ہم کس دور میں موجود ہیں. علامات قیامت

0
501

ہم کس دور میں موجود ہیں

(سید عبدالوہاب شیرازی)
اس وقت امت مسلمہ خصوصا اہل پاکستان سخت پریشان ہیں، پریشانیوں کی وجوہات بہت ساری ہیں لیکن میں آج ایک خاص پریشانی کے حوالے سے چند گذارشات پیش کررہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان شاءاللہ اس پریشانی کا کافی وشافی علاج اور حل بھی آپ کے سامنے رکھوں گا۔
پریشانی یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی اندوہناک حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس وقت یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ آیا یہ درست تھا یا غلط تھا، جائز ہے یا ناجائز ہے، اس میں کون ملوث ہے؟ کسی مسلمان نے کیا یا کافر نے کیا، کیا ایسا ہونا چاہیے تھا یا نہیں؟ یہ عدل وانصاف ہے یا ظلم اور سربریت ہے؟ ایسی صورتحال میں لوگوں کے تین گروہ بن جاتے ہیں، ایک وہ جو ناجائز اور حرام قرار دے دیتا ہے، دوسرا وہ جو جائز بلکہ افضل اور بہتر قرار دیتا ہے اور تیسرا وہ گروہ جو سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور پریشانی سے دوچار ہوجاتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب میں احادیث کی روشنی میں دے کر پھر اس کے حل اور بچاو کی طرف آتا ہوں۔
Nukta Colum 003 1
حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال کے خروج سے پہلے چند سال دھوکہ وفریب کے ہوں گے، سچے کو جھوٹا بنایا جائے گا اور جھوٹے کو سچابنایا جائے گا، خیانت کرنے والے کو امانت دار بنا دیا جائے گا اور امانت دار کو خیانت کرنے والا قرار دیا جائے گا، اور ان میں ”رویبضہ“ بات کریں گے، پوچھا گیا رویبضہ کون ہیں؟ فرمایا گھٹیا(فاسق وفاجر) لوگ ، وہ لوگوں کے اہم معاملات میں بولا کریں گے۔(مسند احمد،السنن الواردہ فی الفتن)۔ اس دور پر یہ حدیث کتنی مکمل صادق آتی ہے، نام نہاد مہذب دنیا کا بیان کردہ جھوٹ جس کو پڑھے لکھے لوگ بھی سچ مان لیتے ہیں اور کتنے ہی ایسے سچ ہیں جن پر دنیا کے دجالی میڈیا نے لفاظی اور فریب کی اتنی تہیں جما دی ہیں کہ عام انداز میں ساری عمر بھی کوئی ان کو صاف کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا۔ چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے اگر میڈیا اس کو دبا دے تو وہ دب جاتا ہے(جیسے تھر میں روزانہ اوسطا دس بچے بھوک سے مرجاتے ہیں) اور اگر کسی واقعہ کو میڈیا اچھال دے تو ہر آدمی کا موضوع سخن وہی ہوتا ہے۔
ابوداود کی ایک روایت ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ دو خیموں(جماعتوں) میں تقسیم ہو جائیںگے ، ایک اہل ایمان جن میں بالکل نفاق نہیں ہوگا اور ایک اہل نفاق جن میں بالکل ایمان نہیں ہوگا تو تم دجال کا انتظار کرو کہ آج نکلے یا کل نکلے۔
یہ دو خیمے(جماعتیں) مسلمان خود تو نہ بنا سکے البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ کام کفر کے سردار سابق صدر بش سے لیا، چنانچہ اس نے نائن الیون کے بعد واضح اعلان کیا کہ کون ہمارے ساتھ ہے اور کون ہمارے ساتھ نہیں؟ اس اعلان کے فوری بعد دنیا کے مختلف خطوں پر حکمرانی کرنے والے حکمران اور دیگر بے شمار لوگ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، جبکہ کچھ لوگ درمیان میں ہی رہے اور اس وقت سے آج تک یہ چھانٹی جاری ہے اور لوگ مسلسل دو حصوں میں تقسیم ہورہے ہیں، اور ہر گروہ باقی لوگوں کو اپنے گروہ میں شامل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
”دجال “ دجل سے ہے اور دجل دھوکہ وفریب کو کہتے ہیں چنانچہ یہ دھوکہ وفریب اس وقت عروج پر ہے ۔ ضروری نہیں کہ کوئی شخص بظاہر معزز داڑھی والا لگ رہا ہے اور میڈیا پر بہت خوبصورت انداز میں بول لیتا ہے یا بہترین پیرائے میں لکھ لیتا ہے اپنے نام کے ساتھ سید،صدیقی یا فاروقی لکھتا ہے تو وہ دھوکہ نہیں دے رہا ہوگا، اصل دھوکہ تو یہی ہے کہ چار دن بہت اچھی بات بول کر یا لکھ کر پانچویں دن ایسی بات کردی کہ دوسرے کا ایمان اس کے دل سے ایسے نکال دیا جیسے مکھن سے بال۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ دجال اور اس کے آنے سے پہلے والا دور سارا کا سارا دجل وفریب اور دھوکہ پر مبنی ہوگا لہٰذا آج ہم اسی دور میں موجود ہیں۔
اب ہم آتے ہیں اس کے حل کی طرف: اس دجل سے بچنے اور فتنہ وفساد سے اپنی اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی دجل سے ہمارا ایمان خراب کرنے کی کوشش کرے اور ہم اس کو پہچان لیں اور اپنے ایمان کو بھی محفوظ کرلیں، ساری دنیا جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھائے لیکن ہمیں جھوٹ جھوٹ اور سچ سچ نظر آئے۔ جی ہاں! ایسا ممکن ہے ایک حدیث میں حضرت خذیقہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا اس فتنہ اور فساد سے بچنے کا کوئی حل ہے تو انہوں نے فرمایا: کوئی ایسا فتنہ نہیں جس سے نجات نہ ہو۔ ایک مشہور حدیث ہے جو ابوداود، مسلم،ترمذی،احمداور نسائی میں ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص دجال کے فتنے سے محفوظ رہنا چاہتا ہو اس کو چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کرے ، اس کی تلاوت دجال کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچا لیتی ہے ۔اس میں کچھ ایسی تاثیر اور برکت ہے کہ جب ساری دنیا دجال کی دھوکہ بازیوں سے متاثر ہو جائے گی اس سورت کی تلاوت کرنے والا اللہ کی طرف سے خصوصی حصار میں ہوگا، دجالی فتنہ اور میڈیا اس کے دل ودماغ کو متاثر نہیں کرسکے گا۔ ان شکوک شبہات اور دھوکہ وفریب سے بچنے کے لئے اپنا معمول بنائیں ہرروز صبح سورہ کہف یا کم از کم ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کریں، ان شاءاللہ فریب کے پردوں کے پیچھے حقیقت کیا ہے وہ خود آپ کو نظر آئے گی اور جان وایمان کی حفاظت بھی ہوگی۔لیکن یاد رکھیں اصل فائدہ تبھی ہوگا جب ہم سورہ کہف کو سمجھ کر پڑھیں یا کم از کم اس کی تعلیمات کا استحضار ہو کہ سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا سبق دیا ہے۔
ظہور امام مہدی،خروج دجال اور نزول عیسی علیہ السلام کے قریبی زمانے کی بہت سی علامات احادیث میں مذکور ہیں جنہیں علامات قیامت کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کو مکمل طور پر اس مختصر مضمون میں لکھنا ممکن نہیں البتہ صرف ان علامات کی ایک فہرست بتادیتا ہوں، تاکہ ہمیں یہ احساس ہوسکے کہ ہم کس دور میں موجود ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
۱۔پہلی امتوں کی روش اختیار کرنا،۲۔مساجد کو سجانا، ۳۔مدینے سے آگ کا نکلنا، ۴۔سود کا عام ہوجانا، ۵۔خلافت کا ختم ہوجانا، ۶۔علماءکا پے درپے قتل ہونا، ۷۔ فالج کا عام ہوجانا، ۸۔وقت کا تیزی سے گزرنا، ۹۔چاند کی پہلی تاریخ میں اختلاف ہونا، ۰۱۔جدید ٹیکنالوجی،کمپیوٹرز، چِپ اور ریکارڈنگ سسٹم کا عام ہوجانا، ۱۱۔منافق لوگوں کا حکمران بننا،۲۱۔تیسری جنگِ عظیم، ۳۱۔ فتنوں کا ظہور ،۴۱۔ دین پر چلنا اتنا مشکل ہوجائے کہ جیسے ہاتھ میں انگارے پکڑنا(یاد رہے دین صرف نماز روزے کا نام نہیں،بلکہ دین عقائد،عبادات،رسومات، معاشرت،معیشت،اور سیاست کے مجموعے کا نام ہے۔ آج کل پہلی تین چیزوں پر چلنا آسان ہے جبکہ دوسری تین چیزوں پر شریعت کے مطابق عمل کرنا ناممکن بنادیا گیا ہے۔)،۵۱۔شہروں میں اپنا دین ایمان بچانا مشکل ہوجائے گا، وہی محفوظ ہو گا جو پہاڑوں یا دور دراز دیہاتوں میں نکل جائے، ۶۱۔مسلمان ممالک خاص طور پر عراق،شام وغیرہ پر اقتصادی پابندیاں لگنا، ۷۱۔اہل شام پر غلہ اور پیسہ بند کردیا جائے گا، ۸۱۔عرب کی بحری ناکہ بندی، ۹۱۔مدینہ کی ناکہ بندی، ۰۲۔مسجد نبوی کا دور سے سفید محل کی طرح نظر آنا، ۱۲۔یمن اور شام میں بڑے بڑے فتنوں اور شیطان کے سینگ کا ظاہر ہونا، ۲۲۔بیت المقدس میں یہودیوں کا قوت پکڑنا، ۳۲۔عرب عورت پچیس درہم میں فروخت ہوگی، ۴۲۔دریائے فرات پر جنگ۔
خروج امام مہدی کی چند علامات: ۵۲۔حج کے موقع پر منی میں قتل عام ہوگا، ۶۲۔رمضان میں ایک آواز آئے گی جس سے لوگ بیہوش اور بہرے ہونگے، ۷۲۔ایک سفیانی شخص شام سے نکلے گا جس کا سر بڑا،چہرہ چیچک زدہ اور آنکھ میں سفید دھبہ ہوگا، شروع میں اسے ایک نجات دہندہ کے طورپر متعارف کرایا جائے گا لیکن بعدمیں وہ بہت قتل عام کرے گا یہاں تک کے عورتوں کے پیٹ سے بچے نکال نکال کر قتل کرے گا،۸۲۔نفس زکیہ یعنی کسی نیک ہستی بزرگ کا قتل ہوگا جس پر ساری امت یہاں تک کہ فرشتے بھی غضبناک ہوں گے اس کے فورا بعد امام مہدی کا ظہور ہوگا، ۹۲۔خراسان سے کالے جھنڈوں کا نکلنا۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات اور احادیث کے لئے دجال،امام مہدی کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا مطالعہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیں دجال کے دجل اور فتنہ سے محفوظ فرمائے ۔ آمین

Leave a Reply