قسط 21 جادو ٹونے کے عام ہونے کی وجوہات

جادو ٹونے کے عام ہونے کی وجوہات

جادو ٹونے سے کیسے بچا جائے!

انسان جب حد سے زیادہ تعیش پسند اور مادہ پرست ہو جائے تو کچھ چیزیں اس کی فطرت میں خود بخود در آتی ہیں، مثلاً خود غرضی، احسان فراموشی، لالچ، حسد، کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسوں کے حصول کی خواہش، اور ان سب کے علاوہ میڈیا کا اثر، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایک پلاننگ کے تحت معاشرے سے سادگی، حیا، وقار اور رکھ رکھاو کا جنازہ نکالا جا رہا ہے زیادہ دور نہیں بس چالیس پچاس سال پیچھے نظر دوڑا لیں، امیر سے امیر اور غریب سے غریب گھرانوں میں بھی ایک وقار، تمدن، رکھ رکھاو اور تہذیب چھلکتی تھی، اپنے اپنے ماحول اور خطے کے مطابق ہر ایک بساط بھر وضع دار اور انٹلیکچوئل ہوا کرتا تھا، پھر کیا ہوا کہ اس میڈیا اور اس پر پیش کیے جانے والے ڈراموں نے عورتوں کو کپڑوں، زیورات کی نمائش، ساس بہو کے جھگڑوں کے پیچھے لگا دیا اور گھر اجاڑنے، مشترکہ خاندانی نظام کے خاتمے کے وہ وہ طریقے پڑوسی ملک کے ڈراموں کے ذریعے سکھائے جانے لگے جو کسی کو معلوم نہ ہوتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملکی میڈیا بھی اسی لپیٹ میں آ گیا، مردوں کو انھی عورتوں نے پیسے کا پجاری اور ہوس کا غلام بنا دیا، ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی اس خواہش نے انتشار اور افراتفری پیدا کر دی ہے رشتوں میں خود غرضی اور حسد در آیا، پھر بات جعلی پیروں سے ہوتی ہوئی دوسرے مذہب کے عاملین کے آستانوں اور ٹونوں تک جا پہنچی، فلاں دیورانی اپنے رشتے داروں میں سے بہو لانا چاہتی ہے کیسے روکا جائے؟ وہ جیٹھ زیادہ کما رہا ہے میرا میاں کیوں نہیں، تعویذ لاو کہ اس کا کاروبار تو ٹھپ ہو، خوامخواہ زیورات سے لدی رہتی ہے، ہر روز نیا سوٹ، فلاں ہمسائی کا شوہر اس محکمے میں اعلی افسر کیوں ہے؟ اس کزن کے بچے اتنا اچھا کیوں پڑھ لکھ گئے؟ کہاں سے آئیں یہ غلاظتیں، اتنی نفرت، وہ خاندانی نجابت کہاں گئی؟ کہاں کہاں پر کرپشن اور غیر ذمہ داری کا رونا رویا جائے، حرام کا پیسہ حرام میں ہی جاتا ہے سو جادو، تعویذات پر خرچ ہونے لگا ہے۔ معاشرے خود بخود ایسی چیزوں کو جگہیں دینے لگتے ہیں، یہی ہمارے ہاں بھی ہوا ہے، غیر محسوس طریقے سے میں نے اعلی خاندانی رئیسوں، سیاسی خانوادوں کی بیگمات اور گھر کی خواتین کو ان جادوگروں اور ٹونے کرنے والوں سے تعلقات نبھاتے سنا اور پڑھا ہے. ایسی آکسفورڈ اور کیمبرج کی پڑھائی کا کیا فائدہ جو آپ کو دین دے سکے نہ دنیا اور نہ ہی آپ کو اس جادو اور سفلی علم جیسی جہالت سے چھٹکارا دلا سکے رونا رویا جاتا ہے مذہب بیزاری کا اور یہاں ایسے مذہبی ٹھیکے دار بھی موجود ہیں جو کم وقت میں زیادہ شہرت حاصل کرنے کے لیے خود چل کر جادو اور کالا علم سیکھنے جاتے ہیں، اللہ ہی اس معاشرے کی حالت سدھارے!

یہ بھی پڑھیں:  قسط نمبر20: موکل ہمزاد قابو کرنے کا چلہ  قسط نمبر19: ناجائز عملیات کرنے والے بے اولاد ہوتے ہیں    قسط نمبر18: کتابی چلے اور منتر

جادو ٹونے سے کیسے بچا جائے!

اب آئیں اس طرف کہ اگر آپ کبھی اس موذی کا شکار ہو جائیں تو کیا کیا جائے؟ کس کے پاس جایا جائے؟ قرآن و سنت میں اس کا کیا حل ہے اور مذہب اس بارے کیا کہتا ہے؟

بعض اوقات کہہ دیا جاتا ہے کہ کالے کو کالا کاٹتا ہے جبکہ یہ سراسر غلط اور جہالت پر مبنی بات ہے. یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں جمعہ کو مبارک اور سعید دن مانا جاتا ہے یا جمعہ دنوں کا سردار کہا گیا ہے ایسے ہی ہندوستانی تہذیب اور ہندو مذہب میں منگل وار اور شنی وار کو خصوصیت حاصل ہے، جادوگروں اور سفلی علوم کے ماہرین کے لیے پیر اور منگل کی درمیانی شب یعنی جب اگلے روز منگل ہوتا ہے، اور اسی طرح جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب بہت ہی شبھ گھڑیاں مانی جاتی ہیں ۔اللہ تعالی نے کوئی شے بے سبب نہیں بنائی تو ظاہر ہے مذہب اور مذہبی احکامات بھی بےوجہ نہیں ہیں، مخلوق خدا کو لوٹنے والے تو آج کل بہت ملیں گے لیکن فیض پہنچانے والا کوئی خال خال ہی ملتا ہے. فی زمانہ اہل اللہ کا ملنا سخت مشکل ہے، اور جو حقیقی اللہ والے ہوتے ہیں وہ اپنے منہ سے اس کا اقرار کبھی نہیں کریں گے دوسری طرف درگاہ کے سجادہ نشینوں اور متولیوں سمیت بیعت لینے والوں کے پیروکار اپنی اپنی جگہ ہر ایک اپنے مرشد اور اپنے حلقے کے پیر کا دم بھرتا نظر آئے گا۔

سب سے پہلے تو یاد رکھیں کہ برائی کتنی ہی طاقتور ہو اچھائی کے سامنے ٹک نہیں سکتی، گھپ اندھیرے میں چمکتا جگنو اس بات کی مثال ہے کہ اس نے اندھیرے کا جگر چیر دیا ہے، بالکل ایسے ہی کالا اور سفلی جادو کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، قرآن پر حاوی نہیں ہو سکتا، اس بات کو اپنے دل و دماغ میں پیوست کر لیں، اچھی طرح بٹھا لیں، آپ کا اپنے رب پر حقیقی بھروسہ ہی آپ کی اس برائی کے خلاف جیت ہے۔ اگر کبھی خدانخواستہ آپ کو جادو ٹونے کا سامنا کرنا پڑے. اور اگر اللہ کے فضل سے آپ اس کا شکار کبھی نہیں ہوئے تو بھی ہر وقت باوضو رہنے والا پچاس فیصد ویسے ہی قدرتی حصار میں آ جاتا ہے۔ صفائی نصف ایمان اسی لیے ہے کہ یہ آپ کو ہر برائی سے بچا لیتی ہے، اپنے دل و دماغ اور اپنی روح کو کثافتوں سے ہر ممکن پاک صاف رکھیں، لیکن پھر بھی انسان ہیں، بے بس اور لاچار ہو جائیں تو ہر وقت استغفراللہ ربی واتوب الیہ پڑھ کر اللہ کے قریب رہنے کی کوشش کریں، اس کے علاوہ بےشمار وظائف قرآن و سنت سے ثابت ہیں ان کا ورد کرتے رہیں. پھر بھی جیسے کینسر اور ہیپاٹائٹس کے لیے باقاعدہ علاج اور معالج کی ضرورت رہتی ہے، اس طرح روحانی معاملات میں بھی باقاعدہ معالج درکار ہوتا ہے، روزانہ دو نفل پڑھ کر اپنے لیے دعا کریں، کہیں نہ کہیں سے ضرور بالضرور اپنا علاج اور معالج مل جائے گا، وہ آپ کے لیے بھیجا جائے گا، یہ خاص اللہ کی مدد ہوگی لیکن روزانہ نفل پڑھ کر دعا تو مانگیں۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ جو آپ سے طلب کرے گا وہ آپ کو عطا نہیں کر سکتا، اس لیے عطا کرنے والے کو تلاش کریں، لینے والے کو نہیں۔ جس کی نظر آپ کی جیب پر ہے، وہ آپ سے فیس مانگتا ہے وہ آپ کو کیا عطا کرسکتا ہے وہ تو آپ سے لے رہا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہر ایک کو ہدایت نصیب کرے اور ظالموں، حاسدوں کے شر سے پناہ میں رکھے. آمین۔

فہرست پر واپس جائیں

2021-01-11

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *