بلیک بیری

بلیک بیری Blackberries


سوات میں “بلیک بیری” کو “کروہ ڑہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک خودرو جھاڑی نما پودا ہے۔ کروہ ڑہ کو باقی کی دنیامیں “بلیک بیری” کہتے ہیں ۔
یہ ٹھنڈے علاقوں کا ایک نہایت ہی نازک اور قدرے ترشی مائل میٹھا توت یا سٹرابیری نما پھل ہے۔ اس کا باٹانیکل نام مورس نیگرا ہے (مضمون کے ٹائٹل میں صحیح تلفظ دیکھئے) جبکہ اس پودے کا تعلق “روبس” خاندان سے ہے جس میں تمام بیریز آتی ہیں۔
رسپ بیریز بھی اس خاندان کا حصہ ہےجو سوات میں بھی پائے جاتے ہیں۔ بلیک بیری/کروہ ڑہ کے پودے سوات کے علاقے میں خود رو پودا ہے۔ دنیا کے سرد ممالک میں یہ پودا عام پایا جاتا ہے اور تجارتی بنیادوں پر بھی اس کی کاشت ہوتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بلیک بیری کا پودا زیادہ تر کھیتوں کی پگڈنڈیوں اور دریاوں، نہر،نالوں کے کناروں پر اُگتے ہیں۔ یہ ایک سدا بہار جھاڑی نما پودا ہے۔ اس کی لمبی لمبی ٹھنیاںہ ہوتی ہیں جس کو بطور بھاڑ بھی اُگایاجاسکتا ہے۔ کانٹوں سے لیس اس کی ٹہنیوں پر تین اور پانچ کی ترتیب سے پتے اُگتے ہیں اور سرے پھر پھولوں کا گچھا جس پر بعد میں پھل بنتا ہے۔ اس میں اپریل کے آخر سے لے کر جون تک گلابی یا ہلکے سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول گچھوں کی شکل میں لگتے ہیں اور پھل جون کے آخر سے جولائی سے لے کر اگست کے آخر تک لگتا ہیں۔ اس کا پھل پکنے پر سیاہی مائل جامنی رنگ کا ہوتا ہے اور پھل کی شکل توت سے زیادہ ملتی ہے۔ ذائقے میں ترش میٹھا ہوتا ہے۔ سوات میں بلیک بیری/کروہ ڑہ کے کچھ اور اقسام بھی پائی جاتی ہیں جن کو رسپ بیریز یا گولڈن ہمالین بیریز کہتے ہیں۔ سوات کے علاقے میں یہ پودا خود روجنگلی پودوں کی اقسام میں سے ہے۔ پھل کے موسم میں اکثر گاؤں کی غریب آبادی اس کا پھل اکٹھا کرکے بازارمیں بیچتی ہے مگر بہت کم دستیاب ہوتا ہے۔ 
یورپی ممالک میں ” بلیک بیری ” کی کاشت تجارتی بنیادوں پر کی جاتی ہے اور باقی دنیا کے ممالک کو بھی یہ پھل برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ پھل کئی بڑے بڑے ڈپارٹمینٹل سٹورز میں دستیاب ہوتا ہے۔ ہم نے اسلام آباد کے ایک بڑے سٹور سے یہ بلیک بیری تقریباً نو سو روپے کے عوض لی تھی۔ بدقسمتی سے ہماری حکومت نے اس پھل کی پیداوار اور اس کی تجارتی بنیاد پر کاشت پر ابھی تک کوئی خیر خواہ توجہ نہیں دی ہے۔ سوات کا علاقہ اس کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کے لئے موزوں ترین علاقہ ہے۔ سوات کے علاقہ مدین میں ایک عزیز کے گھر اس کا قلمی پودا دیکھا جو وہ اپنے ساتھ جرمنی سے لے کر آئے تھے، اُن کے مطابق اس پودے کا پھل عام جنگلی بلیک بیری سے سائز میں بڑا اور زیادہ بھی لگتا ہے۔ سرد علاقوں اور معتدل آب و ہوا والے علاقوں کی نسبتاً ٹھنڈی جگہوں پر بھی اس کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ اب پودوں کی کسی بھی اچھی نرسریز سے اس کی امپورٹد ہائبرڈ اقسام کے پودے حاصل کئے جاسکتے ہیں جن کو آسانی سے گھروں، باغوں میں کیاریوں یا گملوں میں اُگایاجاسکتا ہے۔ تیزاور زیادہ دھوپ سے بچا کر کسی بھی دھوپ چھاوں والی جگہ پر اس کو لگایا جاسکتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے کچھ میدانی علاقوں جہاں موسم قدرے ٹھنڈا ہوتا ہے میں بھی یہ بلیک بیری کا پودا قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ شبقدر، چارسدہ کے علاقوں میں سے جہاں سے دریائے سوات کا گزر ہے کے آس پاس کے علاقوں میں بھی یہ پودا پایا جاتا ہے اور پھل بھی خوب لگتے ہیں۔ اگر حکومت اس طرف توجہ دے تو کوئی شک نہیں کو آج جو قدرتی طور پر جنگلی پھل ہم دیکھ رہے ہیں یہ کل کو ہمارے لئے ایک اچھا خاصہ زرمبادلہ بھی کمائے۔ اس پودے کے بارے میں گوگل میں سرچ کرنے پر بہت ساری معلومات مل سکتی ہیں۔
2020-12-25

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *