مدارس کے اکابرین متوجہ ہوں

مدارس کے اکابرین متوجہ ہوں

مکتوب بنام: سیاسی و مذہبی قیادت اور پارلیمنٹیرینز

بخدمت مولانا فضل الرحمان صاحب /حافظ نعیم الرحمن صاحب، اور جملہ معزز ممبرانِ پارلیمنٹ

موضوع: مجوزہ طبی ایکٹ میں “طبِ اسلامی” کے تحفظ اور فضلاءِ مدارس کی حق تلفی کے حوالے سے فوری مداخلت کی اپیل

محترم جناب!

امید ہے کہ آپ وطنِ عزیز میں اسلامی اقدار کی سربلندی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہوں گے۔

اس مکتوب کے ذریعے میں آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم اور حساس معاملے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو براہِ راست ہماری اسلامی و روایتی وراثت، یعنی طبِ اسلامی (طبِ یونانی) سے وابستہ ہے۔ حکومتِ پاکستان اس وقت طبی نظام کے حوالے سے ایک نیا ایکٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مسودہ تیار ہو چکا ہے۔

بنیادی مسئلہ اور تحفظات

 تاریخی طور پر طبِ یونانی کے ماہرین اور حکماء وہی لوگ ہوتے تھے جو علومِ دینیہ کے ماہر یعنی علماءِ کرام ہوتے تھے۔ تاہم، گزشتہ چند دہائیوں سے ایسی قانون سازی کی گئی جس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت علماء کے لیے اس شعبے کے دروازے بند کر دیے۔ موجودہ قانون میں میٹرک سائنس کی شرط ہے، جسے اب نئے ایکٹ میں مزید سخت کر کے “بی ایس سی” کیا جا رہا ہے۔

منطقی تضاد اور امتیازی سلوک

 ایک طالب علم جو میٹرک کے بعد 10 سے 12 سال دینی تعلیم حاصل کرتا ہے اور ایف اے، بی اے، ایم اے (شہادۃ العالمیہ) اور ایم فل تک کی اسناد حاصل کر لیتا ہے، اسے محض “میٹرک سائنس” نہ ہونے کی بنیاد پر طبیہ کالج میں داخلے سے روک دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک 16 سالہ بچہ جس نے ابھی میٹرک سائنس پاس کی ہو، وہ اہل قرار پاتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک تعلیمی تضاد ہے بلکہ ان لاکھوں فضلاءِ مدارس کی حق تلفی ہے جو اس فن کو بہتر طور پر سیکھ کر انسانیت کی خدمت کر سکتے ہیں۔

میری  گزارشات:

چونکہ آپ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں ہماری آواز ہیں، لہٰذا آپ سے پرزور مطالبہ ہے کہ:

  1. اس مجوزہ ایکٹ کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے سے پہلے اس کے تمام نکات کا جائزہ لیا جائے اور اس میں “دورہ حدیث” (شہادۃ العالمیہ) کی سند کو طبیہ کالجز میں داخلے کے لیے بطورِ اہلیت شامل کروایا جائے۔
  2. حکومت پر واضح کیا جائے کہ فاضلِ درسِ نظامی کو بھی اسی طرح طبیہ کالج میں داخلے کا حق دیا جائے جیسے 16 سالہ میٹرک پاس بچے کو دیا جاتا ہے۔
  3. یہ مطالبہ رکھا جائے کہ جس طرح ایم اے اسلامیات یا عربی کے لیے دورہ حدیث کی سند قبول کی جاتی ہے، اسی طرح طب اسلامی، طب یونانی، طب پاکستانی، آیورویدک کے شعبے میں بھی فاضلِ درسِ نظامی کو داخلے کا حق دیا جائے تاکہ وہ باقاعدہ حکیم بن کر انسانیت کی خدمت کر سکیں۔
  4. اگر یہ ایکٹ اپنی موجودہ شکل میں پاس ہو گیا تو مستقبل میں طبِ اسلامی پر علماء کے لیے راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔

آپ کی ایک کوشش اس قدیم اسلامی ورثے کو جدید قانونی جبر سے بچا سکتی ہے۔

مخلص،

حکیم سید عبدالوہاب شاہ اسلام آباد





مکتوب بنام: ذمہ دارانِ وفاق المدارس و اتحاد تنظیماتِ مدارسِ پاکستان

بخدمت جناب صدور و ناظمینِ اعلیٰ، وفاق المدارس العربیہ، تنظیم المدارس اہل سنت، وفاق المدارس السلفیہ، رابطہ المدارس الاسلامیہ، اور وفاق المدارس الشیعہ۔

موضوع: طبِ اسلامی (طبِ یونانی) کے تحفظ اور فضلاءِ مدارس کے حقِ داخلہ کے حوالے سے فوری توجہ کی درخواست

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

امید ہے کہ آپ حضرات خیر و عافیت سے ہوں گے اور دینِ متین کی سربلندی کے لیے مصروفِ عمل ہوں گے۔

اس مکتوب کے ذریعے میں آپ کی توجہ ایک ایسے اہم قانونی مسئلے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو ہمارے روایتی تعلیمی نظام اور اسلامی ورثے (طبِ یونانی) کے مستقبل سے جڑا ہے۔ اس وقت حکومتِ پاکستان ہمارے روایتی طبی نظام کے ایکٹ اور طبِ یونانی و ہومیوپیتھک کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک مجوزہ مسودہ (TCAM) تیار ہو چکا ہے اور مشاورت کا عمل جاری ہے، جسے عنقریب پارلیمنٹ سے پاس کروا کر نافذ کر دیا جائے گا۔

پسِ منظر اور موجودہ رکاوٹیں:

تاریخی طور پر طبِ اسلامی یا طبِ یونانی کے ماہرین (حکماء) عام طور پر علماءِ کرام ہی ہوتے تھے، کیونکہ طب اور دین کا گہرا تعلق رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں ایسی قانون سازی کی گئی جس نے علماء کے لیے اس فن میں داخلے کے دروازے بند کر دیے۔ خاص طور پر “میٹرک سائنس” کی شرط عائد کر کے ایک عجیب صورتحال پیدا کر دی گئی۔

ایک منطقی تضاد:

 کسی بھی تعلیمی شرط کا مقصد اہلیت کا تعین ہوتا ہے۔ اگر ایک طالب علم نے میٹرک سائنس سے نہیں کیا، لیکن اس کے بعد اس نے 16 سالہ تعلیم مکمل کر لی (ایف اے، بی اے، ایم اے، ایم فل یا پی ایچ ڈی)، تو موجودہ قانون کی رو سے وہ طبیہ کالج میں داخلے کا اہل نہیں رہتا، جبکہ ایک 16 سالہ بچہ جس نے ابھی میٹرک سائنس کیا ہے، وہ اہل قرار پاتا ہے۔ اب نئے ایکٹ میں اس شرط کو مزید بڑھا کر “بی ایس سی” کیا جا رہا ہے، جو کہ معیار کے لحاظ سے خوش آئند ہے، مگر فضلاءِ مدارس کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا۔

اکابرینِ مدارس سے گزارش و تجاویز:

موجودہ مجوزہ ایکٹ میں تبدیلی کی گنجائش ابھی باقی ہے۔ اگر یہ ایکٹ موجودہ شکل میں پارلیمنٹ سے پاس ہو گیا تو بعد میں تبدیلی ناممکن حد تک مشکل ہو جائے گی۔ لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ:

  1. حکومتِ وقت اور متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کر کے “دورہ حدیث” (شہادۃ العالمیہ) کی سند کو طبیہ کالجوں میں داخلے کے لیے بطورِ اہلیت قبول کروایا جائے۔
  2. یہ مطالبہ رکھا جائے کہ جس طرح ایم اے اسلامیات یا عربی کے لیے دورہ حدیث کی سند قبول کی جاتی ہے، اسی طرح طب اسلامی، طب یونانی، طب پاکستانی، آیورویدک کے شعبے میں بھی فاضلِ درسِ نظامی کو داخلے کا حق دیا جائے تاکہ وہ باقاعدہ حکیم بن کر انسانیت کی خدمت کر سکیں۔
  3. پارلیمنٹ میں بل پیش ہونے سے پہلے اکابرینِ حکومت اور وزارتِ صحت کے حکام سے ملاقات کر کے اس نکتہ پر زور دیا جائے کہ اسلامی طب پر پہلا حق ان کا ہے جنہوں نے اس زبان اور ورثے کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔

امید ہے کہ آپ اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اسے اتحاد تنظیماتِ مدارس کے ایجنڈے میں شامل فرمائیں گے تاکہ ہمارے تعلیمی نظام سے وابستہ نوجوانوں کے لیے ایک بند راستہ کھل سکے۔

فقط والسلام،

سید عبدالوہاب شاہ اسلام آباد

Related posts

Leave a Reply