قسط نمبر6 شیطان کے پجاری”ویکا مذہب“

شیطان کے پجاری”ویکا مذہب“

ویکا مذہب

ایک سال پہلے لاہور کے عجائب گھر کے باہر جس شیطانی بت یا مجسمے کو نصب کیا گیا تھا لوگوں کی اکثریت اسکو ایلومیناتیوں کا شیطانی خدا بیفومیٹ بتا رہی ہے، یہ غلط ہے۔ کیونکہ اس شیطانی بت کا نام شیچان دیوتا ڈیول یا ڈیمون تھا اور جو کہ ایلو میناتیوں کا نہیں بلکہ اسی شیطانی شاخ کے ایک فرقے ویکا یا ویکن  سے تعلق رکھتا ہے۔ اور جن کی خاصیت جادو ٹونا بھوت پریت اور شیاطین سے نسبت جوڑنا اور انکے زیر اثر رہنا اور خون آشامی اور آدم خوری سے متصل ہے۔

کیونکہ آج سے پہلے اکثریت کے سامنے کالے جادو یا شیطان پرستی کا نام لیا جاتا تو یقینا یہ تمام لوگ ان شر اور بدی کی چیزوں کو قدیم زمانے کے من گھڑت افسانے یا توہمات سے تعبیر کرتے۔ کیونکہ بے خبر لوگوں کی عمومی رائے کے مطابق شیطان پرستی ختم ہوئے عرصہ گزر چکا ہے لیکن گذشتہ ہونے والے شیچان دیوتا کے بت والے معاملے نے ایک بہت بڑی اکثریت کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ اور ایسے لوگوں کے خیال کے مطابق یہ سب کچھ افریقہ کے غیر مہذب قبائل یا پھر بھارت کے پسماندہ اور مخصوص علاقوں میں جہاں مختلف دیوی دیوتاوں کو پوجا جاتا ہے وہاں ایسی ہولناک رسومات ادا کی جاتی ہیں۔

تحقیق کرنے والے لوگ اور اب تو لوگوں کی ایک بہت بڑی اکثریت فری میسن اور ایلومیناتیوں کے نام سے بخوبی واقف ہو چکی ہے۔ یہ موجودہ وقت کے انتہائی مشہور شیطان پرست گروہ ہیں اور انکے کرتوت اب تو تمام دنیا پر عیاں ہو چکے ہیں۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ شروعات میں انکو ایک افسانہ یا افواہ سمجھا جاتا رہا لیکن گزرتے ہوئے وقت کیساتھ ساتھ یہ لوگ قوت پکڑتے گئے۔ اور خود ہی اپنی نشانیاں اور علامتیں ظاہر کرتے چلے گئے کہ شک و شبہ کی کوئی گنجائش نا بچی دنیا کے اہم ترین سیاستدان۔ سیلیبریٹیز۔ مشہور ترین سائنسدان۔ کاروباری اشخاص اور دیگر کامیاب ترین لوگوں کی بھاری اکثریت شیطان کی انہی اہم نمائندہ جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے۔ حتی کہ شیطان پرستی نے دیگر مذاہب تک کو خالی نہیں چھوڑا بلکہ انکی بنیادی تعلیمات کو شیطانی عقائد سے آلودہ کیا اور صورتحال یہ ہے کہ دیگر مذاہب کے بجائے شیطان پرستی کے مرتکب ہیں اور معصوم لوگوں کو بےوقوف بناتے ہیں۔

قارئین حال ہی میں امریکی مذہبی شناخت سروے نے بھی ایک ایسا انکشاف کیا ہے جو کہ کئی لوگوں کیلئے ناقابل یقین تھا۔ سروے کے مطابق امریکہ میں جو عقیدہ 1990 سے اب تک سب سے زیادہ تیزی سے پھیلا ہے وہ نا عیسائیت ہے , نا لا دینیت ہے اور نا ہی اسلام ہے بلکہ۔ ویکہ یا ویکن مذہب ہے۔ عیسائیت کا زوال کوئی اچنبھے کی بات نہیں مگر عمومی تاثر عوام الناس میں یہی پایا جاتا ہے کہ امریکہ تیزی سے یا تو الحاد ( یعنی کسی خدا کو نا ماننا۔ ) کے عقیدے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ امریکہ کی 70 فیصد سے زائد آبادی الحاد کا شکار ہے۔ البتہ غور طلب بات یہ ہے کہ وہ جو کہتے ہیں کہ امریکہ میں اسلام بڑی تیزی کیساتھ پھیل رہا ہے اور اگر ایسا ہوتا تو کیا امریکی معاشرے میں اسکے مثبت اثرات نہ پڑتے۔ ؟ سروے نے اسلام کو دوسرا سب سے بڑا تیزی سے پھیلنے والا مذہب ضرور قرار دیا ہے مگر اول نمبر پر ویکہ یا ویکن مذہب کا آنا ایک ایسی کڑی ہے جو امریکہ کی دن بہ دن بڑھتی شیطانیت اور اخلاقی و روحانی طور پر زوال پذیر معاشرے کی وجہ بخوبی بیان کرتی ہے۔ ویکہ یا ویکن درحقیقت شیطان پرستی کا ہی ایک فرقہ ہے اور اسے ( وچ کرافٹ ) بھی کہا جاتا ہے۔

قارئین محترم۔ سروے کے مطابق امریکہ میں اس وقت اس ویکہ  مذہب کے 200000 یعنی بیس لاکھ رجسٹرڈ پیروکار جنہیں باقاعدہ طور پر ( وچز  ) کہا جاتا ہے موجود ہیں۔ جبکہ غیر رجسٹرڈ شدہ وچز کی تعداد 80 لاکھ سے زیادہ ہے اسکے علاوہ برطانیہ و دیگر یورپی ممالک میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں۔ امریکہ کے عیسائی مذہبی ماہرین کیلئے بھی یہ صورتحال کافی تشویشناک ہے انہوں نے نوجوان نسل کے شیطان پرستی کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا ذمہ دار ویمپائر۔ زومبیز۔ ویئر وولف۔ ڈریکولا اور دیگر جادو گری سے متعلق چیزوں کے بارے میں شوق و رغبت پیدا کرنے والی فلموں اور کتابوں کو ٹھہرایا ہے۔ اور اسکے علاوہ انکا کہنا ہے کہ کئی سالوں کی محنت کے بعد اب جب نوجوان نسل کالی طاقتوں اور شیطان کے مختلف اوتاروں کی طرف مکمل طور پر راغب ہو چکی ہے تو شیلفوں پر فلموں اور فکشن کہانیوں کیساتھ ساتھ براہ راست شیطان پرستی سکھانے والی گیمز، کتابیں اور رسالے بھی کثیر تعداد میں نظر آنے لگی ہیں۔ اسکے علاوہ ویکہ مذہب کے بارے میں چند دلچسپ حقائق پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

1۔ اس فرقے کو جدید زمانے کی شیطان پرستی قرار دیا جا رہا ہے۔ اور اس کی طاقتیں ایلومیناتیوں سے تھوڑی کم ضرور ہیں لیکن اپنے جادوئی اور ٹرانس ازم کے اثرات کے حساب سے یہ ایلو میناتیوں کا بھی باپ مانا جاتا ہے۔ اور اسکے رسم و رواج وہی ہیں جو برسوں سے شیطان پرستوں کے چلے آ رہے ہیں۔

2۔ دیگر شیطان پرست فرقوں کی طرح ویکہ مذہب کے پیروکار ہر گز یہ نہیں مانتے کہ وہ برے ہیں۔ وہ اعلانیہ طور پر شیطان کی پوجا کرنے کا اعلان کرتے ہیں مگر انکے نزدیک شیطان بری قوت نہیں جیسا کہ دیگر مذاہب بتاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قسط نمبر7 سکل اینڈ بونز

قسط نمبر8 مسلمان اور عملیات کی دنیا

قسط نمبر10 علامات، سنبل،اور کوڈنگ

اس فرقے کی طرف نئے مائل ہونے والے لوگوں سے ابتداء میں کوئی ایسی چیز نہیں کروائی جاتی بلکہ انہیں انسان دوستی۔ برداشت۔ حقوق نسواں۔ ہم جنس پرستی۔ اور آزادءرائے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اسکے ساتھ انہیں کچھ خاص رسوم ادا کرنے کا کہا جاتا ہے اور عبادات کے مختلف طریقے بتائے جاتے ہیں۔ اور مختلف قسم کی جڑی بوٹیوں۔ رنگوں۔ اور دیگر اشیاءکا استعمال بتایا جاتا ہے جو بظاہر فرحت بخش اور سکون فراہم کرنے والے ٹوٹکے ہوتے ہیں مگر در حقیقت یہ پجاری کو اپنے حصار میں ایسے قید کرتے ہیں تاکہ وہ پھر اس سے باہر نا جا پائے اس وقت تک جب تک کہ ویکہ مذہب کا پیروکار مخصوص سطح تک نہیں پہنچ جاتا وہ اسی گمان میں رہتا ہے کہ ہم اچھی اور نیک روحانیت کے سفر پر گامزن ہیں۔

3۔ ویکن اپنا سال ہیلووین  نام رسم یا تہوار سے شروع کرتے ہیں جو کہ ایک خاص شیطانی طریقے سے ادا کی جاتی ہے ۔

4۔ یہ 20 دسمبر کو۔ یولی۔ نام کا تہوار مناتے ہیں جو انکے عقیدے کے مطابق دیوی کے سورج خدا کو جنم دینے کا دن ہے۔

5۔ لیتھا۔ یعنی گرمیوں کے درمیانی حصے کو کہتے ہیں۔ اور اس دوران ویکہ کے پیروکار خوب جادو ٹونے کرتے ہیں۔ اور اس دوران انکی طاقتیں بہت زیادہ عروج پر ہوتی ہیں۔

6۔ کالی بلیاں۔ مکڑیاں اور چمگادڑیں انکی پسندیدہ علامات ہیں۔ اور ہیلووین  تہوار کے دوران ان حشرات الارض کا روپ دھارتے ہیں۔ یاد رہے ہیلووین درحقیقت کوئی عیسائی تہورا نہیں بلکہ عیسائیت میں شیطان پرستی کی ملاوٹ کا نتیجہ ہے اور اسکے خلاف عیسائیوں نے بے پناہ مقالات بھی لکھے ہیں۔

7۔ اسکے علاوہ اس شیطان شیچان یا زونسٹ گاڈ ڈیول یا ڈیمن کے دو لمبے دانت خون آشامی اور آدم خوری کو واضح کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دانتوں سے شیطان دیوتا کسی کو بھی ادھیڑ کر دکھ سکتا ہے اور اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سب سے پہلے ڈریکولا کا کردار تراشا گیا جس کی خون آشامی اور انسان سے شیطان بننے کے انوکھے طریقے سے پہلی بار دنیا متعارف ہوئی اور اسکے بعد یکے بعد دیگرے کئی ایسے کردار زومبیز۔ ویئر وولف یا بوگی مین جیسے کردار تراش کر گویا کہ شیاطین اور انکی خون آشامی یا آدم خوری سے انسانوں کو پوری طرح متعارف کروا دیا گیا۔ اور پھر چلتے پھرتے انسانوں کو اس قبیح فعل پر ابھارا گیا جو کہ شیطان کو خوش کرنے اور اس سے مزید طاقتیں حاصل کرنے کی غرض سے کیئے جاتے ہیں جیسے کہ انسانی خون پینا اور گوشت کھانا یا انسانوں کی قربانی کرنا اور اب جدید سائنس جسے کی ٹرانس جینک سائنس کہا جاتا ہے اسکے ذریعے اور شیطان اور انسانوں پر مشتمل ایسی نسل تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک چلتا پھرتا انسان جب چاہے شیطان بن جائے اور جب چاہے انسان اور انسانی خون اور گوشت کی طلب اسکے اندر موجود ہو۔ اور یہ سب باتیں انکو شیطان دیوتا سے ہی سیکھنے اور کرنے کو ملتی ہیں۔ جو کہ کسی بھی وقت خاص تنتروں اور منتروں سے ان سے رابطے میں آ جاتا ہے۔

یہ ایک مختصر سا تعارف تھا ویکہ یا ویکن مذہب کے ماننے والوں کا قارئین ایک بات یاد رکھنے والی یہ بھی ہے کہ جس طرح روحانیت میں انسانوں کے درجے ہوتے ہیں اسی طرح شیطانیت میں بھی انسانوں کے درجے ہوتے ہیں جو مختلف شیطانوں سے ہوتے ہوئے آخری شیطان لوسیفر  یعنی جسے ابلیس کہا جاتا ہے اس تک پہنچ جاتے ہیں اور اسکے لیئے کیا کیا کرنا پڑتا ہے یہ ایک الگ کہانی ہے یہاں تک کہ اپنا پاخانہ بھی کھانا پڑتا ہے اور ہر وقت پلیدگی کی حالت میں رہنا کئی کئی دن تک نہائے بغیر رہنا پڑتا ہے۔

جدید سائنس اور شیطان

ممکنہ طور پر یہ بات آپکے لیئے ناقابل قبول ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ جدید سائنس اور شیطانیت کا ایک شروع سے ہی عجیب تعلق رہا ہے۔ گو کہ عوامی اکثریت سائنس کو ایک بے ضرر اور مفید شے سمجھتی ہے۔ جس سے انسان کی زندگی آسان ہوتی ہے۔ اور جو بھی اسکے خلاف بات کرے اسے کم عقل اور دقیانوسی سمجھا جاتا ہے۔ ہاں البتہ اسکی آڑ میں ایسے بے شمار نظریات پھیلائے گئے ہیں۔ جو بظاہر تو سائنسی خول میں لپٹے ہوئے ہیں مگر حقیقت سے انکا دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ انکا مقصد محض یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ یہ دنیا خود بخود ایک نظام کے تحت چل رہی ہے۔ اور اسے چلانے کیلئے کسی نظام یا کسی ذات کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ ماضی میں کئی سائنسدان ایسے گزرے ہیں جنکا اصل مذہب شیطان پرستی تھا۔ مثلا نکولس کاپرنیکس سورج خدا کا پجاری تھا۔ یہ وہ ماہر فلکیات ہے جس نے سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔

مشہور سائنسدان نیوٹن نے بظاہر عیسائیت پر بھی کئی کتابیں لکھیں مگر درحقیقت وہ ابتدائی زندگی میں ناکام ہونے کے بعد اپنی باقی زندگی شیطان کے حوالے کر چکا تھا۔ اور فری میسن سے منسلک ہو چکا تھا۔ جس کے مطابق اسے نت نئے سائنسی نظریات سوجھے اور وہ خوب مشہور ہوا۔

چارلس ڈارون  نظریہ ارتقاءکا مشہور بانی جس کے مطابق انسان بندر سے بنا ہے۔ ڈارون نا صرف خود شیطان پرست تھا بلکہ اسکا باپ بھی مشہورکے بانیوں میں سے بھی تھا۔ اور بظاہر فلسفیوں اور انقلابیوں کی سوسائٹی تھی۔ لیکن اندرون خانہ شیطان پرستوں کا ایک ٹولہ تھا۔ اسی طرح جب سائنسدانوں نے چاند پر جانے کا قصد کیا تو راکٹ بنانے کی ذمہ داری جیک پارسن نے لی جو کہ اعلانیہ طور پر شیطان پرست تھا۔ اور اسی کے ڈیزائن کے مطابق آج تک راکٹ بنائے جاتے ہیں۔اور اسکو فادر آف راکٹری بھی کہا جاتا ہے۔ البتہ یہ بات اب اظہر من الشمس ہے۔ کہ کوئی سائنسدان کبھی بھی چاند پر نہیں پہنچ پایا اور چاند پر جانے کی ویڈیوز محض ویڈیو اور فلم ٹیکنالوجی تھی۔ جو کہ فلوریڈا کے ایک علاقے ایریا 51 میں فلمائی گئی تھی۔

ایک مشاہدے کے مطابق شیطان پرست سائنسدان بے انتہا شہرت رکھتے ہیں۔ اگرچہ انکی جانب سے جھوٹے نظریات ہی پھیلانے گئے ہوتے ہیں اور وہ ایجادات جن سے انسان کو واقع ہی کوئی فائدہ پہنچتا ہے انکے بس سے باہر ہوتی ہیں۔ بلکہ دور حاضر کے تمام مشہور سائنسدان بھی اعلانیہ طور پر لا دین ہیں۔ یعنی کسی خدا کو نہیں مانتے بلکہ سائنس کی مدد سے خدا کا انکار ہی تمام سائنس کی ایک اپنی خدمت ہے۔ اور ان میں نمایاں نام۔ رچرڈ ڈاکنز نیل ڈی گراس ٹائسن۔ اسٹورٹ کراوس۔ اور اسٹیفن ہاکنگ شامل ہیں۔ جبکہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا  جو کہ تمام ملکوں میں موجود خلائی ایجنسیوں کا تحقیقی مرکز ہے اسکے لوگو میں بھی شیطانی علامت یعنی سانپ کی زبان موجود ہے۔ اسی طرح ناسا کا مشہور ٹیلی اسکوپ جس کا نام ہبل۔  ہے یعنی قدیم دور کے کفار کے مشہور بت کے نام پر ہے جسکا نام ہبل ہی تھا اور علماء حضرات بھی اسکی تائید کر سکتے ہیں۔ ( لیکن بظاہر یہ نام ایک مجہول سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہے۔

اور اسی طرح ناسا اور کاپرنیکس کی رائج کردہ سائنس کے مطابق زمین ایک سیارہ ہے۔ اور ایسے کروڑوں سیارے خلاءمیں موجود ہیں اس لیے نا تو زمین کوئی خاص جگہ ہے اور نہ ہی انسان کوئی خاص مخلوق۔ بلکہ ان کروڑوں مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے جن کی کھوج یا تلاش میں اس وقت ناسا لگی ہوئی ہے۔ اور یہ بات ہمیں ویڈیوز اور تصاویر سے بارہا باور کروائی جاتی ہے۔ کہ ہم محض کسی لامحدود خلاءکا محض ایک نقطہ ہیں۔ اور اگر براہ راست دیکھا جائے تو یہ براہ راست ابلیس کا شکوہ ہے جو کہ زمین کی خلافت نا ملنے پر حضرت آدم علیہ اسلام سے سخت خائف ہوا۔ اور اب وہ اس جھوٹے علم کو پھیلا کر ہمیں حقیر بے مقصد اور محض حادثاتی مخلوق ثابت کرنے کے درپے ہے۔

واضح رہے کہ ساحری اور جادوگری بھی شیطان پرستوں کا ہی خاصہ ہے مگر براہِ راست جادوگری کرنے والے شیطان پرست درجہ بندی میں نچلی سطح پر ہوتے ہیں۔ جی ہاں، شیطان پرستوں کے باقاعدہ گریڈ ہوتے ہیں جن میں ٹاپ کی سطح پر مختلف ملکوں کے صدر۔ وزرائ۔ سیاست دان ، فلسفی اور سائنسدان۔ انسانی فلاح کی تنظیمیں چلانے والے و دیگر اس طرح کے مشہور لوگ ہوتے ہیں۔ ایک اور عجیب بات ان کے بارے میں جو معلوم ہوئی ہے وہ یہ کہ بلند گریڈ والے شیطان پرست نچلی گریڈ والے شیطان پرستوں کو شیطانی قوتوں اور عقائد کے بارے میں مکمل معلومات اور تفصیلات نہیں دیتے بلکہ انہیں مزید ‘روشنی’ حاصل کرنے اور ‘حقائق’ سے پردہ ہٹانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

شیطان پرست آہستہ آہستہ مختلف شیطانی قوتوں کا مالک بنتا جاتا ہے بلکہ جب اس پر حقیقت روشن ہو جاتی ہے اور وہ اس سے پیچھے ہٹنے کے نہ قابل رہتا ہے نہ ہی اس کا اپنا ارادہ پیچھے ہٹنے کا بن پاتا ہے تو اپنا لیول اور قوتیں بڑھانے کیلئے اسے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں اور خبیث سے خبیث تر افعال کو اپنانا پڑتا ہے۔ روم میں موجود عیسائیوں کے مشہور ‘واٹکین چرچ’ کے جتنے بھی پوپ آج تک گزرے ہیں ان سب پر ہمیشہ بچوں کو اغوا کر کہ ان کا ریپ کرنے اور انہیں قتل کرنے کا الزام لگتا رہا ہے البتہ ان الزامات کو محض سازش کہہ کر ہمیشہ رد کیا جاتا رہا۔

یہاں نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سالانہ سینکڑوں ایسے کیس رپورٹ ہوتے ہیں کہ بچے کو اغواءکیا گیا، پھر اس کا ریپ ہوا، اور پھر اسے قتل کردیا گیا۔ یہ دراصل جادو سیکھنے والے شیطان کے سامنے انسانی قربانی پیش کرتے ہیں۔ ورنہ ریپ کرنے کے بعد قتل کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ عام طور پر بڑی عمر کی عورتوں کا ریپ بھی ہوتا ہے ، اجتماعی زیادتی بھی ہوتی ہے لیکن قتل نہیں ہوتا کیونکہ وہاں مقصد صرف ریپ کرنا ہوتا ہےنہ کہ قربانی کرنا۔ موجودہ پوپ فرانسیس پر بھی ایسے کئی ناقابلِ تردید الزامات موجود ہیں مگر اس لیول کے شیطان پرست کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ملکہ برطانیہ پر بھی بچوں کی بھینٹ چڑھانے کے الزامات موجود ہیں۔

فہرست پر واپس جائیں

2020-12-03

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *