ہاتھ کی لکیروں سے مزاج کا تعین

0
566

ہاتھ کی لکیروں سے مزاج کا تعین

استاد محترم پروفیسر ایم اے شاکر صاحب نے اپنے طویل تجربات کی روشنی میں کچھ تحقیقات کی ہیں جو ان کی کتاب کلید مطب میں درج ہیں۔ اسی کتاب سے اس طریقہ تشخیص کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔ امید ہے احباب ذوق مستفید ہونگے۔
اب ہم ہاتھوں کے خاکے دیکھ کر ان کی لکیروں کی مدد سے کسی مریض کے اصل مزاج کا تعین کریں گے۔ اس سے آپ کو نبض دیکھ کر یہ معلوم ہوجائے گا کہ جو نبض ہم دیکھ رہے ہیں وہ مادہ مرض ہے یا مادہ صحت یعنی ردعمل۔۔۔۔
نوٹ۔۔۔ ہاتھ دیکھتے وقت ہاتھ کو قدرتی انداز سے کھلا رکھنا ہے۔ زیادہ تناو نہ رکھیں ورنہ طبیب کو سمجھنے میں مشکل ہوسکتی ہے۔

خاکہ غور سے دیکھیں دو نمبر لکیر کو نظریہ مفرد اعضاء اربعہ کے مطابق دل کی لکیر کہتے ہیں اس سے انسان کا قدرتی مزاج معلوم ہوتا ہے۔ یہ لکیر مزاج کا کمپاس ہے۔ اس لکیر سے انسان کی زندگی میں پائے جانے والے کثیر الوقوع چار امزجہ کا تعین ہوتا ہے۔

ہاتھ کی لکیروں سے مزاج کا تعین 1

1۔ عضلاتی قشری (خشک گرم) ہاتھ کی لکیریں۔۔۔۔۔

لکیر نمبر دو اہمیت کی حامل ہے اسے ہم نے تعین مزاج کیلیئے پوائنٹ نمبر چار سے بحث کرنا ہے کہ اس لکیر کا رخ کون سے پوائنٹ یا درجہ کی طرف ہے۔ خاکے کے مطابق اس لکیر کا رخ چار سے پانچ نمبر پوائنٹ کی طرف ہے۔ چار نمبر پوائنٹ مرکز ہے یہی منبع و مبداء ہے جبکہ پانچ نمبر پوائنٹ عضلاتی قشری مقام ہے۔ خاکے کے مطابق اگر یہ لکیر کسی مریض کے ہاتھ پہ ہے اور خوب گہری ہو۔ ہتھیلی سیدھی اور سپاٹ ہو۔ ہاتھ کی پشت کی رگیں ابھری ہوئی اور موٹی ہوں اور ہاتھ کا رنگ سرخ ہو تو اس مریض کا اصل مزاج عضلاتی قشری ہے۔ اب مریض کی نبض دیکھیں اگر وہ بھی عضلاتی قشری ہوتو مرض اسی تحریک کا ہے۔ اگر نبض قشری عضلاتی یا قشری اعصابی ہوتو یہ ردعمل (مادہ صحت) والی نبض ہوگی۔ اگر اب اسی ردعمل کو اور بڑھادیں تو صحت ہوجائے گی۔

ہاتھ کی لکیروں سے مزاج کا تعین 1 2

2۔ عضلاتی مخاطی (خشک سرد) ہاتھ کی لکیریں۔۔۔۔

اس ہاتھ کے خاکے میں بھی چار نمبر پوائنٹ مرکز ہوگا اور لکیر نمبر2 مزاج کا تعین کرے گی۔ اس لکیر کے زاویئے تبدیل کرنے سے ہی ہمیں اس مزاج کا تعین کرنا ہے جو قدرت نے اس انسان کو ودیعت کیا ہے۔ خاکہ نمبر 2 کو دیکھیں کہ دو نمبر لکیر پوائنٹ نمبر چار یعنی مرکز سے چل کر پوائنٹ نمبر 8 سے مل رہی ہے۔پوائنٹ نمبر 8 عضلاتی مخاطی مزاج کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ لکیر گہری ہوگی۔ ہتھیلی سیدھی سپاٹ ہوگی۔ ہاتھ کا رنگ سیاھی مائل ہوگا۔ عضلاتی مخاطی نبض میں ہاتھ کی لکیریں ہاتھ کی نسبت زیادہ سیاہ ہونگی۔ ہاتھ کی پشت پہ رگیں موٹی جیسے زیر جلد رسی ہو۔ رگوں کا رنگ سیاھی مائل نیلا ہوگا۔ ہاتھ پہ گوشت نہایت کم ہوگا۔ ہتھیلی سخت اور کھردری ہوگی۔
اب نبض دیکھیں اگر مادہ عضلاتی مخاطی چل رہا ہوتو یہی اصل مزاج ہے۔ اور مرض تحریک کا ہے۔ اگر نبض میں قشری مادہ سامنے آئے تو یہ ردعمل ہوگا۔ قوت مدبرہ بدن اپنا کام کر رہی ہے اس کی مدد کرکے (قشری تحریک بڑھا کر) مریض کو صحت کی طرف لایا جاسکتا ہے۔

ہاتھ کی لکیروں سے مزاج کا تعین 3 3

3۔ قشری عضلاتی (گرم خشک) ہاتھ کی لکیریں۔

اس ہاتھ میں دل کی (2نمبر لکیر) مرکز نمبر 4 سے شروع ہوکر چھے نمبر پوائنٹ (قشری عضلاتی) سے مل رہی ہوتی ہے۔ یہ قشری عضلاتی ہاتھ کی نشانی ہے۔ اس ہاتھ کی لکیریں عضلاتی ہاتھ کی نسبت کم گہری ہوتی ہیں۔ ہاتھ کا رنگ سرخی مائل زرد ہوگا۔ ہتھیلی درمیان سے گہری ہوگی۔ درمیان سے ہتھیلی کی گہرائی جتنی زیادہ ہوگی قشری مادہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
اب اس کی نبض دیکھیں اگر قشری عضلاتی مادہ محسوس ہوتو مرض تحریک کا ہے۔ جو بڑھ رہا ہے۔ اگر علامات قشری ہوں اور نبض میں مادہ اعصابی یا مخاطی ہوتو یہ ردعمل کا مادہ ہے۔ اس ردعمل کی مدد کرنے سے صحت ہوگی۔ یاد رکھیں تحریک اپنی انتہا کو پہنچ کر جود بخود تحلیل میں بدل جایا کرتی ہے۔ تحلیل ہوتو ردعمل کی مدد کے بجائے مادے کو پیچھے کی طرف لوٹانا چاہیئے۔

ہاتھ کی لکیروں سے مزاج کا تعین 2 4

4۔ قشری اعصابی (گرم تر) ہاتھ کی لکیریں۔۔۔۔۔۔

خاکہ نمبر چار میں قشری اعصابی ہاتھ دکھایا گیا ہے۔ دل کی لکیر نمبر دو اپنے مرکز نمبر 4 سے شروع ہو کر سات نمبر قشری اعصابی پوائنٹ کے ساتھ مل رہی ہے۔ یہ قشری اعصابی ہاتھ ہے۔ ہاتھ کی لکیریں باریک ہونگی۔ ہتھیلی قدرے گہری ہوگی۔ ہاتھ کا رنگ گلابی ہوگا۔ ہاتھ کی پشت پہ رگیں نظر نہیں آتیں۔ صرف نیلے رنگ کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ ہاتھ نرم ملائم گورا اور علاقے کی مناسبت سے کبھی مشکی بھی ہوگا۔
نبض دیکھیں اگر قشری اعصابی ہوتو یہی اصل مادہ ہے۔ مرض تحریک کا ہوگا۔ اگر نبض میں مخاطی مادہ پایا جائے تو یہ ردعمل ہے۔ اس کی مدد کریں۔ عضلاتی مخاطی دواء دینے سے اچھے نتائج برآمد ہونگے۔
نوٹ۔۔۔۔ عام طور پہ جو نبضیں یا مزاج پائے جاتے ہیں بیان کردیئے گئے ہیں ان کی مدد سے تشخیص مکمل کرکے علاج کریں۔ اگر کوئی شک و شبہ پایا جائے تو مریض سے بول براز کے متعلق سوالات کرکے علاج میں مدد حاصل کریں۔

ڈاکٹر سید رضوان شاہ گیلانی

Leave a Reply