انگریزوں سے پہلے ہندوستان کی اخلاقی حالت

انگریزوں سے پہلے ہندوستان کی اخلاقی حالت

(سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

ہندوستان انگریزوں کے آنے سے صدیوں پہلے اسلامی تہذیب وثقافت، شریعت و طریقت کا مرکز رہا ہے، یہاں لاکھوں علماءاور ہزاروں نامی گرامی روحانی پیشواگزرے، جن کی محنت کا اثر یہاں کے کروڑوں لوگوں کی زندگی میں نظر آتا تھا۔چنانچہ سرتھامس شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں ہندوستان آیا اور یہاں کی تہذیب وتمدن کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اسی بناءپر وہ لکھتا ہے:

ہر شخص میں مہمان نوازی اور خیرات کرنے کا جذبہ موجود ہے،سب سے بڑھ کر یہ کہ صنف نازک (عورت) پر پورا اعتماد کیا جاتا ہے اس کی عزت، عصمت، عفت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ ایسے اوصاف ہیں جن کے ہوتے ہوئے ہندوستانی قوم یورپی اقوام پر برتری رکھتی ہے۔اگر ہندوستان اور انگلستان(یورپ) کے درمیان تہذیب وتمدن کی تجارت کی جائے تو مجھے یقین ہے کہ ہندوستان سے تمدن کی جو کچھ درآمد انگلستان میں ہوگی اس سے انگریزوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔

نکتہ
نکتہ سید عبدالوہاب شیرازی

ناظرین: اس انگریز کی اس خواہش سے کہ ہندوستان کی تہذیب کو یورپ میں لایا جائے تو انگریزوں کو بہت فائدہ ہوگا اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہندوستان کی تہذیب و تمدن یورپ کے مقابلے میں کیسی تھی ۔

ہندوستان کا یہ دور ایسا تھا کہ یہاں لوگوں میں صداقت، دیانت، عدالت، شرافت، شجاعت ، جفاکشی، مردانگی اور مہمان نوازی جیسے اوصاف کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔ سچ بولنے کے معاملے میں لوگ اتنے حساس تھے کہ جرائم پیشہ لوگ بھی اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ لیکن پھر ہندوستان کی بدبختی کہ یہاں انگریز آگیا۔انگریز کے آنے کے بعد یہاں کیا ہوا وہ بھی ملاحظہ کریں۔

انگریزوں کے ہاتھوں ہندوستانی کی اخلاقی بربادی

جو انگریز یہاں آئے یا خاص طور پر لائے گئے وہ انتہائی گھٹیا ذہنیت ، اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے بدترین اوصاف کے مالک اور یورپ میں جرائم پیشہ عناصر تھے۔ چنانچہ ان کے ان گندے اوصاف کا اثر اگلے سو ڈیڑ سو سال میں یہاں کے لوگوں میں بھی ہونا شروع ہوگیا۔چنانچہ مدراس کے ایک بڑے پادری نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں کے نام خط میں لکھا:

آپ کے ملازموں کی بداعمالیوں سے ہندوستانیوں کی نظروں میں آپ کے خدا کی جتنی بے عزتی ہوتی ہے اور آپ کا مذہب جتنا بدنام ہو رہا ہے اس کی کیفیت اگر آپ کو معلوم ہو جائے تو آپ کے آنسووں کی ندیاں بہہ جائیں۔

ناظرین ایسٹ انڈیا کمپنی جان بوجھ کر انتہائی گھٹیا ذہنیت کے لوگوں کو ملازم رکھتی تھی، چنانچہ برطانیہ کے چنے ہوئے بدمعاش، جرائم پیشہ لوگ،غنڈے ہندوستان بھیجے جاتے، چنانچہ ایسے لوگوں کے اقتدار کی وجہ سے جس قسم کے نتائج معاشرے میں نکل سکتے ہیں آپ خود اس کا اندازہ لگا لیں۔

مشہور انگریز گورنر وارن لکھتا ہے:

انگریز ہندوستان میں آکر بالکل نیا انسان بن جاتا ہے جن جرائم کی وہ اپنے ملک میں کبھی جرات کر ہی نہیں سکتا ہندوستان میں ان کے ارتکاب کے واسطے انگریز کا نام جواز کا حکم رکھتا ہے اور اس کو سزا کا خیال تک نہیں ہوسکتا۔

ایک اور انگریز ٹامس کہتا ہے:

میں ہمیشہ سے دیکھتا ہوں کہ بمقابلہ اور قوموں کے انگریز غیر ممالک میں سب سے زیادہ چیرہ دستی کرتے ہیں اور ہندوستان میں بھی یہی واقعہ پیش آرہا ہے۔

ناظرین یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ ملاحظہ فرمائیں کہ جس زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت محض تجارتی تھی اور کمپنی کے ملازم ملک کے حالات سے ناواقف تھے تو اکثر چھوٹے ملازمین جو بنیے کہلاتے تھے ان سے کام لیا جاتا تھا۔چنانچہ ایک انگریز مسٹر برک لکھتا ہے:

بنیا انگریز کے گھر کا منتظم ہوتا ہے وہ ان تمام چال بازیوں سے واقف ہوتا ہے جو سزا سے بچنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ بنیا لوٹ مار کرتا ہے، استحصال کرتا ہے، غارت گری کرتا ہے اور اس میں سے اپنے صاحب (انگریز آقا) کو بھی حصہ دیتا ہے۔

شروع میں انگریز بھی ان بنیوں کے ذریعے ہی لوٹ مار کرتے تھے، انگریز ان کے نام پر ٹھیکے لیتے، ان کو بھی کھلاتے اور خود بھی کھاتے ہزاروں شریف النفس ہندووں اور مسلمانوں کا استحصال کرکے ان کی زمینوں پر قبضے کیے گئے۔ایک انگریز گورنر کا بنیا صرف ساٹھ روپے تنخواہ پر کام کرتا تھا لیکن اس نے ساڑھے بارہ کروڑ کے قریب ترکہ یعنی وراثت چھوڑی۔ معمولی سی تنخواہ پر کام کرنے والا ایک اور بنیا روپ کشن اتنا مالدار تھا کہ اس نے اپنی ماں کے مرنے پر اس زمانے میں نوے لاکھ خرچہ کیا۔چنانچہ کرناٹک کے ایک نواب نے کمپنی کو خط میں لکھا:

آپ کے نوکروں کا اس ملک میں کوئی کاروبار تو ہے نہیں نہ آپ انہیں معقول تنخواہیں دیتے ہیں پھر بھی چند ہی سال میں وہ کئی کئی لاکھ اشرفیاں کما کر واپس جاتے ہیں اتنی قلیل مدت میں بغیر کسی ظاہری ذرائع کے یہ بے حساب کمائی کہاں سے آتی ہے ہم اور آپ دونوں سمجھتے ہیں۔

ناظرین انگریزوں کی اس اخلاقی گندگی کا اثر ان کے ملازمین پر پڑا، پھر آہستہ آہستہ عام لوگوں بھی اسی اخلاقی و کردار کی گندگی میں ملوث ہو گئے کیونکہ مشہور مقولہ ہے: الناس علی دین ملوکہم، یعنی لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں، جو اعمال و کردار حکمرانوں کا ہوتا ہے وہی عوام بھی اختیار کرلیتی ہے۔انگریزوں کی اس لوٹ مار سے ہزاروں لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے، اور کنگال ہوگئے، جس کا نتیجہ یہی نکلا کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے لوگوں نے بھی غلط راستوں کاانتخاب کرلیا۔

اس سلسلے کی تمام ویڈیوز یہاں دیکھیں:

مسٹر سیول میرٹ1836 میں لکھتا ہے:

برطانیہ کا دور حکومت مہربان بتایا جاتا ہے مگر اس عہد میں ملک جس حالت کو پہنچ گیا ہے اگر اس کا مقابلہ مقامی حکمرانوں کے عہد سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت لوگ خوشحال تھے، یہ ملک فلاکت کی انتہائی پستی تک پہنچ گیا ہے۔

لارڈ میکالے کہتا ہے:

زمانہ سابق میں جس طرح کوئی زور دار اور بااثر شخص لوگوں کو افیون پلا کر کاہل پست ہمت اور بدعقل بنادیا کرتا تھا ہمارا نظام سلطنت اسی طرح اہل ہند کو بے کار کردے گا۔

ایک اور انگریز اپنی کتاب برٹش انڈیا میں لکھتا ہے

انگریزوں کے ہاتھوں ہندوستان فتح ہونے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بجائے ابھرنے کے اس کے تمام باشندے ذلیل ترین ہو جائیں گے۔

ناظرین انگریزوں کی ان پالیسیوں کی بدولت ہزاروں لوگوں کی اخلاقی حالت تباہ ہوگئی اور انہوں نے بھی وہی گھٹیا حرکتیں ، اور لوٹ مار شروع کردی جس کا بیج انگریز نے یہاں بویا تھا۔

اسی طرح ہندوستان میں عدالتی نظام انتہائی سادہ ، مفت اور فوری انصاف فراہم کرنے والا تھا۔ اس مقصد کے لیے ہندوستان کے ہر ہر علاقے میں پنچائیتیں قائم تھیں، جرگا سسٹم تھا اور علاقے کی مقامی پنچائیت مدعی اور مدعاعلیہ دونوں کے حالات سے واقف ہوتی تھی ، اس لیے اس لیے پنچائیت کو مبنی بر انصاف فیصلہ کرنے میں نہ دیر لگتی تھی اور نہ لوگوں کا پیسہ اور وقت برباد ہوتا تھا۔ اسی طرح حکومتی سطح پر جو عدالتیں ہوتیں تھیں ان میں بھی شریعت کے مطابق مفتیان کرام فیصلے کیا کرتے تھے۔

انگریزوں نے یہ سارا سسٹم ختم کردیا اور اب یہ ہونے لگا کہ کسی کا کوئی جھگڑا ہے تو وہ پچاس سو میل سفر طے کر کے ضلعی ہیڈکواٹر جاتا، وہاں کی رہائش، سفر کے اخراجات وغیرہ برداشت کرتا، وہاں جج کے لیے وکیل اور اس کی فیسیں بھرتا اور پھر بھی فیصلہ اسی کے حق میں آتا جس نے زیادہ پیسہ خرچ کرکے بڑا چرب زبان وکیل کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک عام آدمی کی سلامتی اسی میں ہوتی تھی کہ وہ اپنے حق کو چھوڑ دے اور خاموشی اختیار کرلے۔

ناظرین اب اگلی ویڈیو میں ہم ہندوستان کی تعلیمی حالت انگریزوں سے پہلے اور انگریزوں کے بعد کا جائزہ لیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.