قانون اربعہ طب مفرد اعضاء

0
1346

قانون اربعہ طب مفرد اعضاء

قانون اربعہ طب مفرد اعضاء اصل میں حکیم صابر ملتانی رحمہ اللہ کے نظریہ قانون مفرد اعضاء جو دراصل تین مفرد اعضاء پر مبنی ہے اس کی جدید اور ترقی یافتہ شکل ہے۔ جس پر کام ان کی زندگی میں ہی شروع ہو چکا تھا لیکن ان کے بعد اس پر بہت کام ہوا۔

اس موضوع پر بہترین کتاب تحقیقات ماہیت الامراض وعلاج مع ہمارا مطب ہے جسے حکیم سعادت علی راحت بن حکیم رحمت علی راحت نے تحریر کیا ہے۔

تحقیقات ماہیت الامراض وعلاج مع ہمارا مطب حکیم سعادت علی راحت 1

قانون اربعہ طب مفرد اعضاء

مرض کی ماہیت کو سمجھنے  کے لیے جب تک جسم کے طبعی افعال و حالات کو ذہن نشین نہ کیاجائے  اس وقت تک اس کے غیرطبعی افعال و حالات اور مرض پر عبور حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس مقصدکے لیے علم تشریح الابدان وعلم افعال الاعضاء اور علم الانسجہ کوسب سے پہلے ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے دیکھیے کتاب’’ کلیات علم الا بدان ازحکیم رحمت علی راحت)

حقیقت یہ ہے کہ علاج میں کا میابی کا راز صحیح تشخیص پر ہے جو ماہیت الامراض کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اور مرض کو صحیح سمجھے بغیر علاج کرنا نہ صرف گمراہی بلکہ بہت بڑا گناہ ہے۔

ایلوپیتھی کوٹشوز (انسجہ کاعلم تو ہے مگر اس نے اس کو امرض و علامات کی بنیا نہیں بنایا۔  ہم نے مفرداعضا ء( ٹشوز کو آیور و یدک کے دوش اور طب یونانی کے اخلاط سے تطبیق دے کرانہی کے تحت امراض و علامات کی ماہیت بیان کر کے اپنی تحقیقات پیش کی ہیں ۔

آرگینو پیتھی(قانون اربعہ طب مفرد اعضاء)  علاج بالا عضا ء کا طریقہ علاج پہلی بار موجد طب جد ید حکیم احمد دین شاہد روی نے پیش کیا جومرکب اعضاء کے دوافعال ایک تیزی اور دوسراسستی پرمشتمل تھا۔ مرکب اعضاء کی تیزی کوتحر یک ( خشکی)  اورسستی کوتسکین ( تری ) کا نام دیا گیا۔ اس کے بعدحکیم احمد دین شاہد روی کے شاگر د جناب صابر ملتانی نے نظر یہ افعال الاعضا کو مرکب اعضاء کی بجائے مفرد اعضاء پر قائم کر کے سستی افعال کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا ایک سستی کوتسکین ( تری)  اور دوسری سستی (تحلیل) گرمی قرار دیا۔ اس کے بعد صابر ملتانی  کے شاگر درشید حکیم رحمت علی راحت نے اس طریقہ علاج کو ’’ کلیات علم الابدان‘‘ کی صورت میں لکھ کر اس کو چار اخلاط ، چار مفرد اعضا ( تشوز ) پر قائم کر کے سستی افعال کو تین اقسام میں تقسیم کر کے تیسری کو تخدیر(سردی) کا نام دے کر اس کو قانون اربعہ طب مفر داعضاء کا نام دیا۔ اس طرح افعال الاعضاء کا نظر یہ

چار کیفیات کے قانون اربعہ پر قائم کر کے اس کوایک قانون بنادیا گیا ۔

چیٹ جی پی ٹی سے پیسہ کمانے کے طریقے

راحت سمپل آرگیو پیتھک میڈ یکل سائنس کے بنیادی نکات:

 1 ۔ اس میڈیکل سائنس کی بنیاد حدیث مبارکہ پر رکھی گئی ہے۔(جسم ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہو تو ساراجسم صحیح ہوتا ہے اگر وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہوتا ہے۔ (حدیث)۔۔ فی قلوبھم مرض۔ ان کے دلوں میں مرض ہے۔(قرآن)

2۔صحت و مرض کا منبع اور مرکز دل و عضلات کوقر ار دیا گیا ہے۔

3۔تمام امراض و علامات کو دل ( عضلات کی تیزی(خشکی) کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ جس میں خشکی سے حبس قبض ، لذت ، بے چینی ،سوزش ، ورم ، درد ، بخار ،نزلہ (السر ،قرحہ، ناسوراور کینسر ) وغیرہ شامل ہیں۔

4۔کیفیات اربعہ سے پیدا ہونے والے افعال اربعہ ( تحر یک تحلیل تسکین ،تخدیر) کےاثرات دل وعضلات پر فرد افرد امرتب ہوتے ہیں۔

5۔ ایک وقت میں دل ( عضلات ) اور جس میں ایک ہی کیفیت کا فعل بیک وقت جسم کےتمام نظاموں کے اعضاء کے عضلات میں کم و بیش پا یا جاۓ گا ۔ مثلا جب خون ، دل وعضلات میں خشکی سے تحر یک ( تیز ی فعل ) ہوگی تو تحریک ہی کی علامات تمام جسم کے اعضاء کے عضلات میں پائی جائیں گی اورتحلیل تسکین اور تخدیر (سستی افعال) کی علامات جسم واعضا میں نہ ہوں گی ۔

6۔اس طرح سستی افعال کی تینوں صورتیں تحلیل ( گرمی سے سستی کی صورت میں ضعف) تسکین (تری سے سستی کی صورت میں ضعف) اور تخدیر (سردی سے ستی کی صورت میں ضعف) بھی فرد افردا ایک وقت میں دل ( عضلات ) میں ایک کی ہی علامت کی صورت میں ہوں گی ۔

7۔ چار کیفیات کے چار افعال تحریک تحلیل، تسکین اور تخدیر صرف اور صرف دل پر ہی علیحدہ علیہحدہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

حکیم سعادت علی راحت

یکم نومبر 2017

 

قانون اربعہ طب مفرد اعضاء سیکھنے کے لئے ان سوالات کے جوابات تلاش کریں : :

سوال 1: مرض کیا ہے اور اس کا مقام کیا ہے ؟
سوال2 : گرمی سے تحلیل پیدا ہوگی یا تحریک ؟
سوال 3 : تری سے تسکین پیدا ہوگی یا تحریک ؟
سوال 4 : سردی سے تخدیر پیدا ہوگی یا تحریک ؟
سوال 5 : اگرتحریک سے سوزش ورم پیدا ہوتا ہے تو پھر تحلیل و تسکین اور تخدیر مرض سوزش ورم کے علاج کیلئے استعمال میں لائے جاتے ہیں یا یہ بھی امراض ہیں ؟
سوال6: کیفیات اربعہ کے افعال 1 – خشکی سے تحریک 2 – گرمی سے تحلیل 3 -تری سے تسکین اور 4 -سردی سے تخدیر
5 – ان چاروں کیفیات کے افعال کا ماخذ کون ساعضو رئیس ہے جس کے ذریعہ ہمیں ان افعال کا علم ہوتا ہے؟
سوال6 : تحریک کا تعلق بلغم . صفراء . سوداء اور ریح میں سے کس خلط اور کس کیفیت سے ہے ؟
* طب مفرداعضاء (طب اسلامی و یونانی) کے آفاقی قوانین فرمودات محقق ومجدد حکیم دوست محمد صابر ملتانی رح اور محقق قانون اربعہ طب مفرد اعضاء حکیم رحمت علی راحت رح کی تحقیقات کی روشنی میں درج ذیل ہیں*
*سوال: کس عضو کی حالت کو مرض کا نام دیں گے؟*
جواب : : پس جاننا چاہیئے کہ جو حالت دل و عضلات کی ہوگی وہی حالت چونکہ تمام جسم پر غالب ہوگی اس لئے جسم کی اس حالت یا صورت کو ہم مرض کا نام دیں گے . ( سوانح حیات موجد قانون مفرد اعضاء صفحہ 32 ایڈیشن 1991ء)
قوانین قانون اربعہ طب مفرداعضاء ( طب اسلامی و یونانی )
*1- ہر ایک غذاء دواء یا زہر قلب و عضلات کے افعال پر اثر انداز ہوکر صحت و مرض کی علامات پیدا کرتا ہے . ہر طریقہ علاج اس کو ماننے پر مجبور ہے*
*2- قلب و عضلات اگر تندرست ہے تو تمام جسم تندرست ہے اور اگر وہ بیمار ہے تو تمام جسم بیمار ہے یہ اثرات قلب و عضلات سے بذریعہ خون تمام جسم میں ظاہر ہونگے .*
*3- اگر قلب و عضلات میں خشکی سے تحریک ہوگی تو جسم کے تمام اعضاء کے عضلات میں خشکی ہی کے اثرات بذریعہ خون ہونگے . تحلیل ( گرمی) – تسکین ( تری) اور تخدیر ( سردی) کے اثرات جسم کے کسی عضو میں بھی نہ ہونگے.*
*4- اگر قلب و عضلات میں گرمی سے تحلیل ہوگی تو جسم کے تمام اعضاء کے عضلات میں گرمی سے تحلیل ہی کے اثرات بذریعہ خون ہونگے . تحریک ( خشکی ) – تسکین ( تری ) اور تخدیر ( سردی ) کے اثرات جسم کے کسی عضو میں بھی نہ ہونگے.*
*5- اگر قلب و عضلات میں تری سے تسکین ہوگی تو جسم کے تمام اعضاء کے عضلات میں تری سے تسکین ہی کے اثرات بذریعہ خون ہونگے. تحریک ( خشکی) . تحلیل ( گرمی ) اور تخدیر ( سردی) کے اثرات جسم کے کسی بھی عضو میں نہ ہونگے .*
*6- اگر قلب و عضلات میں سردی سے تخدیر ہوگی تو جسم کے تمام اعضاء کے عضلات میں سردی سے تخدیر ہی کے اثرات بذریعہ خون ہونگے . تحریک ( خشکی ) . تحلیل ( گرمی) اور تسکین ( تری ) کے اثرات جسم کے کسی بھی عضو میں نہ ہونگے.*
جسم کی اناٹومی یا ساخت یاکیمسٹری چار ارکان جب آپس میں ملتے ہیں تو چار اقسام کے ہم مزاج عناصر کے مرکبات بنتے ہیں .
ناری عناصر . ہوائی عناصر . آبی عناصر . ارضی عناصر . ان چاروں ہم مزاج عناصر کے آپس میں ملنے سے چار ہی قسم کے اخلاط تیار ہوتے ہیں .
عناصر محلول صورت میں چار اقسام کے اخلا ط تیار کرتے ہیں ..
اخلاط جب گاڑھے اور کثیف ہو کر مجسم ہوتے ہیں تو چار ہی قسم کے ٹشوز یا چار ہی قسم کے اعضاء بنتے ہیں .
اصول یہ ہے کہ چار اخلاط کے چار لطیف حصوں سے چار قسم کی ارواح اور چار کثیف حصوں سے چار ہی قسم کے مفرد اعضاء ( ٹشوز ) بنتے ہیں . مفرد اعضاء کے ملنے سے مرکب اعضاء اور مرکب اعضاء کے ملنے سے پھر تمام جسم انسان تیار ہوجاتا ہے . جس جگہ کسی مرکب عضو میں کسی مفرد ٹشو کی کثرت ہوگی اسی عضو کو مفرد اعضاء کا مرکز یا عضو رئیس قرار دیا گیا ہے . جیسے جگر میں ایپی تھیلیل ٹشو یا قشری مادہ ( صفرا ) کی کثرت ہے( جس سے غد د ناقلہ بنتے ہیں ) تو جگر کو غدد ناقلہ کا مرکز یا عضو رئیس قرار دیا گیا ہے .
دل میں مسکولر ٹشوز یا عضلاتی مادہ ( ریح . وات )کی کثرت ہے تو دل کو عضلات کا مرکز یا عضو رئیس قرار دیا گیا ہے .
اسی طرح دماغ میں نرویس ٹشوز یا اعصابی مادہ ( بلغم )کی کثرت ہے تو دماغ کو نرویس ٹشوز یا اعصابی مادہ اعصاب کا مرکز یا عضو رئیس قرار دیا گیا ہے .
طحال کو کنیکٹو ٹشوز یا مخاطی مادہ سودا کی کثرت کی وجہ سے ( مخاطی مادہ سے غدد جاذبہ بنتے ہیں ) غدد جاذبہ یا مخاطی مادہ ( سودا)کا مرکز یا عضو رئیس طحال ( تلی ) کو قرار دیا گیا ہے
ہر ایک عضو رئیس میں کم و بیش چاروں اخلاط یا چاروں ٹشوز پائے جاتے ہیں . اس لئے یہ آپس میں ملے ہوئے ہیں اور ایک عضو کے اثرات دوسرے عضو میں کم و بیش پائے جاتے ہیں . ا س لئے جو ساخت دل کی ہے وہی ساخت تمام جسم کے اعضاء کی ہے .
جسم میں عضلات سب سے ذیادہ پائے جاتے ہیں . جسم میں پائے جانے والے عضلات کا وزن جسم کے نصف وزن سے بھی ذیادہ ہے . اور خون میں پائے جانےوالے اجزاء ہوائیہ ( خلط ریح – وات ) کی مقدار خون کے نصف حجم سے بھی ذیادہ ہے . جسم کے ہر عضو میں چاروں اخلاط اور چاروں ٹشوز پائے جاتے ہیں .
قانون اربعہ طب مفرد اعضاء میں اناٹومی اور فزیالوجی امور طبیعہ کو کہتے ہیں اور یہی جسم انسان کی کیمسٹری اور فزکس ہے .

*امور طبیعہ کی تعداد سات ہے*.

(1) ارکان (2) مزاج (3) اخلاط (4) اعضاء (5) ارواح (6) قوٰی (7) افعال .
پہلے تینوں امور طبیعہ یعنی ارکان. مزاج . اخلاط جسم انسان کی اناٹومی یا کیمسٹری ہیں اور آخری تینوں یعنی ارواح . قوٰی اور افعال جسم انسان کے ا عضاء کی فزیالوجی یا فزکس ہیں .
*راحت سمپل ٓارگینو پیتھک میڈیکل سا ئنس پاکستان ایک عالمگیر طریقہ علاج ھے*۔ جس میں ہر ا یک طر یقہ علا ج کی مفید دواء سے اثرات بالمفردعضاء کے تحت استفادہ کیا جاتا ھے ۔ حقیقت یہ ھے کہ رائج الوقت تمام طریق علاج طب قدیم ( یونانی) کے مختلف زاویہ نظر سے سطحی مطالعہ کے نتیجہ میں پیدا ھوئے ہیں ۔ جواپنی ماں کو نہ سمجھہ سکے اور جدا جدا ھو گئے ان سب کو طب یونانی کے ہمہ گیر بلکہ عالمگیر قانون کے تحت ایک ہی مرکز پر لاکر ان سب سے استفادہ کیا جا سکتا ھے ۔ یہ حقیقت ھے کہ ٓا ج ھم نے راحت سمپل ٓارگینوپیتھک میڈیکل سائینس پاکستان کے ذریعہ تحقیق و تجدید کرکے اس سطح پر لے ٓائے ہیں کہ جدید تحقیقات انسجہ ( ٹشوز ) کمطابق اور اس کے رنگ میں پیش کر کے ماڈرن میڈیکل کے سامنے خم ٹھونک کر اس کی ٓانکھوں میں ٓانکھیں ڈال کر بات کر سکیں اس لئے یہ خیال بلکل غلط ھے کہ طب یونانی پرانی دقیانوسی اور وحشیانہ طب ھے جو لو گ ایسا سمجھتے ہیں وہ اصل حقائق سے بے بہر ہ ہیں ۔ ہم ان کی تسلی کر سکتے ہیں ۔ ا ب تو سائینسدان ا پنے دکھوں کا مداوہ جنگلی قدرتی جڑی بوٹیوں میں تلاش کر ر ہے ہیں ۔ اور ا پنے ٓاپ کو ہربل ڈاکٹر کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ( جو کہ ایک فراڈ کے علاوہ کچھہ بھی نہیں ) جڑی بو ٹیوں کا علم جو صدیوں سے طب ٓایورودیک اور طب یونانی کے پاس محفوظ ھے ۔ ا گر کوئی فرد طب ٓایورویدک اور طب یونانی کا علم حاصل کئے بغیر اپنے ٓاپ کو ہربل ڈاکٹر کہتا ھے تو وہ اپنے ٓاپ اور عوام کو دھوکہ دے رہا ھے ۔ تمام رجسٹرڈ میدیکل پریکٹیشنرز کو ایک پلیٹ فارم پر ا کٹھے ھو کر ہر مفید دوا کا علم حاصل کرکے اسے افادہ انسانیت کے لئے استعمال کرنا چاہیئے ۔ اور اپنے علم اور تجربہ میں اضافہ کرنا چاہیئے ۔
بمطابق قانون اربعہ طب مفرد اعضاء ) چار اعضاء رئیسہ کے ہاہمی جذبات و ذائقے اور مزاج (1) عضلاتی مخاطی . جذبات غم . ذائقہ تیزابی
(2) عضلاتی قشری . جذبات . مسرت . ذائقہ تلخ . کڑوا .
(3) قشری عضلاتی .جذبات . غصہ . ذائقہ چرپرا.
(4) قشری اعصابی .جذبات . ندامت . ذائقہ . نمکین
(5)اعصابی قشری .جذبات . لذت ذائقہ میٹھا
(6)اعصابی مخاطی جذبات . غفلت ذائقہ. پھیکا
(7) مخاطی اعصابی .جذبات خوف . ذائقہ کسیلا
(😎 مخاطی عضلاتی جذبات حزن ذائقہ ترش


انسانی جسم کے چار مزاج۔
1: خون ۔(Blood). . . (گرم تر)
2: سودا۔(Yellow Bile)۔۔۔۔۔۔۔(سرد خشک)
3:صفرا۔(Black Bile)….. .(گرم خشک)
4:بلغم ۔(Phlegm)۔۔ ۔۔ (سرد تر)
اپنا مزاج معلوم کرنے کا طریقہ۔
1: گرم تر مزاج: :
مسوڑوں سے خون آنا۔ ناک سے اکثر خون جاری ہونا۔جلد اور زبان کا رنگ سرخی مائل ۔نید اور غنودگی کی زیادتی۔
2: سرد خشک مزاج::
جلد کی رنگت سیاہ۔ جسم کمزور اور لاغر۔ نید کی کمی۔ منہ٫ ناک اور جسم میں خشکی۔ تنہائی پسندی اور خوف۔ نبض ڈوبی ہوئی اور آہستہ۔
3: گرم خشک مزاج ::
آنکھوں اور جلد کی رنگت زرد۔ پیاس کی زیادتی۔ آنکھوں میں جلن۔ پیشاب کی رنگت زرد اور سرخ۔ پیشاب میں جلن۔
منہ کا ذائقہ کڑوا اور نبض تیز ہو گی۔
4: سرد تر مزاج::
جلد کی رنگت سفید۔ منہ کا ذائقہ پھیکا۔ جسم میں سستی۔ تھوک لیس دار۔ کھٹے ڈکاروں کا آنا۔ جوڑوں کا درد ۔ نزلہ زکام کا زیادہ ہونا۔۔
Rahat Simple Organo Pathic Medical Science Pakistan قانون اربعہ طب مفرد اعضاء

Leave a Reply