قسط 28 خانقاہی نظام اور لٹیرے

خانقاہی نظام اور لٹیرے

سید عبدالوہاب شاہ شیرازی

خانقاہی نظام کی چھتری تلے لٹیروں کے دو گروہ

پاکستان وہندوستان میں لٹیروں کے دو گروہ سادہ لوح عوام کو لوٹنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان میں یہ دونوں گروہ بہت سرگرم ہیں لیکن کوئی حکومت اور کوئی قانون انہیں لگام ڈالنے والا متحرک نظر نہیں آتا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ دو گروہ کون سے ہیں تو جان لیجیے ایک گروہ خانقاہی نظام کی چھتری تلے ان جعلی پیران عظام، ان جعلی پیران طریقت اور گدی نشینوں کا ہے جنہوں نے من گھڑت نظریات اور خیالات کے تحت پورے ملک میں اپنے خلیفے اور نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں۔یہ نیٹ ورک عوام کو ورغلاکر اور من گھڑت قصے اور کہانیاں سنا کران سے نذرانے اور ہدیے وصول کرتا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جو شخص لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے، اپنے اور اپنے پیر کے فضائل سناتا ہے اور لوگوں کو قرآن وسنت اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ان کی تعلیمات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ اگر اللہ رسول کی بات کرتا بھی ہے تو اس تناظر میں کہ لوگ مجھے ہی بڑا سمجھیں میری ہی خدمت کریں اور میرے ہی گرد اکھٹے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:

قسط نمبر14: آسیب سایہ ہسٹیریا 

قسط نمبر27: عملیات اور بازاری کتب

مجھے کسی نے ایک جعلی پیر صاحب کی ویڈیو بھیجی اس میں پیر صاحت تقریر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے، شاہ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ جب فوت ہوئے انہیں قبر میں اتارا گیا تو منکر نکیر یعنی سوال کرنے والے فرشتے آئے اور کہا من ربک، یعنی تمہارا رب کون ہے؟ تو شاہ عبدالقادر جیلانی نے اس فرشتے کو فورا ڈانٹا اور کہا تمہیں نہیں پتا کہ میرا رب کون ہے۔ پھر اس نے دوسرا سوال کیا وغیرہ ساری کہانی پیرصاحب نے سنائی آخر کار یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا: شاہ عبدالقادر جیلانی تو شاہ عبدالقادرجیلانی ہے، جو شاہ عبدالقادر جیلانی کے مرید ہیں تم نے ان کو بھی نہیں چھیڑنا اور ان سے بھی قبر میں سوال نہیں کرنا۔اس واقعے سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیسے من گھڑت اور فضول کہانیاں سنا کر لوگوں کو اپنا مرید بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور کیا دین کا تصور دیا جارہا ہے کہ بس ہمارے مرید بن جاو اور پھر جو مرضی کرو قبر میں کوئی تم سے سوال نہیں کرے گا۔ پیر صاحب ایسے کہانی سنا رہے تھے جیسے اوپر کھڑے سب کچھ دیکھ رہے ہوں۔ یہ صرف ایک واقعہ ہے ورنہ ہر گدی اور ہر سلسلے کے لوگوں کی اپنی اپنی کہانیاں اور فضائل ہیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ بارہ ربیع الاول دن والے اسلام آباد کے ایک علاقے میں بازار میں ایک سٹیج لگا ہوا تھا اور وہاں ایک گویا یعنی مایے گانے والا تقریر کررہا ہے تھا، میں وہاں سے گزر رہا تھا اس کی کچھ بات سننے کے لیے میں بھی رک گیا، اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا: تم لوگ کہو گے نماز پڑھنا بڑا کام ہے؟ یہ کام تو قادیانی بھی کرتے ہیں۔ تم کہو گے روزہ رکھنا بڑی چیز ہے یہ تو عیسائی بھی کرتے ہیں، الغرض اس نے اسلام کے بڑے بڑے فرائض اور اعمال کو ایک ایک کرکے گنا اور ان کی اہمیت کو ختم کرتے ہوئے کہا یہ سب کچھ فضول ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اصل چیز یہ ہے کہ بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہونی چاہیے اگر یہ ہے تو باقی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ نعوذبااللہ۔ اس پر سارے لوگوں نے سبحان اللہ کہا اور پھر اس نے میوزک اور ڈھول کی تھاپ پر علاقائی مایے اور گانے شروع کردیے۔

ایک گروہ تو یہ ہے جو لوگوں کو گمراہ بھی کرتا ہے اور لوٹتا بھی ہے۔ جبکہ دوسرا گروہ عاملوں، رحانی بابوں، جادو کی کاٹ، تعویذ، جنتر، منتر، تنتر کرنے والے پروفیسر، قاری، مولانا،علامہ اور پامسٹ بنگالی بابے موجود ہیں۔ ان لوگوں کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس روحانی طاقتیں ہیں،ہمارے پاس ہمزاد، موکل، جنات اور غیبی قوتیں ہیں جن کے زور پر ہم دنیا کا ہر کام کرسکتے ہیں، ہرمسئلہ حل کرسکتے ہیں، ہربات جانتے ہیں۔ حالانکہ گھر میں ان کی بیوی ان کی بات نہیں مانتی، ان لوگوں کی اکثر (نوے فیصد) اولاد نہیں ہوتی۔ چنانچہ ان کے اشتہارات پر بڑے بڑے دعوے درج ہوتے ہیں مثلا: تمنا کیسی ہی کیوں نہ ہوچند گھنٹوں میں پوری ہو جائے گی۔جو چاہو پوچھو۔ ماہر سفلی علوی و نوری علم۔ ہرپریشانی کا حل صرف ایک فون کال پر، جادو کی کاٹ کا ماہر، ماہر معالج، روحانی عامل، پیرطریقت، محبوب آپ کے قدموں میں، خاوند کو حلوہ بنائی، بیوی کو نوکرانی بنائیں، جس سے چاہیں شادی کریں محبوب آپ کے قدموں میں۔ اسی طرح کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ہرقسم کے خود ہی وظیفے بنا رکھے ہیں۔ مثلا ٹریفک سے نکلنے کا وظیفہ، بجلی کا بل کم آنے کا وظیفہ، گیس کا میٹر لگوانے کا تعویذ،روحانی الارم، رئیس ہونے کی چابی، دکان پر رش لگانے کا تعویذ، مچھر مار عمل، مکھی بھگانے کا تعویذ وغیرہ وغیرہ۔ان اشتہارات میں اللہ کی صفات کو اپنے ساتھ جوڑا گیا ہوتا ہے مثلا ہرتمنا پوری، جو چاہو پوچھو اور جانو۔ یاد رکھیں ہر تمنا صرف اللہ پوری کرسکتا ہے۔ اور ہر بات اللہ جانتا ہے۔ یہ غیب کے دعوے،اور قادر مطلق ہونے کے اعلانات گمراہ کن ہیں۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ عوام تو چلیں عوام کالانعام ہیں، ہمارے سرکاری ادارے اور پولیس بھی ان لوگوں کی نہ صرف مرید بنی ہوتی ہے بلکہ پورا یقین بھی رکھتی ہے۔ ایک خبر نظر سے گزری کہ لاہور سے ایک بچہ گم ہوگیا، وہ بچہ کسی سیٹھ صاحب کا تھا چنانچہ اس نے تھانے میں آکر اطلاع دی، پولیس نے اپنی روٹین کی کاروائی کی لیکن بچہ نہ مل سکا، آخر کار سیٹھ صاحب نے اچھی خاصی رقم بطور انعام دینے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان کیا کرنا تھا متعلقہ تھانے کی پولیس ایک ایسے ہی بابے کے پاس چلی گئی اور کہا یہ بچہ ہے آپ بتاو یہ کہاں ملے گا۔بابے نے کہا یہ بچہ اس وقت ملتان کے فلاں گاوں کے ایک پرانے مکان میں موجود ہے۔ لاہور پولیس فورا ملتان پہنچی اور اس گاوں میں تلاش کیا تو پتا چلا وہاں ایسا ویران مکان ہی موجود نہیں۔ لیکن پولیس مایوس نہیں ہوئی پھر اس بابے کے پاس آئی تو بابے نے کہا بچہ اس وقت اس ماڈل کی گاڑی میں جارہا ہے گاڑی کا یہ نمبر ہے۔ پولیس نے تمام ناکوں پر وائرلیس کیا کہ اس گاڑی کو فورا روکا جائے، ایک پولیس والا ذرا سمجھدار تھا اس نے ایکسائز کے دفتر میں کمپیوٹر ریکارڈ چیک کروایا تو پتا چلا اس ماڈل یا اس نمبر کی کوئی گاڑی پورے پاکستان میں نہیں ہے۔ لیکن پولیس پھر بھی مایوس نہیں ہوئی اور پھر اسی بابے کے پاس پہنچ گئی، ابھی بابا کوئی اور کہانی سنانے والا ہی تھا کہ پولیس کو اطلاع ملی کے بچے کا والد ابھی تھانے میں آیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ بچہ خود ہی گھر پہنچ گیا ہے۔اس سارے واقعے سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری پولیس بھی اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو چھوڑ کر ضعف عقیدگی کا شکار ہے۔

قارئین! یہ بات نہایت اہم ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کرنا اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، کیونکہ یہ بہت بڑی بدعقیدگی، بیہودگی، اور شرک ہے، اس بدعقیدگی میں صرف جاہل ہی ملوث نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں موجود بعض مدارس یا ان کے اساتذہ بھی ملوث ہیں، اور اس کی وجہ بھی جہالت ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں بعض ایسی کتابیں موجود ہیں جو ماضی کے بعض بڑے بڑے اکابر علماء کی طرف منسوب ہیں چنانچہ اسی نسبت کو دیکھتے ہوئے موجودہ دور کے بعض نابلد اور جاہل علماء ان کتابوں کا سہارا لے کر عملیات کے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور اس ساری تفصیلات اور علم کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جو انہوں نے آٹھ دس سال پڑھا تھا۔مجربات امام غزالی، خزینہ عملیات سمیت بے شمار کتابیں آپ کو ان عاملین کے پاس ملیں گیں جن میں واضح اور صاف جادو کے عملیات اور من گھڑت چیزیں لکھی ہوئی ہیں۔ کیا اسلام زبان بندی کی اجازت دیتا ہے؟ کیا اسلام کسی انسان کو عمل کے ذریعے تابع اور مجبور کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا اسلام ننگے ہو کر سورہ یس پڑھنے کی اجازت دیتا ہے، کیا اسلام نے کوئی ایسا عمل بتایا کہ کسی کا پتلا بنا کر اس میں بتیس سوئیاں فلاں آیت پڑھ کر چبو دیں، یہ سارے وہ عملیات ہیں جو علماء کی طرف منسوب کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔

یہ دونوں گروہ اس وقت کا عظیم فتنہ ہیں جس نے امت کے عقیدہ اور شیرازے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے، لوگوں کو قرآن و سنت اور دین سے دور کرکے رکھ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس فتنے سے حفاظت فرمائے۔ آمین

فہرست پر واپس جائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *