کثرت سے نکاح کرو

0
3

کثرت سے نکاح کرو

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: تناکحوا تکثروا، فنی اباھی بکم الامم یوم القیٰمۃ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھ چڑھ کر نکاح کرو، تم تعداد میں بہت زیادہ ہوجاو گے اس لئے کہ میں بروزقیامت دوسری امتوں پر تمہاری کثرت کے سبب فخر کروں گا۔

بہتر وہ جس کی بیویاں زیادہ ہوں۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے:

باب کثرۃ النسا (کثرت سے بیویاں رکھنا)۔ یہ باب قائم کرکے اس کے تحت یہ حدیث لائے ہیں:

عن سعید بن جبیر قال: قال لی ابن عباس : ھل تزوجت؟ قلتُ: لا، قال: فتقوج، فان خیرھٰذہ الامۃ اکثرھا نسا۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے (میرے استاد) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم نکاح کرچکے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: نکاح کرو اس لئے کہ اس امت میں بہتر وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہیں۔

معلوم ہوا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قوم متعدد شادیوں کی فضیلت پر نص ہے،

حافظ ابن حجر مذکورہ قول کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اشارہ فرمادیا کہ نکاح کا ترک کرنا ایسی چیز نہیں کہ اسے ترجیح دی جائے، اس لئے کہ اگر نکاح کا ترک قابل ترجیح شی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اختیار کرتے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ خشیت ومعرفت  رکھنے کے باوجود کثرت سے نکاح کرتے ہیں۔

اور ‘‘شفا’’ میں لکھا ہے کہ عرب نکاح کی کثرت کو پسند کیا کرتے تھے کیونکہ یہ کام نکاح کرنے والے

مرد کی مردانگی پر دلالت کرتا ہے۔

لہٰذا اپنی مردانگی کا اظہار کریں۔

یہ بھی پڑھیں: متعدد شادیاں اور خواتین کا تحفظ

ایک سے زائد شادیوں کے بارے میں سوالات                  

سیرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلو ہیں۔ ان میں سے ایک پہلو ایسا بھی ہے جس کی اس آخری زمانے میں اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک سے زائد شادیاں کرکے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو پورا کیا

  فانکحوا ماطاب لکم من النسا مثنی وثلث وربٰع۔

جس زمانے میں ہم لوگ جی رہے ہیں اس زمانے میں ایک شادی کا رواج عام ہوگیا ہے اور دوسری شادی کو لوگ بُرا سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قوانین قدرت میں یہ بات رکھی ہوئی ہے کہ عورتوں کی شرح پیدائش مردوں سے زیادہ ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک مرد کو چار شادیاں کرنے کا حکم فرمایا۔ اور بوقت مجبوری ایک ہی پر اکتفا کرنے کی اجازت بھی دی۔

آج لڑکیوں کو رشتے نہیں مل رہے عورتوں کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت اور ویلیو کم ہوگئی ہے ، نکاح مہنگا اور زنا سستا ہوچکا ہے۔ آپ نکاح کا تصور کریں فورا ذہن میں دو تین لاکھ کا بجٹ آجائے گا، مگر زنا کا سوچیں تو چار پانچ سو میں بھی دستیاب ہے ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے سبق حاصل کرکے چلیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نو شادیاں کیں۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ستر شادیاں کیں۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ستر یا نوے یا ایک ہزار شادیاں کیں۔

فہرست پر واپس جائیں

Also read: Polygamy List In Urdu  ..  List In English

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here