قسط نمبر7 سکل اینڈ بونز

شیطان کی پجاری دیگر خفیہ تنظیمیں

سکل اینڈ بونز Skull & Bones

لندن کے ایک مشہور انگریزی روزنامے ‘ دی ٹیلی گراف ‘ میں 8مئی 2006ءکو ایک رپورٹ شایع ہوئی جس کے حوالے سے 11مئی کے بعض اخباروں نے بھی ایک مختصر خبر شایع کی جس کی سرخی یہ تھی : ”صدر بش کے دادا قبریں کھود کر کھوپڑیوں کاتماشہ دکھاتے تھے ”

” امریکہ میں ایک خفیہ سوسائٹی انسانی کھوپڑیوں کا استعمال کرتی تھی۔”ٹیلی گراف کے حوالے سے جو کچھ اخباروں میں شایع ہوا ، وہ کچھ اس طرح ہے :

”امریکہ کے تاریخی متنازعہ مباحثوںمیں سے ایک یورپ میں پھر اٹھ کھڑا ہواہے۔ اس بات کے تازہ ثبوت ملے ہیں کہ امریکہ میں ملک کے بڑے بڑے بارسوخ لوگوں کی ایک خفیہ سوسائٹی ہے جس کا نام ‘ اسکل اینڈ بونز ہے۔یہ سوسائٹی غیر انسانی مافوق الفطرت اور جادوئی طاقتوں کے حصول کے لئے طرح طرح کے خوفناک عمل کیا کرتی ہے۔ 1832ء سے قائم اس سوسائٹی کے چھ بانی ممبروں میں امریکہ کے سابقہصدر جارج بش جونیئر کے دادا پریسکوٹ بش بھی تھے۔

سوسائٹی کے ممبران بونز مین  کہلاتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران سوسائٹی کے ممبروں نے شمالی امریکہ کے ایک قدیم (ریڈ انڈین ) قبیلے کے ایک تاریخ ساز لیڈر جیرو نیمو کی قبر کھود کر اس کی کھوپڑی نکالی اور سوسائٹی کے ہیڈ کوارٹر میں نمائش کے لئے رکھ دی جسے وہ لوگ مقبرہ  کہتے ہیں۔

 سوسائٹی کا بنیادی مقصد موت کو شکست دینا اورمافوق الفطرت قوتوںکا حصول ہے اس کے لئے وہ عبادت کے بیشتر شیطانی طریقوں پر عامل ہیں۔ یعنی ہڈیاں آدمیوں نے جن دوسرے مشہور لوگوں کی قبریں کھود کر ان کی کھوپڑیاں او ر ہڈیاں اپنی ‘عبادت ‘ کے لئے نکالی تھیں ان میں امریکہ کے آٹھویں صدر مارٹن وان بورین( پ 1782 م 1845 ) اور کیوباکے جادوئی کمیونسٹ لیڈر چی گوارا بھی شامل ہیں۔ مارٹن بورین 1837ءسے 1841ء تک امریکہ کے صدر رہے تھے۔یہ سبھی کھوپڑیاں اور ہڈیاں ان کے صدر دفتر مقبرہ  میں موجود ہیں۔ ریڈ انڈین قبائلی لیڈر جیرو نیمو نے امریکیوں ( سفید فارم یورپی بآبادکاروں ) کے خلاف ایک طویل مدت تک نہایت پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا مگرامریکی فوج کی بے پناہ طاقت کے سامنے مجبور ہوگیا۔ فوج کے ‘فورٹ سیل ‘ قید خانے میں 1909ءمیں اس کی موت ہوئی۔ 1918ءمیں سوسائٹی کے ایک رکن چارلس نے ایک دوسرے ممبر کوخط لکھ کر بتایا تھا کہ ریڈ انڈین لیڈر جیرونیمو  کی کھوپڑی نکال لی گئی ہے اور’ مقبرے ‘ میں اس کی دوسری ہڈیوں کے ساتھ محفوظ ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ایک مورخ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران یہ خط برآمد کرکے شائع کیا۔”

خفیہ تنظیمیں صہیونیت کے مخصوص سازشی طریقہ کار کا حصہ رہی ہیں۔ ‘ اِسکل اینڈ بونز ‘ کی طرح فری میسن اور ‘دی کمیٹی آف تھری ہنڈریڈ ‘ بھی ایسی ہی بے شمار خفیہ سوسائٹیوں میں شامل ہیں۔ اسکل اینڈ بونز بھی امریکہ کے کنکٹی کٹ شہرکے نیو ہیون میں واقع ییل Yale یونیورسٹی میں قائم متعدد صہیونی سیکرٹ سوسائٹیوں میں سے ایک ہے۔دراصل یہ جرمنی کی ایک صہیونی خفیہ تنظیم تھولےسوسائٹی کی امریکی شاخ ہے۔منشیات کے عالمی کاروبار میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے بالخصوص افیم اور کوکین کی تجارت پر اسکل اینڈ بونز کی اجارہ داری ہے۔منشیات کی تجارت کے علاوہ بھی اس کی آمدنی کے متعدد خفیہ اور ناجائز ذرائع بھی ہیں۔ امریکی صدر جارج بش جونیئر کی طرح ان کے والد سینئر جارج واکر بش بھی ‘ہڈیاں آدمیوں میں سے ہیں۔ کم سے کم تیس مشہو رامریکی ممبران پارلیمنٹ (کانگریس کے اراکین ) ‘بونز مین ‘ تھے۔ 1992ءتک سوسائی کی رکنیت صرف مردوں کے لئے مخصوص تھی لیکن اب عورتیں بھی اس کی رکن ہوسکتی ہیں۔ امریکہ میں اس وقت جو تعلیمی نظام رائج ہے اس میں اسکل اینڈ بونز تنظیم کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط کاغلبہ ہے۔

امریکہ میں یہ تنظیم جن دوسرے ناموں سے بھی جانی جاتی ہے ان میں (1) دی آرڈر آف ڈیتھ (2) دی آر ڈر (3) کو آپریشن اسٹار (4) دی یولاجین کلب (5) لاج 322 اور (6) رسل ٹرسٹ ایسوسی ایشن  قابل ذکر ہیں۔ تنظیم میں شامل ہر فرد کو ایک مخصوص نام دے دیا جاتا ہے اور پھر اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے مثلاًسابقہ صدر جارج بش کا تنظیمی نام ‘ٹمپوریری ( عارضی ) ہے اس لئے کہ نہ وہ خود اپنے لئے کوئی نام منتخب کرسکے اورنہ ان کے سینئر ہی ان کے لئے کسی خاص نام پر متفق ہوپائے لہٰذاا نہیں ‘ مسٹر ٹمپوریری ‘ کے نام سے ہی پکارا جانے لگا اور اب یہی ان کا تنظیمی نام ہے۔ تنظیم میں شامل لمبے آدمیوں کو ‘لانگ ڈیول ‘(لمبا شیطان) اورٹھنگنے آدمیوں کو ‘شارٹ ڈیول ‘ ( چھوٹا شیطان ) کہا جاتا ہے۔ یاجوج اور ماجوجکے نام بھی تنظیم کے بعض ممبروں کے لئے مخصوص ہیں۔ بونزمین اپنے ایسے ساتھی کو یاجوج  کہتے ہیں جو جنسی طورپر حد درجہ ناتجربہ کار ہوتا ہے اور ماجوج  اسے کہتے ہیں جو جنس مخالف کا سب سے زیادہ تجربہ رکھتا ہے۔ اس خفیہ تنظیم کے بارے میں بیرونی دنیا کو سب سے پہلے اس وقت معلوم ہوا جب 1985ءمیں ایک منحرف ممبر نے ایک محقق انتھونی سوٹن کو اس کے بارے میں متعددمعلومات فراہم کردیں۔ لیکن انتھونی سوٹن نے پندرہ سال تک اس خوف سے ان معلومات کو افشا نہیں کیا کہ کہیں اس کی اشاعت سے اس منحرف ممبر کا نام نہ ظاہر ہوجائے جو اس کے لئے ظاہر ہے کہ خطرنا ک ہوتا۔پھر انتھونی سوٹن نے وہ تمام معاملات ایک اورمحقق اور اپنے دوست کرس ملی گن کے حوالے کردیں جس نے 2003ئ میں ‘فلیشنگ آوٹ اسکل اینڈ بونز  کے نام سے اپنی کتاب شایع کرکے دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اسی کتاب سے پہلی بار دنیا کو مشہور موجودہ بونز مین کے بارے میں پتہ چلا۔ موجودہ صدر بش کا خاندان تو ‘ بونزمین ‘ ہے ہی ان کے انتخابی حریف سینیٹر جان کیری بھی ‘اسکل اینڈ بونز ‘ کے سرگرم رکن ہیں اور دونوں کی پالیسیوں میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا جو کچھ تھا وہ محض دنیا کے سامنے پیش ہونے والا انتخابی ڈرامہ تھا۔ جان کیری جیتتے تو بھی وہی ہوتا جو ‘صہیونی مقتدرہ ‘ کا منصوبہ ہے۔ اسکل اینڈ بونز فی الوقت صہیونی مقتدرہ کی اہم ترین خفیہ تنظیموں میں سے ایک ہے۔ دنیا میں جو ادارے ظاہری طورپر سرگرم ہیں لیکن فی الحقیقت وہ صہیونی مقتدرہ تھنک ٹینک یا کارگذار ادارے ہیں ان میں رسل ٹرسٹ ایسوسی ایشن اورکونسل آن فارن ریلےشنس سب سے نمایاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قسط نمبر8 مسلمان اور عملیات کی دنیا

قسط نمبر10 علامات، سنبل،اور کوڈنگ

قسط نمبر11 کاوبار اور رزق کی بندش

قسط نمبر12 رشتہ نہ ملنے کے مسائل

مذکورہ بالا دونوں ادارے دراصل اسکل اینڈ بونز اور دوسری صہیونی سیکرٹ سوسائٹیوں ہی سے وابستہ ہیں لیکن وہ اس کا اعلان ہرگز نہیں کرتےکچھ لوگ الومیناٹی پہ یقین نہیں رکھتے اور اسکو فرضی قصے کہانیاں اور افسانہ سمجھتے ہیں۔یاد رکھیں الومیناٹی اور دجال کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔الومیناٹی فری میسنری اور سکل اینڈ بونز کی طرح ایک خفیہ تنظیم ہے۔اس میں سے سکل اینڈ بونز بھی کافی مشہور ہے۔ان تمام تنظیموں میں ایک بات مشترک ہے کہ یہ تمام تنظیمیوں کے ممبر شیطان کو اپنا خدا مانتے ہیں اور اسکی عبادت کرتے ہیں۔شیطان کا اس زمین پہ انسان کے خلاف سب سے بڑا اور موثر ہتھیار دجال ہے جس کے لیے یہ تمام تنظیمیں خاموشی سے دجال کی آمد کو ممکن بنانے کیلیے کام کر رہی ہیں۔ان تنظیموں کو صرف ان علامات کے ذریعے ہی ثابت کیا جا سکتا ہے جنکو یہ استعمال کرتی ہیں۔جو علامات یہ تنظیمیں استعمال کرتی ہیں وہ علامات کالے جادو میں استعمال ہوتی ہیں جیسے پانچ کونوں والا ستارہ اور ایک آنکھ کا نشان، چنانچہ پانچ کونوں والا ستارہ ہمارے ہاں اکثر تعویذات میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔یہ علامات انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں بار بار دکھائی جاتی ہیں۔یہ کوئی اتفاق یا فیشن نہیں ہے۔کالے جادو کا یہود سے سورہ بقرہ کی آیت 102کے مطابق ڈائریکٹ تعلق ہے۔

یہود ایک مسیحا کا انتظار کر رہے تھے تو جب حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو یہود نے آپکی نبوت کو جھٹلایا اور کہا کہ آپ اصلی مسیحا نہیں ہیں جن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔اسلیے یہودی آج بھی تورات اور انکی مذہبی کتابوں میں مذکور مسیحا کا بہت بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں جبکہ وہ مسیحا حضرت عیسی علی السلام آچکے ہیں۔چنانچہ اب یہ کونسے مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں؟یہ لوگ اب دجال کو مسیحا مان کر اسکی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔

قبالہ یعنی کالے جادو کے ذریعے یہود اس قابل ہو گئے کہ وہ شیطانی دنیا سے تعلق قائم کر سکیں۔چنانچہ قبالہ جادو کے ذریعے یہ شیطان سے ڈائریکٹ رابطہ میں ہیں۔قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ کفر کے سرداروں پہ شیاطین کا نزول ہوتا ہے۔اسکے علاوہ نبی صل اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی شیطان کفار کوانسانی شکل میں خود آکر مشورے دیاکرتا تھا۔چنانچہ شیطان نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ انکی مذہبی کتب میں موجود مسیحا جسکا ان سے وعدہ کیا گیا ہے کی کو لا سکتا ہے۔یہودی اس مسیحا کی آمد کو یقینی بنانے کیلیے اسرائیل کو اس قابل کر رہے ہیں کہ جہاں انکا مسیحا آکر یہاں سے پوری دنیا پہ حکومت کرے گا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فلسطینی زمین پہ ناجائز قبضہ کر رکھا ھے۔ٹرمپ سمیت امریکہ کے تقریبا سبھی صدور کا تعلق ان تنظیموں سے تھا۔یعنی امریکہ خفیہ طور پہ ان تنظیموں کے قبضے میں ہے اور امریکی قوم اس زمین پہ سب سے بد تر غلام قوم ہے۔

الومیناٹی کے بارے میں پیشین گوئی کا اس حدیث میں ذکر ہے جس میں حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تم سے پوشیدہ نہیں ہے۔اللہ ایک آنکھ والا نہیں ہے۔یہ کہتے ہوئے آپنے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور مزید فرمایا جبکہ المسیح الدجال اپنی دائیں آنکھ سے کانا ہے۔اور اسکی بائیں آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی طرح ہے۔

دجال خدا ہونے کا دعوی کرے گا۔اگر آپ امریکی ڈالر کے پیچھے دیکھیں تو  کے اوپر ایک آنکھ دیکھی جاسکتی ہے۔امریکی حکومت دفتری طور پہ اسکی وضاحت کرتی ہے کہ اس کا مطلبیعنیہے۔یعنی خدا کی آنکھ جو سب کچھ دیکھ رہی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی حکومت کا ایک آنکھ والا خدا کون ہے؟کیا یہ وہی خدا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ اسلام،حضرت موسی،حضرت عیسی یا حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کا خدا ہے؟جبکہ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا خدا ایک آنکھ والا نہیں جبکہ دجال کی ایک آنکھ ہوگی۔یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ کو جو طاقتی کنٹرول کر رہی ہیں وہ اللہ کو اپنا خدا نہیں مانتے بلکہ شیطان کو اپنا خدا مانتے ہیں جسکا پیغمبر دجال ہے۔اسکا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی حکومت کے پیچھے کوئی خفیہ اور نادیدہ طاقتیں ہیں جو اسکو کنٹرول کر رہی ہیں۔وہی طاقتیں جو دجال کو اپنا مسیحا اور شیطان کو اپنا خدا مانتی ہیں۔

فہرست پر واپس جائیں

2020-12-04

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *