ہم پاکستانی ڈیجیٹل فیلڈ میں ناکام کیوں ہیں؟؟؟

0
139
حامد حسن
حامد حسن
کیا آپ جانتے ہیں بنگلہ دیش اور انڈین فری لانسرز دنیا بھر میں ٹاپ ریٹیڈ فری لانسر اورسروس پروائڈرز میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔
بنگلہ دیش موسٹ کریٹیو اینڈپروفیشنل گرافکس ڈیزائنرز کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں اپنا نام بنا رہا ہے۔۔۔
کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں گرافکس ڈیزائننگ یا کوئی بھی ایک سکل کو سیکھنے کی کم سے کم مدت کتنی رکھی جاتی ہے؟ 120 دن۔۔۔ چار ماہ ایک ہی سکل پر محنت اور شوق سے لگائے جائیں بھرپور پریکٹس کی جائے تو اس فیلڈ میں پروفیشنل لیول کی مہارت آجاتی ہے۔۔۔
وہاں کے انسٹیٹیوٹس اور مینٹورز بھی ایمانداری سے کوئی بھی سکل محنت اور شوق سے پروفیشنل لیول پر سکھاتے ہیں۔۔۔
____________________
لیکن ہم پاکستانیوں کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہم لوگ چند دن کسی سوفٹ ویئر یا پروگرام کے چند ٹولزاور مینو سیکھ کر دو چاردن اس سوفٹ ویئر میں انگلیاں مار کر خود کو اس سکل کا ماہر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔
اپنے نام کے ساتھ پروفیشنل لکھنا شروع کر دیتے ہیں جب کہ ہمیں علم ہی نہیں ہوتا کہ پروفیشنل کس چڑیا کا نام ہے۔۔۔
ایسے لوگ جو ڈیجیٹل فیلڈ میں انٹری تو مار لیتے ہیں مگر ان کو آگے کا راستہ سمجھانے والا کوئی نہیں ہوتا کہ آگے کرنا کیا ہے۔۔۔
دس دس سکلز میں انگلیاں مار کر وقت برباد کر کے پھر کہتے ہیں کہ کام نہیں ملتا۔۔۔
آن لائن فیلڈ میں انتہاء کا کمپٹیشن ہے ایک سے بڑھ کر ایک پروفیشنل بندے مارکیٹ میں موجود ہیں۔۔۔
جو لوگ پروفیشنل تھے لو پرائس ریٹ کی وجہ سے ان کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔
پاکستانی اپنے آپ کو پروفیشنل ظاہر تو کرتے ہیں مگر جب کوئی کلائنٹ ان پر لو پرائس کی وجہ سے اعتماد کر کے کام دیتا ہے تو پھر عمر بھر کے لئے توبہ کر لیتا ہے کیوں کہ آن لائن فیلڈ میں ہم اپنے ملک کو بھی ریپزینٹ کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔
فری لانسنگ اور آن لائن فیلڈ میں ملٹی سکلز والے بندے سے کلائنٹس کام لیتے ہیں نہیں کیوں کہ ایسے بندے کو جس کے نام کے ساتھ ایک دو سے زیادہ سکلز لکھی ہوں تو کلائنٹ بھی یہی سوال کرتا ہے کہ بھائی آپ ماہر کس سکل میں ہیں۔۔۔
بھائی آن لائن یا آف لائن مارکیٹ میں جن کلائنٹس نے کام کروانا ہوتا ہے وہ جب اچھا چارج کر رہے ہیں تو ظاہر ہے ان کو کام بھی اسی لیول کا چاہئے نا۔۔۔
____________________
یاد رکھیں۔۔۔ فری لانسنگ اور آن لائن سروس فیلڈ میں ملٹی سکلز والے بندے پر کبھی اعتماد اور بھروسہ نہیں کیا جاتا کیوں کہ ایک انسان کسی ایک یا دو فیلڈ میں ہی ماہر تجربہ کار اور کریٹیو پروفیشنل ہوسکتا ہے نا کہ دس دس سکل نام کے ساتھ لکھنے سے۔۔۔
ہم لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمیں بہت کچھ آتا ہے ہر سکل میں ماہر ہیں اپنے نام کے ساتھ دس دس سکلز لکھ لیتے ہیں یہ تھیوری شائد پاکستان میں چل بھی جائے لوگ متاثر ہوجائیں مگر آن لائن فیلڈ میں فارن کلائنٹس ایسے بندے کو جس کے نام کے ساتھ ایک دو سے زیادہ سکلز لکھی ہوں ان کو اگنور کر دیتے ہیں۔۔۔
____________________
اس لئے میری گزارش ہے کہ۔۔۔
کوئی بھی ایک سکل پروفیشنل لیول پر سیکھ لیں اس میں بھرپور مہارت حاصل کر لیں، اسی سکل میں زیادہ سے زیادہ پریکٹس کریں، کریٹیویٹی لائیں، ان شاء اللہ گارنٹی کے ساتھ کام ملے گا اور بے تحاشہ ملے گا۔۔۔
انسٹیٹیوٹس اور مینٹوز حضرات سے بھی گزارش ہے کہ پلیز آپ خود پہلے کوئی بھی ایک سکل پروفیشنل لیول پر ٹرینڈنگ برینڈنگ کے ساتھ سیکھ لیں، اسی سکل میں بھرپور مہارت حاصل کر کے اسی سکل کو پروفیشنل لیول پر اپنے سٹوڈنٹس کو سکھائیں تاکہ سٹوڈنٹس کا پیسہ اور وقت برباد نہ ہو۔۔۔
غریب سٹوڈنٹس پتہ نہیں کتنی مشکلات سے فیسیں ادا کرتے ہیں، قرض ادھار لے کر آپ کو فیسیں دیتے ہیں کہ کچھ سکل کر اس سے کمائیں گے مگر ان کو کیا علم ہوتا ہے کہ سکھانے والے خود ہی پروفیشنل نہیں تو ہمیں کیا خاک سکھائیں گے۔۔۔
یوٹیوب اور دوسرے فری سورسز سے سیکھ کر آگے سکھانا شروع کردیتے ہیں، بڑے بڑے دعوے اور سنہرے خوابوں سے مزین اشتہارات دیکھ کر سٹوڈنٹس ان سے متاثر ہوکر فیسیں بھی بھرتے ہیں وقت بھی لگاتے ہیں مگر یہ ٹیچرز حضرات ٹولز اور مینو کا کورس بنا کر چند دن بعد ان کو فارغ کر دیتے ہیں۔۔۔
بچارے ایسے سٹوڈنٹس بار بار کورسز کرتے ہیں کہ شائد اب کچھ سیکھنے کو مل جائے۔۔۔
ایسے تمام سٹودنٹس سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ آپ جو کورس کریں جو سکل سیکھنا چاہیں پہلے اس کورس کی مکمل معلومات لیں، سکھانے والے کا اپنا کام چیک کریں کہ یہ خود اس سکل کو کس لیول پر جانتا ہے۔۔۔
سکھانے والا اس سکل میں کتنا ماہر پروفیشنل اور کریٹیو ہے۔۔۔
اس کے بعد تسلی اور اطمینان سے کورس کریں تاکہ آپ کا وقت اور پیسہ ضائع نہ ہو۔۔۔

Leave a Reply