قسط نمبر 4 جادو کی تاریخ

جادو کی تاریخ

جادو کی تاریخ بہت پرانی ہے، جادو بذات خود کوئی چیز نہیں بلکہ جنات شیاطین کی مداخلت کو ہی جادو کہا جاتا ہے، جیسے ہمیں جنات نظر نہیں آتے ایسے ہی جنات کے کام بھی ہم سے پوشیدہ ہیں، چنانچہ جنات شیاطین کے ہی بتائے ہوئی کچھ کلمات،جنتر، منتر، تنتر پڑھنے لکھنے یاکرنے سے کچھ کام جنات کر دیتے ہیں جن کا سبب ہمیں نظر نہیں آتا، کیونکہ اس کا سبب جنات کی مداخلت ہوتی ہے اور جنات ہم سے پوشیدہ ہیں لہذا وقوع پذیر ہونے والی بات کا سبب ہم سے پوشیدہ ہوتا ہے اور ہم اسے جادو سے تعبیر کرتے ہیں۔

تاریخ میں جادو کا تذکرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں بھی ملتا ہے، یہ دور حضرت موسی علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام سے سینکڑوں سال پہلے کا دور ہے۔حیرت انگیز طوپر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کادور جادو کا نہایت اعلی اور ترقی یافتہ دورشمار ہوتاہے۔آپ کے معاصر جادوگر نہ صرف اپنے وقت کے بلکہ انسانی تاریخ کے نہایت بلندرتبہ اصحابِ فن شمارہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی بھی فن کوکمال اور عروج تک پہنچنے کیلئے صدیوں کاسفردرکار ہوتاہے اور کئی نسلوں کی عمریں اس فن میں مہارت پیداکرنے اور اسے بامِ عروج تک پہنچانے میں کام آجاتی ہیں۔

نکتہ
نکتہ

بابل کے کلدانی اور جادو۔

بابل کے کلدانیوں نے نہ صرف یہ کہ سحروجادومیں بہت کمال حاصل کرلیاتھا بلکہجادوئی تصورات کوعوامی عقیدہ بنانے میں بھی وہ کامیاب ہوچکے تھے۔ کلدانی تہذیب نہ صرف جادوکی دلدادہ اور اس میں یکتا ئے روزگار تھی بلکہ اس کی تہذیبی اٹھان اور اجتماعی فکر ونظر پربھی سحری تصورات کی چھاپ واضح نظرآتی ہے۔چنانچہ کلدانیوں کایہ عقیدہ تھاکہ انسانی زندگی میں کامیابی وناکامی ، پریشانی وخوش حالی ، تنگدستی وتونگری ، صحت وبیماری ، ترقی وتنزل اور عزت وذلت کے حالات بدلنے میں ستاروں کاگہراعمل دخل ہے۔ ستاروں کاعروج وزوال ان کی زندگی میں وسعت وفراوانی لاتاہے اور ستارے انسانی زندگی پر اثرات چھوڑتے ہیں جس کے نتیجے میں ذلت ومسکنت ،مصائب و خوشحالی آتی ہے۔چنانچہ ماہرینِ علمِ نجوم اور عملیات کرنے والے عاملین کاآج بھی یہی اعتقاد ہے۔

کلدانی اسی اعتقاد کی وجہ سے وہ ان سیاروں کی نہ صرف پوجااور پرستش کرتے تھے ، انہیں دیوتا اور مشکل کشامانتے تھے بلکہ ان سیاروں سے فیوض وفوائد سمیٹنے یا ان کے غضب اور نحوست سے بچنے کیلئے اپنے پہنا وے میں مختلف رنگوں کا انتخاب کرتے ، ان سیاروں کی عبادت وپرستش کے لئے مخصوص ساعات کاانتخاب کرتے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے الگ الگ قسم کی بخور جلا یا کرتے تھے تھے، ان کے نزدیک ساعات نحس وغیرہ بھی ہوتی تھیں۔

 کلدانیوں کے چھ عجیب وغریب طلسمات :۔

سحری فکرونظر اور عقیدہ وایمان میں سیاروں کی عظمت وہیبت اور ان کی عبادت وپرستش کے ساتھ ساتھ اس دور کے اہلِ بابل فنِ جادوگری میں اس درجہ کمال اور عروج پر پہنچے ہوئے تھے کہ اس کی نظیربعد کے ادوار میں بھی خال خال ہی نظر آتی ہے۔ نمردو کے زمانے میں کلدانیوں نے اپنے دار الحکومت بابل میں چھ ایسے عجیب وغریب سحری طلسمات بنائے تھے جن کے کرشماتی کمالات کوسن کر آج بھی انسان ششد رہ جاتاہے۔

1۔تابنے کی بطخ :

نمرودی ساحروں نے تانبے کی ایک ایسی بطخ تیار کی تھی کہ جونہی شہرمیں کوئی چور یامجرم شخص داخل ہوتا ، وہ بطخ ایک مخصوص آواز نکالتی تھی ، جس سے اس چور کوپکڑلیاجاتاتھا۔

2۔نقارہ اور گمشدہ اشیائ

 اس دور کے جادوگروں نے ایک ایسانقارہ بھی ایجادکیاتھا کہ کسی آدمی کی چیزاگر گم ہوجاتی تو وہ آکر اس نقارے پر چوٹ مارتا۔اس نقارے سے باقاعدہ ایک آواز آتی تھی کہ تمہاری گمشدہ چیز فلاں جگہ پرہے۔

3۔گمشدہ افراد اور آئینہ

 گمشدہ اشیاء کے لئے تونقارہ بنایا گیا تھا۔ گمشدہ انسانوں یالاپتہ انسانوں کی تلاش ودریافت کیلئے کلدانیوں نے ایک آئینہ تیار کیا تھا۔جب کسی کے گھر کا کوئی فرد گم ہوجاتاتووہ اس آئینے کے سامنے آتااور عجیب بات یہ ہے کہ اسے اپنا گم شدہ عزیز نہ صرف یہ کہ اس آئینے میں نظرآجاتاتھا بلکہ وہ کس جگہ اور کس حال میں ہے اس کی بھی مکمل اور واضح تفصیل آئینے میں اس کے سامنے آجاتی تھی۔

4۔سچ جھوٹ کافیصلہ بذریعہ تالاب

 بابل کے جادو گروں نے نمرود کے دربار میں ایک ایساتالاب بنارکھاتھا جس میں مقدمات کے فیصلوں کے حوالے سے تین عجیب وغریب کرشماتی خوبیاں بیک وقت پائی جاتی تھیں۔ فریقین کے سچ جھوٹ اور صحیح یاغلط ہونے کا فیصلہ انہی خوبیوں کی بدولت نہایت آسانی سے ہوجاتاتھا۔(۱) پہلی خوبی یہ تھی کہ جوشخص مقدمے میں حق پرہوتا، اسے جب حوض میں اتارا جاتاتوپانی اس کی ناف سے نیچے نیچے رہتا، جس سے یہ واضح ہوجاتاتھاکہ یہ بندہ حق پر ہے۔(۲) دوسری خوبی یہ تھی کہ اسی حوض میں جب جھوٹااور مجرم شخص اترتاتوپانی اس کے سرسے اونچاہوجاتاتھاجس سے وہ ڈوبنے لگ جاتاتھا۔اس طرح یہ معلوم اور متعین ہوجاتاتھاکہ اس مقدمہ میں یہ شخص ناحق اور جھوٹ پرہے۔(۳) اور تیسری دلچسپ خوبی یہ تھی کہ اگر وہ مجرم شخص اپنی غلطی اور دوسرے فریق کے حق کا اعتراف کرلیتاتوپانی نیچے ہوجاتاتھا اور اسے غرق نہیں کرتاتھا۔

 5۔کاک ٹیل بذریعہ تالاب

نمرودی دربارہی میں ایک اور تالاب عیاشی کیلئے بنایا گیا تھا جوانسانی تاریخ کانہایت حیران کن خصوصیت کاحامل تالاب تھا۔ سال کا ایک خاص دن تھاجس دن امرائے سلطنت اور دیگر معززین ورو ¿سائے شہراپنے اپنے گھروں سے اپنی اپنی پسند کے مشروبات لے کر اس حوض کے کنارے پکنک اور رنگ رلیاں منانے اکٹھے ہوتے تھے۔اور ہرشخص اپنامشروب اس حوض میں ڈال دیتاتھا۔ اس طرح شہر بھرسے آنے والے رو ¿ساء کے طرح طرح کے مشروبات اس حوض میں مکس ہوجاتے تھے۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ دورانِ جشن جب یہ لوگ اس حوض میں سے مشروب پینے کے لئے برتن ڈالتے توہر شخص کے برتن میں صرف وہی مشروب آتاتھا جوخود اس نے اس حوض میں ڈالا ہوتاتھا۔

6۔عجیب وغریب شجرِ سایہ دار

 آپ نے سایہ دار درخت زندگی میں سینکڑوں باردیکھے ہوں گے۔جتنا کسی درخت کا حجم ہوتا ہے اسی کے حساب سے اس کا سایہ چھوٹایابڑا ہوتا ہے۔لیکن کلدانی جادوگروں نے اپنے بادشاہ نمردو کے دربار یوں اور ملاقاتیوں کی سہولت کے لئے جوسحری درخت بنایاہے اس کی کر شماتی خصوصیت پڑھ کرآپ کے بھی دانتوں کو پسینہ آجائے گا۔کلدانی ساحروں نے نمرود کے دربار میں ایک ایساجادوئی درخت نصب کررکھا تھا جس کاسایہ اس کے اپنے حجم کے مطابق نہیں بلکہ درباریوں کی تعداد کے مطابق گھٹتااور بڑھتا تھا۔ جتنے لوگ آتے جاتے ، اس کاسایہ اتنا پھیلتا چلاجاتاتھا ،حتی کہ اگر ایک لاکھ لوگ آگئے ہیں تو اسی ایک درخت کاسایہ ان تک پہنچ جائے گا۔کسی نئے سائبان کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ (نوٹ: یہ تاریخ روایات ہیں کوجن کے سچا یا جھوٹا ہونے کا یقین سے نہیں کہا جاسکتا)

یہ بھی پڑھیں

قسط نمبر1 جادونگری جنات و عملیات کی دنیا 

قسط نمبر2 جنات کی اقسام

قسط نمبر5 نائٹ ٹمپلر،فری میسن، ایلومیناتی اورکبالہ جادو

قسط نمبر6 شیطان کے پجاری”ویکا مذہب

بنی اسرائیل کا دور

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے کئی سو سال بعد حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کا زمانہ آتا ہے، یہ بھی جادو اور سحری عملیات کے عروج کا زمانہ تھا۔ چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام کا وہ واقعہ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ جب انہوں نے اپنے معجزات دکھائے تو فرعون نے لوگوں کو یہی باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ جادو ہے اور موسی جادو گر ہیں۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ مشہور مقابلہ ہوا جس کی تفصیلات قران میں موجود ہیں ، چنانچہ فرعون کے بلائے گئے جادوگروں کا جادو موسی علیہ السلام کے معجزے کے مقابلے میں ختم ہوگیا اور جادو گر سجدے میں گر پڑے۔شام،مصر،عراق،بابل کے اندر جادوگری اور عملیات کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہایہاں تک کہ لوگوں کے لیے جادو اور معجزے میں فرق کرنا ہی مشکل ہوگیا۔ کیونکہ بظاہر جس طرح جادوکے ذریعے رونما ہونے والے کام کا سبب مخفی ہوتا ہے اسی طرح معجزے کے ذریعے رونما ہونے والے کام کا سبب بھی مخفی ہوتا ہے۔ چنانچہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے کسی زمانے میں عراق کے ایک علاقے بابل میں اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں ”ہاروت اور ماروت“ کو نازل کیا، جس کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان دوفرشتوں کو دو مقاصد کے لیے نازل کیا۔ ایک جادو اور معجزے میں فرق واضح کرنا۔ اور دوسرا انسانوں کی آزمائش اور امتحان۔ چنانچہ یہ فرشتے کسی کنویں یا غار میں موجود ہوتے تھے، لوگ ان کے پاس آتے تھے، یہ فرشتے بتاتے تھے کہ ایسا ایسا کرنے،پڑھنے یا لکھنے سے جادو ہوتا ہے، اور یہ کفر ہے ناجائز ہے، اللہ کی نافرمانی ہے، ایسا ایسا پڑھنے لکھنے سے تو ہرکوئی یہ کام کرسکتا ہے۔ لیکن معجزہ ایسا نہیں ہوتا، وہ ہر کسی کے ہاتھ پر ظاہر نہیں ہوتا بلکہ صرف اسی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے جو اللہ کا رسول ہوتا ہے، اس کے لیے ضروری نہیں کہ کچھ خاص کلمات ہی پڑھیں گے یا لکھیں گے، یا کوئی خاص عمل کریں گے تو معجزہ ظاہر ہوگا بلکہ جب اللہ چاہتے ہے رسول اور نبی کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر ہو جاتا ہے۔چنانچہ وہ فرشتے اس طرح لوگوں کو جادو اور معجزے کا فرق سمجھاتے، اور جادو کی بھی وظاحت Explanationکرتے۔ یہ سب کچھ لوگوں کے لیے ایک امتحان بھی تھا کیونکہ دنیا دارالامتحان ہے، چنانچہ جادو کی Explanation اور جادو کی حقیقت بتاتے وقت کچھ لوگ اسے اپنے پاس نوٹ کرلیتے یاد کرلیتے اور پھر وہی کام کرنا شروع کردیتے۔

یہاں یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ جادو کی ابتدا ہاروت ماروت سے نہیں ہوئی بلکہ اس سے بہت پہلے یہ کفر شیطانوں نے ہی انسانوں کو سکھایا تھا، ہاروت ماروت تو اس کی حقیقت اور کفر واضح کرنے کے لیے آئے تھے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے میں اپنی ویڈیوز میں جادو اور غیر شرعی عملیات کو واضح کرتا ہوں کہ ایسا ایسا کرنا ناجائز ہے اور کفر ہے ایسا تعویذ نہ لکھنا چاہیے اور نہ پہننا چاہیے تو بہت سارے لوگ اس کو سمجھ کر آئندہ اس سے اپنے آپ کو بچانا شروع کردیں گے اور کچھ لوگ اس تعویذ کو اپنے پاس نوٹ کرکے کسی موقع پر استعمال کرنا شروع کردیں گے۔

مدینہ کے یہودی جادوگری میں مبتلا تھے حالانکہ وہ اپنے آپ کو انبیاءکا سچا پیروکار سمجھتے تھے، جب ان سے کہا جاتا کہ یہ عملیات کا جو کام تم کرتے ہو یہ کون سے نبی کی تعلیمات میں ہے تو وہ فورا کہتے یہ عملیات حضرت سلیمان علیہ السلام کی تعلیمات ہیں، اور انہی عملیات کے ذریعے انہوں نے جنات کو قابو اور تابع کیا ہوا تھا اور جنات سے کام لیتے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 102 نازل فرمائی :

وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَٰنَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحْرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَزَوْجِهِۦ ۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشْتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنْ خَلَٰقٍۢ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ

ترجمہ: اور انہوں نے اس (جادو کے کفریہ کلمات) کی پیروی کی جس کو سلیمان کے دور حکومت میں شیطان پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کوئی کفر نہیں کیا ‘ البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے ‘ وہ لوگوں کو جادو (کے کفریہ کلمات) سکھاتے تھے اور انہوں نے اس (جادو) کی پیروی کی جو شہر بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا تھا اور وہ (فرشتے) اس وقت تک کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ یہ نہ کہتے : ہم تو صرف آزمائش ہیں تو تم کفر نہ کرو ‘ وہ ان سے اس چیز کو دیکھتے جس کے ذریعہ وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی کردیتے۔ اور اللہ کی اجازت کے بغیر وہ اس (جادو) سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ‘ وہ اس چیز کو سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچائے اور ان کو نفع نہ دے ‘ اور بیشک وہ خوب جانتے تھے کہ جس نے اس (جادو) کو خرید لیا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ‘ اور کیسی بری چیز ہے وہ جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کرڈالا ہے کاش یہ جان لیتے۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جادو کی نسبت کی تحقیق :

مدینہ کے یہود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ساحر اور جادوگر کہتے تھے اور جب ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا نبیوں میں ذکر فرماتے تو وہ یہودی اس پر طعن اور تشنیع کرتے اور کہتے کہ دیکھو ان کو کیا ہوا ہے کہ یہ سلیمان کا نبیوں میں ذکر کرتے ہیں حالانکہ سلیمان محض جادوگر تھے ۔

امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :سدی نے بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور حکومت میں شیطان آسمان پر گھات لگا کر بیٹھ جاتے اور بیٹھ کر فرشتوں کا کلام کان لگا کر سنتے کہ زمین میں کون کب مرے گا ‘ بارش کب ہوگی اور اس قسم کی دیگر باتیں ‘ پھر آکر کاہنوں کو وہ باتیں بتاتے ‘ کاہن لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ‘ اور وہ باتیں اس طرح واقع ہوجاتیں ان کے ساتھ بہت سے جھوٹ ملا کر لوگوں نے وہ باتیں کتاب میں لکھ لیں ‘ اور بنواسرائیل میں یہ مشہور ہوگیا کہ جنات کو غیب کا علم ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان کتابوں کو تلاش کروا کر منگوایا اور ایک صندوق میں رکھ کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیا اور شیاطین میں سے جو بھی ان کی کرسی کے قریب جاتا وہ جل جاتا ‘ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اعلان کردیا کہ میں نے جس شخص کے متعلق بھی یہ سنا کہ وہ کہتا ہے کہ شیاطین غیب جانتے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوگئے اور وہ علماءبھی گزر گئے جن کو یہ واقعہ معلوم تھا اور کئی سال گزر گئے تو ایک دن وہ شیطان انسان کی صورت بن کر بنواسرائیل کی ایک جماعت کے پاس گیا ‘ اور کہا : میں تم کو ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ دکھاتا ہوں ‘ اس نے ان سے کہا : اس کرسی کے نیچے زمین کھودو ‘ انہوں نے کھودا تو وہ کتابیں نکل آئیں ‘ شیطان نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس جادو کی وجہ سے انسانوں ‘ جنوں اور پرندوں پر حکومت کرتے تھے پھر بنواسرائیل میں نسل در نسل یہ مشہور ہوگیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جادوگر تھے ‘ حتی کے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے اور آپ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا انبیائ(علیہم السلام) میں ذکر کیا تو بنواسرائیل نے اس پر اعتراض کیا اور کہا : سلیمان تو جادو گر تھے اللہ تعالیٰ نے انکے رد میں یہ آیت نازل فرمائی : (اور انہوں نے اس کی پیروی کی جس کو سلیمان (علیہ السلام) کے دور حکومت میں شیطان پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے (جادوکرکے) کوئی کفر نہیں کیا ‘ البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے)۔ (جامع البیان ج1 ص ‘ 353 مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ 1409 ھ)

نیز امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :جب شیاطین (جنوں) کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا علم ہوا تو انہوں نے سحر کی مختلف اصناف اور اقسام کو لکھ کر ایک کتاب میں مدون کیا اور اس کے اوپر یہ نام لکھ دیا کہ یہ سلیمان بن داود کے دوست آصف بن برخیا کی تحریر ہے اور اس میں علم کے خزانوں کے ذخیرے ہیں ‘ پھر اس کتاب کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے دفن کردیا ‘ پھر بعد میں بنواسرائیل کی باقی ماندہ قوم نے اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے سے نکال لیا ‘ جب انہوں نے اس کتاب کو پڑھا تو انہوں نے جادو پھیلادیا ‘ اور جب ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلیمان بن داود (علیہ السلام) کا انبیاءاور مرسلین میں ذکر کیا تو مدینہ کے یہودیوں نے کہا : کیا تم (حضرت سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تعجب نہیں کرتے کہ وہ سلیمان کا انبیاءمیں ذکر کرتے ہیں حالانکہ وہ صرف ایک جادوگر تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں یہ آیت نازل کی : (اور انہوں نے اس کی پیروی کی جس کو سلیمان کے دور حکومت میں شیطان پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے (جادوکرکے) کوئی کفر نہیں کیا ‘ البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے وہ لوگ کو جادو سکھاتے تھے۔(جامع البیان ج1 ص ‘ 354 مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ 1409 ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی ان دونوں روایتوں کو طبری کے حوالے سے ذکر کیا ہے (فتح الباری ج10، ص 223‘ مبطوعہ دارالکتب الاسلامیہ ‘ لاہور)

امام ابن جوزی نے ان آیتوں کے شان نزول میں مزید چار قول نقل کیے ہیں :(1) ابوصالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ان کی سلطنت نکل گئی تو شیاطین (جنوں) نے سحر کو لکھ کر ان کی جائے نماز کے نیچے دفن کردیا اور جب ان کی وفات ہوئی تو اس کو نکال لیا اور کہا : ان کی سلطنت اس سحر کی وجہ سے تھی ‘ مقاتل کا بھی یہی قول ہے۔

(2) سعیدبن جبیر (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ آصف بن برخیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے احکام لکھ لیا کرتے تھے اور ان کو ان کی کرسی کے نیچے دفن کردیا کرتے تھے ‘ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوگئے تو اس کتاب کو شیطانوں سے نکال لیا اور ہر دو سطور کے درمیان سحر اور جھوٹ لکھ دیا اور بعد میں اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کردیا۔

(3) عکرمہ (رض) نے کہا : شیطانوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو وفات کے بعد سحر کو لکھا اور اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کردیا۔

(4) قتادہ (رح) نے کہا : شیطانوں نے جادو کو ایجاد کیا ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس پر قبضہ کرکے اس کو اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیا تاکہ لوگ اس کو نہ سیکھیں جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوگئے تو شیطانوں نے اس کو نکال لیا ‘ اور لوگوں کو سحر کی تعلیم دی اور کہا : یہی سلیمان کا علم ہے۔ (زادالمیسر ج 1 ص ‘ 121 مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ 1407 ھ)

فہرست پر واپس جائیں

2020-12-01

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *