انگریزوں نے ہمیں کیسا لوٹا

0
398

انگریزوں نے ہمیں کیسا لوٹا

انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی ہمیں کیسا لوٹا، برطانوی سامراج نے ہمیں کیسا لوٹا ہندوستان کی بربادی کی داستان

سید عبدالوہاب شاہ شیرازی

انگریزوں نے ہمیں کیسے لوٹا۔؟

نکتہ سید عبدالوہاب شیرازی

نوٹ:

اس میں ہندوستان سے مراد، انڈیا، پاکستان، بنگلادیش سمیت سارا قدیم ہندوستان مراد ہے۔

نکتہ
نکتہ سید عبدالوہاب شیرازی

ناظرین وہ یورپی ممالک  جن کی نیشنیلٹی لینے کے لیے آج کا مسلمان، اپنا دین ایمان بیچنے۔ اپنے ملک کو گالی دینے، حتی کہ غداری کرنے تک بھی تیار ہو جاتا ہے۔ یہ یورپی ممالک  پہلے اس قابل نہیں تھے۔ آج تو ہمارے حکمرانوں کو بھی اگر یورپی ملک کی نیشنیلٹی اور اپنے ملک کی اسمبلی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتو وہ نیشنیلٹی کو ترجیح دے کر اسمبلی سے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں ہم دنیا کی امیر ترین قوم تھے، ہندوستان کو دنیا میں سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ہماری تعلیم ، تربیت، ترقی، اعلیٰ اخلاق، بہادری  کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا تھا، لیکن پھر یہاں انگریز آیااور سب کچھ الٹ کررکھ دیا۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ آج اسی کی کچھ تفصیل میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔

ہندوستان انگریز سے پہلے کیسا تھا اور ہندوستان انگریز کے بعد کیسا تھا؟

تو چلیں ایک نظر اس پر ڈالتے ہیں کہ ہندوستان انگریز کے آنے سے پہلے کیسا تھا۔؟

ناظرین اس سلسلے میں ہم چند چیزوں کا تجزیہ کریں گے اور وہ یہ ہیں:

ہندوستان کی مالی حالت۔ ہندوستان کی زرعی حالت۔ ہندوستان کی صنعتی وتجارتی حالت۔ ہندوستان کی اخلاقی حالت۔ ہندوستان کی تعلیمی حالت۔ ہندوستان کی مذہبی رواداری

تو چلیں سب سے پہلے ہندوستان کی مالی حالت کو دیکھتے ہیں:

انگریزی عروج سے پہلے ہندوستان نہایت زیادہ دولت مند اور سرمایہ دار ملک تھا جس کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتی تھی۔ ڈاکٹرواکز کہتا ہے:

 ہندوستان کی دولت تجارت اور خوشحالی نے سکندر اعظم کے دل پر گہرا اثر کیا اور جب وہ ایران سے ہندوستان کی طرف روانہ ہوا تو اس نے اپنی فوج کو کہا کہ اب تم اس سنہرے ہندوستان کی طرف کوچ کررہے ہو جہاں نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں۔

تھارن ٹن اپنے سفرنامے میں لکھتا ہے:

یورپ کو تہذیب سکھانے والے یونان اور اٹلی جب بالکل جنگلی حالت میں تھے ہندوستان اس زمانہ میں بھی درجہ کمال کو پہنچا ہوا تھا اور دولت کا مرکز تھا۔یہاں کی زمین نہایت زرخیز، یہاں کے لوگ بڑے بڑے لائق اور کاریگر تھے۔ مشرق ومغرب کے تمام ممالک ہندوستان کی اشیاء کو بڑے شوق سے خریدتے تھے۔

فرانس کے مشہور سیاح برنیز نے لکھا تھا:

ہندوستان ایسی گہری خلیج ہے جس میں دنیا بھر کا سونا اور چاندی آکر جمع ہو جاتا ہے اور بڑی مشکل سے باہر نکلتا ہے۔

لارڈ میکالے لکھتا ہے:

ہندوستان کا صوبہ بنگال جنت سمجھا جاتا ہے، لندن اور پیرس کے اعلیٰ خاندانوں کی عورتیں یہاں کی کھڈیوں کے نازک ترین کپڑے زیب تن کرتی ہیں۔

کپتان الگزینڈر کہتا ہے:

ہندوستان کے صرف  ایک تاجر عبدالغفور کا سرمایہ ایسٹ انڈیا کمپنی کےکل  سرمایہ کے برابر ہے۔

ایک چینی سیاح لکھتا ہے:

ہندوستان کی عوام نہایت خوشحال اور فارغ البال ہے۔ کسی قسم کا مالیہ یا ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا، یہاں کے راجہ کسی کو بھی جسمانی سزا نہیں دیتے۔

مشہور انگریز نکوموڈی کانتی اپنے سفر نامے میں لکھتا ہے:

گنگا کے کنارے بڑے بڑے اور نہایت خوبصورت شہر آباد ہیں جن کے ارد گرد خوبصورت باغیچے اور لہلہاتے کھیت ہیں، یہاں گویا سونے کے دریا بہہ رہے ہیں۔یہاں موتیوں اور جواہرات کی بھی کوئی انتہاء نہیں ہے۔

ناظرین اکبر کے زمانے میں  ہندوستان کی دولت و ثروت کا اندازہ لگانے کے لیے ہم آپ کو ہندوستان کی اشرفیوں کے وزن بھی بتاتے ہیں۔

یہاں سب سے بڑی اشرفی مہر شاہی کہلاتی تھی جو ایک کلو سونے کی ہوتی تھی۔ جی ہاں ایک کلو سونے کی اشرفی ہوتی تھی۔

دوسری اشرفی 900گرام سونے کی ۔ تیسری اشرفی 500 گرام یعنی آدھا کلو سونے کی۔ چوتھی اشرفی 250گرام سونے کی ہوتی تھی اسی طرح مزید چھوٹی اشرفیاں بھی موجود تھیں۔جبکہ جہانگیر کے زمانے میں ان اشرفیوں کا وزن تھوڑا کم ہوگیا تھا۔

ناظرین ایک نہایت ہی دلچسپ بات صاحب علم المعیشت نے لکھی ہے وہ یہ کہ :  اورنگ زیب عالمگیر جب حکمران بنا تو اس نے صرف آگرہ اور دہلی کے خزانوں کو گننے کا حکم دیا۔ کئی ہزار لوگوں نے ان دوشہروں کے خزانے تولنا شروع کیے سب سے پہلے چاندی کو تولنا شروع کیا ، اور چھ مہینے گزر گئے، جب معلوم کیا گیا تو پتا چلا ابھی شاہی خزانے کا صرف ایک کونا ہی تولا جاسکا ہے۔ اور ابھی سونے کی اشرفیوں اور جواہرات کو تولنے کی باری ہی نہیں آئی۔

ناظرین ایک زمانہ تھا جب ہندوستان کی دولت کے افسانے اقالیم دنیا میں مشہور تھے اور کہتے ہیں کہ یہی جنس تھی جس نے یورپ کی جنگجو اور گھٹیا اقوام کو اس سرزمین کی طرف کشاں کشاں کھینچا تھا۔ کیا یونانی، کیا عرب، کیا ترک و تاتار آئے اور بے شمار زر و جواہرات اور بے شمار سامان ساتھ لے گئے۔

ناظرین قدیم ہندوستان کی عوام کو پاکستان کی موجودہ حالت کی طرح بے نظر انکم سپورٹ ، اور احساس پروگرام کی طرح چند سو روپیوں کے لیے اتنا ذلیل نہیں ہونا پڑتا تھا۔

1772 میں ہندوستان میں جیولری کی دکانوں پر اشرفیوں کے ڈھیر ایسے لگے ہوتے تھے جیسے منڈیوں میں اناج گندم کے ڈھیر ہوتے ہیں۔ جہانگیر سال میں کئی بار اپنے وزن کے برابر سونا چاندی، فلزات، ریشم وغیرہ لوگوں میں تقسیم کرتا تھا۔ہرروز شام کو جب سیر کے لیے نکلتا تو دو بوریاں پیسوں کے ساتھ لے کر نکلتا اور لوگوں میں تقسیم کرتا، ہر رات جب سوتا تو سرہانے کے پاس ایک بوری پیسوں کی رکھتا جسے صبح لوگوں میں تقسیم کردیا جاتا، ظاہر ہے ایسی فیاضی بغیر دولت و ثروت کے نہیں ہوسکتی۔

مقریزی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

شہنشاہ محمد تغلق سالانہ دو لاکھ جوڑے کپڑوں کے اور دس ہزار گھوڑے  عوام میں تقسیم کرتا۔ روزانہ بیس ہزار لوگ دو وقت کا کھانہ شاہی مہمان خانے میں کھاتے تھے۔شاہی باورچی خانے میں روزانہ پندرہ سو گائیں اور دوہزار بکریاں مہمانوں کے لیے ذبح ہوتی تھیں۔دو سو علماء روزانہ بادشاہ کے دسترخوان پر کھانا کھاتے، صرف دہلی شہر میں ستر ہسپتال مفت کام کرتے تھے، دوہزار مسافرخانے قائم تھے اور صرف دہلی میں ایک ہزار مدرسے موجود تھے۔

ایک اور انگریز لکھتا ہے جب میں ہندوستان میں داخل ہوا تو میں نے خیال کیا کہ میں سادگی، مسرت کے زمانے میں ہوں جہاں فطرت اب تک غیر مبدل تھی اور جنگ و مصیبت سے کوئی آشنا نہ تھا، سب خوش وخرم، اور تندرست تھے۔

ناظرین میں نے آپ کو انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندوستان کی مالی حالت کا خاکہ انتہائی اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔جسے مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیل اور حوالوں کے ساتھ لکھا ہے۔

 اب ذرا انگریزوں کے آنے کے بعد ہندوستان کی مالی حالت کیا تھی اسے بھی دیکھ لیتے ہیں۔

انگریزوں کے ہاتھوں ہندوستان کی مالی بربادی کا قصہ بہت دردناک ہے۔ہندوستان کے عام لوگ اور تاجر اتنے فراخ دل ، رحمدل اور دریادلی کے مالک تھے کہ انگریز نے یہاں سے تجارت کے نام پر اتنا پیسہ کمایا کہ بعد میں اپنی چالاکی اور احسان فراموشی سے یہ پیسہ اور انگریزوں کو دی جانے والی رعایت اور رحمدلی  خود ہندوستان کے لیے وبال جان بن گئی۔ہندوستان کے بادشاہوں اور حکمرانوں نے انگریزوں کو اپنی دریا دلی کی بنا پر اتنی رعایتیں دیں کہ آج کا جدید یورپ بھی دنیا کی کسی قوم کو اتنی رعایت نہیں دے سکتا۔

اگر انگریزوں میں ذرا سی بھی تہذیب، انسانیت وشرافت، عدل وانصاف، مروت واخلاق ہوتا تو ہمیشہ مسلمانوں کا ممنون احسان رہ کر دائرہ قانون کے تحت شکرگزاری کے ساتھ اپنی تجارت میں مشغول رہتا۔مگر انگریز نے شروع ہی سے اپنی مکاری، چالاکی، بربریت، جعلسازی اور غداری سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رکھا۔چنانچہ ایسٹ انڈیا کمپنی جس کے پاس پہلے کچھ نہیں تھا اس نے 1608 سے 1757 تک ہندوستان کی دولت کو سمیٹ کر برطانیہ منتقل کیا، اور یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ خود کمپنی کے ڈائریکٹر لکھتے ہیں کہ:

یہ بڑی دولت جو ہم نے ہندوستانی تجارت سے حاصل کی ہے جابرانہ دستورالعمل سے مہیا ہوئی ہے۔

ناظرین ایسٹ انڈیا کمپنی کا کل سرمایہ پہلے صرف تیس ہزار پونڈ تھااور وہ بھی برطانیہ کے ایک سو ایک تاجروں نے مل کر جمع کیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کتنی غریب اور چھوٹی سی کمپنی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ برطانیہ کے بادشاہ چارلس اول نے کمپنی سے دس ہزار پاونڈ قرضہ حسنہ مانگا تو کمپنی نہ دے سکی۔ لیکن پھر ہندوستانی تجارت میں اس کمپنی نے اتنا مال لوٹا کہ چارلس دوم کے زمانے میں خود کمپنی نے بادشاہ کو تین چار لاکھ روپے نذرانہ دے دیا۔ یعنی جو کمپنی ہندوستان آنے سے پہلے بادشاہ کو دس ہزار قرضہ نہیں دے سکی بعد میں تین چار لاکھ نذرانہ پیش کرتی نظر آتی ہے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے جن ملازمین کو برطانیہ سے لاتی تھی ان کو خاص طور پر اس اعتبار سے پرکھا جاتا تھا کہ ہندوستان جانے والا ملازم شریف النفس نہیں ہونا چاہیے، تاکہ کمپنی کی ناجائز آمدن میں کمی نہ آسکے۔ چنانچہ ڈاکو، اور جرائم پیشہ افراد کو ہی ملازم رکھ کر ہندوستان لایا جاتا تھا۔

انہیں جیسے لوگوں کے متعلق وارن ہٹنگز لکھتا ہے:

انگریز ہندوستان میں آکر بالکل نیا انسان بن جاتا ہے جن جرائم کی وہ اپنے ملک میں جرات نہیں کرسکتا تھاوہ ہندوستان میں جواز کا حکم رکھتے تھے۔

سرٹامس کہتا ہے:

میں ہمیشہ دیکھتا ہوں کہ بمقابلہ اور قوموں کے انگریز غیر ممالک میں سب سے زیادہ چیرہ دستی کرتے ہیں، اور ہندوستان میں بھی ایسا ہی کیا۔

مدراس کے ایک پادری نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں کو 1676 میں ایک تحریرلکھی تھی جس میں لکھا تھا:

آپ کے ملازموں کی بداعمالیوں سے ہندوستانیوں کی نظر میں آپ کے خدا کی جتنی بے عزتی اور آپ کا مذہب جتنا بدنام ہو رہا ہے اس کی کیفیت آپ کو معلوم ہو تو آپ کے آنسووں کی ندیاں بہہ جائیں۔

ناظرین ایسٹ انڈیا کمپنی کیسے لوٹ مار کرتی تھی اس کا اندازہ اس عجیب و غریب واقعے سے ہوتا ہے جسے مسٹر برک نے لکھا ہے:

ہندوستان کے ایک نواب کو اپنی فوج کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے درکار تھے، چنانچہ اس نے انگریزوں سے قرض مانگا، انگریزوں نے چندساہوکاروں کو آمادہ کردیا کہ نواب صاحب کو چار لاکھ اشرفیاں قرض دے دو۔ ان ساہوکاروں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم قرض تو دیتے ہیں اس کے بدلے میں آپ کچھ اضلاع قرض کی واپسی تک ہمارے حوالے کریں۔ نواب صاحب فوج کی بغاوت کے خطرے کی وجہ سے مجبور تھے لہذا چند اضلاع دینے کے لیے بھی تیار ہوگئے اور تحریری طور پر لکھ کر اضلاع ان کے حوالے کردیے۔ لیکن ان انگریزساہوکاروں نے پھر بھی قرض نہیں دیا اور ایک تحریر لکھ کر دے دی کہ آپ یہ تحریر اپنی فوج کو دکھا دیں کہ ہم انہیں چار ماہ بعد تنخواہ دے دیں گے، لیکن یہ چار ماہ کیا دو سال گزر گئے اور دو سال بعد انہوں نے چار لاکھ اشرفیاں دیں، لیکن چند اضلاع پہلے دن سے ہی نواب صاحب سے لے کر ان کا محصول اور ٹیکس خود اکھٹا کرنا شروع کردیا تھا۔ یعنی دو سال تک نواب صاحب کے اضلاع سے ہی پیسہ ٹیکس کی صورت میں جمع کرکے نواب صاحب کو ہی قرض دیا، اس کی مثال شاید دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ناظرین یہی وہ کیمیا بنانے کے نسخے تھے جن کے ذریعے چند سالوں میں غریب انگریز امیرزادہ بن گیا۔

انگریزوں نے دوسرا طریقہ اطاعت باالجبر کا اختیار کیا۔ چنانچہ مسلمان حکمرانوں  کو ان کے غدار وزیروں میرجعفر، امی چند وغیرہ کے ذریعے شکست سے دوچار کیا۔جس کے صلے میں انگریز نے میر جعفر کو مرشدآباد کی مسند سے نوازا۔میرجعفر جیسے کئی غداروں نے ہندوستان کو تباہ کرکے رکھ دیا اور پھر انہیں غداروں نے پہلے انگریزوں کو جاگیریں تحفے میں دیں اور پھر پورے  ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد انگریز ان کی اولادوں کو جاگیریں دیتا رہا۔ پہلے انگریز نے تجارت پر غلبہ حاصل کیا اور پھر زمینوں پر قبضہ کرکے حکومتیں بنانا اور گرانا شروع کردیں۔انگریزوں نے بنگال کے تین کروڑ انسانوں کو لوٹ کر کلکتہ میں عظیم الشان دولت جمع کرلی۔اور پھر دولت کے یہ انبار جو کروڑوں اشرفیوں پر مشتمل تھے برطانیہ ایسے منتقل کیے گئے جیسے رومن نے یونان کے خزانے اٹلی بھیجے تھے۔

بروکس اینڈمسن لکھتا ہے:

میں جب ہندوستان آیا یہاں بڑے بڑے شہر تھے جبکہ بینک کوئی نہیں تھا۔بنگال کی چاندی نے برطانیہ پہنچ کر یہاں کی دولت میں بہت اضافہ کیا۔

سرولیم لکھتا ہے:

معرکہ پلاسی کے بعد بنگال کی دولت لٹ لٹ کر لندن پہنچنے لگی اور اس کا فوری اثر بھی ظاہر ہوا، یعنی یورپ میں صنعت و حرفت کا انقلاب شروع ہوگیا۔ سرولیم کہتا ہے ہندوستان سے سونے کا دریا لندن کی طرف بہنے سے پہلے لندن میں کپڑے بنانے والے چرخوں سمیت کسی بھی چیز میں ہندوستان پر برتری نہیں تھی۔

میجرونگیٹ کہتا ہے:

جنگ پلاسی اور جنگ واٹرلو کے درمیانی زمانہ میں ہندوستان سے لندن کو پندرہ ارب روپیہ منتقل ہو چکا تھا۔

ناظرین میں آپ کو بتاتا چلوں یہ روپیہ آج کا روپیہ نہیں تھا، اس وقت کے ایک روپے میں بھینس مل جاتی تھی، ایسا پندرہ ارب روپیہ لندن منتقل کیا گیا۔

لارڈ میکالے کہتا ہے: دولت کے دریا ہندوستان سے برطانیہ کی طرف بہتے چلے جاتے تھے۔

سرجان شور لکھتا ہے: ہندوستان کا عہد زرین گزرچکا جو دولت کبھی اس کے پاس تھی اس کا بڑا حصہ کھینچ کر برطانیہ بھیج دیا گیا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے کمائی کا ایک اور عجیب وغریب دھندہ شروع کررکھا تھا اور وہ یہ تھا کہ:

میر جعفر کو بنگال کا تخت دلایا جس کے صلے میں میر جعفر نے انگریزوں کو تین کروڑ دیے۔ پھر میرجعفر کو ہٹا کر میر قاسم کو مسند پر بٹھا دیا تو اس نے بطور انعام انگریزوں کو دوکروڑ باسٹھ لاکھ دیے۔ پھر کچھ عرصے بعد میرقاسم کو ہٹا کر پھر میرجعفر کو تخت پر بٹھا دیا تو اس نے بطور انعام انگریزوں کو ڈیڑ کروڑ دیے۔ پھر کچھ عرصہ بعد میر جعفر کو ہٹا کر نجم الدولہ کو تخت پر بٹھایا تو اس نے بطور انعام دو کروڑدیے۔ یعنی کبھی ایک کو تخت پر بٹھاتے اور اس سے انعام پاتے اور کبھی دوسرے سے انعام پاتے۔اس طرح کچھ عرصے میں چالیس کروڑ روپے لوٹ کر برطانیہ بھیجے گئے۔

ایک اور عجیب واقعہ جس نے ہندوستان کو تباہ کرکے رکھ دیا تھا یہ پیش آیا کہ فرخ سیر بادشاہ دہلی کی لڑکی آگ میں جل گئی، تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنا ڈاکٹر علاج کے لیے پیش کیا، اس کے علاج سے لڑکی ٹھیک ہوگئی تو بادشاہ نے بطور انعام جواہرات دیے تو ڈاکٹر نے لینے سے انکار کردیا اور کہا آپ کمپنی کے ٹیکس معاف کردیں، چنانچہ بادشاہ نے ٹیکس ختم کردیے، جس کے نتیجے میں کمپنی نے گرم بازاری شروع کردی اور مقامی تاجروں کی تجارت ختم ہو کر رہ گئی۔یہاں تک کہ مقامی منڈیوں میں انگریزوں نے چھوٹی سے چھوٹی چیزوں نمک، تمباکو، چاول، گھی، پان، بھس وغیرہ کی تجارت بھی شروع کردی۔ کسی حکومتی کارندے کو ان سے ٹیکس لینے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔

ناظرین یہ تو وہ حربے اور چالاکیاں تھیں جن کے ذریعے انہوں نے یہاں کی دولت کو سمیٹا، اس کے علاوہ ظلم، بدمعاشی، بھتہ خوری کے حربے اس کے علاوہ تھے۔

پھر انگریزوں نے زرعی زمیں ٹھیکے پر لینا شروع کردیں اور آہستہ آہستہ بدمعاشی سے ان پر قبضہ ہی جمالیا، ٹیپوسلطان کی شہادت کے بعد تو پورے پورے شہر قبضہ کرلیے گئے اور اپنی مرضی کے نواب اور غدار تخت پر بٹھالیے۔

1833 اور شاہ اسماعیل و سید احمد کی شہادت کے بعد کمپنی کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے جس میں انگریزوں نے ہندوستانی قوم کو ہر صورت ادنی حالت میں قائم رکھنے کا کام شروع کیا۔اس مقصد کے لیے نئے نئے قوانین بنائے گئے۔ہر قانون ایسا بنایا جاتا تھا جس کے ذریعے غلامی کی زنجیر سخت سے سخت ہو، اور زیادہ سے زیادہ پیسہ لوٹا جاسکے۔ ہندوستان میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی راجہ بے اولاد ہوتا تو وہ اپنے کسی عزیز بچے کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا دیتا جو اس کے مرنے کے بعد حقیقی بیٹے کی طرح وراثت کا مالک قرار دیا جاتا تھا۔ انگریزوں نے یک لخت اس قانون کو ختم کرکے ہندوستان کی پندرہ ریاستوں پر قبضہ کرلیا، اسی طرح صوبہ سندھ، صوبہ پنجاب کو بھی قبضہ کرلیا۔

منٹگمری مارٹن 1838 میں لکھتا ہے:

اگر دولت کا ایسا مسلسل سیلان یعنی بہاو برطانیہ سے کسی اور ملک کی طرف ہونے لگے جیسے ہندوستان سے برطانیہ ہو رہا ہے تو برطانیہ ایک دن میں محتاج ہو جائے، اسی سے اندازہ لگائیں کہ سالوں سے دولت دریا کے سیلاب کی طرح ہندوستان سے برطانیہ منتقل ہورہی ہے۔

سرجان سلیور لکھتا ہے:

ہمارا طرز حکومت اسپنج سے بہت مشابہت رکھتا ہے وہ گنگا کے دہارے سے تمام نعمتیں چوس لیتا ہے اور ٹیمز کے کنارے نچوڑ دیتا ہے۔

مسٹراے جی ولسن لکھتا ہے:

یہاں کے باشندوں کی اوسط آمدنی صرف پانچ پونڈ سالانہ ہے، جبکہ ہم اس بدقسمت ملک ہندوستان سے ہر سال پورے تین کروڑ پونڈ  مختلف طریقوں سے کھینچ لیتے ہیں۔یعنی تین کروڑ انسانوں کی روٹی ہم چھین کر ہرسال برطانیہ بھیج دیتے ہیں۔یاد رہے یہ وہ دولت ہے جو قانونی طریقے سے لوٹی گئی، جبکہ غیرقانونی طریقے سے لوٹی گئی دولت اس کے علاوہ ہے۔1833 تک تیس ارب پونڈ ہندوستان سےصرف ایک  بینک آف انگلینڈ میں منتقل کیے جاچکے تھے۔یاد رہے اصل مقدار اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہاں سے جانے والی ساری دولت بینک آف انگلینڈ میں تو نہیں جاتی تھی۔

انگریز ہندوستان میں حکومت کرتے ہوئے خود ہی برطانیہ سے قرض لیتے پھر اس پر خود ہی ہندوستان کی دولت سے سود لیتے۔ یعنی خود ہی خود سے قرضہ لیتے اور اس کا سارا  سودی بوجھ یہاں کی عوام پر ڈال دیتے۔

اس سے عجیب طریقہ یہ کیا جاتا کہ جنگوں میں ہندوستانی فوجی اور ان کا خون استعمال ہوتا، مال غنیمت خود قبضہ کرلیتے، اور جنگوں کے اخراجات ہندوستان کے ذمہ ڈال دیے جاتے۔

اب آپ کو ایک اور عجیب بات بتاتے ہیں شاید یہ سن کر آپ اپنا سر دیوار پر ماردیں:

1857 میں تاج برطانیہ نے ہندوستان کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے چار کروڑ ساٹھ لاکھ پونڈ میں خریدلیا، لیکن یہ رقم تاج برطانیہ نے کمپنی کو نہیں دی بلکہ یہ رقم کمپنی کو دینا بھی ہندوستان کے کھاتے میں ڈال دیا اور پھر اس پر سود در سود ہندوستان سے ہی دلوایا جاتا رہا۔ یعنی یہ ایسا ہی ہے کہ آپ کسی سے بکری خریدیں اور پھر اس بکری سے کہیں میں نے تجھے دس ہزار میں خرید لیا ہے، اپنی قیمت تو نے خود ہی ادا کرنی ہے۔

ناظرین انتہائی اختصار کے ساتھ ہم نے ہندوستانی کی مالی حالت انگریزوں سے پہلے اور انگریزوں کے بعد کا تجزیہ پیش کیا۔

Leave a Reply