کاکڑا سینگی Pistacia Integerrima

0
493

کاکڑا سینگی ’’سومک ‘‘

دیگرنام۔
گجراتی میں کاکڑا شنگی بنگالی میں کاکڑا شرنگی سنسکرت میں کرکٹ سرنگی پنجابی میں سومک اور انگریزی میں گالز پس ٹاکیسا ۔ یا Pistacia Integerrima کہتے ہیں ۔

ماہیت۔

کاکڑا کا درخت قریباًچالیس فٹ اونچا ہوتاہے۔اس کی چھال کا رنگ سفیدہوتاہے۔کاکڑا کے پتے لمبی نوک دار شاخوں پر آمنے سامنے ہوتے ہیں کاکڑا درخت کے پتے پتوں کے ڈنٹھل ٹہنیوں پر ٹیڑھے سینگ کی طرح کولے پائے جاتے ہیں ۔کئی لوگ اس درخت کی پھلیاں کو ایک خاص قسم کے کیڑا کا گھر مانتے ہیں ۔یہی کاکڑا سینگی ہے۔یہ پھلیاں سی مختلف لمبائی میں تین سے چھ انچ لمبے اور پون انچ سے ایک انچ تک چوڑے اور اندرسے خالی ہوتی ہیں ۔اس کا چھلکا پتلا سرخ رنگ کا اور اندر سے بھورا نطر آتاہے۔اس کا ذائقہ کڑوا کسیلاہوتاہے۔

کاکڑا سینگی 1

مقام پیدائش۔

یہ شمالی مغربی پہاڑی علاقے سے پشاور سے شملہ تک کانگڑھ سکم بھوٹان تک پایاجاتاہے۔

مزاج۔  گرم ایک ۔۔۔خشک درجہ دوم۔

افعال۔  مخرج بلغم ،مجفف رطوبت مقوی معدہ دافع تپ۔ ہر طرح کی ڈھیٹ کھانسی کا مجرب ترین علاج
وائرس کے خلاف موثر ہتھیار جہاں بہترین اینٹی بایوٹکس بھی اثر نہیں کرتی ہیں

استعمال۔

 کاکڑا سینگی کا سفوف شہد کے ساتھ ملاکر چٹانا کھانسی ضیق النفس سرفہ بلغمی خاص کر بچوں کی کھانسی کو نافع ہے۔اس کو کائے پھل کے ساتھ پیس کر سرفہ بلغمی خاص کر بچوں کی کھانسی کو نافع ہے۔اس کو کائے پھل کے ساتھ پیس کر شہد میں ملا کرچٹانے سے دمہ ختم ہوجاتاہے۔بعض اطباء کاکڑا سینگی اور بیل گرمی ہموزن کا سفوف بناکر اسہال میں دیتے ہیں ۔

کاکڑا سینگی اور اتیس پھلی ہموزن سفوف کرکے بمقدارایک گرام شہد کے ہمراہ چٹانوں بچوں کی کھانسی اسہال اور دانت نکالنے کے زمانے میں پیدا ہونے والی تمام شکایات کے لئے پر منفعث ثابت ہواہے۔

نوٹ۔  کاکڑا سینگی کے اندرسے سفید جالاکو دورکرکے استعمال کریں ۔

نفع خاص۔  کھانسی دمہ۔

مضر۔  جگرکے امراض کو۔

مصلح۔  کیترا ،گوند ببول۔

بدل۔  اصل السوس۔

مقدارخوراک۔  ایک سے دو گرام یا ماشے ۔

Leave a Reply