی تھی جس کے لئے دو کروڑ ڈالر وصول کئے گئے تھے۔ تاجر نے بتایا کہ کینام کی قیمت بلاشبہ ناقابل یقین ہے۔ ایک گرام کینام کیلئے 10؍ ہزار ڈالر طلب کئے جاسکتے ہیں۔ شنگھائی میں دو تین سال پہلے اس قیمتی لکڑی کا ایک ٹکڑا فروخت کیا گیا تھا اور دو کلوگرام کینام کیلئے ایک کروڑ 80؍ لاکھ ڈالر وصول کئے گئے تھے یعنی فی کلو اس کی قیمت 90؍ لاکھ ڈالر تھی۔

دنیا کا سب سے قیمتی درخت

بنکاک میں کمبوڈیا کی سرحد کے قریب ’’واٹ بانگ کرادان‘‘ کے نام سے بودھوں کا ایک مندر ہے۔ اس مندر میں اگر کی لکڑی کا ایک 200؍ سال پرانا درخت بھی موجود ہے اور اس درخت کی حفاظت کیلئے اس مندر میں فوجی جوان پہرہ دیتے ہیں۔ عود کے تاجروں کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ اس درخت سے کینام حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس مندر کے ایک پروہت کے مطابق جاپانی سرمایہ کاروں نے اس درخت کیلئے 2؍ کروڑ 30؍ لاکھ ڈالر کی پیشکش کر رکھی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اسے دنیا کا سب سے قیمتی درخت قرار دیا جاسکتا ہے۔
خلیجی ممالک دنیا بھر میں عود کے درآمدکنندگان میں سرِفہرست ہیں، اس کی خوشبودار دھونی مشرقِ وسطیٰ میں بہت مقبول ہے۔

ای کامرس سٹور پر کی جانے والی غلطیاں

0

ای کامرس سٹور پر کی جانے والی غلطیاں

Few Ecommerce Store Big Mistakes

( سید عبدالوہاب شاہ  )

ای کامرس سٹور کی چند غلطیاں

غلطی نمبر 1: ڈپلیکیٹ مواد

غلطی نمبر 2: تھوڑا مواد

غلطی نمبر 3:خراب یو آر ایل اور ٹائٹل.

غلطی نمبر5: پروڈکٹ کا اسکیما نہ بنانا

ای کامرس کی ویب سائٹ کا مقصد اپنی پروڈکٹ بیچ کر کمائی کرنا ہوتا۔ اور کمائی کرنے کے لیے ویب سائٹ کی مشہوری اور گوگل رینکنگ میں بہتری ضروری ہے۔ گوگل رینکنگ میں بہتری کے لیے بہترین ایس ای او کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ایس ای او بہتر نہیں ہوگی تو اس سے آپ کی آمدنی بھی متاثر ہوگی۔

غلطی نمبر 1: ڈپلیکیٹ مواد

چونکہ ایک ہی قسم کی پروڈکٹ کئی آن لائن سٹور فروخت کر رہے ہوتے ہیں ہیں اس لیے ان کا مواد بھی ان آن لائن سٹورز پر ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ بلکہ چھوٹے ای کامرس سٹور کے مالکان تو سارا مواد کاپی پیسٹ کر لیتے ہیں۔ ڈپبلیکٹ مواد گوگل ایس ای او کو خراب کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی غلطی ہے جس کی اصلاح تھوڑا مشکل کام ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ آپ کو اپنی پراڈکٹ کے لیے تھوڑا منفرد مواد لکھنا ہوگا۔ اسی طرح ویڈیوز یا تصاویر بھی اپنی خود کی بنائی ہوئی ہی اپلوڈ کرنا ہوں گی، ڈسکرپشن، ٹائٹل وغیرہ بھی منفرد لکھنا ہوگا تاکہ آپ کا سٹور باقی سٹورز سے مختلف اور منفرد رہے اور گوگل رینکنگ میں جگہ پا سکے۔

غلطی نمبر 2: تھوڑا مواد

ای کامرس ویب سائٹس پر ایک اور غلطی کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی پروڈکٹ کو پوسٹ کرتے وقت اس کا تحریری، یا تصاویری مواد بہت کم رکھا جاتا ہے۔ مثلا صرف ٹائٹل ، ایک لائن کی تفصیل، اور قیمت بس۔

یہ بہت بڑی غلطی ہے، کیونکہ اتنی مختصر مواد کو گوگل کے لیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں گوگل کسی ایسی ویب سائٹ کو سرچ میں اوپر دکھاتا ہے جسے وہ آسانی سے اور جلدی سے سمجھ لیتا ہے۔ کیونکہ گوگل سرچ کا مقصد لوگوں کو ان کی مطلوبہ چیز دکھانا ہے، جب آپ نے تفصیلی ڈسکرپشن ہی نہیں لکھی تو گوگل کیسے سمجھے گا کہ یہ چیز سرچ کرنے والے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

ای کامرس سٹور پر اس مسئلے سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے۔ آپ جب بھی کوئی پروڈکٹ پوسٹ کریں تو اس کی تفصیلی ڈسکرپشن لکھیں، اس کے ہر پہلو کو اجاگر کریں، آپ جتنا زیادہ لکھیں گے اتنا ہی زیادہ اس بات کا امکان پیدا ہوگا کہ گوگل آپ کی پروڈکٹ کو اچھا رینک دے۔

غلطی نمبر 3:خراب یو آر ایل اور ٹائٹل

ای کامرس ویب سائٹ پر ایک اور غلطی جو کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ پروڈکٹس کے یو آر ایل کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یو آر ایل کیسا ہے۔ مثلا

www.yourstore.com/product=198636?some code/8542

اس لنک کو دیکھ کر کچھ نہیں پتا چلتا کہ یہ کس چیز کا لنک ہے۔ اس لیے ایسے لنک بنانے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

آپ اس طرح کے لنک بنا سکتے ہیں مثلا

https://etop.com/product/shilajit/

اب اس لنک کو دیکھ کر ہر کوئی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ سلاجیت کا لنک ہے، اور نہایت مختصر لنک ہے جسے یاد بھی رکھا جاسکتا ہے۔

اسی طرح کسی بھی پروڈکٹ کا ٹائٹل لکھتے وقت بھی اس پروڈکٹ کا نام اور قسم ٹائٹل میں ضرور لکھیں۔ اگرچہ بظاہر یہ چیزیں معمولی نظر آتی ہیں لیکن سٹور کی ایس ای او میں ان کی بہت اہمیت ہے۔

غلطی نمبر4: ای کامرس سٹور موبائل فرینڈلی نہ ہونا۔

آج کے دور میں نیٹ استعمال کرنے والوں کی اکثریت موبائل پر ہی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کا استعمال کرتے ہیں۔ خاص طور پر عام عوام تو صرف موبائل کا ہی استعمال کرتی ہے۔ چونکہ لیپ ٹاپ  کی سکرین بڑی ہوتی ہے اور اس کا ڈسپلے اور طرح کا ہوتا ہے، یعنی دائی سے بائیں لمبا ہوتا ہے۔ جبکہ موبائل کی سکرین اور ڈسپلے اور طرح کا ہوتا ہے یعنی اوپر سے نیچے کی طرف لمبا ہوتا ہے۔

چنانچہ آپ کے سٹور کی تھیم اور ویب سائٹ کا موبائل فرینڈلی ہونا نہایت ضروری ہے، تاکہ جو لوگ موبائل پر دیکھتے ہیں آپ کی ویب سائٹ خود بخود موبائل میں اس کی سکرین کے مطابق اوپن ہو۔

غلطی نمبر5: پروڈکٹ کا اسکیما مارک اپ نہ بنانا

ای کامرس سٹور پر ایک بہت بڑی غلطی یہ بھی ہے کہ آپ اپنی پروڈکٹ کا اسکیما Schema نہیں بناتے۔

اسکیما آپ کی پروڈکٹ کی تمام تر اہم تفصیلات کو ایک بہترین ترتیب سے گوگل رزلٹ میں دکھاتا ہے، مثلا ٹائٹل، ڈسکرپشن، قیمت، ریٹنگ اور دیگر جو کچھ آپ دکھانا چاہیں۔

جب گوگل میں کسی بھی پروڈکٹ کی اتنی ساری تفصیل ایک کلک پر نظر آتی ہے تو سی ٹی آر، یعنی کلک کرنے کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔

دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کو آپ کا لنک ایک پروفیشنل لگتا ہے، اور وہ ایک بار ضرور وزٹ کرتا ہے۔

تیسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ گوگل کو بھی کسی پروڈکٹ کی اتنی تفصیل جب پتا چلتی ہے تو وہ اسے بہتر رینک دیتا ہے۔

تخم اسپت

0

پنارناوا (تخمِ اِسپت)

تخم اسپت Punarnava

پنارناوا (تخمے اسپت) کے لفظی معنی ہیں ‘زندگی میں واپس لانا’ یا ‘تجدید کرنے والا’۔ یہ ایک کریپر ہے جو ہندوستان اور برازیل میں سال بھر جنگلی اگتا ہے لیکن گرمیوں میں سوکھ جاتا ہے۔ یہ سردیوں میں چھوٹے گوشت دار پتے، چھوٹے سرخی مائل گلابی پھول اور پھل دیتا ہے۔ یہ ذائقہ میں کڑوا ہے اور ٹھنڈک کا اثر رکھتا ہے۔ اس کی دواؤں کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

پہچان

تخم اسپت یعنی پنارناوا، اور بسکھپرا (تخم اسپست) ان دونوں میں تھوڑا سا فرق ہے لیکن یہ دونوں ایک ہی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس کے نام کی طرح یہ پورے جسم کو جوان بناتا ہے یعنی پنارناوا کے معمول کے استعمال سے ایک آدمی دوبارہ جوان ہو جاتا ہے۔ پنارناوا نظام انہضام کو درست کرتا ہے، سیال کی برقراری کو کم کرتا ہے اور دل کی بیماریوں میں بہت مفید ہے۔ پنارناوا خون کی کمی، ہرنیا اور سانس کی تکلیف میں بھی فائدہ مند ہے۔ Punarnava کو جگر کے مسائل میں بھی لیا جا سکتا ہے۔

Punarnava تخم اسپت 11

علاج اور استعمال:

معدہ، یرقان کے علاج میں تجویز کیا جاتا ہے۔ ہضم کی طاقت کے لیے دیا جاتا ہے، تلی کا بڑھ جانا کی بیماری میں استعمال کیا جاتا ہے، پیٹ کے درد کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پنارناوا میں اعلیٰ غذائیت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے اپنے صحت کے فوائد کے لیے پہچانا جاتا ہے اور زمانہ قدیم سے ہی اس کا وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ پنارناوا کے 100 گرام میں، آپ کو روزانہ تجویز کردہ خوراک کا کل 1.61 فیصد چربی ملے گی۔ اس میں 162 ملی گرام سوڈیم اور پروٹین کی روزانہ تجویز کردہ خوراک کا 2.26% ہے۔ اس میں 44.8 ملی گرام وٹامن سی کے ساتھ ساتھ 142 ملی گرام کیلشیم بھی ہے۔ اس میں 0.012 ملی گرام آئرن بھی ہوتا ہے۔ یہ غذائی اجزاء جسم کے صحت مند اور موثر کام کے لیے انتہائی اہم ہیں اور بہت سی بیماریوں اور انفیکشنز کو روکنے کے ساتھ ساتھ بہت سی بیماریوں کا علاج بھی کر سکتے ہیں۔

پنارناوا کے صحت کے فوائد:

Punarnava 12

جگر

جگر جسم کے اہم ترین اعضاء میں سے ایک ہے۔ جب جسم پر حملہ ہوتا ہے تو یہ سخت محنت کرتا ہے اور ایک غیر صحت مند جگر بیماری کے دوران اضافی تھکاوٹ اور تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ Punarnava جگر کے لیے بہت اچھا ہے۔ یہ صفرا کے اخراج کو مستقل بنیادوں پر متحرک کرنے میں مدد کرتا ہے، جو جگر کو صحت مند اور فعال رکھتا ہے۔

پیشاب انفیکشن

خواتین میں پیشاب کی نالی کے انفیکشن بہت عام ہیں، حالانکہ یہ مردوں کو بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ بہت زیادہ تکلیف کا باعث بنتے ہیں، ساتھ ہی پیشاب کرتے وقت جلن کا احساس بھی ہوتا ہے۔ پنارناوا میں اینٹی اسپاسموڈک، اینٹی مائکروبیل اور اینٹی سوزش خصوصیات ہیں۔ یہ سب مل کر UTIs کے لیے ایک لاجواب علاج کے طور پر کام کرتے ہیں، جس سے کسی بھی وقت انفیکشن کو مؤثر طریقے سے صاف کیا جاتا ہے۔ اس جڑی بوٹی کو حمل کے دوران UTIs کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے ماں یا بچے پر کوئی منفی اثرات نہیں ہوتے۔

موٹاپا

پنارناوا کے وسیع پیمانے پر مشہور فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ یہ موٹاپے سے لڑنے میں مدد کرتا ہے۔ مارکیٹ میں زیادہ تر ہربل سلمنگ فارمولوں میں پنارناوا ہوتا ہے کیونکہ یہ بہت موثر ہے۔ یہ جڑی بوٹی جسم کو مطلوبہ پوٹاشیم یا الیکٹرولائٹس کو کھونے کے بغیر، اخراج کو تیز کرنے اور جسم سے اضافی سیالوں کے اخراج میں مدد کرتی ہے۔ لہذا، یہ جسم میں وزن میں کمی کو فروغ دیتا ہے. یہ ایک ہلکا جلاب بھی ہے۔

گردے

Punarnava ایک موتروردک ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ باقاعدگی سے اور کافی مقدار میں پیشاب کو تحریک دیتا ہے۔ اس سے جسم کو صاف رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ مزید برآں، باقاعدگی سے پیشاب کرنا گردوں میں جمع کیلشیم کو بھی صاف کرتا ہے، اس طرح گردے کی پتھری کو ہونے سے روکتا ہے۔

ذیابیطس

اگر مناسب طریقے سے کنٹرول نہ کیا جائے تو ذیابیطس انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ پنارناوا ایک جڑی بوٹی ہے جو آپ کو ذیابیطس پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پتے (اور پتوں سے حاصل ہونے والا عرق) جسم میں موجود گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔ یہ پلازما انسولین کی سطح کو بڑھانے میں بھی مدد کرتا ہے، جو ان کے لیے بھی اچھا ہے۔

دل

Punarnava دل کی ناکامی کو روکنے میں آپ کی مدد کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کام کے بوجھ کو کم کرتا ہے جو دل پر ورم پیدا کر کے ڈالتا ہے۔ اس کے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند ہونے کے لیے، اسے مثالی طور پر ارجن چھال کے پاؤڈر کے ساتھ ملایا جانا چاہیے، یا زیادہ سے زیادہ نتائج کے لیے دل کی خرابی کے لیے کسی اور جڑی بوٹی کے علاج کو۔

مردانہ کمزوری

نامردی ایک بہت بڑا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ پنرناوا کے بیج ان لوگوں کے لیے بے حد فائدہ مند ہیں جو نامردی کا شکار ہیں۔ یہ پورے مردانہ تولیدی اعضاء کو بحال کرنے میں مدد کر سکتا ہے، اور بہت زیادہ جیورنبل اور جوش پیدا کر سکتا ہے، اور یہ آپ کی لبیڈو کو بھی بڑھاتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پیدا ہونے والے منی کے مجموعی معیار کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ عضو تناسل کی خرابی کا ایک اچھا گھریلو علاج بھی ہے۔

پیٹ کے امراض

اگر آپ پیٹ کے امراض میں مبتلا ہیں تو پنارناوا ایک بہترین جڑی بوٹی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پیٹ کے پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ آنتوں کے کیڑوں کو بھی مار سکتا ہے اور ان سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے، جو کہ ایک اہم کام ہے کیونکہ کیڑے آپ کے جسم میں کافی نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور بھوک اور موت کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ آنتوں کے درد کو روکنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

لبوب کبیر اجزاء، فوائد اور بنانے کا طریقہ

0

لبوب کبیر

( سید عبدالوہاب شاہ )

طب یونانی اور طب اسلامی کا مشہور معجون ہے۔ جسے خاص طور پر مردانہ کمزوری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لبوب کبیر میں تقریبا اڑتالیس سے پچاس اجزاء شامل ہیں، جن میں بعض بہت مہنگے بھی ہیں، چنانچہ آج کل کئی لوگ ان مہنگے اجزاء کو نکال کر باقی اجزاء سے بھی لبوب کبیر تیار کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ بھی مفید ہی ہوتے ہیں لیکن اصل اجزاء مہنگے والے اجزاء ہی ہیں جن کو شامل کیے بغیر مکمل فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

لبوب کبیر کے اثرات

لبوب کبیر کے بارے ایک بات یاد رکھنی چاہیے یہ کوئی سٹیرائیڈ نہیں ہے، یا انگریزی ادویات کے طرح سریع الاثر یا فوری اثرات ظاہر نہیں کرتا، بلکہ اس کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں، اس لیے سردیوں کے موسم میں ایک سے دو ماہ تک مسلسل اس کو استعمال کرنا چاہیے۔

لبوب کبیر برائے خواتین

لبوب کبیر کو نہ صرف مرد استعمال کرسکتے ہیں بلکہ خواتین بھی استعمال کرسکتی ہیں، خاص طور وہ خواتین جو گھر کا کام کاج کرتی ہیں جس سے تھکاوٹ، نکاہت اور پٹھوں کی کمزوری اور کھچاو ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ان خواتین کو بھی استعمال کرایا جاسکتا ہے جن میں جنسی خواہش کم ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی، اس کے مسلسل ایک دو ماہ استعمال سے جنسی خواہش میں اضافہ ہوگا۔

کمپنیوں کا لبوب کبیر

لبوب کبیر مختلف ہربل کمپنیاں بھی تیار کرتی ہیں لیکن وہاں بھی اسی بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ شاید اس میں مہنگے والے اجزاء شامل نہ کیے گئے ہوں۔ اور پھر کمپنی کا لبوب کبیر قیمت کے لحاظ سے بھی مہنگا پڑتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہوتا  ہے کہ یا تو خود بنایا جائے اور یا قابل اعتبار حکیم سے بنوا لیا جائے یا منگوا لیا جائے۔

لبوب کبیر کے فوائد

  • مقوی باہ و مردانہ کمزوری کو دور کرے۔
  • مادہ منویہ کو پیدا کرے۔
  • ٹائمنگ میں اضافہ کرے۔
  • عام جسمانی کمزوری کو دور کرے۔
  • کام کاج کے بعد تھکاوٹ اور نکاہت کو دور کرے۔
  • اعصاب اور پٹھوں کو طاقت دے۔
  • گردوں کو طاقت دے اور صحت مند بنائے۔

Laboob e Kabir 1

اجزائے نسخہ:

  1. ثعلب مصری 30گرام
  2. نارجیل دریائی 30گرام
  3. مغز چڑیا بریاں 30گرام
  4. مغز پستہ 15گرام
  5. مغز بادام 15گرام
  6. مغز فندق 15گرام
  7. مغز حبۃ الخضرا 15گرام
  8. مغز اخروٹ 15گرام
  9. مغز چلغوزہ 15گرام
  10. مغز حب الزلم 15گرام
  11. ماہی روبیاں (جھینگا مچھلی) 15گرام
  12. شقاقل مصری 15گرام
  13. خولنجاں 15گرام
  14. خشخاش 30گرام
  15. بہمن سرخ 15گرام
  16. بہمن سفید 15گرام
  17. تودری سرخ 15گرام
  18. تودری زرد 15گرام
  19. سنڈھ 15گرام
  20. کنجد (تل سفید) 15گرام
  21. دارچینی 15گرام
  22. سورنجاں شیریں 12گرام
  23. بوزیدان 12گرام
  24. نعناع خشک (پودینہ کی قسم)  12گرام
  25. بالچھڑ (سنبل الطبیب) 10گرام
  26. سعد کوفی 10گرام
  27. قرنفل (لونگ) 10گرام
  28. کباب چینی 10گرام
  29. اندر جو شیریں 10گرام
  30. درونج عقربی 10گرام
  31. نرکچور 10گرام
  32. حب القلقل (اناردانہ دشتی) 10گرام
  33. تخم گاجر 10گرام
  34. تخم مولی 10گرام
  35. تخم شلجم 10گرام
  36. تخم پیاز 10گرام
  37. تخم اسپت 10گرام (تخم اسپست، تخم بسکھپرا بھی اسی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں)
  38. تخم ہلیلون (ہالو) 10گرام
  39. جوزبواء (جائفل) 6گرام
  40. بسباسہ (جلوتری)  6گرام
  41. چھڑیلہ (اشنہ)  6گرام
  42. عود 5گرام
  43. زعفران 12گرام
  44. مصطگی رومی 12گرام
  45. ورق نقرہ 36 عدد
  46. ورق سونا 18 عدد
  47. عنبر 3گرام
  48. مشک (کستوری)  1گرام

طریقہ تیاری:

مغزیات کو الگ پیس کر رکھیں اور باقی ادویات کو الگ پیس کر رکھیں۔

تمام ادویات کا جتنا وزن ہے اس کے تین گناہ شہد لیں، اور ہلکا سا گرم کرلیں۔

اب اس میں آہستہ آہستہ مغزیات کو ملاتے جائیں اور ساتھ ساتھ چمچ ہلاتے رہیں۔

پھر باقی ادویات کا پاوڈر بھی آہستہ آہستہ ملاتے جائیں اور ساتھ چمچ ہلاتے جائیں۔

اس کے بعد زعفران کو ملائیں۔

اس کے بعد جب شہد بالکل ہلکا سے گرم ہو تو مصطگی رومی کو ملائیں، زیادہ گرم قوام میں ملانے سے مصطگی کے دانے بن جاتے ہیں اس لیے اس کا خاص خیال رکھیں۔

آخر میں ورق نقرہ اور ورق سونا ملا لیں۔

آپ کا لبوب کبیر خاص معجون تیار ہے۔

لبوب کبیر 15

خوراک:

تین سے پانچ گرام صبح یا شام نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

اپنے آن لائن سٹور کو کیسے مشہور کریں؟

0

اپنے آن لائن سٹور کو کیسے مشہور کریں؟

(سید عبدالوہاب شاہ)

اپنی سیل میں اضافہ کرنے کے لیے ای کامرس سٹور کو مشہور کرنا ضروری ہے۔ اور یہ کام بامعاوضہ بھی کرایا جاتا ہے اور کچھ مفت ٹولز بھی دستیاب ہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کیسے کرتے ہیں۔

یاد رکھیں! صرف بامعاوضہ اشتہار بازی پر انحصار کرنا مفید نہیں ہے۔ آپ کو بامعاوضہ اشتہار بازی کے ساتھ ساتھ ان ٹولز کا سہارا بھی لینا چاہیے جو یہ سہولت آپ کو مفت فراہم کرتے ہیں۔ تاکہ جس دن آپ بامعاوضہ اشتہار بازی بند کریں تو تب بھی یہ مفت ٹولز اپنا کام کرتے رہیں۔ ورنہ جس دن آپ بامعاوضہ اشتہاری مہم ختم کریں گے آپ کی ٹریفک زیرو ہو جائے گی۔

ای کامرس سٹور بنانے کا مقصد اپنی پراڈکٹ کی آن لائن فروخت میں اضافہ کرنا ہے۔ اس اصل مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ویب سائٹ پر بہت سارے کام کیے جاتے ہیں، مثلا ویب سائٹ کی ایس ای او، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا کا استعمال وغیرہ۔

اپنے آن لائن سٹور کو کیسے مشہور کریں؟

آن لائن سٹور بنانے کے بعد سب سے پہلا کام اسے مشہور کرنا ہے۔ ذیل میں چند ایسے کام بتائے جارہے ہیں جنہیں آپ سٹور بنانے کے بعد کر سکتے ہیں۔

Contents

1۔ فیس بک کی مدد لیں. 

2۔ گوگل اشتہارات کا استعمال.

3۔ بنگ ، یاہو اور دیگر پلیٹ فارمز کے اشتہارات.

4۔ بلاگ شروع کریں۔

5۔  وٹس اپ اور ای میل مارکیٹنگ  email marketingشروع کریں.

6۔ موبائل ایپ بنائیں۔

7۔ سوشل نیٹ ورکس کا استعمال.

8۔ اچھی ایس ای او کریں۔

1۔ فیس بک کی مدد لیں

اپنے سٹور کی مشہور کے لیے فیس بک Facebook  کا استعمال بہت ضروری ہے، کیونکہ فیس بک ہر کوئی استعمال کرتا ہے، اور روزانہ کچھ نہ کچھ ٹائم فیس بک پر صرف کرتا ہے۔ اس لیے آپ اپنی فیس بک آئی ڈی کے ذریعے باربار اپنے دوستوں کو اپنے سٹور اور اپنی پراڈکٹ کے بارے آگاہی دیتے رہیں، آپ جو آرڈر بھیجیں اس کی تصاویر اپنی فیس بک پوسٹ میں شیئر کریں اور دوستوں کو بتائیں آج میں نے اتنے آرڈر روانہ کیے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ کسٹمرز کا وہ فیڈ بک جو اس نے آپ کو وٹس اپ پر دیا ہے اس کا سکرین شارٹ اپنے فیس بک دوستوں سے شیئر کریں۔

فیس بک پر کام کرتے ہوئے صرف فیس بک آئی ڈی پر انحصار نہ کریں بلکہ اپنے سٹور کا آفیشل پیج بنائیں، فیس بک پر اپنے گروپس بھی بنائیں اور دوسروں کے گروپس کا استعمال بھی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کی جیب اجازت دیتی ہے تو بامعاوضہ اشتہاری مہم بھی چلائیں۔

فیس بک پر بامعاوضہ اشتہاری مہم بہت زبردست رزلٹ دیتی ہے، خاص طور پر آپ کے اپنے ملک، یا صوبے، یا شہر کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ۔

2۔ گوگل اشتہارات کا استعمال

اپنے آن لائن سٹور کی مشہوری کے لیے آپ گوگل اشتہارات Google Ads کا سہارا بھی لے سکتے ہیں۔ گوگل ایڈز پر اشتہار بنانا اور اس کی سیٹنگ کرنا اگرچہ فیس بک کے مقابلے میں تھوڑا سا مشکل کام ہے اور ہر کوئی اس کی سیٹنگ کرنا نہیں جانتا لیکن آپ کسی ماہر کی خدمات حاصل کرکے اپنا اشتہار لگا سکتے ہیں۔ یہ اشتہار گوگل سرچ رزلٹ میں بھی نظر آئے گا، اور دوسرے لوگوں کی ہزاروں ویب سائٹ پر بھی نظر آئے گا۔ گوگل ایڈز کی بہت زیادہ، لمبی اور مشکل سیٹنگز کی وجہ سے مجھے ذاتی طور پر یہ پسند نہیں آیا، اگرچہ اس کے رزلٹ بہت اچھے ہیں۔ لیکن بہرحال آپ یہ کام کسی ماہر سے کروا سکتے ہیں اور اس کی فیس آپ کو الگ سے دینی ہوگی۔

3۔ بنگ ، یاہو اور دیگر پلیٹ فارمز کے اشتہارات

دنیا کے کئی ممالک میں بنگ  اور یاہو کا استعمال بھی کیا جاتا ہے، اور ان کا بھی اشتہارات چلانے کا پروگرام موجود ہے، اگرچہ یہ گوگل کا مقابلہ تو نہیں کرسکتے لیکن اگر آپ چاہیں تو ان پر بھی اشتہارات چلا سکتے ہیں۔

4۔ بلاگ شروع کریں۔

آن لائن سٹور کے لیے بلاگ کی بہت اہمیت ہے، آپ کی ویب سائٹ کا بلاگ ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ بلاگ کی اہمیت پر میں گذشتہ مضمون میں بڑی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔  بلاگ آپ اپنی ویب سائٹ پر بھی بنا سکتے ہیں اور دوسری مفت پلیٹ فارمز کا استعمال بھی کرسکتے ہیں، جیسے گوگل بلاگر وغیرہ۔

5۔  وٹس اپ اور ای میل مارکیٹنگ  email marketingشروع کریں

بلاگ بنانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ کے بلاگ کو لوگ ای میل کے ذریعے فالو کرتے ہیں، اس طرح آپ کے پاس لوگوں کے ای میل لسٹ آجاتی ہے، اور اس ای میل لسٹ کو آپ میل مارکیٹنگ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

کئی لوگ ای میل مارکیٹنگ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے لیکن ای میل مارکیٹنگ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

میل مارکیٹنگ کے ساتھ ساتھ وٹس اپ مارکیٹنگ بھی کی جاسکتی ہے، اس مقصد کے لیے وٹس اپ گروپس بنائیں اور وقتا فوقتا ان گروپس میں اپنی ویب سائٹ اور پروڈکٹس کو مشہور کریں۔

6۔ موبائل ایپ بنائیں۔

اپنی ویب سائٹ کی موبائل ایپ بنانا بھی بہت فائدہ مند ہے۔ ایپ بنانے سے مراد یہ نہیں کہ آپ بڑی بڑی کمپنیوں جیسے ایمازون، دراز، علی بابا وغیرہ جیسی پروفیشنل ایپ بنائیں، جس پر لوگ خریداری بھی کرسکیں۔ کیونکہ یہ بہت مہنگا کام ہے جسے ہر کوئی نہیں کرسکتا۔ آپ بس ایک سمپل سی ایپ بنائیں جس میں آپ کی ویب سائٹ اور بلاگ لوگ دیکھ سکیں، لوگ آپ کی پروڈکٹس کے بارے جان سکیں۔ اس طرح کی چھوٹی سی ایپ مارکیٹ میں آپ کی موجودگی کو ظاہر کرے گی، اور یہ کام زیادہ مشکل بھی نہیں ہے۔

7۔ سوشل نیٹ ورکس کا استعمال

جیسا کہ میں نے فیس بک کے استعمال کے بارے بات کی ہے، اسی طرح آپ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنے سٹور کی مشہوری کے لیے استعمال کریں۔ مثلا ٹویٹر، پنٹرسٹ، انسٹاگرام، وٹس اپ سٹوری، فیس بک سٹوری، وغیرہ وغیرہ۔

8۔ اچھی ایس ای او کریں۔

اپنی ویب سائٹ کی بہترین ایس ای او کریں۔ اس مقصد کے لیے آپ کسی ماہر کی خدمات بھی لے سکتے ہیں، اور ہمارے ایس ای او سے متعلق مضامین کو پڑھ کر خود بھی کر سکتے ہیں۔ آج کے دور میں آن لائن کامیابی حاصل کرنے کے لیے ویب سائٹ کی ایس ای او کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔

ای کامرس ویب سائٹ کے لیے بلاگ کی اہمیت

0

ای کامرس ویب سائٹ کے لیے بلاگ کی اہمیت

(سید عبدالوہاب شاہ )

کسی بھی ویب سائٹ کے لیے بلاگز Blogs کی بہت اہمیت ہے۔ اگرچہ بعض لوگ اس کی اہمیت کو نہیں مانتے اور اسے وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں لیکن یہ بات درست نہیں، بلاگ بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

بلاگ کی اہمیت کا اندازہ ان لوگوں کو نہیں ہو سکتا جن کے پاس بہت پیسہ ہے اور وہ اپنے پیسے کے زور پر اشتہاربازی کرکے اپنا کام چلاتے ہیں۔ کسی کے پاس کتنا زیادہ پیسہ ہی کیوں نہ ہو، آخر کار ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اسے بامعاوضہ اشتہاری مہم روکنی پڑتی ہے، کیونکہ کوئی بھی ساری زندگی صرف بامعاوضہ اشتہاربازی پر انحصار نہیں کرسکتا۔

ای کامرس E-Commerce ویب سائٹ کے لیے بامعاوضہ اشتہار بازی کا نتیجہ جس طرح فورا سامنے آتا ہے، اسی طرح اشتہاری مہم ختم کرتے ہی ختم بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس بلاگز، سوشل میڈیا پیجزاور گروپس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے کام کو آہستہ آہستہ آگے بڑھانے کا نتیجہ فورا سامنے نہیں آتا لیکن یہ عمل اپنا رزلٹ ایک لمبے عرصے تک دیتا رہتا ہے۔ ان ساری باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بلاگ کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

یاد رکھیں اگر آپ کی ای کامرس ویب سائٹ ہے اور آپ کچھ پراڈکٹ فروخت کر رہے ہیں تو آپ کی ویب سائٹ پر صرف پراڈکٹ ہی ہیں ، جس میں اس پراڈکٹ کا نام، قیمت، اور مختصر سی ڈسکرپشن ہوتی ہے۔ پھر یہی پراڈکٹ اور بھی ہزاروں لوگ فروخت کر رہے ہوتے ہیں ، ایسی صورتحال میں آپ کی ویب سائٹ گوگل میں اتنی آسانی سے رینک نہیں کرسکتی۔

چنانچہ اس مسئلے کے حل کے لیے ہی بلاگ بنا کر لمبے لمبے مضامین لکھے جاتے ہیں۔ آپ کسی بھی پلیٹ فارم پر بلاگ بنائیں اور وقتا فوقتا وہاں پوسٹ کرتے رہیں۔ بلاگ کی پوسٹس میں آپ اپنی پراڈکٹ سے متعلق تفصیلی اور مختصر مضامین لکھ سکتے ہیں۔ اپنی پراڈکٹ کا تعارف، فوائد، استعمال کا طریقہ وغیرہ لکھ سکتے ہیں۔  یہی آرٹیکل گوگل سرچ میں رینک کریں گے اور آپ کی ویب سائٹ پر زیادہ سے زیادہ وزٹرز کو لائیں گے۔

بلاگ کس پلیٹ فارم پر بنائیں؟

آپ اپنی ڈومین میں سب ڈومین بنا کر  بلاگ بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ لمبے عرصے تک مفت ٹریفک حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بلاگ ضرور بنانا چاہیے۔

اسی طرح  دیگر مفت پلیٹ فارمز کی مدد سے بھی بلاگ بنا سکتے ہیں۔

مثلا

گوگل کا بلاگر، ورڈ پریس سمیت بہت ساری ویب سائٹ بغیر معاوضے کے بلاگ پیج بنانے کی سہولت دیتی ہیں۔ البتہ اس میں بلاگ کے ایڈریس میں اس ویب سائٹ کا نام بھی شامل ہوتا ہے۔

بلاگ کتنا بڑا ہو؟

تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ لمبی لمبی تحریریں جلدی رینک کرتی ہیں۔ گوگل کا الگوریتھم لمبی تحریر کو اوپر کے درجے میں جگہ دیتا ہے۔ نارمل لمٹ 1600 الفاظ کی بتائی جاتی ہے۔

آپ کب تک بامعاوضہ اشتہار بازی کرتے رہیں گے؟ اگرآپ کے پاس پیسہ ہے  تو بامعاوضہ اشتہار ضرور چلائیں لیکن بلاگ کی اہمیت کو بھی سمجھیں۔

ای کامرس سٹور کا بلاگ کیسے بنائیں؟

  1. بلاگ پیج بنانے کے لیے ڈیش بورڈ سے پیجز پر کلک کریں۔
  2. پھر نیو پیج پر کلک کریں۔
  3. نیو پیج کا ٹائٹل blog رکھیں۔
  4. اور پبلش کر دیں۔

How to Make Blog 1 17

نوٹ: پیج پر کسی قسم کا مواد نہیں ڈالنا

How to Make Blog 2 18

  1. اس کے بعد سیٹنگ ٹیب میں ریڈنگ پر کلک کریں۔
  2. پھر post page والی آپشن میں Blog کو سلیکٹ کریں۔

یوٹیوبرز کے لیے خوشخبری

0

یوٹیوبرز کے لیے خوشخبری اہم اعلان ہوگیا

یوٹیوب کی طرف سے چند اہم اور زبردست اعلانات کیے گئے ہیں

1۔ مونیٹائزیشن شرائط

یوٹیوب کی طرف سے آفیشلی اعلان کیا گیا ہے کہ یکم جنوری 2023 سے چینل مونیٹائزیشن کے لیے لگائے گئی رکاوٹ کو کم کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل چینل اس وقت تک مونیٹائز نہیں ہو سکتا تھا جب تک آپ کے ایک ہزار سبسکرائبر اور چار ہزار گھنٹے واچ ٹائم نہ ہو جائے۔ لیکن اب یوٹیوب اس شرط میں نرمی کرنے والا ہے۔ اس میں کتنی کمی کی جائے گی اس بارے ابھی نہیں بتایا گیا۔

2۔ شارٹ ویڈیو مونیٹائزیشن

یکم جنوری 2023 سے شارٹ ویڈیوز کو بھی مونیٹائزیشن پروگرام میں شامل کیا جارہا ہے۔ یعنی جس طرح عام ویڈیوز کو مونیٹائز کرکے کمایا جاسکتا ہے اسی طرح اب شارٹ ویڈیوز سے بھی کمائی کی جاسکے گی۔ البتہ اس میں زیادہ رقم 55 فیصد یوٹیوب رکھے گا اور 45 فیصد یعنی کم رقم یوٹیوبر کو ملے گا۔

جی 20 ممالک کون سے ہیں

0

اقوام متحدہ (یو این) کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے تباہی کے ذمہ دار جی ٹوئنٹی ممالک ہیں، اسی فیصد کاربن کا اخراج یہی جی ٹونٹی ممالک کرتے ہیں۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ سوال پاکستان کیلئے امداد کا نہیں، پاکستان کے ساتھ انصاف کا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دورہ پاکستان کے موقع پر دوٹوک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے، لیکن خمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے۔

Screenshot 20220912 153016 21

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں دیکھی تباہی الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی، ترقی یافتہ ملک پاکستان کو تباہی سے نکالنے میں مدد کریں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے جی 20 ممالک کون سے ہیں

جی 20 دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کی تنظیم ہے۔ عالمی جی ڈی پی میں ان 20 ممالک کا حصہ 80 فیصد ہے۔

مندرجہ ذیل ممالک جی 20 کہلاتے ہیں

G-20 ممبران

جی 20 کے ارکان ہیں:

1. ارجنٹائن

2. آسٹریلیا

3. برازیل

4. کینیڈا

5. چین

6. فرانس (یورپی یونین کا بھی رکن)

7. جرمنی (یورپی یونین کا بھی رکن)

8. بھارت

انڈونیشیا

10. اٹلی (بھی یورپی یونین کا رکن)

11. جاپان

12. میکسیکو

13. روس

14. سعودی عرب

15. جنوبی افریقہ

16. جنوبی کوریا

17. ترکی (یورپی یونین کے لئے ایک درخواست دہندہ)

18. برطانیہ (یورپی یونین کا بھی رکن)

19. ریاستہائے متحدہ امریکہ

20. یورپی یونین ( یورپی یونین کے ارکان )

آن لائن سٹور کے ہوم پیج کی ایس ای او کیسے کریں

0

آن لائن سٹور کے ہوم پیج کی ایس ای او کیسے کریں

( سید عبدالوہاب شاہ )

Contents

٢۔ ہوم پیج کی سرچ انجن کے لیے اصلاح.

1۔سیکورٹی (ایس ایس ایل).

2۔ ٹائٹل کو کیسے بہتر کریں۔

3۔ ہوم پیج کی ڈسکرپشن.

4۔ H1  ٹیگ کا استعمال.

5۔ تحریری مواد اور کی ورڈز.

6۔ تصاویر کی ایس ای او.

7۔ سٹرکچرڈ ڈیٹا یا اسکیما مارک اپ.

8۔ فوٹر

 آن لائن دکان کے ہوم پیج کی بہترین ایس ای او کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ کیونکہ یہ آپ کے سٹور کا دروازہ بھی ہے اور چہرہ بھی ہے۔ اگر دروازہ جلدی نہیں کھلے گا، یا چہرہ خوبصورت نہیں ہوگا تو  کسٹمر واپس ہو جائیں گے۔

اور اگر آپ کے سٹور کا ہوم پیج گوگل کے الگورتھم کے مطابق اصلاح شدہ نہیں ہے تو کسٹمرز کو یہ سٹور نظر ہی نہیں آئے گا۔

ہوم پیج کوکسٹمرز  اور گوگل سرچ دونوں کے لیے فرینڈلی ہونا ضروری ہے۔

آپ کا ہوم پیج چندضروری چیزوں سے مزین ہونا چاہیے مثلا:

  • آپ کون ہیں؟
  • آپ کیا بیچ رہے ہیں؟
  • آپ سے ہی کیوں خریدا جائے؟
  • آپ سے رابطہ کیسے ممکن ہے؟
  • کسٹمر اپنی مطلوبہ چیز کو کتنی جلدی تلاش کر سکتا ہے؟

ہوم پیج کی اہمیت کیوں ہے؟

ہوم پیج ہی آپ کی کمپنی یا دکان کی نمائندگی کرتا ہے۔

ہوم پیج ہی آپ کا چہرہ ہے جسے دیکھ کر کسٹمر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔

ہوم پیج ہی وہ جال ہے جس کسٹمر کو روک سکتا ہے۔

ہوم پیج ہی وہ صفحہ ہے جس پر لوگ نئی مصنوعات دیکھنے دبارہ آتے ہیں۔

آن لائن سٹور کے ہوم پیج کی ایس ای او کیسے کریں؟

ہوم پیج کی اصلاح کے دو حصے ہیں۔

  1. ایک حصہ ایس ای او کرنا  ہے۔
  2. دوسرا حصہ  ہوم پیج کی کسٹمرز کے لیے اصلاح کرنا ہے۔

ہوم پیج کی اصلاح کے یہ دونوں حصے نہایت ہی اہم ہیں، اور ضروری بھی ہیں۔

1۔کسٹمرز کے لیے ہوم پیج کی اصلاح

  1. ہوم پیج کے سب سے اوپر ایسا مواد ہونا چاہیے جو آنے والے کسٹمر کو متاثر کردے۔ اوپر والےحصے سے مراد پیج کا وہ حصہ ہے جو سکرول کیے بغیر سب سے پہلے نظر آتا ہے، یہی وہ حصہ ہے جو آپ کے کسٹمر کو مزید سکرول کرنے یا نہ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اس لیے اس حصے کو ایسے ڈیزائن کرنا چاہیے کہ آنے والا کسٹمر کچھ دیر اسے دیکھنے یا پڑھنے پر مجبور ہو جائے۔
  2. اسی اوپر والے حصے میں آپ کا لوگو بھی ہوتا ہے، جو آپ کے سٹور یا کمپنی کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ اور لوگو کے ساتھ ایک مختصر سا جملہ جو آپ کے مقصد کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔
  3. تیسری چیز جو اوپر والے حصے میں ہونا ضروری ہے وہ رابطے کی معلومات ہیں، یعنی کوئی آپ سے رابطہ کرنا چاہے تو کن کن ذرائع سے رابطہ کر سکتا ہے۔
  4. چوتھی چیز جو اوپر والے حصے میں ہونا ضروری ہے وہ مینیو بار ہے۔ جس میں آپ کی ویب سائٹ کے اہم پیجز، اور دیگر اہم لنکس، پوسٹس وغیرہ کے لنک دیے گئے ہوں۔
  5. پانچویں چیز جو اوپر والے حصے میں ہونا چاہیے وہ سرچ بار ہے۔ یعنی کوئی شخص اگر آپ کی ویب سائٹ پر کچھ تلاش کرنا چاہتا ہے تو وہاں لکھے اور آسانی سے تلاش کر سکے۔
  6. چھٹی چیز ای میل سبسکرائب یا فالو کا بٹن ہونا چاہیے، تاکہ لوگ اپنا ای میل لکھ کر آپ کو فالو کرسکیں اور پھر آئندہ کے لیے آپ کی پوسٹس ان کو نظر آئیں اور ان کے موبائل پر آپ کا نوٹیفکیشن موصول ہو سکے۔

توجہ طلب بات

آپ اپنے سٹور کو ڈیزائن کرتے وقت دنیا کے مشہور آن لائن سٹورز کو دیکھ کر ان سے بھی آئیڈیا لے سکتے ہیں۔ مثلا ایمزون وغیرہ۔

اپنی ویب سائٹ کو ڈیزائن کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ٨٠٪ لوگ موبائل سے وزٹ کرتے ہیں، لہذا آپ کی ویب سائٹ موبائل فرینڈلی ہونی چاہیے۔

٢۔ ہوم پیج کی سرچ انجن کے لیے اصلاح

ویب سائٹ کی سرچ انجن  اصلاح کے لیے بہت ساری چیز ضروری ہیں۔

  1. ان میں پہلی چیز ویب سائٹ سیکورٹی یعنی ایس ایس ایل ہے۔
  2. دوسری چیز ہوم پیج کا ٹائٹل ہے۔
  3. تیسری چیز ہوم پیج کی تفصیل ہے۔
  4. چوتھی چیز ایچ ون ٹیگ کا استعمال ہے۔
  5. پانچویں چیز اپنے مواد میں متعلقہ کی ورڈز کا استعمال ہے۔
  6. تصاویر کا استعمال
  7. سٹرکچرڈ ڈیٹا
  8. فوٹر کی اصلاح

1۔سیکورٹی (ایس ایس ایل)

ای کامرس ویب سائٹ کے لیے اپنے سرور پر ایک محفوظ سرٹیفکیٹ کا انسٹال اور  کنفیگر ہونا ضروری ہے۔

ایک SSL اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آپ کی ویب سائٹ اور سرور کے درمیان منتقل ہونے والی تمام معلومات محفوظ ہیں، مثلا: صارف کا نام، آرڈر کی معلومات، ادائیگی کی تفصیلات وغیرہ۔یہ   چیزیں محفوظ سرور مواصلات کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں۔

آپ کی ویب سائٹ کا Https ہونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ SEO کے لیے بہت اچھا ہے۔ اور یہ آپ کو ایس ایس ایل کے ذریعے مل سکتا ہے۔یہ صارف کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ جب آپ کے پاس SSL انسٹال ہوتا ہے، تو براؤزر ونڈو میں(success) لفظ دکھایا جاتا ہے ،  اس سے صارف کا اعتماد بڑھتا ہے۔

SSL certificate nukta 23

2۔ ٹائٹل کو کیسے بہتر کریں۔

ویب سائٹ پر کسی بھی قسم کے مواد کے لیے ٹائٹل کا ہونا بہت اہم ہے۔ ٹائٹل کے ذریعے ہی سرچ انجن کو پتا چلتا ہے کہ یہ کیا مواد ہے۔ لہذا ٹائٹل کو بہتر بنانے کےلیے  مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

  • ٹائٹل ساٹھ حروف کے قریب قریب ہونا چاہیے۔
  • ٹائٹل میں مواد سے متعلقہ کی ورڈز ہونا چاہیے۔
  • ٹائٹل متوجہ کرنے والے الفاظ پر مشتمل ہونا چاہیے۔ مثلا مفت کتابیں،50%  ڈسکاؤنٹ وغیرہ

2 How to improve the title 24

3۔ ہوم پیج کی ڈسکرپشن

ہوم پیج کی ڈسکرپشن ایس ای او میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔  کم از کم 160 حروف پر مشتمل ڈسکرپشن لکھیں۔ اکثر گوگل اپنے سرچ رزلٹ میں یہ ڈسکرپشن بھی دکھاتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ جو ڈسکرپشن آپ نے لکھی ہے گوگل اسے ہی دکھائے گا۔ کبھی گوگل آپ کے مواد میں سے کوئی اور پیراگراف اٹھا کر بھی دکھا دیتا ہے۔ اگر آپ کا مواد کوئی پراڈکٹ ہے تو پھر ڈسکرپشن میں رابطہ نمبر شامل کرنا بھی بہتر ہے۔

4۔ H1  ٹیگ کا استعمال

ایچ ون ٹیگ  (<h1></h1>)سے مراد فارمیٹنگ ٹول بار میں دیا ہواکوڈ ہے جسے آپ اپنے تحریری مواد کو سنوارنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایچ ون ٹیگ مواد کے عنوان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ ایک کوڈ ہوتا ہے جسے اپلائی کرنے کے بعد پڑھنے والے کو عنوان واضح نظر آتا ہے جبکہ گوگل کو مواد کی پہچان کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ اس ٹیگ کو اپلائی کرنے کے بعد اپنی مرضی سے عنوان کو مزید بڑا یا چھوٹا بھی کر سکتے ہیں۔

ان ٹیگز کو ترتیب سے استعمال کرنا چاہیے، یعنی سب سے پہلے ایچ ون، پھر ایچ ٹو، پھر ایچ تھری، پھر ایچ فور وغیرہ

5۔ تحریری مواد اور کی ورڈز

اگر آپ کی ویب سائٹ آرٹیکلز، بلاگ پر مشتمل ہے تو پھر یقینا اس پر تحریری مواد موجود ہوگا، لیکن اگر آپ کی ویب سائٹ ای کامرس ہے یعنی پراڈکٹس ہیں تو پھر بہت سارے لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ صرف تصاویر کی صورت میں اپنی پراڈکٹ کو پیش کرتے ہیں ان کے ساتھ کوئی تحریری مواد نہیں لکھتے۔ یاد رکھیں ایس ای او کے لحاظ سے یہ بہت بڑی غلطی ہے۔

 آپ کی پراڈکٹ کی تصاویر کے ساتھ اچھی خاصی تفصیل تحریری شکل میں موجود ہونی چاہیے، اور اس تحریر میں ایک سے زائد بار متعلقہ کی ورڈز کا استعمال کیا گیا ہو۔ کیونکہ لوگ جب کوئی چیز سرچ کرتے ہیں تو وہ سرچ انجن میں الفاظ لکھتے ہیں، اور گوگل ان الفاظ کو سرچ کرتا ہے، اگر آپ کی پراڈکٹ کے ساتھ الفاظ نہیں ہوں گے تو آپ کی پراڈکٹ سرچ رزلٹ میں نہیں نظر آئے گی۔

پراڈکٹ کے ساتھ تحریری مواد لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ اسی پراڈکٹ سے متعلق دوسروں نے جو مواد تحریر کیا ہے آپ ان سے تھوڑا مختلف مواد تحریر کریں، تاکہ گوگل جب انہیں دکھائے تو ساتھ آپ کی پراڈکٹ کا تحریری مواد مختلف ہونے کی وجہ سے اسے بھی ایک اور آپشن کے طور پر دکھائے۔

6۔ تصاویر کی ایس ای او

اپنی ویب سائٹ پر تصاویر استعمال کرتے وقت ان کی ایس ای او کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ آپ سوچیں گے تصاویر کی ایس ای او کیسے ہو سکتی ہے؟ تو چلیں چند چیزیں تصویر کی ایس ای او سے متعلق نوٹ کریں:

  • تصویر اپلوڈ کرنے سے پہلے اس کو وہی نام دیں جو پراڈکٹ کا نام ہے یا جس چیز سے متعلق تصویر ہے۔
  • تصویر پر رائٹ کلک کرکے پراپرٹی پر کلک کریں۔

پھر ڈیٹیل  ٹیب پر کلک کریں۔

اب آپ کے سامنے کافی سارے آپشنز آئیں گے :

  • ٹائٹل
  • سبجیکٹ
  • ریٹنگ
  • ٹیگز
  • کمنٹ

وغیرہ۔ جتنی چیزیں یہاں آپ لکھ سکتے ہیں لکھیں اور پھر سیو کردیں۔ اس سارے عمل کو آف لائن ایس ای او، یا اپلوڈ سے پہلے ایس ای او کہا جاتا ہے۔ سرچ انجن کے بوٹ ان تمام چیزوں کو پڑھتے ہیں۔

نوٹ: اگر تصویر JPG فارمیٹ میں ہو تو کافی آپشن نظر آتے ہیں، لیکن PNG  فارمیٹ میں ہو تو کم آپشن نظر آتے ہیں۔

3 off line seo 25

  • تصاویر کی آپٹمائزیشن میں دوسری چیز تصویر کے سائز کو کم سے کم رکھنا ہے۔ کیونکہ زیادہ سائز والی تصویر لوڈ ہونے میں بہت وقت لیتی ہے جس سے ہوم پیج کے لوڈ ہونے میں کافی وقت لگتا ہے جو کہ ایس ای او کے لیے بری بات ہے۔ اس مقصد کے لیے بہت سارے آن لائن اور آف لائن ٹولز دستیاب ہیں، مثلا imageoptim۔
  • تصویر اپلوڈ کرنے کے بعد ورڈ پریس کی گیلری میں جب تصویر کو سلیکٹ کیا جائے تو وہاں پر بھی تصویر کی ڈسکرپشن اور کیپشن لکھیں۔ یہاں پر بھی متعلقہ کی ورڈز کا استعمال کریں۔

7۔ سٹرکچرڈ ڈیٹا یا اسکیما مارک اپ

ہوم پیج ایس ای او کے لیے ایک بہت ہی اہم چیز سٹرکچرڈ ڈیٹا ہے۔ سٹرکچرڈ ڈیٹا سے مراد یہ ہے کہ آپ کا پیج کس چیز سے متعلق ہے، اور آپ کون ہیں؟

اس سوال کو گوگل کے لیے آسان بنانے کے لیے سٹرکچرڈ ڈیٹا اور اسکیمامارک اپ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جو ویب ڈویلپرز خود کوڈنگ جانتے ہیں وہ یہ کام خود ہی کرتے ہیں، لیکن جو نہیں جانتے وہ یہ کام مختلف آن لائن ٹولز اور پلگ انز کے ذریعے کرتے ہیں، جہاں آپ نے صرف اپنی تفصیلات فراہم کرنی ہوتی ہیں، وہ ٹولز اسے کوڈنگ میں تبدیل کردیتی ہیں۔اور آپ نے وہ کوڈ کاپی کرکے اپنی ویب سائٹ کے ہیڈ میں پیسٹ کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مندرجہ ذیل ٹولز کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

وغیرہ۔

اور اگر آپ یہ کام کسی پلگ ان کی مدد سے کرتے ہیں تو یہ اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔

8۔ فوٹر

ویب سائٹ میں فوٹر کی بھی بہت اہمیت ہے، فوٹر میں آپ اپنی ویب سائٹ کی اہم چیزوں کو نمایا کرسکتے ہیں۔ فوٹر آپ کی ویب سائٹ کے تمام صفحات پر نظر آتا ہے۔

  • یہاں آپ اپنے دیگر پیجز کے لنک دے سکتے ہیں۔
  • زیادہ پاپولر پراڈکٹس کو نمایا کر سکتے ہیں۔
  • لوگوں کو ای میل فالو کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔
  • اپنا رابطہ، ایڈریس، کال ٹو ایکش بٹن دے سکتے ہیں۔
  • اپنی کمپنی کا لوگو دے سکتے ہیں۔

خلاصہ

ہوم پیج تیار کرتے وقت لوگوں اور سرچ انجن کی ضرورت کا خیال رکھیں۔ اپنی خواہش کو پورا نہ کریں۔ ہوسکتا ہے آپ کی خواہش ہو پیج پر فلاں فلاں گرافکس استعمال کیے جائیں لیکن یہ آپ کی ویب سائٹ کے لیے اچھا نہیں، ایک ہلکی پھلکی، موبائل فرینڈلی، اور سرچ انجن آپٹیمائزڈ ، لوگوں کی ضرورت پورا کرنے والی ویب سائٹ ہی بہتر ہے۔

پی ڈی ایف یا تصویر کو ٹیکسٹ فارمیٹ میں تبدیل کرنا

0

کسی پی ڈی ایف یا تصویر کو ٹیکسٹ فارمیٹ میں تبدیل کرنا

اگر آپ کمپیوٹر یا موبائل پر کام کررہے ہیں، تو اکثر آپ کو کسی پی ڈی ایف کتاب یا کسی کتاب کے صفحے کی تصویر پر لکھی ہوئی عبارت کو ٹیکسٹ فارمیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہوگی۔ مثلا آپ کو کسی کتاب کا کوئی پیرا گراف پسند آگیا اور آپ چاہتے ہیں میں اسے ٹیکسٹ فارمیٹ میں اپنے دوستوں سے وٹس اپ یا فیس بک پر شیئر کروں۔ تو ایسے میں ہر آدمی اسے کمپوز نہیں کرسکتا۔
اس مسئلے کا حل آپ کے موبائل میں بھی موجود ہے اور آپ کے کمپیوٹر میں بھی موجود ہے۔ چلیں دیکھتے ہیں یہ مسئلہ کیسے حل کیا جاسکتا ہے۔پہلے موبائل کا طریقہ دیکھ لیتے ہیں۔

موبائل میں تصویری ٹیکسٹ کو یونی کوڈ ٹیکسٹ میں تبدیل کرنا۔

جب آپ موبائل اَن لاک کرتے ہیں تو آپ کے سامنے آپ کے موبائل کی جو سکرین نظر آتی ہے اس میں اوپر گوگل سرچ بار ہوتی ہے۔ اس گوگل سرچ بار میں دائیں طرف کیمرے کا نشان بنا ہوا ہے۔ اس پر کلک کریں۔

01 Convert images to text 29

اب آپ کے سامنے دو آپشنز ہیں:

  1. ایک یہ کہ آپ اسی وقت کسی پیج کی تصویر لے کر اسے ٹیکسٹ میں کنورٹ کرسکتے ہیں، اس کے لیے کیمرے پر کلک کریں اور پھر تصویر لیں۔
  2. دوسری آپشن یہ ہے کہ تصویر پہلے سے موجود ہے ، اس صورت میں اس تصویر کو منتخب کریں۔

02 Convert images to text 30

اب گوگل اس کو ٹیکسٹ میں تبدیل کر دے گا، آپ اگر چاہیں تو اسے آڈیو مٰیں سن بھی سکتے ہیں۔ نہیں تو Select All پر کلک کریں۔

03 Convert images to text 31

اب یہ سارا ٹیکسٹ سلیکٹ ہو جائے گا۔ اب پھر آپ کے پاس کئی آپشنز ہیں، آپ اس سلیکٹ کیے ہوئے ٹیکسٹ کو اپنی زبان میں ٹرانسلیٹ بھی کر سکتے ہیں۔

اور دوسری آپشن آپcopy textپر کلک کریں۔ اور جہاں چاہیں وہاں پیسٹ کردیں۔

04 Convert images to text 32

یہ ہوگیا موبائل پر تصویر کو ٹیکسٹ میں تبدیل کرنے کا طریقہ۔ اب کمپیوٹر کا طریقہ دیکھ لیتے ہیں۔

کمپیوٹر میں تصویری ٹیکسٹ کو یونی کوڈ ٹیکسٹ میں تبدیل کرنا۔

گوگل ڈرائیو میں ایک پوشیدہ OCR ٹول ہے۔(optical character recognition)
سب سے پہلے اس تصویر کو گوگل ڈائیو میں اپلوڈ کریں، جسے آپ ٹیکسٹ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

05 Convert images to text 33

پھر اس تصویر یا پی ڈی ایف پر رائٹ کلک کریں۔
پھر Open with Google Docs پر کلک کریں۔

06 Convert images to text 34

تھوڑی دیر انتظار کے بعد تصویر اور اس کے نیچے ٹیکسٹ فارمیٹ میں تبدیل شدہ الفاظ دنوں آجائیں گے، جسے آپ کاپی کرکے کہیں بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

07 Convert images to text 35

چند ضروری چیزیں

یہ عمل کرکرتے ہوئے چند ضروری باتیں نوٹ کرلیں۔

  • آپ جس فائل کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں وہ JPEG, .PNG, .GIF, or PDF فارمیٹ میں ہونی چاہیے۔
  • جس تصویر کو کنورٹ کرنا ہے وہ بالکل صاف ہونی چاہیے، جس کی ریزولوشن کم از کم 10 پکسلز سے بہتر ہو۔ مدھم تصویر کا ٹیکسٹ درست کنورٹ نہیں ہوگا۔
  • جس فائل کو کنورٹ کرنا ہے وہ 2MB یا اس سے کم ہونی چاہیے۔
  • فائل سیدھی ہونی چاہیے الٹی تصویر کنورٹ نہیں ہوگی۔
  • کنورٹ کرنے کے بعد ٹیکسٹ کو ایک بار ضرور پڑھ لیں، کیونکہ زیادہ تر نوے فیصد ٹیکسٹ ٹھیک ہی ہوتا ہے لیکن تھوڑی بہت غلطیاں بھی ہوتی ہیں، جنہیں آپ کو خود مینول طریقے سے درست کرنا ہوگا۔

How to convert images to text with Google Drive

Google Drive has a hidden OCR tool—here’s how to use it.

ٹیکنالوجی کورسز

0

ٹیکنالوجی کورسز

ایس ای او کورس

ایس ای او (SEO) کورس ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو بالکل مبتدی ہیں۔ اس کورس میں ویب سائٹ کی ایس ای او کرنے کا مکمل طریقہ سکھایا گیا ہے۔ آسان فہم انداز میں براہ راست آن لائن یہ کورس کرنے کےلیے وٹس اپ پر رابطہ کریں۔

03470005578

اس کورس کی فیس 25$ ڈالر ہے۔

What is SEO?
Importance of SEO
SEO and Ranking
Elements of SEO
SEO Methods

ورڈ پریس کوس

اس کورس میں ورڈ پریس پر ویب سائٹ بنانے کر طریقہ اور ورڈ پریس کے تمام ٹولز کے بارے سکھایا جائے گا۔

آسان فہم انداز میں براہ راست آن لائن یہ کورس کرنے کےلیے وٹس اپ پر رابطہ کریں۔

03470005578

اس کورس کی فیس 25$ ڈالر ہے۔

A complete guide to creating
and using a website on WordPress۔
This course is for beginners
in the Urdu language.