مٹھائی کی دکان میں گوبر کا بخور دینا

Dr. Ibrahim EXPOSED Satanic Rituals for Business Success The Truth About Jinn Bakhur Dung Incense Nukta Guidance 1

مٹھائی کی دکان میں گوبر کا بخور دینا

سوال

“السلام علیکم! میں نے حال ہی میں ڈاکٹر محمد ابراہیم کی ایک ویڈیو دیکھی ہے جس میں وہ کاروبار (خصوصاً مٹھائی کی دکان) میں غیر معمولی اضافے کے لیے ایک نسخہ بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک کلو بکرے کی ہڈیاں، ایک کلو کوئلہ اور ایک کلو خشک گوبر کو پیس کر اس کا پاؤڈر بنا لیں اور روزانہ مغرب کے وقت دکان میں اس کی دھونی (بخور) دیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ وہ چیزیں ہیں جو نبی کریم ﷺ نے جنات کو بطورتحفہ دی تھیں، اور اس عمل سے جنات دکان کی طرف راغب ہو کر گاہکوں کو ذہنی طور پر مائل کرتے ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے کہ حضور ﷺ نے جنات کو یہ چیزیں تحفے میں دی تھیں؟ اور کیا شریعت کی رو سے ان اشیاء کو جلا کر جنات کے ذریعے کاروبار میں برکت حاصل کرنا جائز ہے؟”

نکتہ
نکتہ سید عبدالوہاب شیرازی

جواب:

جنات کی نبوی ضیافت اور ان کے زادِ راہ کا علمی و فقہی جائزہ

عالمِ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ عالمِ غیب پر ایمان لانا ہے، جس کے تحت فرشتوں، جنات اور دیگر غیر مرئی مخلوقات کا وجود تسلیم کیا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت و نبوت کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ کو صرف انسانوں کے لیے نہیں، بلکہ جنات کے لیے بھی ہادی اور رہبر بنا کر بھیجا گیا، اسی بنا پر آپ ﷺ کو ‘رسول الثقلین’ (جن و انس کے رسول) کہا جاتا ہے 1۔

سائل کا یہ سوال کہ کیا حضور ﷺ نے جنات کو کچھ چیزیں تحفے میں دی تھیں، ایک گہری تحقیق کا متقاضی ہے۔ اسلامی روایات اور احادیثِ مبارکہ کے ذخیرے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے جنات کی درخواست پر ان کے لیے مستقل رزق اور زادِ راہ کا تعین فرمایا تھا، جسے عرفِ عام میں تحفہ سمجھا جاتا ہے، مگر علمی اصطلاح میں یہ ایک شرعی قانون سازی اور الٰہی انتظام تھا 3۔

جنات کے وجود، ان کی خوراک اور ان کے ساتھ انسانوں کے برتاؤ کے حوالے سے احادیث میں جو تفصیلات ملتی ہیں، وہ نہ صرف مابعد الطبیعیاتی حقائق کو واشگاف کرتی ہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کے آداب، خاص طور پر صفائی اور طہارت کے احکامات پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں 6۔

اس مضمون میں وادی نخلہ کے تاریخی واقعات، نصیبین کے جنات کی وفد کی صورت میں آمد، ہڈیوں اور گوبر کی مافوق الفطرت تبدیلیوں اور عصری دور میں ان اشیاء کو کاروباری برکت کے لیے استعمال کرنے والے نظریات کا شرعی و علمی محاکمہ پیش کیا جائے گا۔

جنات کی حقیقت اور ان کے زندگی کے تقاضے

جنات اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق ہیں جو انسانوں کی طرح صاحبِ عقل، صاحبِ ارادہ اور احکاماتِ شرعیہ کی مکلف ہیں 9۔ قرآنِ کریم کی متعدد آیات اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ ان کی تخلیق انسانوں سے پہلے آگ کے شعلے سے ہوئی 11۔ چونکہ وہ مادی آنکھوں سے نظر نہیں آتے، اس لیے ان کی زندگی کے بارے میں تمام تر معلومات وحی (قرآن و سنت) پر منحصر ہیں 13۔

جنات کی زندگی کے بارے میں دستیاب معلومات درج ذیل جدول میں پیش کی گئی ہیں:

پہلوتفصیلحوالہ
تخلیقی مادہآگ کا بے دھواں شعلہ (مارج من نار)11
زندگی کے مراحلولادت، نکاح، نسل کی افزائش، موت اور بعثت8
اقساماڑنے والے، زمین پر چلنے والے (سانپ، کتے کی شکل)، اور آنے جانے والے15
مذہبی حالتمسلمان، کافر (شیاطین)، فاسق اور مختلف طبقات10
عمرانسانوں سے کہیں زیادہ (1000 سے 1500 سال تک)9

۔۔۔

جنات کے بارے میں یہ سمجھنا کہ وہ محض روحیں ہیں، ایک علمی مغالطہ ہے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ وہ کھاتے بھی ہیں اور پیتے بھی ہیں 8۔ یہاں تک کہ شیطان کے بارے میں بھی حکم ہے کہ وہ بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے، لہٰذا انسانوں کو دائیں ہاتھ کے استعمال کی تاکید کی گئی تاکہ ان کی مشابہت سے بچا جا سکے 8۔

اصطلاحی بحث: تحفہ یا زادِ راہ؟

سائل نے ‘تحفہ’ کا لفظ استعمال کیا ہے، مگر احادیث میں اس کے لیے ‘زاد’ (زادِ راہ/توشہ) یا ‘طعام’ (خوراک) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں 3۔ تحفہ عام طور پر کسی خوشی کے موقع پر دی جانے والی چیز کو کہا جاتا ہے، جبکہ یہاں معاملہ ایک قوم کی بقا اور ان کے حلال رزق کی ضمانت کا تھا۔ جب جنات نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا، تو انہوں نے اپنی قوم کے لیے ایسی خوراک کی درخواست کی جو ان کے لیے حلال ہو اور شیاطین کی دسترس سے محفوظ رہے 3۔

حضور ﷺ کا ان اشیاء کو ان کے لیے متعین کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ضیافت اور ایک دائمی رزق کا انتظام تھا 5۔ اسے ‘نبوی عطیہ’ تو کہا جا سکتا ہے، مگر اس کی نوعیت عام انسانی تحفوں سے مختلف ہے کیونکہ اس میں مادی اشیاء کی ایسی کایا پلٹ (Transformation) شامل ہے جو صرف معجزاتی طور پر ممکن ہے 6۔

تاریخی پس منظر: لیلۃ الجن اور نصیبین کے جنات

جنات کے ساتھ حضور ﷺ کی ملاقاتوں کے دو بڑے واقعات سیرت کی کتابوں اور کتبِ احادیث میں محفوظ ہیں، جن میں نصیبین کے جنات کا تذکرہ خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔

لیلۃ الجن (جنات کی رات)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مکہ میں ایک رات حضور ﷺ اچانک غائب ہو گئے۔ صحابہ کرام نے پوری رات انتہائی اضطراب اور پریشانی میں گزاری، یہاں تک کہ پہاڑوں اور وادیوں میں آپ ﷺ کو تلاش کیا گیا، مگر کوئی سراغ نہ ملا 3۔ صحابہ کا خیال تھا کہ شاید آپ ﷺ کو کسی دشمن نے شہید کر دیا ہے یا جنات اغوا کر کے لے گئے ہیں۔ صبح کے وقت آپ ﷺ ‘حرا’ کی جانب سے تشریف لاتے ہوئے دکھائی دیے 3۔

آپ ﷺ نے تفصیل بتائی کہ “جنات کا ایک بلانے والا میرے پاس آیا، میں اس کے ساتھ گیا اور انہیں قرآن سنایا” 3۔ اس کے بعد آپ ﷺ صحابہ کو اس مقام پر لے گئے جہاں یہ ملاقات ہوئی تھی اور انہیں وہاں جنات کے نشانات اور ان کی آگ کے اثرات دکھائے 3۔ اسی ملاقات میں جنات نے اپنے زادِ راہ (خوراک) کے بارے میں سوال کیا تھا 3۔

نصیبین کا وفد اور وادی نخلہ

دوسرا واقعہ وادی نخلہ کا ہے، جو مکہ اور طائف کے درمیان واقع ہے۔ جب حضور ﷺ طائف کے مشکل سفر سے واپسی پر یہاں نمازِ فجر ادا فرما رہے تھے، تو نصیبین سے تعلق رکھنے والے جنات کا ایک گروہ وہاں سے گزرا 23۔ یہ جنات آسمان کی خبریں بند ہونے کی وجہ تلاش کر رہے تھے اور جب انہوں نے قرآن سنا، تو پکار اٹھے کہ “یہی وہ چیز ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوئی ہے” 23۔

نصیبین کے ان جنات کے بارے میں حضور ﷺ کے الفاظ انتہائی تعریفی تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: “نعم الجن” (وہ کتنے اچھے جن تھے) 20۔ نصیبین کے مقام کے بارے میں محققین کا اختلاف ہے؛ کچھ اسے یمن میں بتاتے ہیں، جبکہ ابن حجر کے مطابق یہ شام اور عراق کے درمیان ‘الجزیرہ’ کا مشہور شہر ہے 23۔ ان جنات نے بھی اپنی خوراک کے لیے عرض کی تھی، جس پر آپ ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی 17۔

ہڈیاں: جنات کی خوراک اور تسمیہ کی اہمیت

حضور ﷺ نے جنات کو جو پہلی چیز ان کی خوراک کے طور پر دی، وہ ‘ہڈیاں’ تھیں 3۔ حدیث کے الفاظ ہیں: “تمہارے لیے ہر وہ ہڈی (خوراک) ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، جب وہ تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو وہ گوشت سے بھرپور ہوگی” 3۔

اس عمل کی مابعد الطبیعیاتی گہرائی درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:

  1. تسمیہ (بسم اللہ) کی شرط: یہ ہڈیاں صرف ان جنات کے لیے گوشت بنتی ہیں جو مومن ہیں اور جنہوں نے اللہ کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی ہڈی حاصل کی ہو 8۔ اگر انسان بسم اللہ پڑھے بغیر کھانا کھائے، تو وہ ہڈیاں مسلمان جنات کے کام نہیں آتیں، بلکہ کافر جنات اور شیاطین ان میں حصہ دار بن جاتے ہیں 8۔
  2. گوشت کا دوبارہ اگنا: یہ ایک معجزاتی عمل ہے جس میں ہڈی جو انسانی آنکھ کے سامنے خشک نظر آتی ہے، جنات کی جہت (Dimension) میں جانے کے بعد تازہ گوشت سے ڈھک جاتی ہے 6۔
  3. بھائی چارے کا تصور: آپ ﷺ نے جنات کو ‘تمہارے بھائی’ قرار دیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمِ انسانیت اور عالمِ جنات کے درمیان ایک روحانی رشتہ موجود ہے جس کا احترام کرنا انسانوں پر لازم ہے 3۔

j4 2

گوبر اور چارہ: جنات کے جانوروں کی خوراک

دوسری چیز جو حضور ﷺ نے عطا فرمائی، وہ جانوروں کا گوبر (خاص طور پر اونٹ کا گوبر) تھا 3۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “اور ہر مینگنی یا لید تمہارے جانوروں کے لیے چارہ ہے” 3۔

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں فضلے کا بھی مصرف رکھا ہے۔ وہ لید جو انسانوں کے لیے ناپاک یا ناقابلِ استعمال ہے، جنات کے جانوروں کے لیے غذائیت سے بھرپور چارے کی صورت اختیار کر لیتی ہے 5۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کائنات کی کوئی بھی چیز عبث نہیں ہے اور اللہ نے ہر مخلوق کے رزق کا الگ انتظام فرمایا ہے 5۔

کوئلہ (حمم): جنات کے لیے ایندھن اور روشنی

تیسری چیز جس کا ذکر سنن ابی داؤد کی روایت میں ملتا ہے، وہ ‘کوئلہ’ یا جلی ہوئی لکڑی ہے 4۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جنات کے وفد نے عرض کیا: “اے محمد! اپنی امت کو ہڈی، گوبر اور کوئلے سے استنجا کرنے سے منع فرما دیں، کیونکہ اللہ نے ان میں ہمارا رزق رکھا ہے” 4۔

علمائے حدیث اور فقہاء نے ‘حمم’ (کوئلہ) کی تشریح میں لکھا ہے کہ:

  • یہ جلی ہوئی لکڑی یا ہڈیوں کے باقیات ہوتے ہیں 19۔
  • جنات اسے آگ جلانے، کھانا پکانے، روشنی حاصل کرنے اور حرارت کے لیے استعمال کرتے ہیں 19۔
  • بعض شارحین کا خیال ہے کہ جس طرح ہڈی پر گوشت اگ آتا ہے، اسی طرح کوئلہ جنات کے لیے توانائی کے کسی خاص ذریعے میں تبدیل ہو جاتا ہے 19۔

فقہی احکامات: استنجا کی ممانعت اور اس کی فقہی وجوہات

حضور ﷺ نے جنات کو یہ اشیاء بطور رزق دینے کے بعد انسانوں کو سخت تاکید فرمائی کہ وہ ان چیزوں کو گندگی صاف کرنے (استنجا) کے لیے استعمال نہ کریں 6۔ یہ ممانعت فقہِ اسلامی میں ایک مستقل حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔

درج ذیل جدول میں ان اشیاء سے استنجا کی ممانعت کی وجوہات کا موازنہ پیش کیا گیا ہے:

ممنوعہ شئیممانعت کی بنیادی وجہثانوی/طبی وجہحوالہ
ہڈیجنات (ہمارے بھائیوں) کی خوراک ہےچکنی ہوتی ہے، نجاست صاف نہیں کرتی7
گوبر/لیدجنات کے جانوروں کا چارہ ہےخود نجس (رجس) ہے، پاکی حاصل نہیں ہوتی8
کوئلہجنات کا ایندھن/توشہ ہےٹوٹ جاتا ہے، جسم کو کالا اور گندہ کر دیتا ہے19

امام مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں صراحت کی ہے کہ یہ ممانعت ‘تحریمی’ ہے، یعنی ان چیزوں سے استنجا کرنا گناہ ہے کیونکہ یہ دوسروں کے رزق کو ضائع کرنے اور اسے آلودہ کرنے کے مترادف ہے 29۔ اگر انسان ان چیزوں کو گندا کر دے گا، تو جنات اسے استعمال نہیں کر سکیں گے، جو کہ ایک طرح کی حق تلفی ہے 19۔

جدید نظریات کا علمی محاسبہ: کاروباری برکت اور بخور کا دعویٰ

آج کل بعض حلقوں میں، بالخصوص سوشل میڈیا اور مخصوص یوٹیوب چینلز (جیسے ڈاکٹر محمد ابراہیم) پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جنات کو دی گئی ان اشیاء (ہڈی، گوبر، کوئلہ) کو جلا کر دکانوں میں دھونی دینے سے کاروبار میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے 31۔ اس دعوے کے مطابق، بکری کی ہڈیاں، کوئلہ اور گائے کا گوبر برابر وزن میں پیس کر بخور کے طور پر استعمال کرنا گاہکوں کو مقناطیس کی طرح کھینچتا ہے 31۔

اس نظریے کا علمی اور شرعی تجزیہ درج ذیل ہے:

1. سنتِ نبوی سے انحراف

حضور ﷺ نے ہڈی اور گوبر کو جنات کا رزق قرار دے کر اسے چھوڑ دینے اور آلودہ نہ کرنے کا حکم دیا تھا، نہ کہ اسے جمع کر کے جلانے کا 5۔ ذخیرہِ احادیث میں ایک بھی ایسی روایت موجود نہیں جس میں آپ ﷺ نے یا صحابہ کرام نے ان اشیاء کو جلا کر کاروباری فوائد حاصل کرنے کی ترغیب دی ہو 33۔

2. عقیدہ توحید اور شرک کا اندیشہ

کاروباری نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ تصور کرنا کہ ہڈیاں جلانے سے جنات گاہکوں کے ذہن بدل دیں گے، اللہ کی صفتِ خالقیت اور مسبب الاسباب ہونے میں غیر اللہ کو شریک کرنے کے مترادف ہے 13۔ جنات کے ذریعے کام کروانے کی خواہش اکثر انسان کو گمراہی اور شرک کی وادیوں میں لے جاتی ہے 33۔

3. رزق کی بے حرمتی

جس طرح انسانوں کے کھانے کو آگ میں جھونکنا فضول خرچی اور بے حرمتی ہے، اسی طرح جنات کے رزق (ہڈیوں) کو دانستہ طور پر جلا کر راکھ کر دینا بھی شرعی طور پر ناپسندیدہ ہے 19۔ جب استنجا کے ذریعے اسے آلودہ کرنا منع ہے، تو اسے جلا کر ختم کر دینا کیسے درست ہو سکتا ہے؟

4. جنات کے ساتھ ‘تعاون’ کی حقیقت

قرآنِ کریم نے انسانوں اور جنات کے ایک دوسرے سے نفع حاصل کرنے کو ‘استمتاع’ قرار دیا ہے، جو کہ قیامت کے دن شرمندگی کا باعث ہوگا 9۔ علما کے مطابق، انسان جنات کو خوراک یا عبادت کے ذریعے خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بدلے میں جنات انسان کی چھوٹی موٹی خواہشات پوری کرتے ہیں، مگر یہ تعلق ایمان کے لیے زہرِ قاتل ہے 13۔

عقیدہ توحید اور مافوق الفطرت اسباب سے اجتناب

اسلامی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ کامیابی مادی محنت اور اللہ پر توکل سے حاصل ہوتی ہے 13۔ کاروبار میں برکت کے لیے دیانتداری، ناپ تول میں بہتری اور رزقِ حلال کی شرط بنیادی ہے، نہ کہ ہڈیاں اور فضلہ جلانا 31۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ “جو شخص کسی ایسی چیز کو لازم پکڑتا ہے (جس کی شرعی اصل نہ ہو)، اسے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے” 34۔

ایسے ٹوٹکے جو ‘پراسرار کھچاؤ’ یا ‘ذہن سازی’ کے نام پر جنات کا سہارا لیتے ہیں، وہ درحقیقت جادو اور کہانت کی ایک شکل ہیں 33۔ امام احمد بن حنبل اور دیگر اکابرین نے ایسے لوگوں کے پاس جانے اور ان کے دعوؤں پر یقین کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے 33۔

جنات سے بچاؤ کے نبوی طریقے اور آداب

حضور ﷺ نے جنات کو اپنی طرف مائل کرنے کے بجائے ان کے شر سے بچنے اور ایک باعزت فاصلہ برقرار رکھنے کی تعلیم دی ہے 10۔

  1. گھروں کی صفائی: جنات گندی جگہوں، کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں اور بیت الخلاء میں رہنا پسند کرتے ہیں 10۔ گھر میں ہڈیاں اور بچا ہوا کھانا زیادہ دیر نہ رکھنا سنت کے مطابق ہے تاکہ شیاطین وہاں بسیرا نہ کریں 6۔
  2. اذکارِ مسنونہ: آیت الکرسی، سورہ اخلاص، اور معوذتین (سورہ فلق و ناس) وہ حصار ہیں جنہیں کوئی جن عبور نہیں کر سکتا 37۔
  3. کھانے کے آداب: بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرنا نہ صرف انسان کے لیے برکت کا باعث ہے، بلکہ مومن جنات کے لیے پاکیزہ رزق چھوڑنے کا ذریعہ بھی ہے 8۔
  4. بیت الخلا کے آداب: بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا پڑھنا جنات کی نظروں اور انسان کے درمیان پردہ بن جاتا ہے 10۔

حاصلِ تحقیق

سائل کے سوال کا حتمی جواب یہ ہے کہ حضور ﷺ کی طرف سے جنات کو ہڈیاں، گوبر اور کوئلہ بطور ‘زادِ راہ’ اور ‘رزق’ دینا بالکل درست اور ثابت شدہ حقیقت ہے 3۔ یہ عمل آپ ﷺ کی رحمتِ عالمین کا مظہر ہے کہ آپ ﷺ نے انسانوں کے فضلے اور بچی ہوئی چیزوں کو جنات کی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کا الٰہی انتظام فرمایا۔

تاہم، اس حقیقت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان اشیاء کو کسی قسم کے جادوئی عمل، کاروباری بخور یا جنات کو بلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ شریعت میں ان اشیاء کا واحد ذکر طہارت کے باب میں آتا ہے، جہاں ان کے استعمال سے روکا گیا ہے تاکہ جنات کی خوراک خراب نہ ہو 18۔ عصری دور کے وہ تمام طریقے جو ان اشیاء کو جلا کر برکت حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ لغو، بے اصل اور عقیدہِ توحید کے منافی ہیں 31۔

ایک مسلمان کے لیے بہترین راستہ وہی ہے جو صحابہ کرام نے اختیار کیا؛ یعنی جنات کے وجود پر ایمان رکھنا، ان کے حقوق (رزق کو خراب نہ کرنا) کا خیال رکھنا، مگر اپنی کسی بھی حاجت کے لیے صرف اور صرف اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرنا 13۔ حضور ﷺ کا حقیقی تحفہ جنات کے لیے قرآن کی ہدایت تھی، اور ہمارے لیے ان کے ساتھ معاملات میں عدل اور پاکیزگی کی تعلیم ہے۔



حوالہ جات

  1. Was the Prophet ﷺ Sent to the Jinn? Qur’anic Proof & Consensus | EN.tohed.com, accessed on January 20, 2026, https://en.tohed.com/threads/was-the-prophet-%EF%B7%BA-sent-to-the-jinn-qur%E2%80%99anic-proof-consensus.4681/
  2. When Jinns Embraced Islam – Prophet Muhammad, accessed on January 20, 2026, https://www.prophetmuhammad.com/prophet-muhammad-akhlaq/when-jinns-embraced-islam_116
  3. Sahih Muslim 450a – The Book of Prayers – كتاب الصلاة – Sunnah.com – Sayings and Teachings of Prophet Muhammad (صلى الله عليه و سلم), accessed on January 20, 2026, https://sunnah.com/muslim:450a
  4. Sunan Abi Dawud 39 – Purification (Kitab Al-Taharah) – كتاب الطهارة – Sunnah.com, accessed on January 20, 2026, https://sunnah.com/abudawud:39
  5. Hadith on Prayers: There Came To Me An Inviter On Behalf Of The Jinn And I Went Along With Him And Recited To Them The Qur’An – IslamiCity, accessed on January 20, 2026, https://www.islamicity.org/hadith/search/index.php?q=8174&sss=1
  6. Bones as food for the Jinn Performing Sujood As-Sahw in Eed prayer – إسلام ويب, accessed on January 20, 2026, https://www.islamweb.net/en/fatwa/220960/bones-as-food-for-the-jinn-performing-sujood-as-sahw-in-eed-prayer
  7. Hadith: The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) forbade making Istinjā’ (purification after answering the call of nature) with dung or bones, accessed on January 20, 2026, https://hadeethenc.com/en/browse/hadith/10045
  8. The world of the Jinn 4 (11 October 2019) – Islamic Union of Hong Kong, accessed on January 20, 2026, https://www.iuhk.org/index.php/fruits-for-the-week/933-the-world-of-the-jinn-4-11-october-2019
  9. THE MOST FREQUENTLY ASKED QUESTIONS ABOUT JINN, accessed on January 20, 2026, https://questionsonislam.com/content/most-frequently-asked-questions-about-jinn
  10. Characteristics of Jinn – Fatwa – إسلام ويب, accessed on January 20, 2026, https://www.islamweb.net/en/fatwa/83882/characteristics-of-jinn
  11. The Jinn – Muslim Converts, accessed on January 20, 2026, https://muslimconverts.com/ruqyah/jinn.htm
  12. The substance of which the jinn are created, their characteristics, the places in which they reside, and their types, accessed on January 20, 2026, https://dorar.net/en/aqadia/38
  13. Iftaa’ Department – Is it permissible to use a Muslim jinn servant for good purposes?, accessed on January 20, 2026, https://www.aliftaa.jo/research-fatwa-english/3913/-The-Ruling-of-Islamic-Law-on-Using-a-Jinn-Servant-for-Good-Purposes
  14. Understanding Jinn – Quranic Arabic For Busy People, accessed on January 20, 2026, https://www.getquranic.com/understanding-jinn/
  15. Types of Jinn – Islam Question & Answer, accessed on January 20, 2026, https://islamqa.info/en/answers/2340
  16. Hadith on Jinn: Three forms of interdimensional beings – Faith in Allah, accessed on January 20, 2026, https://www.abuaminaelias.com/dailyhadithonline/2019/12/22/three-forms-jinn/
  17. Is Bone the Food of Jinn? – EN.tohed.com – English Islamic Discussion Forum, accessed on January 20, 2026, https://en.tohed.com/threads/is-bone-the-food-of-jinn.1728/
  18. Hadith On Bones, Animal Dung And Charcoal Being Food For Jinns – Ask Ghamidi, accessed on January 20, 2026, https://ask.ghamidi.org/forums/discussion/92211/
  19. Prohibition on cleaning oneself after relieving oneself with charcoal, and what is meant by it being provision for the jinn – Islam Question & Answer, accessed on January 20, 2026, https://islamqa.info/en/answers/260015
  20. Sahih al-Bukhari 3860 – Merits of the Helpers in Madinah (Ansaar) – كتاب مناقب الأنصار, accessed on January 20, 2026, https://sunnah.com/bukhari:3860
  21. ج11: رسالة ليلة الجن – هل كان العظم والروث من طعام الجن أصلا قبل أن يدعو النبي بأن يجدوا عليه طعاما لهم – الروحانيات في الإسلام, accessed on January 20, 2026, https://www.khaledouf.com/2023/04/11.html
  22. A caller from the Jinn came to me, and I went along with him and recited the Qur’an to them – Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths, accessed on January 20, 2026, https://hadeethenc.com/en/browse/hadith/10567
  23. Prophet Muhammad’s ﷺ Meeting with the Jinn – Quranic Event, accessed on January 20, 2026, https://muhammadencyclopedia.com/article/prophet-muhammads-meeting-with-jinn
  24. Tafsir Surah Al-Jinn – 2 – Quran.com, accessed on January 20, 2026, https://quran.com/72:2/tafsirs/en-tafsir-maarif-ul-quran
  25. Abu Rayyah Rejects the Hadith: ‘Dung and Bones are the Food of the Jinn’ – Mahajjah, accessed on January 20, 2026, https://mahajjah.com/abu-rayyah-rejects-the-hadith-dung-and-bones-are-the-food-of-the-jinn/
  26. العظام طعام الجن – موقع الإمام المهدي ناصر محمد اليماني, accessed on January 20, 2026, https://nasser-alyamani.org/showthread.php?t=45694
  27. علة النهي عن الاستنجاء بالعظم والروث – إسلام ويب, accessed on January 20, 2026, https://www.islamweb.net/ar/fatwa/66021/%D8%B9%D9%84%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D9%86%D9%87%D9%8A-%D8%B9%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A1-%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B8%D9%85-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%B1%D9%88%D8%AB
  28. صالح الفوزان : ما سبب النهي عن الاستنجاء بالعظام ؟ – YouTube, accessed on January 20, 2026,

 

  1. هل يؤذي الجنُّ الإنسَ إذا استنجوا بالعظم أو ألقوا النجاسات عليه – إسلام ويب, accessed on January 20, 2026, https://www.islamweb.net/ar/fatwa/368725/%D9%87%D9%84-%D9%8A%D8%A4%D8%B0%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%86%D9%91%D9%8F-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D9%86%D8%B3%D9%8E-%D8%A5%D8%B0%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%86%D8%AC%D9%88%D8%A7-%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B8%D9%85-%D8%A3%D9%88-%D8%A3%D9%84%D9%82%D9%88%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA-%D8%B9%D9%84%D9%8A%D9%87
  2. 110 – لماذا يحرم الاستجمار بالروث والعظام؟ – عثمان الخميس – YouTube, accessed on January 20, 2026,

 

  1. Jinnat Se Dosti Aur Business Mein Izafa | Befriend Jinnat | Dr. Ibrahim – YouTube, accessed on January 20, 2026,

  1. تمام جنات کا کھانا ہڈیاں اور گوبر ہے؟ – العلماء, accessed on January 20, 2026, https://alulama.org/tamam-jinnat-ka-khana-hadyan-aur-gobar-hai/
  2. Using Jinn for useful purposes – Fatwa – إسلام ويب, accessed on January 20, 2026, https://www.islamweb.net/en/fatwa/85875/using-jinn-for-useful-purposes
  3. Interacting With Jinn – Islam Question & Answer, accessed on January 20, 2026, https://islamqa.info/en/answers/6846
  4. (PDF) VERDICT OF SEEKING HELP FORM JINN – ResearchGate, accessed on January 20, 2026, https://www.researchgate.net/publication/369345648_VERDICT_OF_SEEKING_HELP_FORM_JINN
  5. Nine Forbidden Items for Istinjāʼ According to Hadith | EN.tohed.com, accessed on January 20, 2026, https://en.tohed.com/threads/nine-forbidden-items-for-istinj%C4%81%CA%BC-according-to-hadith.6963/
  6. What are some possible reasons for Jinn to enter humans? – Quora, accessed on January 20, 2026, https://www.quora.com/What-are-some-possible-reasons-for-Jinn-to-enter-humans
  7. العظام من طعام الجن – إسلام ويب, accessed on January 20, 2026, https://www.islamweb.net/ar/fatwa/104113/%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B8%D8%A7%D9%85-%D9%85%D9%86-%D8%B7%D8%B9%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%86
  8. Hadith from Specific Book about jinn, accessed on January 20, 2026, https://ahadith.co.uk/hadithsearchfilter.php?id=11&q=jinn


Dr. Ibrahim EXPOSED: Satanic Rituals for Business Success? The Truth About Jinn Bakhur & Dung Incense
#DrIbrahimExposed #BusinessBarkat #Jinnat #IslamicResearch #SatanicRituals #SunnahVsBidah #JinnProvision #DungIncense #UrduBayan

Related posts

Leave a Reply