Barberries زرشک

0
688

زرشک Barberries

زرشک۔
(Beberis Barberry Vulgaris)

فیملی : Berberidaceae

دیگرنام۔

عربی میں ابزباریس فارسی میں زرک یا زرشک اور انگریزی میں بربرس دلگرس کہتے ہیں ۔
ماہیت۔
دارہلدکے درخت کا پھل ہے جومویز ج کالی کشمش سے چھوٹا رنگت میں سرخ سیاہی مائل اور مزہ کھٹا میٹھا ہوتاہے۔اس کے درخت کی لکڑی دار ہلد اور اس کا عصارہ رسوت کہلاتاہے۔

مزاج۔

سردخشک درجہ دوم۔
افعال۔
مسکن صفراء خون مسکن حرارت معدہ وجگرمقوی معدہ قابض آمعا۔

Barberries زرشک سمبل 1

افعال و استعمال

Barberries زرشک کو صفراوی امراض خصوصاًصفراوی بخاروں کو تسکین دیتے پیاس کو ساکن کرنے اور قے و متلی کو روکنے کیلئے پانی یا عرق میں پیس چھان کر پلاتے ہیں۔ معدہ اورجگر کی حرارت کو دور کرنے اور ان کو قوت دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔
صلابت جگر میں زعفران کے ہمراہ پلاتے ہیں ۔صفراوی مزاج کیلئے اور صفراوی امراض میں غذاؤں میں شامل کرکے بھی کھلاتے ہیں ۔خفقان حار اور ضعف اشتہامیں مفید ہے۔
نفع خاص۔ صفراوی امراض۔
مضر۔ بلغمی مزاج لوگوں کیلئے ۔
مصلح۔ شکر اور لونگ ۔
بدل۔ صندل سفید زراوند۔
مقدارخوراک۔ دو سے پانچ گرام یا ماشے تک

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی زرشک 

زرشک _____ دار ہلد _____ سملو _____ رسوت
برصغیر کی معروف نباتی دوا انبرباریس کا پھل زرشک طب مشرق کی معروف عام اور مقبول دوا ہے جو اسہال اور پیچش میں استعمال ہونے والی ادویہ میں سرفہرست ہے۔ اس کے دیگر علاقائی نام یوں ہیں۔ اسے انگریزی زبان میں انڈین بربیری، اردو میں رسوت، ہندی میں دارہلد، عربی میں انبرباریس اور فارسی میں زرشک کہتے ہیں جبکہ اس کا نباتی نام Berberis Vulggaris ہے۔ اس کا تعلق بربیری ڈیسی خاندان سے ہے۔ یہ پودا دنیا کے بیشتر ممالک مثلاً ہندوستان، نیپال، بھوٹان، سری لنکا، افغانستان، جاپان اور برطانیہ میں پایا جاتا ہے جبکہ ہمارے اپنے ملک میں دیر، سوات، گلگت، کاغان، پونچھ، مری اور کشمیر کے علاوہ دیگر پہاڑی علاقوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ یہ ایک خار دار درخت کا پھل ہے جو کہ کچا سبز رنگ کا جبکہ پک کر سرخ اور پرانا ہونے پر سیاہ ہو جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ کھٹ مٹھا ہوتا ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں۔ ایک پہاڑی جو دراز قد اور سیاہ ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم کا پھل گول اور سرخ ہوتا ہے۔ بعض میں گٹھلی ہوتی ہے جبکہ بعض میں نہیں ہوتی ۔اس کا درخت ایک سے چار گز تک بلند ہوتا ہے۔ اس کے پھول سفید زردی مائل جبکہ پتے چنبیلی کے پتوں جیسے ہوتے ہیں۔ جگر اور پتہ کے امراض میں اس کے فوائد مسلم ہیں۔ معدہ اور امعاءکی اصلاح کے علاوہ بھی اس کے ادویاتی فوائد ہیں۔ کئی امراض میں تنہا اور بعض میں دیگر نباتی ادویہ کے ساتھ مرکب کر کے اطباءاسے صدیوں سے استعمال کروا رہے ہیں۔
جدید تحقیقات کے مطابق اسے دافع جراثیم، التہاب، پھپھوند، اسہال وپیچش، تشنج، ملیریا، فشار الدم قوی اور سرطان قرار دیا گیا ہے۔ اسے سفید خلیات (W.B.) میں اضافہ کرنے والی نباتی ادویہ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس میں کئی الکائیڈز پائے جاتے ہیں جن میں جوہر موثرہ بربرین بھی ہے صفراوی مادہ کی امعاءپر ترواش میں اضافہ کرتی ہے۔ زرشک کے الکائیڈز نہایت قوی دافع جراثیم اثرات رکھتے ہیں۔ پتے کی سوزش اور درد میں یہ بہت موثر ہیں۔ زرشک کی جڑ اور پتوں سے ٹے نین اور بربیرین حاصل ہوتی ہے۔ معلومات کے مطابق زر شک دوسرے درجے میں خشک جبکہ دار ہلد (زر شک کے پودے کا تنا) پہلے درجے میں سرد خشک ہے۔ اس کا عصارہ (رسوت) دوسرے درجہ میں سرد اور تیسرے درجہ میں خشک ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ معتدل ہے۔ زرشک، جگر، دل اور معدہ کو تقویت بخشتی ہے۔ یہ جگر کے بعض امراض مثلاً یرقان، پتے میں پتھری اور صفراوی بخاروں میں بھی مفید ہے۔ بواسیر میں فائدہ دیتی ہے اپنے اثرات کے باعث کثرت حیض میں مفید ہے۔ صفراوی دستوں میں اس کے شفائی اثرات بہت زیادہ ہیں بڑھی ہوئی تلی میں مفیدہے۔ زرشک کے پودے کی چھال کے جوشاندے سے کلی کرنا‘ قلاع (منہ آنا) میں مفید ہے۔ بیماری کے بعد ہونے والی کمزوری میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ ہومیو پیتھی میں استعمال ہوتی ہے اور درج ذیل عوارضات میں دی جاتی ہے۔
کمزوری کی وجہ سے سوئیاں چبھنا، معدہ کا اپھارہ، جگر اور پتہ کا درد، جوڑوں میں سوزش وغیرہ۔ زرشک کو پیٹ کی گیس، قولنج، کھانسی اور بلغمی مزاج کے لوگ استعمال نہ کریں کیونکہ ان میں مضر اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ زرشک 6گرام تک استعمال کی جا سکتی ہے۔ طب مشرق کے مرکبات میں حب سیاہ چشم، حب رسوت، حب بواسیر، جوارش زرشک، دواءالمسک معتدل سادہ اور دواءالمسک معتدل بااضافہ جواہرات کا اہم جزو ہے۔ ضعف بصارت کیلئے میرے استاد محترم شہید پاکستان حکیم حافظ محمد سعیدرحمتہ اللہ علیہ مطب فرما رہے تھے۔ ایک مریض نے بینائی تیز کرنے کے لئے مشورہ چاہا، حکیم صاحب نے ایک لمحہ توقف کے بعد اسے روزانہ صبح زرشک 6گرام چبا لینے کی ہدایت فرمائی۔ راقم نے ان سے استفسار کیا کہ زرشک کا بینائی سے کیا تعلق؟ حکیم سعید رحمتہ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ عقاب زرشک کھاتا ہے اوراسکی نظر بہت تیز ہے۔ اس لئے میرے ذہن میں یہ آیا۔ وہ مریض دو ماہ بعد دوبارہ مطب میں آیا اور بتایا کہ مجھے اس سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ جس کے بعد میں نے بہت سے اوراکثر نے مفید اثرات کا جواب دیا ہے۔ کو یہ تدبیر بتائی اوراکثر نے مفید اثرات کا جواب دیا ہے۔
(اس مضون کا محرک حکیم عبدالوحید سلیمانی کے سملو کے خواص و فوائد پر لکھے گئے دو مضامین ہیں جو ان کی ویب سائیٹ پر دستیاب ہیں ۔ انٹرنیٹ پر سملو کے خواص و فوائد کے حوالے جو بھی مواد اردو میں موجود ہے وہ انہیں مضامین سے ماخوذ ہے ۔ ان مضامین میں سملو کی شکل و شبہاہت کی تفصیل تو موجود ہے لیکن اس کے ناموں حوالے سے زیادہ تفصیل نہیں لکھی گئی ۔ اس مضون میں ان کے ناموں کے بارے میں ذرا تفصیل سے بات کی گئی ہے ______ علاوہ ازیں زرشک کی ماہیت بھی اس مضمون کے لکھنے کا ایک اور سبب ہے)
زرشک کا تعلق باربیری ڈیسی فیملی(Berberidaceae family) یا خاندان زرشکیہ اور بربیرس (Berberis) نوع سے ہے ۔ یہ ایک سدا بہار خار دار جھاڑی ہے ۔ اس کی تقریبا 500 سو کے قریب بیج والی اصناف (Species) دنیا کے مختلف خطوں میں پیدا ہوتی ہیں مثلا یورپ ، جاپان ، امریکہ اور ایشیا کے کئی علاقے وغیرہ۔ بغیر بیج والی باربیری (Seedless Barberry) صرف ایران اور برصغیر (پاکستان بھارت ، نیپال ، بھوٹان ، سری لنکا) اور افغانستان میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس کی جھاڑیاں دیر ، سوات ، گلگت ، کاغان ، پونچھ ، مری اور کشمیر کے علاوہ دیگر پہاڑی علاقوں میں عام طور پر پائی جاتی ہیں۔ بلوچستان میں بھی اس کے پودے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ایرانی زرشک اور برصغیر میں پیدا ہونے والی زرشک (زرشک سیاہ) دو مختلف اصناف ہیں ۔(ایرانی زرشک کو اس کے سرخ رنگ کی وجہ سے میں نے اس مضمون میں زرشک احمر اور برصغیری زرشک کو زرشک سیاہ یا زرشک ہندی کا نام دیا ہے)

زرشک احمر یا ایرانی زرشک:

ایرانی زرشک (زرشک احمر) کا سائنسی نام (Berberis Vulgaris) ہے ۔ (انٹر نیٹ پر سرچ کریں تو یہی زرشک اور اس کی تصاویر سامنے آتی ہیں) یہ 3 سے 6 میٹر بلند ایک جھاڑی نما پودا ہے۔ جو کہ سطح سمندر سے 1500 میٹر بلندی پر پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے ۔ اس کا خشک پھل فارسی اور کردی میں زرشک کہلاتا ہے۔ تازہ پھل بیضوی اور گہرے سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔ لیکن خشک ہونے پر اس کی رنگت براؤن رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ زرشک احمر ایران میں وسیع پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے۔ ایران دنیا میں سب سے بڑا زرشک پیدا کرنے والا ملک ہے۔ ایران کے صوبے شمالی خراسان کا دارالحکومت بیرجند اس کی پیداوار کا سب کا بڑا مرکز ہے ۔ زرشک اور زعفران ایک جیسی زمین پر ایک ہی وقت میں کاشت کئے جاتے ہیں ۔ ان کی کاشت کا وقت ستمبر کے آخر سے اکتوبر کے وسط تک ہے۔ خشک زرشک مارچ اور اپریل میں مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہے ۔ ان پھلوں کو خشک کرنے کے لئے شاخوں سمیت پودے سے کاٹ کر لکڑی کے ڈنڈوں پر رکھ کر چاروں سمت سے بھاپ مسلسل گزاری جاتی ہے ۔ اس طریقے سے 4 سے 5 ماہ میں یہ پھل خشک ہو جاتے ہیں ۔ اس طریقے سے خشک کیا ہوا پھل، پھولا ہوا اور نرم ہوتا ہے۔ پھل کو دھوپ میں بھی خشک کیا جاتا ہے ۔ دھوپ میں یہ پھل ایک ماہ میں خشک ہو جاتا ہے ۔

زرشک ہندی یا زرشک سیاہ :

برصغیر میں پائی جانے والی زرشک (زرشک سیاہ یا زرشک ہندی) ، ایرانی زرشک سے مختلف شے ہے اس کا پھل ایرانی زرشک سے سائز میں کچھ چھوٹا ہوتا ہے ۔ کچے پھل کا رنگ سبز ، پکنے پر ابتدا میں ہلکا سرخ اور مکمل پکنے پر جامنی ہو جاتا ہے ۔ خشک ہونے پر اس کا پھل سیاہ رنگ کا ہو جاتا ہے ۔ اس کا ذائقہ کھٹا میٹھا ہوتا ہے ۔ زرشک کی وجہ سے اس کے پودے یا جھاڑی کو زرشک کی جھاڑی بھی کہا جاتا ہے ۔ طبی کتب میں اس جھاڑی کو دار ہلد کا نام دیا جاتا ہے ۔ ایرانی زرشک اور ہندی زرشک میں ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ ایرانی زرشک کاشت کی جاتی ہے جبکہ زرشک سیاہ یا زرشک ہندی خودرو پیدا ہوتی ہے ۔زرشک سیاہ یا زرشک ہندی کی خار دار جھاڑیاں ہمالیہ کی ترائی (دامن) میں 850 سے 2500 میٹر کی بلندی پر پاکستان بھارت ، نیپال ، بھوٹان میں پائی جاتی ہیں ۔ پاکستان میں اس کی جھاڑیاں مانسہرہ ، بالاکوٹ ، دیر ، سوات ، گلگت ، کاغان ، پونچھ ، مری اور کشمیر کے علاوہ دیگر پہاڑی علاقوں مثلا شمالی وزیرستان میں عام طور پر پائی جاتی ہیں۔ بلوچستان میں بھی اس کے پودے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ بلوچستان میں یہ زیارت ، باباخرواری، دوزخ تنگی، لورالائی، درگئی، قلعہ سیف اللہ اور سنجاوی کے اطراف میں بھی پائی جاتی ہے ۔ بھارت میں اس کے جھاڑیاں جموں کشمیر ، کانگڑہ ، ڈیرہ دون ، ہردوار میں نیلگری کے پہاڑی علاقوں میں طرف بکثرت پائی جاتی ہیں ۔ افغانستان اور سری لنکا (سیلون) کے پہاڑی علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے ۔

زرشک کی اقسام

صوفی لچھمن پرشاد اپنی کتاب ” پاک و ہند کی جڑی بوٹیاں جدید سائنس کی روشنی میں” لکھتے ہیں کہ “ان جھاڑیوں کی کئی قسمیں ہیں ۔ مختلف علاقوں میں ان کے مختلف نام ہوتے ہیں ۔ عام نام جو پہاڑی علاقوں میں رائج ہیں وہ یہ ہیں ۔ چترا ، کشمل ، سملو ، کلمورا ، آلودانہ ، چاچر وغیرہ ۔” یہ نہایت اہم ادویاتی پودا ہے۔ اس جھاڑی کا ہر حصہ ادویاتی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کا تنا جڑیں ، چھال اور اس کا پھل مختلف دواؤں میں استعمال ہوتے ہیں۔ رسوت کے نام سے ملنے والی دوا اس جھاڑی کی چھال ، جڑوں اور تنے کے نچلے حصے سے حاصل ہونے والا عصارہ ہے ۔ عصارہ حاصل کرنے کے لئے انہیں پانی میں ابالا جاتا ہے ۔ بعد ازاں اس پانی کو ہلکی آنچ پر خشک کرکے حاصل کیا جاتا ہے ۔ اس پودے کا پھل (زرشک ہندی یا زرشک سیاہ) ، جڑیں “دار ہلد” اور چھال ، تنے کے نچلے حصے اور جڑوں کا عصارہ “رسوت” کہلاتا ہے ۔ رسوت کے حوالے سے اسے رسوت کی جھاڑی بھی کہا جاتا ہے ۔ صوفی لچھمن پرشاد نے اس جھاڑی کا لاطینی نام Berberis Aristata لکھا ہے ۔ صوفی لچھمن پرشاد کی یہ تحریر میرے لئے اس جھاڑی کے مقامی نام سملو کا پہلا تعارف تھا۔ حکیم عبدالوحید سلیمانی اپنے مضمون “سملو- سرطان دفع کرنے والی کراماتی جڑی بوٹی” میں لکھتے ہیں کہ میں نے مختلف طبی کتب میں سملو کے بارے میں مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ اس کا لاطینی نام بربیرس اریسٹاٹا (Berebris aristata ) ہے اور یہ نباتات کے خاندان زرشکیہ (Berberideae ) سے تعلق رکھتی ہے۔” اس کی جڑیں اور تنا زرد رنگ کا ہوتا ہے ، اسی زرد رنگ کی وجہ سے حکیم عبدالوحید سلیمانی نے سملو کو “زرد سملو” کہا ہے۔ اور یہ نام بڑا مناسب معلوم ہوتا ہے- اسی طرح سکول آف فارماسیوٹیکل سائنسز ، جے پور نیشنل یونیورسٹی انڈیا کے شرما کومل ، بیروا رانجن ، چوہان نیلم وغیرہ نے اپنے مقالے میں اس کا پنچابی نام سملو لکھتے ہوئے ان کا سائنسی نام Berberis Aristata لکھا ہے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ اس کی جھاڑیاں مختلف اقسام ہیں۔ عترت الزہرا طلعت واصف اپنی کتاب “پاکستان کے عام پودے (درخت اور جھاڑیاں)” میں مذکورہ جھاڑی کا سائنسی نام Berberis lycium Royle لکھا ہے ۔ اس کا مقامی نام کشمال اور زرچ لکھا گیا ہے۔ اس کا ایک اور مقامی نام اشکین بھی ہے ۔ University of Arid Agriculture Rawalpindi کے ڈیپارٹمنٹ اور بایوکمیسٹری کے ایسوسی ایٹ پروفیسرز محمد گلفراز اور اور محمد ارشد نے اپنے مقالے میں سملو کا سائنسی نام Berberis lyceum Royle ہی لکھا ہے ۔ جنرل آف دی اسلامک انٹرنیشنل میڈیکل کالج (مارچ 2015) میں Berberis lyceum Royle کا اردو نام سملو اور پشتو نام “زیار لارگئے” لکھا ہے ۔ اور یہ درج بھی ہے کہ اس کے پودے مارگلہ ہلز اسلام آباد ، گلگت ، بلتستان ، استور ، دیر ، سوات اور دیامر میں پائے جاتے ہیں ۔ اس کے پودے بلوچستان میں بھی پائے جاتے ہیں چنانچہ فلورا اور زیارت (بلوچستان) میں Berberis lyceum Royle کا مقامی نام سور زرلگ (Soor zaralg) (زرلگا – پشتو) لکھا گیا ہے ۔ بعض کتب میں Berberis lyceum Royle کو Berberis Aristata کی ذیلی قسم شمار کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے Berberis Aristata اور Berberis lyceum Royle ایک ہی پودا میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
حکیم عبدالوحید سلیمانی نے بلوچستان میں سملو کے پودوں کا ذکر زرد سملو کے نام سے کیا ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ “ماہ جون میں مجھے زیارت (بلوچستان) جانے کا اتفاق ہوا۔ زیارت ، باباخرواری اور دوزخ تنگی کے علاقوں میں زرد سملو کے ہزارہا پودے لگے ہوئے دیکھے۔ لورالائی جانے کا اتفاق ہوا تو درگئی ، قلعہ سیف اللہ اور سنجاوی کے اطراف میں بھی پودے نظر آئے۔ خوشی ہوئی کہ صرف شمالی علاقہ جات ہی نہیں بلوچستان بھی اس نعمت سے مالامال ہے۔ وہاں کے لوگوں سے اس کا نام پوچھا تو معلوم ہوا کہ لوگ اسے “زرل” کہتے ہیں۔ بعض جگہ اسے “کورئے” کہہ کر پکارا جاتا ہے۔” عترت الزہرا طلعت واصف اپنی کتاب “پاکستان کے عام پودے (درخت اور جھاڑیاں)” میں اس کا سائنسی نام Berberis baluchistanica Ahrendt لکھا ہے جبکہ مقامی نام کورائی ، کروسکائی اور زرولگ لکھے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں جب انٹرنیٹ گردی کی گئی تو درج ذیل نام سائنسی اور مقامی نام سامنے آئے ۔
1. Berberis baluchistanica Ahrendt مقامی نام تور زرلگ (Tor Zaralga)
2. Berberis calliobotrys Aitch.& Koehne مقامی نام شِن زرلگ (Shin Zaralga) یا خارزرلگ
3. Berberis densiflora Boiss.& Bushe مقامی نام سور زرلگ (Soor Zaralga)
ماحاصل یا نتیجہ :
جیسا کہ حکیم عبدالوحید سلیمانی نے لکھا ہے کہ سملو کی جڑ زرد رنگ کی ہوتی ہے بعض علاقوں سیاہ رنگ کی جڑ بھی ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ کہ سملو کا اطلاق مختلف پودوں پر ہوتا ہے ۔ اسی طرح صوفی لچھمن پرشاد نے بھی یہ لکھا کہ ان جھاڑیوں کی کئی قسمیں ہیں ۔ چنانچہ اوپر جتنی اقسام کا ذکر ہوا ، ان سب پر دارہلد یا سملو کا اطلاق ہوتا ہے۔ دارہلد یا سملو کو عربی میں امبرباریس ، فارسی میں زرشک ، ہندی میں چترا ، دار چوب ، سنسکرت دارہردیا کہا جاتا ہے ۔ انگریزی میں انڈین باربیری اور Turmeric Tree کہا جاتا ہے ۔ یہ خودرو خاردار جھاڑی ہے۔ اس کے پرانے پودوں کا قد سات آٹھ فٹ ہوتا ہے۔ شاخیں اطراف میں پھیلی اور کانٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔ ہر کانٹا سہ شاخہ ہوتا ہے۔ پتے لمبوترے اور نوکیلے ہوتے ہیں۔ پرانے پودوں کے تنے کا قطر تین چار انچ ہوتا ہے۔ جڑیں گہری بلکہ آٹھ دس فٹ زمین میں ہوتی ہیں۔ یہی جڑ کارآمد ہے۔ اسے کاٹ کر اس پر سے چھلکا اتارتے اور سائے میں خشک کر لیتے ہیں۔ یہ چھلکا زرد رنگ کا اور ذائقے میں کڑوا انتہائی ہوتا ہے اور سملو کے نام سے بطور دوا استعمال ہوتا ہے۔ اس جھاڑی کو مارچ کے پہلے پندرواڑے سے شروع ہو کر اپریل کے آخر تک پھول لگتے ہیں سُملو کے زرد پھول گچھوں کی شکل میں لہلہاتے ہیں۔ پتے لمبوترے اور نوکیلے ہوتے ہیں۔ پھول چند دن بعد جھڑ جاتے ہیں۔ ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے سبز دانے نکلتے ہیں اس کا پھل مئی کے دوسرے ہفتے میں پکنا شروع ہو جاتا ہے جو جون کے آخر تک پکتا رہتا ہے لیکن بارش کا موسم شروع ہونے سے پہلے یہ پودے سے علیحدہ ہو جاتا ہے ۔ پکنے پر ابتدا میں ہلکا سرخ مکمل پکنے پر گہرا جامنی اور خشک ہونے پر سیاہ ہو جاتا ہے۔ بچے اور بڑے انہیں شوق سے کھاتے ہیں۔ اس کے پھول اور پتے بھی کھائے جاتے ہیں جن کا ذائقہ ترش ہوتا ہے۔یہ منہ اور گلے کے امراض کا علاج ہے۔ اس کی جڑ خزاں کے آخر میں نکالی جاتی ہے تاہم ضرورت پڑنے پر کسی وقت بھی تازہ جڑ کا چھلکا اتار کر استعمال کر سکتے ہیں۔

رسوت :

اس کے تنے اور جڑوں میں ایک زرد رنگ کا جوہر ہوتا ہے جو طبی لحاظ سے بہت اہم ہے جو اس کی چھال ، تنے کے نچلے اور جڑوں سے حاصل ہونے والا عصارہ ہے ۔ اس کی چھال باہر سے براؤن اور اندر سے زرد ہوتی ہے اور یہ آسانی سے، ہاتھ کے ساتھ اتاری جا سکتی ہے ۔اس کو نکالنے کا طریقہ یہ کہ تنے کے نچلے حصے اور جڑوں کی لکڑی کو چھوٹی چھوٹی کاٹ کر اور قدرے کوٹ کر لوہے کے بہت بڑے کڑاہے میں ڈال کر اوپر سے پانی ڈال دیتے ہیں نیچے لگاتار دھیمی آگ جلاتے ہیں تاوقتیکہ لکڑیوں سے تمام رنگ نہ نکل آئے اور وہ بالکل سفید نہ ہو جائيں ۔ اس کے بعد لکڑیوں کا باہر پھینک دیا جاتا ہے اور پانی کو اور زیادہ جوش دیا جاتا ہے حتٰی کہ وہ لئی کی طرح گاڑھا ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد اس کو پتوں پر ڈال کر خشک کر لیا جاتا ہے ۔ یہی رسوت ہے جو بازار میں بکتی ہے۔
زرد رنگ :
دارہلد یا سملو کی لکڑی سخت اور زرد رنگ کی ہوتی ہے ۔ اس لکڑی کو خشک کوٹ کر یہی زرد رنگ علیحدہ نکال لیا جاتا ہے ۔ برصغیر میں پہلے یہی زرد رنگ کے طور پر استعمال ہوا کرتا تھا ۔ اب ولائتی رنگوں کے آنے سے اس کا استعمال بہت کم یا متروک ہو گیا ہے۔”
نوٹ :
یاد رہے لفظ “سملو” سے مراد عام طور اس جھاڑی (دارہلد) کی جڑ کا چھلکا ہے ۔ اس لئے جہاں یہ لفظ استعمال ہو گا اسے اسی طرح سمجھا جائے۔
خواص و فوائد :
طبی لحاظ سے جگر اور پتہ میں اس کے فوائد مسلم ہیں ۔ زرشک ، دل ، جگر ، معدہ کو تقویت بخشتی ہے ۔ یہ جگر کے بعض امراض مثلا یرقان ، پتے میں پتھری اور صفراوی بخاروں میں بھی مفید ہے ۔ صفراوی دستوں میں اس کے شفائی اثرات بہت زیادہ ہیں ۔ بڑھی ہوئی تلی میں مفید ہے ۔ ضعف بصارت کے لئے روزانہ صبح 6 گرام زرشک چبا لینے سے نظر تیز ہو جاتی ہے ۔ طب مشرق کے مرکبات میں حب چشم سیاہ ، حب رسوت ، حب بواسیر ، جوارش زرشک ، جوارش املی ، دوا المسک معتدل سادہ اور دوا المسک معتدل با اضافہ جواہرات کا اہم جزو ہے ۔
اس کا عصارہ (رسوت) دوسرے درجے میں سرد اور تیسرے درجے میں خشک ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ معتدل ہے ۔ بواسیر میں فائدہ دیتی ہے ۔اپنے اثرات کے باعث کثرت حیض میں مفید ہے۔ مصفی خون اثرات کے باعث پھوڑے پھنسیوں اور خارش میں مفید ہے ۔ جوڑوں کے درد میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے ۔ کئی امراض میں تنہا اور بعض میں دیگر نباتی ادویہ کے ساتھ مرکب کرکے اطباء اس صدیوں سے استعمال کروا رہے ہیں ۔
مقامی استعمال :
مقامی لوگ اسے یعنی سملو کو مختلف امراض میں استعمال کرتے اور اس کے شفا بخش اثرات سے مستفید ہوتے ہیں۔ مثلاً گلے میں تکلیف ہو تو اس کا چھلکا منہ میں رکھ کر سو جائیے۔ اس کا کڑوا پانی حلق سے اترتا رہتا ہے اور صبح تک تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔ منہ میں چھالے ہوں تو ایک چٹکی سفوف منہ میں رکھنے سے گھنٹہ بھر میں تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔ جوڑوں کے درد میں سوتے وقت دو تین چٹکیاں سفوف پانی سے لے لیں۔ تین چار روز یہ عمل دہرانے سے درد رفع ہو جاتا ہے۔سملو کا سفوف روزانہ چھڑکنے سے پرانے سے پرانا زخم ہفتہ بھر میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی دن میں دو بار کھانے کے بعد پانی کے ہمراہ سفوف کی دو تین چٹکیاں لینی چاہییں۔ ہڈی کے ٹوٹ جانے پر انڈے کی سفیدی میں سملو کا سفوف ملا کر متاثرہ جگہ لیپ کیجئے اور کس کرباندھ دیجئے، ہڈی انشاء اللہ جڑ جائےگی۔

جدید فوائد ۔

سملو (جڑ کا چھلکا) جگر‘ خون‘ چھاتی اور ہڈیوں کے سرطان ، ذیابیطس گلہڑ (غدہ درقیہ کا بڑھ جانا) ، دماغی رسولی ، اٹھرا ، دانتوں سے خون آنا ، بلند فشارخون اور ڈایالائسز میں اس کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوا ہے ۔ یہ نئے فوائد ہیں جو اب سامنے آئے ہیں لہٰذا طبی کتب میں ان کا اندراج بھی ہو جانا چاہیے۔
استعمال طریقہ ۔
سرطان میں اور دیگر کئی بیماریوں میں درج ذیل بنیادی نسخہ تنہا یا کسی جزو یا اجزا کے اضافہ کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے مثلاً چھاتی ، منہ ، جگر ، ہڈیوں کے سرطان ، اٹھراہ ، سیرم ٹرائی گلیسرائڈ میں سملو ، ہلدی اور کشتہ سنکھ تینوں ہم وزن ، ایک ماشہ (ڈبل زیرو کا کیپسول) صبح ، دوپہر اور شام کھانے کے بعد دودھ کے ساتھ استعمال کریں ۔ سرطان میں تین ماہ اور اٹھرا میں 6 ماہ تک استعمال کریں _________ اگر سملو کو تنہا استعمال کرنا چاہیں تو صبح کو تین ماشے سُمبلو ایک پیالی پانی میں بھگو دیں اور شام کو کھانے کے آدھ گھنٹے بعد پی لیں۔ اسی طرح شام کو بھگو کر صبح پی لیں۔ ایک ماہ کے استعمال سے چھاتی کا سرطان ختم ہو جائے گا۔
دماغی رسولی میں مذکورہ نسخہ میں درخت سرس (شریں) کی چھال چوتھے جزو کےطور پر ڈالیں چاروں ہم وزن کا سفوف بنا لیں اور عرق دھماسہ کے ساتھ تین سے چار ماہ تک استعمال کریں ۔
گلہڑ میں مذکورہ بنیادی نسخہ میں آرسینک پوڈر نمبر 2 چوتھے جزو کے طور پر شامل کریں اور زیرو سائز کا کیپسول صبح شام تین ماہ تک استعمال کریں
ہڈی ٹوٹنے کی صورت میں انڈے کی سفیدی میں ملا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں ، بیس ، پچیس دن استعمال کریں ۔
دانتوں کے امراض مثلا دانتوں سے خون آنا ، دانتوں کا ہلنا ، دانتوں کا درد وغیرہ میں کسی منجن میں ہم وزن سملو ملا کر استعمال کریں ۔
سُمبلو کو منہ کے مختلف امراض میں استعمال کیا جاسکتا ہے مثلاً گلے میں تکلیف ہو تو اس کا چھلکا منہ میں رکھ کر سو جائیے۔ اس کا کڑوا پانی حلق سے اترتا رہتا ہے اور صبح تک تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔ منہ میں چھالے ہوں تو ایک چٹکی سُمبلو پوڈر منہ میں رکھنے سے گھنٹہ بھر میں تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔
ٹانسلز میں کی لکڑی کا چھوٹا سا ٹکڑا رات سوتے وقت منہ میں رکھنے سے ٹانسلز انشاء اللہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
ناسور میں سُمبلو تنہا کا سفوف ایک ماشہ صبح دوپہر اور شام بعد از غذا دودھ کے ساتھ استعمال کریں
بخار پر جو کسی دو اسے نہیں اترتا ہو اس کے لئے اسے استعمال کریں ۔
ذیابیطس میں درج ذیل نسخہ استعمال کریں ۔ سُمبلو، کلونجی، تخم میتھی، کاسنی ہندی ہم وزن لے کر 5 ، 5 ماشہ یعنی 1 ،1 چمچ صبح و شام بعد غذا ایک ماہ تک استعمال کریں۔ رات کو خشخاش ایک چمچ دودھ کے ساتھ کھا لیں ____________ سملو کو تنہا بھی ذیابیطس میں استعمال کر سکتے ہیں اس کا طریقہ یہ کہ سُمبلو 3ماشہ کا ٹکڑا رات کو ایک پیالی پانی میں بھگو دیں، صبح ناشتہ سے آدھ گھنٹہ پہلے یہ پانی پی لیں۔ پھر پیالی میں مزید پانی ڈال دیں۔ اسے نماز عصر کے بعد پیجئے۔ اب بوٹی ضائع کر دیں اور رات کو نئی بوٹی پانی میں بھگوئیے۔ یہ نسخہ پندرہ، بیس روز استعمال کریں۔
جوڑوں کے درد میں سوتے وقت دو تین چٹکیاں سفوف سُمبلو دودھ سے لے لیں۔ تین چار روز یہ عمل دہرانے سے درد رفع ہو جاتا ہے۔
جدید تحقیق سے اس جھاڑی سے ایک الکلائیڈ بھی نکالا جاتا ہے جو بربرین (Berberine) کہلاتا ہے یہ رسوت کی لکڑی میں اڑھائی فیصد کی مقدار میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ نہایت کڑوا زرد رنگ کا جوہر ہوتا ہے ۔ اس کے متعدد مرکبات تیار ہو چکے ہیں جو ایلوپیتھی میں عام استعمال ہتے ہیں ۔ بربرین کھانے کے چند گھنٹے بعد پیشاب کا رنگ زرد ہو جاتا ہے ۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت تیزی سے حل ہوتی ہے اور مثانہ کی راہ جسم سے خارج ہوتی ہے۔
گھنگیری گنگیری

Leave a Reply