امریکی شکست اور فرقہ واریت کا خطرہ

ہوشیار ہو جائیں۔

فرقہ واریت کا خطرہ دبارہ پیدا ہوگیا ہے

(سید عبدالوہاب شیرازی)

سن 1990 تک مسلمان ممالک خاص طور پر ایشیائی ممالک پاکستان وغیرہ  میں فرقہ واریت بہت زیادہ تھی، یہ فرقہ واریت مسلکی شدت پسندی کی صورت میں بھی تھی اور لسانیت وقومیت کی صورت میں بھی تھی۔ چنانچہ ہندوستان میں مسلم ہندو فسادات بڑے پیمانے پر کرائے گئے۔

نکتہ
نکتہ سید عبدالوہاب شیرازی

جبکہ پاکستان کے شہر کراچی میں قومیت اور لسانیت کی بنیاد پر ہزاروں لوگ قتل ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلکی تعصب کو اتنا بڑھکایا گیا کہ پوری قوم مسلکی لحاظ سے نہ صرف کئی کئی فرقوں میں تقسیم در تقسیم ہوگئی بلکہ مرنے مارنے اور ایک دوسرے کو کافر قرار دینے تک معاملہ چلا گیا۔مغربی طاقتوں نےفرقہ واریت کو کھڑا کرنے پر کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اور اس سارے معاملے میں برطانیہ، فرانس اور امریکی سفارتخانے زور وشور سے کام کرتے رہے، ملک کے مختلف شہروں میں اپنے ایجنٹ پیدا کیے گئے، جن کو خاص بجٹ دیا جاتا تھا، وہ ایجنٹ آگے مزید اپنے ایجنٹوں کے ذریعے لالچی، خود غرض یا متعصب اور مسلکی شدت پسند علمائے کرام سے رابطے رکھتے، یہ ایجنٹ بظاہر ان علمائے کرام کے معتقد ہوتے، ان کی عزت کرتے، ان کو ہدیے پیش کرتے لیکن باتوں باتوں میں بڑی چالاکی کے ساتھ علماء کو کسی مسلکی اختلاف والے معاملے پر بڑھکانے کی کوشش کرتے۔ مثلا سائل بن کر کوئی اختلافی مسئلہ پوچھتے، جواب ملنے پر دوسرے مسلک کی رائے بیان کرتے ہوئے کہتے کہ فلاں مولوی تو ایسا کہتا ہے، یہ تو بہت غلط بات ہے، لوگوں کو گمراہ کررہا ہے۔ حضرت ہمیں بھی کچھ کرنا چاہیے، یہ تو ثواب کا کام ہے، آپ کوئی منصوبہ بندی کریں، اللہ نے مجھے جو مال دیا ہے یہ کس کام کا؟ میں جتنا ہو سکا آپ کی ان خدمات میں تعاون کروں گا۔ آپ جلسہ رکھیں اس کے سارے انتظامات میں کروں گا، آپ مناظرہ کریں وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ دیوبندی، بریلوی، اھل حدیث سمیت ہر مکتبہ فکر کا وہ مولوی جو مسلکی شدت پسندی کے معاملے میں پیش پیش رہا مالی لحاظ سے بہت جلد مضبوط ہوگیا۔ کیونکہ ایسی مولویوں کو خوب فنڈنگ کی جاتی تھی، جبکہ ایسے اللہ والے علماء جو اتحاد و اتفاق کی بات کرتے، لوگوں کو قرآن سے جوڑنے کی کوشش کرتے ان کی مالی حالت خراب ہی رہی۔ ان میں کچھ ایسے علماء بھی تھی جو اگرچہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے بس صرف قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں مدارس میں بلند کرتے تھے اور عوام میں بھی ان کی کوئی خاص شہرت نہیں تھی۔ لیکن وہ اندرون خانہ انتہائی مضبوطی کے ساتھ فرقہ واریت کو ختم کرنے پر کام کررہے تھے انہیں شہید کردیا جاتاتھا۔

یہ تو سارا ماضی تھا ۔ پھر نوے کی دہائی کے آغاز میں عراق جنگ شروع ہوئی امریکا وہاں مصروف ہو گیا تو فرقہ واریت میں کافی حد تک کمی آگئی۔پھر 1998 کے بعد امریکا سمیت باقی یورپی ممالک خاص طور پر برطانیہ فرانس کی توجہ بھی افغانستان میں قائم ہونے والی اسلامی حکومت کی طرف ہوگئی۔اور  سن 2001 کے بعد تو یہ تمام ممالک پوری طرح افغانستان میں مصروف ہوگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس خطے خاص طور پر پاکستان میں فرقہ واریت کم ہوتے ہوتے زیرو پر آگئی۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فرقہ واریت کے پیچھے کون تھا۔ جب تک یہ ممالک فارغ تھے تو پاکستان میں فرقہ واریت تیزسے تیز تر ہوتی جارہی تھی۔ لیکن جونہی یہ ممالک افغانستان کی دلدل میں پھنسے تو پاکستان سے فرقہ واریت ایسی ختم ہوئی کہ آپ دیوبندی، بریلوی، اھل حدیث سب نہ صرف ایک دوسری کی مساجد میں نمازیں پڑھتے ہیں، بلکہ ہر معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں۔ وہ پرانی نفرتیں اور لڑائیاں بھی ختم ہو چکی ہیں۔

لیکن اب یہ مغربی ممالک  لتر کھا کر افغانستان سے فارغ ہو گئے ہیں، اگرچہ ان کو سنبھلنے میں کچھ ٹائم لگے گا لیکن یہ دوبارہ اس خطے میں فرقہ واریت کو ہوا دیں گے۔ دیوبندی بریلوی، سنی شیعہ، اور مسلکی جھگڑوں کو دبارہ کھڑا کرنے کے لئے پہلے کی طرح بھاری رقم خرچ ہوگی۔ مخیر حضرات کی شکل میں ان کے ایجنٹ مسلکی تعصب کا شکار علماء کو دبارہ استعمال کرنا شروع کریں گے۔ اور کہیں گے مولوی صاحب دیگوں اور ٹنٹوں کا خرچہ میرے ذمہ ہے بس آپ جلسہ کریں، اور دلائل کے انبار لگا دیں۔دیواروں پر چاکنگ ہو گی۔ کچھ مولویوں سے کچھ کہلوایا جائے گا اور اسے دوسرے مسلک والوں تک پہنچایا جائے گا۔

لہذا اب بہت ہوشیاری اور صبر تحمل کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ تک کسی مولوی صاحب کی ویڈیو پہنچے جس میں وہ دوسرے مسلک کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا ہے یا کچھ بھی غلط بول رہا ہے، اسے آگے شئیر خرنے کے بجائے ڈیلیٹ کر دیں۔ اگر آپ سے صبر نہ ہو تو بس اتنا کر دیں کہ متعلقہ تھانے میں رپورٹ کریں۔ریلیاں نکالنے، جلسے کرنے سے نوے کی دہائی والا دور تو واپس آجائے گا لیکن آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ہوشیار رہیں۔ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *