اہل علم پر تعددزوجات کی عملی ترغیب لازم ہے۔

اہل علم پر تعددزوجات کی عملی ترغیب لازم ہے۔

حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ تعالیٰ ایک تحریر میں فرماتے ہیں:

مجھے نکاح بیوگان کے متعلق پہلے بڑا شبہ تھا کہ علما اس کی اس قدر کوشش کیوں کرتے ہیں؟ نکاح ثانی کوئی واجب نہیں، فرض نہیں، صرف سنت ہے، علما یہی کہہ دیں کہ سنت ہی سمجھنا واجب ہے، باقی عملا اس کے درپے کیوں ہوتے ہیں؟

 کئی سال تک مجھے یہ شبہہ رہا ، بچپن کا زمانہ تھا، پھر الحمدللہ سمجھ میں آگیا کہ چونکہ فساد عملی ہے اس لئے اصلاح بھی عملی ہونی چاہئے، محض قولی زبانی اصلاح کافی نہیں(تحفۃ العلما)

علما کا دینی خدمت کا جذبہ اور زائد شادیاں

مولانا طارق مسعود مدظلہ فرماتے ہیں:

فطرت کسی کے ذاتی جذبات سے بالکل متاثر نہیں ہوتی۔ اب کسی قوم کے علما  اگر یہ سوچ کر ایک بیوی پر قناعت شروع کردیں کہ اس  صورت میں ہم اطمینان قلب کے ساتھ دین کا کام زیادہ کرلیں گے تو اگر فطرت ان حضرات کے اس جذبے سے متاثر ہو کر ان کی قوم بلکہ ان کی اپنی اولادوں میں عورتوں کی شرح پیدائش کم کردیتی تو پھر تو اس جذبے سے ایک بیوی پر قناعت کئے رہنا شاید کچھ اچھا کام ہوتا، مگر ایسا ہوتا نہیں، اور فطرت ایسے جذبات سے ذرا بھی متاثر ہوئے بغیر عورتیں اسی حساب سے پیدا کرتی چلی جاتی ہے جس حساب سے اس نے مردوں کے دل میں عورتوں سے نکاح والی رغبت رکھی، کیونکہ فطرت کا دعویٰ ہے:

انّا کلّ شی خلقناہ بقدر(الآیۃ)

ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے سے (مناسب مقدارمیں) پیدا کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے اندازوں اور اصولوں میں لوگوں کی‘‘رسومات’’،‘‘مزاج’’،‘‘جذبات’’،‘‘مہنگائی’’اور ‘‘مصروفیات’’ کی بنا پر تبدیلی نہیں فرماتے۔ کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی شخص کی مصروفیات کی وجہ سے فطرت نے اس بھوک کی خواہش اور ضرورت اس لئے چھین لی ہو کہ اس بے چارے کے پاس کھانا کھانے کی فرصت نہیں۔۔۔؟؟؟۔

پس جس طرح بھوک لگنا ایک فطری عمل ہے اسے ختم کرنے کے لئے بہرحال وقت نکالنا پڑتا ہےبلکہ اس کام کے لئے وقت نکالنے کو بقیہ تمام کاموں پر ترجیح دی جاتی ہے بالکل اسی طرح قوم کی عورتوں اور خود اپنی آل اولاد میں پیدا ہونے والی بیٹیوں کی باعزت شادیوں جیسی اہم فطری ضرورت کے لئے وقت نکالنا بھی بقیہ عام کاموں پر مقدم ہے کیونکہ یہ سوچ کر شادیوں سے اجتناب کرنے والی قوم کہ کون بیویوں کے حقوق اور پھر پیدا ہونے والی کثیر اولاد (ریل کے دبوں)کی ذمہ داریاں اپنے سر لے۔۔۔؟۔

اس سے بہتر ہے کہ ایک آدھ بیوی اور ایک آدھ بچے پر اکتفا کرکے اپنے کاروبار زندگی یا عبادت اور خدمات دینیہ میں اطمینانِ قلب اور سکون سے مشغول رہنا چاہئے، چنانچہ اس جذبے سے متعدد شادیوں سے اجتناب کرنے والی قوم میں جس کے بیٹیاں کثرت سے ہو جائیں تو ایسے لاکھوں افراد کو بچیوں کی شادیوں کی فکر اور ان کے لئے مناسب داماد کی تلاش ایسی تشویش(ٹینشن) میں مبتلا کرکے رکھ دیتی ہے کہ اس قوم میں اطمینان قلب کے ساتھ عبادت اور کاروبار زندگی وغیرہ کا سارا مزہ آہستہ آہستہ کِرکِرا   ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اجتماعی شادی  ۔۔ اصولی بات   ۔۔  بیوی کے بغیر موت

اس تحریر سے معلوم ہوا کہ جلدی، اور کثیر شادیوں کی ضرورت ہے، عورتیں بھی اللہ کی مخلوق ہیں ، ہم بعض اوقات اس جذبے سے مختلف جانور پالتے ہیں کہ ان کو کھلائیں گے ہمیں خوشی ہوگی اللہ بھی خوش ہوگا تو کیا کسی انسان یعنی عورت کے ساتھ اس جذبے سے شادی نہیں کی جاسکتی کہ میں اس کا کفیل بن جاوں گا اور اس کے لئے خوراک لباس کا انتظام کروں گا۔

فہرست پر واپس جائیں

2021-01-14

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *