قسط نمبر10 علامات، سنبل،اور کوڈنگ

علامات، سنبل،اور کوڈنگ

قارئین کرام اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں میں مختلف قسم کی تاثیر رکھی ہے۔ جیسے کھانے پینے کی چیزیں کسی کا مزاج گرم ہوتا ہے کسی کا سرد ہوتا ہے کسی کا بلغمی اور کسی کا سوداوی یا صفراوی وغیرہ۔ اسی طرح زہر کے اندر یہ تاثیر ہے کہ انسان کوہلاک کردیتا ہے، چاہے کوئی غلطی سے کھائے یا جان بوجھ کر ہلاک ہی ہوجاتا ہے۔ پانی میں اللہ نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ انسان کی پیاس کو بجھا دیتا ہے۔ اللہ نے انسان کے خیال میں بھی طاقت رکھی ہے، جسے قوت خیالیہ کہا جاتا ہے، اسی قوت خیالیہ کا منفی اثر نظربد لگنا کہلاتا ہے۔اسی طرح الفاظ کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی یا انبیائے کرام کی سیرت اور زندگیوں سے جو ہمیں حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم طبی علاج کے علاوہ اپنے رب کو پکار کر اس کی مدد بھی حاصل کریں، اس سے دعا مانگیں، کیونکہ اصل حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے، چاہے ہم کوئی دوائی لیں یا کوئی ٹوٹکا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بھی اور احادیث میں بھی ہمیں بے شمار دعائیں ملتی ہیں، جنہیں ہم پڑھتے ہیں۔

نکتہ
نکتہ

دوسری طرف شیطانی طاقتیں بھی سرگرم ہیں وہ بھی کسی بیمار یا پریشان حال انسان کی مجبوری کو موقع غنیمت جان کر اسے شرک اور عقیدے کی خرابی میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ایک مسلمان جس کا یہ عقیدہ ہے میں نے صرف اللہ کو پکارنا ہے اللہ کے علاوہ کسی اور کا پکارنا جائز نہیں ، اس کے سامنے اگر کوئی ایسی چیز آئے جس میں شیطان کو یا شیطانی طاقتوں کو پکارا گیا ہو، تو وہ ہر گز ایسا نہیں کرتا۔ اس لیے شیطانی طاقتوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ اگر کوئی خود نہیں کرتا تو اس سے یہ کام انجانے میں ہی کروایا جائے۔ چنانچہ انہوں نے شیطانی کلمات کو علامات، سنبل اور کوڈنگ میں تبدیل کردیا۔اور پھر اس شیطانیت کو روحانیت کے نام سے مسلمانوں میں مشہور و معروف کردیا۔

 کسی بھی زبان کو لکھنے کے کئی کئی طریقے ہو سکتے ہیں، انہیں طریقوں میں سے ایک طریقہ ہندسوں میں لکھنا بھی ہے۔ جیسے آپ جانتے ہیں ہیں کہ بسم اللہ کو ہندسوں میں 786 لکھا جاتا ہے۔وہ الگ بات ہے کہ شرعی لحاظ سے 786 بسم اللہ شمار نہیں ہوتا اور نہ ہی 786 لکھنے سے وہ برکات حاصل ہو سکتی ہیں جو اصل بسم اللہ لکھنے سے حاصل ہوتی ہیں، کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور ایک دین و شریعت اور نبی کی تعلیمات کے پابند ہیں، لہذا ہمیں اسی راستے پر چلنا چاہیے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے تجویز کیا ہے۔

شیطانی طاقتوں نے بے شمار ایسے نشانات، علامات،سنبلز اور کوڈنگ بنائی ہیں جس میں شیطانوں کو پکارا گیا ہے، یا جن کا مطلب و معنی کسی خاص عقیدے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اپنے عقیدے اور مقصد کو شارٹ کرکے مجہول اور آسانی سے نہ سمجھ آنے والے انداز سے لکھنا شروع سے ہی شیطانی قوتوں کا طریقہ رہا ہے۔ اسلام اور مسلمان اپنا عقیدہ، اپنی پکار، اور طرزعمل ہمیشہ واضح رکھتا ہے، یہ چیز اسے قرآن سے ودیعت ہوئی ہے۔ جبکہ شیطانی طاقتوں میں اتنی ہمت نہیں ہوتی، وہ بزدل،مکار، دھوکے بازہوتی ہیں، لوگوں کو دھوکے سے پھسلانا، بہکانا ہمیشہ سے ان کا وطیرہ رہا ہے۔اسلام شک کا دین نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مجہول دین ہے، اسلام واضح، محکم اور بیّن دین ہے۔جو لوگ عجیب و غریب قسم کے تعویذات لکھ کر دے رہے ہوتے ہیں ان میں سے اکثر کو خود بھی نہیں پتا ہوتا کہ ہم کیا لکھ کر دے رہے ہیں، بس کسی شیطانی کتاب میں دیکھا اور لکھ کر دے دیا، اب یہ کیا ہے اس کا معنی و مطلب کیا ہے یہ انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں

قسط نمبر2 جنات کی اقسام

قسط نمبر8 مسلمان اور عملیات کی دنیا

قسط نمبر11 کاوبار اور رزق کی بندش

قسط نمبر12 رشتہ نہ ملنے کے مسائل

مسلمان معاشرے میں عملیات

مسلمان معاشرے میںعملیات کا کام پہلے عامل نجومی کیا کرتے تھے۔ جن کی دکانوں کے بورڈ کچھ یوں ہوا کرتے تھے۔ پروفیسر عامل نجومی۔ بنگالی بابا، وغیرہ ۔ علمائے حق ہمیشہ نجومیوں، کاہنوں اور جادوگروں کی سرکوبی کرتے رہے، اور کیوں نہ کرتے جبکہ ہمارا قرآن و سنت اس بارے واضح اور دو ٹوک موقف اور عقیدہ ہمیں دیتا ہے۔ چنانچہ یہ سرکوبی کرتے کرتے کچھ لوگوں کو خیال آیاکہ لوگوں زیادہ رجحان اب بھی نجومیوں کی طرف ہے، اور لوگ خود تعویذ کا مطالبہ کرتے ہیں ، کیونکہ قرآن کو پڑھنا، یا اس پر عمل کرنا مشکل اور کاغذ کی پرچی گلے میں لٹکانا آسان ہے، اس لیے لوگ خود ہی مطالبہ کرتے ہیں ہمیں تعویذ دیا جائے۔ چنانچہ کچھ علماءنے تعویذات لکھ کر دینے کا کام شروع کردیا، اور اس کی کچھ شرائط بھی بتادیں کہ تعویذ صرف قرآنی آیات، یا مسنون اذکار پر مبنی ہونا چاہیے، تعویذ میں کوئی ایسی زبان جو عربی کے علاوہ ہو، یا کوئی ایسی بات یا علامت جس کا مطلب واضح نہ ہو وہ نہ لکھی جائے۔ چنانچہ شروع میں تو اس پر عمل ہوتا رہا، لیکن پیسے کی لالچ، کم علمی، جہالت نے ان شرائط کو پس پشت ڈال دیا اور آہستہ آہستہ ایسے تعویذات لکھے جانے لگے جن میں نہ صرف قرآنی آیات و مسنون اذکار کے علاوہ چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں بلکہ ایسے نمبرز، علامات، سنبلز اور زبان لکھی جاتی ہے جو خود لکھنے والے کو بھی نہیں معلوم کہ یہ کیا ہے۔ لکھنے والے کے پاس سوائے اس کے اور کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ میں نے یہ تعویذ ایک ایسی کتاب سے لیا ہے جس کے ٹائٹل پر فلاں بزرگ کا نام لکھا ہوا ہے، تو جب ان بزرگ نے یہ لکھا ہے تو ضرور درست ہی ہوگا۔

لیکن قارئین کرام! ایسی بات ایک عام مسلمان کہے تب تو ٹھیک ہے، کیونکہ عام مسلمان علماءاور بزرگان دین کو دیکھ کر یا ان کے پیچھے چلتے ہیں، ان کی دلیل صرف یہی ہوتی ہے کہ ہمارے امام صاحب نے یوں کہا، کیونکہ ایک عام مسلمان اپنے امام مسجدیا ایک ایسے عالم کا مقلد ہوتا ہے جس پر اسے اعتماد ہو۔ اگر یہی کام ایک ایسا شخص شروع کردے جس نے دس بارہ سال مدرسے میں لگائے، تمام علوم کی کتابیں پڑھیں، قرآن مع ترجمہ و تفسیر پڑھا، صحاص ستہ سمیت بہت ساری احادیث کی کتابیں پڑھیں تو بہت تعجب ہوتا ہے۔ اس کے بارے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس نے مدرسے کی دال روٹی حرام کی ہے۔ اس کے دس سال پڑھنے کا کیا فائدہ ہوا کہ وہ بھی اسی روش کو اختیار کرتا ہے جو اَن پڑھ مسلمان کے اختیار کرنے کی ہے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں کچھ ایسی چیزوں کا پوسٹ مارٹم اور وضاحت کرنا چاہتا ہوں جو عام طور ہمارے ہاں عملیات کی دنیا میں کی جاتی ہیں۔جس میں عملیات بھی ہیں اور تعویذات بھی، جنتر منتر تنتر بھی ہیں اور لوٹنے کے طریقے بھی۔

بندش

عملیات کی دنیا میں یہ لفظ بہت زیادہ بولا جاتا ہے، عاملین کو جس بات کی سمجھ نہ آئے تو کہہ دیتے ہیں تم پر بندش ہے، کوئی کہتا ہے میری شادی کا مسئلہ ہے تو کہہ دیتے ہیں آپ پرکسی نے بندش کردی ہے کوئی کہتا ہے میرا کاروبار خراب ہے تو کہہ دیتے ہیں آپ پر بندش کرائی گئی ہے۔ بندش کا مفہوم ہے بند کردینا، رکاوٹ ڈال دینا۔ جب کوئی عامل کسی کو یہ کہتا ہے تم پر کسی نے بندش کردی ہے تو اس بات کا سب سے پہلا نقصان جو اس سوال کرنے والے عام مسلمان کو ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ یہ سمجھنا شروع کردیتا ہے کہ لوگ بھی کسی پر بندش لگا سکتے ہیں، کسی کا رزق بند کرسکتے ہیں۔ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن نے ہمیں جو تعلیمات دی ہیں ان کے مطابق اللہ اگر کسی کو نقصان دینا چاہے تو کوئی اسے فائدہ نہیں دے سکتا اور اگر اللہ کسی کو فائدہ دینا چاہے تو کوئی اسے نقصان نہیں دے سکتا ۔

وعن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما قال کنت خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوما فقال:( یاغلام ! انی اعلمک کلمات :احفظ اللہ یحفظک ،احفظاللہ تجدہ تجاھک، اذا سالت فاساللہ واذا استعنت فاستعن با اللہ واعلم ان الامة لواجتمعت علی ان ینفعوک بشیء لم ینفعوک الابشیء قد کتبہ اللہ لک ولو اجتمعوا علی ان یضروک بشیء لم یضروک الابشیءقد کتبہ اللہ علیک، رفعت الاقلام وجفت الصحف (ترمذی)

ترجمہ:عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، فرماتے ہیں:ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوارتھا ،آپ نے فرمایا:اے لڑکے! میں تجھے چند اہم امور کی تعلیم دیتا ہوں ،تم اللہ تعالیٰ کے حدود وفرائض کی حفاظت کرو ، اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔تم ا للہتعالیٰ کی حدود وفرائض کی حفاظت کرو ،ہمیشہ اسے اپنے سامنے پاوگے۔جب بھی مانگوصرف اللہ تعالیٰ سے مانگو ، اور جب بھی مدد طلب کرو صرف اللہ تعالیٰ سے کرو ،اور اچھی طرح جان لو!اگر پوری امت تمہیں کوئی نفع پہنچانا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے نفع کے علاوہ کوئی نفع نہیں پہنچ سکتی۔ اور اگر پوری امت تمہیں نقصان پہچانے کے در پے ہوجا ئے تو اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے نقصان کے علاوہ کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ (تقدیر لکھنے والی )قلمیں اٹھالی گئی ہیں اور صحیفے(جن پر تقدیر لکھی گئی ہے) خشک ہوچکے ہیں۔

یہ حدیث ہماری مکمل رہنمائی کرتی ہے کہ اگر ہم اللہ کی قائم کردہ حدود کو نہ پھلانگیں، یعنی زندگی شریعت کے مطابق گزاریں، تو ہمیشہ ہر مشکل میں ہم اللہ کو اپنے سامنے پائیں گے۔اور اللہ کے علاوہ نہ کوئی کسی کون نقصان دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی کسی کو نفع دے سکتا ہے۔ لیکن عاملین پہلی فرصت میں آنے والے کی سوچ کو بجائے اللہ کی طرف موڑنے کے لوگوں کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ عاملین ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ اگر وہ یہ عقیدہ دیں جو اوپر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیا تھا، تو پھر آنے والا اٹھ کر مسجد جائے گا اور وضو کرکے اللہ کے سامنے گڑگڑائے گا، پھر اس کی جیب سے پیسے کیسے نکلیں گے، لہذا عاملین سب سے پہلا کام اس کی نظر اللہ سے ہٹانے کا کرتے ہیں، تب وہ شخص کہتا ہے اب ان لوگوں کی لگائی ہوئی بندش کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے تو پھر عامل کہتا ہے اس کے لیے زعفران چاہیے،نیپال کی کستوری چاہیے، کالا بکرا چاہیے، ہانڈی اور فلاں فلاں دال چاہیے وغیرہ وغیرہ۔پھر وہ شخص بچارہ کہاں سے نیپال کی کستوری لائے وہ کہتا ہے ان چیزوں کا آپ ہی بندوبست کردیں، تو عامل ان چیزوں کی مد میں اچھی خاصی رقم لیتا ہے اور دو چار دن بعد آنے کا کہتا ہے۔

بندش سے ملتا جلتا مفہوم یا بندش کے معنی کے قریب ترین معنی رکھنے والے الفاظ ہمیں سورہ توبہ کی آیت نمبر 118 میں ملتے ہیں۔ ارشاد ہے:

حتی اذا ضاقت علیھم الارض بما رحبت وضاقت علیھم انفسھم

یہاں تک کہ جب تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود اپنی وسعت کے، اور تنگ ہوگئیں ان پر ان کی جانیں۔

یہ آیت جنگ تبوک کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے باوجود جہاد میں شرکت نہ کرنے والوں کے بارے میں ہے۔ ان کی یہ حالت رسول اللہ کے حکم کو نہ پورا کرنے کی وجہ سے ہوئی، اور اس حالت سے وہ سچی توبہ کرنے اور اللہ و رسول کی طرف رجوع کرنے کی ہی صورت میں نکلے تھے۔ اور آج بھی انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں لوگوں کی ایسی حالت اکثر بیشتر ہوتی رہتی ہے، کہ ان کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں، انہیں کچھ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کریں، پیسہ، زمین، دکان، بزنس، نوکری، سب کچھ ہونے کے باوجود ہر راستہ بند ہو جاتا ہے، سونے کو ہاتھ لگاتے ہیں وہ مٹی بن جاتا ہے۔ کوئی کاروبار نہیں چلتا ، کوئی رشتہ نہیں ملتا،کوئی دوا اثر نہیں کرتی، گھر میں سکون نہیں، دماغ ماوف ہو جاتا ہے کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ سوال پیدا ہوتا ہے ایسی صورت میں کیا کریں؟ سب سے پہلے تو اوپر لکھی ہوئی حدیث کو تین بار پھر پڑھیں۔

 اس کے بعد مندرجہ ذیل چند آیات کو کم از کم تین بار ترجمے سمیت پڑھیں، اور جوکچھ ارشاد خداوندی ہے، اسے اپنے دل و دماغ میں سمجھ کر اتار دیں۔یہ یاد رکھیں، قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں یہ فرمایا ہے:

مَااصاب من مصیبة الا باذن اللہ، ومن من باللہ یھد قلبہ، واللہ بکل شیءعلیم(تغابن 18)

ترجمانی: جو بھی مصیبت آتی ہے، وہ اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے۔ اور جو اللہ پر ایمان و یقین رکھے اللہ اس کے دل کو ہدایت(راستہ دکھا)دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

یعنی آپ پر بندش ہے، آپ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ آپ کیا کریں، تو اس سے نکلنے کا راستہ اللہ پر ایمان اور محکم یقین سے شروع ہوتا ہے ۔آپ یہ کریں گے اللہ اس بندش سے نکلنے کا راستہ دکھا دے گا۔ اور آپ مٹی کو ہاتھ لگائیں گے وہ سونا بن جائے گی۔

مااصاب من مصیبة فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبراھا، ان ذلک علی اللہ یسیر(الحدید29)

ترجمانی: تمہاری جانوں کو یا زمین پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ پہلے سے ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں بے شک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔

وما اصابکم من مصیبة فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر(شوری30)

ترجمانی: اور تمہیں جو بھی مصیبت پریشانی آتی ہے وہ دراصل تمہارے اپنی ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے، زیادہ تر تو اللہ ویسے ہی معاف کردیتا ہے۔

یعنی تم پر بندش ہے، کاروبار بند ہے، سارے راستے بند ہیں، تو جان لو یہ تمہارا اپنا ہی کیا کرایا ہے، کسی ساس،سسر،بہو، خالہ، پھوپھی نے نہیں کیا، وہ کیسے کرسکتے ہیں وہ کوئی خدائی اختیارات تو نہیں رکھتے کہ جب چاہیں اور جس کو چاہیں بند کردیں۔آج تم سیدھے راستے پر آجاو، اللہ پر بھروسہ، ایمان ، یقین پیدا کرو، توکل صبر شکر اور شریعت کی پابندی شروع کردو، سارے راستے کھل جائیں گے۔

ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون(روم60)

ترجمانی: خشکی اور تری میں جو بھی فساد ظاہر ہوتا ہے ان برائیوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو لوگ خود کرتے ہیں، یہ فساد اور نقصان اللہ اس لیے کرتا ہے تاکہ لوگوں کو ان کے بعض برے اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں۔

یعنی دنیا میں جو بھی فساد فی الارض ہے، چاہے وہ دہشت گردی کی صورت میں ہو، یاظلم وستم، مہنگائی، بدامنی،بے سکونی، ناانصافی، چوری چکاری وغیرہ کی صورت میں سب کچھ انسانوں کے اپنے کرتوتوں کی ہی وجہ سے ہوتا ہے، کرنے والا اللہ ہے، وہ تمہیں سبق سکھانا چاہتا ہے تمہارے بعض برے اعمال کا تاکہ تم ٹھوکر کھاکر سیدھے راستے کی طرف پلٹ آو۔ تو قارئین کرام آپ نے دیکھ اور سمجھ لیا ہوگا کہ ہمارا پیارا رب کیا فرمارہا ہے اور کیسے ہمیں دنیا میں پیش آنے والی پریشانیوں کی وجہ بتا رہا ہے۔یاد رکھیں یہی اصل وجوہات ہیں، انہیں کو فوکس کریں، عاملین کے چکروں میں نہ پڑیں،ان کا اصل مقصد آپ کی جیب سے رقم نکلوانا ہوتا ہے،اس کے لیے وہ طرح طرح کی باتیں اور شعبدے کرتے ہیں، اس جھوٹ کو آپ اس طرح بھی پکڑ سکتے ہیں، کہ ایک ہی مسئلہ آپ دس عاملین کو بتائیں ہر عامل دوسرے سے مختلف بات کرے گا، مختلف طریقہ علاج بتائے گا۔اگر یہ روحانیت اور دین ہوتا تو ایک ہی ہوتا، عملیات کے نام پر یہ روحانیت نہیں شیطانیت ہے، اس شیطانیت سے آپ قرآن وسنت کے ساتھ جڑ کر ہی بچ سکتے ہیں۔

فہرست پر واپس جائیں

2020-12-08

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *