ہرمل

0
980

ہرمل Peganum Harmala حرمل

ہرمل کے فوائد

ایشیا کی سر زمین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں پر سینہ بہ سینہ چلنے والے نسخے اور جڑی بوٹیوں کے استعمال کی روایات اکیسویں صدی میں سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہوئی ہیں بلکہ ان جڑی بوٹیوں کا استعمال اب سائنسدان بھی کر رہے ہیں اور ان کو تسلیم بھی کر رہے ہیں- ایسی ہی ایک جڑی بوٹی حرمل (ہرمل) بھی ہے جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ ہندوستان ، ایران اور افغانستان میں بھی صدیوں سے استعمال کی جارہی ہے ۔ بازاروں میں کچھ فقیر نما انسان دن کے آغاز میں ہاتھوں میں ٹین کے تین ڈبے لیف نمودار ہوتے ہیں جن میں ایک میں سلگتے ہوئے کوئلے ہوتے ہیں دوسرے ڈبے میں حرمل ہوتے ہیں اور تیسرے ڈبے میں چند سکے ہوتے ہیں ۔ جب کوئی سکوں والے ڈبے میں پیسے ڈالتا ہے تو اس کے بدلے میں وہ فقیر نما انسان ہرمل والے ڈبے میں سے چند دانے سلگتے ہوئے کوئلوں پر ڈالتا ہے جس سے ایک تیز بو والا دھواں نکلتا ہے جو کہ وہ ہاتھوں سے آپ کی جانب کر دیتا ہے اور اس طرح آپ بری نظر سے محفوظ ہو جاتے ہیں- ہرمل کا یہ دھواں انسان کے لیے کس طرح مفید ثابت ہو سکتا ہے اس کے حوالے سے آج ہم آپ کو کچھ بتائيں گے-

1: نظر بد سے بچاتا ہے

بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ نظر بد برحق ہے مگر اس کو ختم کرنے کے لیے ہمارے مذہب میں ماشا اللہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے برے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے معوذتین کا ورد اور دیگر قرآنی آیات کا ورد کیا جاتا ہے- مگر ہمارے بڑے بوڑھے اس کے ساتھ ساتھ ان اثرات کو دور کرنے کے لیے گھروں میں حرمل کی دھونی بھی کرواتے تھے جن کے مطابق یہ بڑی نظر کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے-

2: جراثیم کش ہوتا ہے

سائنسی اعتبار سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ عام سے پنسار کے پاس ملنے والا کالا دانہ یا حرمل جراثیموں کے خاتمے میں جادوئی کردار ادا کرتا ہے اور اس کی دھونی کئی دنوں تک گھر کو جراثیموں بیکٹیریا اور وائرس سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ اس کی بو سے جراثیم مر جاتے ہیں- اسی وجہ سے کسان بھی اس کا استعمال فصلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کرتے ہیں تاکہ فصلیں نقصان پہنچانے والے کیڑوں سے محفوظ رہ سکیں-

3: مکھیاں مچھر دور بھگائے

مکھیاں اور مچھر بہت ساری خطرناک بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں جن میں ہیضہ اور ملیریا شامل ہیں اس وجہ سے حرمل کی دھونی ایسے کیڑے مکوڑوں کو دور بھگاتی ہے اور جب تک اس کی بو فضا میں رہتی ہے یہ کیڑے مکوڑے بھی گھر سے دور رہتے ہیں-

4: جوؤں کا خاتمہ کرتا ہے

سر میں پڑی ہوئی جوؤں سے نجات حاصل کرنے کے لیے سرسوں کے تیل میں تھوڑی مقدار میں کالا دانہ شامل کر دیا جائے اور اس تیل کو سر میں لگانے سے جوؤں کا نہ صرف خاتمہ ہوتا ہے بلکہ مزید جوئيں بھی نہین ہوتی ہیں اور سر صاف ہو جاتا ہے-

5: معیادی بخار میں اس کا استعمال

چند دانے اس کے پانی کے ساتھ کھا لینے سے بار بار ہونے والے بخار سے نجات ملتی ہے اور انسان بخار سے نجات حاصل کر سکتا ہے-

ہرمل کا طبی تعارف

اسپند (حرمل ) (Syrian۔Kue) 

لاطینی میں۔ Peganum Harmala
دیگرنام۔ عربی میں حرمل ،فارسی میں اسپند ،بنگالی میں اسبند،سندھی میں حرمرواورانگریزی میں سیرین رو۔
harmal ہرمل 1

ماہیت۔

حرمل کی بوٹی ایک جھاڑی کی طرح ہوتی ہے۔جو ایک فٹ سے تین فٹ بلند ہوتی ہے۔اسکی جڑ سے بہت سی گھنے پتوں والی شاخیں نکلتی ہیں۔پتے دوانچ لمبے اور نوکیلے اور پھنے ہوئے ہوتے ہیں۔
پھول۔
لگ بھگ گول جس میں تین خانے ہوتے ہیں۔جن میں چھوٹے سیاہی مائل بھورے تخم بھرے ہوتے ہیں۔پھول چھوٹااورکنگرے داراورپھل چنے کے برابر ہوتاہے۔
تخم سیاہ کواسپند سوختنی کہا جاتاہے۔تخموں کوجلانے سے خاص قسم کی بو آتی ہے۔اوریہ نظر اتارنے اور خوشبو کے لیے آگ پر جلاتے ہیں۔
مقام پیدائش۔
پاکستان میں صوبہ پنجاب صوبہ سرحد ،سندھ،جبکہ ہندوستان میں دہلی ،یونی،دکن اور عموماًقبرستان میں خودرو ہے اورکسی جگہ کاشت کرتے ہیں۔
بو۔
تیز اور باگوار۔
ذائقہ۔
بدمزہ کسیلا۔
مزاج۔
گرم خشک درجہ دوم بعض کے بقول گرم درجہ سوم درجہ دوم۔
افعال۔
تخم مزمل کو زیادہ تر تقویت باہ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔دمہ کھانسی بلغم کو خارج کرتاہے۔عصبی اور دماغی امراض مثلاً صرع لقوہ ،جنون،نسیان،عرق النساءمیں اور اعضاء کو گرمی پہنچانے کی غرض سے مستعمل ہے۔
بہرے پن میں تخم اسپند کوروغن زیتون میں جوش دے کر کان میں قطور کرنے سے بہرہ پن دور ہوتاہے۔
ادارار حیض ۔
حرمل کے بیجوں کاسفوف سوئے کے جو شاندہ یاعرق کے ہمراہ دن میں تین بارکھلانے سے خون حیض کھل کر آجاتاہے۔تخم حرمل کی دھونی دانت درد اور نظر بدخیال کی جاتی ہے۔
ہرمل حرمل 2
اچھا نسخہ۔
حرمل کے پرانے گڑ کے ساتھ بقدرے ایک گولی ایک گرام بنالیں۔اور ایک یادو گولی ہمراہ پانی صبح وشام دیں توادرار حیض کے علاوہ گنٹھیا میں مفید ہے۔
ضعف کے ہمراہ صبح وشام دودھ کے ساتھ دیں بے حد مفید ہے۔
تخم اسپند کے خسیاندہ میں سیسہ کو دیں بار بجھا دیں پھراس کے نغدہ میں رکھ دیں سراپلوں کی آگ دیں پھر اس کی رس سے ٹکیہ بناکر سیراپلوں کی آگ چارباردیں۔
عمدہ کشتہ تیار ہوگا۔
نفع خاص۔
امراض باردہ ۔
مضر۔
مصدع ،مکرب منشی،
مصلح۔
ترش اشیاء اورسکنجین ۔
مقدار خوراک۔
دو سے چار گرام(ماشہ)
کیمیاوی اجزاء۔
اس میں چار فیصدی تک تین الکائیڈ پائے جاتے ہیں۔
ا۔
ہرمین۔2۔ہرمالین۔3۔ہرمالول،الکائیڈٖ کی مجموعی مقدار میں ہرمالین دو تہائی ہوتاہے۔اور ہرمالول برائے نام اس میں ایک قسم کا تیل بھی پایاجاتاہے۔
مشہورمرکبات۔
معجون اسپند سو ختنی،حب اسپند وغیرہ ،
مدت اثر۔
اس کی قوت چار سال تک باقی رہتی ہے۔
ہرمل حرمل 1 3

Leave a Reply