قسط نمبر14 سایہ، آسیب اور ہسٹیریا

آسیب دراصل فارسی کا لفظ ہے، جس کا اصل معنی صدمہ، تکلیف اور مصیبت ہے۔ آسیب کامطلب عام طورپریہ سمجھا جاتا ہے کہ آسیب زدہ کوجن (مومن یافاسق فاجر یاکافر)لگ گیا ہے۔اور اسی کے تصرف سے آسیب زدہ کے حرکات وسکنات ، افعال واقوال میں خلل پڑ گیا ہے۔آسیب زدگی کی شکایت زیادہ ترعورتوں میں دیکھی جاتی ہے ، لیکن ان میں سے اکثر واقع اور حقیقت میں آسیب زدگی نہیں، بلکہ اختناق یعنی ” ہسٹیریا ،، میں متلا ہوتی ہیں، یا پھر کسی ذاتی غرض اور مقصد کی خاطرجان بوجھ کر آسیب زدہ بن جاتی ہیں۔

نکتہ
نکتہ

 ہسڑیا (اختناق الرحم باوگولہ)

بات کی مناسبت سے تھوڑی سی بات ہسٹیریا کے بارے کر لیتے ہیں، تاکہ تشخیص کرنے میں آسانی ہو۔ یہ ایک مشہور عصبی مرض ہے جوکہ نظام عصبی کے افعال کے فتور سے واقع ہوتا ہے اس سے جسمانی افعال میں فرق آجاتا ہے. اس کو عقلی مرض کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ یہ کیفیت امراض رحم(حیض کا بند ہونااور رحم ٹل جانا)کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس کیفیت میں مریضہ اپنا سانس گھٹتے ہوئے محسوس کرتی ہے اس کا دورانیہ 12سال سے 40سال تک کی عمر میں ہوا کرتا ہے۔

اسباب:

1۔ حیض کا تکلیف سے کم و بیش آنا یا بعض حالتوں میں بند ہو جانا۔

2۔ نفسانی اور شہوانی خواہشات کا غلبہ۔

3۔ عشقیہ افسانوں اور کتب کا مطالعہ۔ عشق محبت میں ناکامی اور کسی قسم کی بدنامی۔

4۔ دائمی قبض نفخ شکم، رنج و غم، فکروتردد، غصہ و خوف وغیرہ اس کے بنیادی اسباب ہیں۔

اقسام:

اس کی دو اقسام ہیں: 1۔خفیف باوںگولہ اس کو مائنر ہسڑیا کہتے ہیں۔ 2۔ شدید باوں گولہ اس کو میجر ہسڑیا کہتے ہیں۔خفیف ہسٹیریا میں مریضہ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیٹ میں ایک گولہ سا  اٹھ کر اوپر جا کر گلے میں اٹک گیا ہے۔ اس کو نگلنے کی کوشش میں اس کا گلا گھٹنے لگتا ہے۔ یہ تکلیف جلد ہی دور ہو جاتی ہے۔ مریضہ کو ہلکا سا سر میں درد اور گردن میں سختی محسوس ہوتی ہے، ڈکار آتے ہیں اور پیٹ پھول جاتا ہے،دل دھڑکتا ہے ، پیشاب بکثرت آتا ہے اور گھبراہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ شدید ہسٹیریا میں مذکورہ علامات کے ساتھ مریض کو ہنسنے یا رونے کا دورہ لاحق ہو جاتا ہے اور وہ نیم بے ہوش ہو جاتا ہے۔ ساتھ میں ہذیان بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا شخص نا پختہ ذہن، جذباتی اور متلوّن مزاج ہو جاتا ہے اور ہر وقت ذاتی انا میں گِھرا رہتا ہے۔ یہ اکثر جوڑوں کے درد کی بھی شکایت کرتا ہے، آس پاس کی باتیں سنتا ہے مگر ان پر عمل کرنے سے قاصر ہوتا ہے کیونکہ اس وقت شعور کے بجائے اس کے ذہن پر لا شعور کا قبضہ ہوتا ہے۔ یہ مرض موروثی بھی ہے۔ اس مرض میں بارہ سے چالیس سال کی عورتیں زیادہ مبتلا ہوا کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قسط نمبر13: اولاد کی بندش   قسط نمبر12: استخارہ اور رشتہ کی بندش   قسط نمبر11: کاروبار رزق کی بندش

علاج:

اول قسم کا علاج: حلتیت 40گرام، نمک سنگ 10گرام،نمک دریاء10گرام، سونٹھ 10گرام،فلفل دراز 10گرام،نمک سونچل 10گرام تمام کا سفوف کرکے کاغذی لیموں کے جوس نصف لٹر میں شامل کرکے خشک کریں اور باریک پاوڈر بنالیں۔ایک گرام دن میں دو ٹائم تازہ پانی کے ساتھ استعمال کریں-

قسم دوئم کا علاج: مصطگی رومی 20گرام، جدوارخطاء5گرام،شورہ قلمی، جندبیدستر، عودصلیب، عقرقرحا، سب 5،5 گرام مشک خالص 1 گرام سفوف کرکے شیرہ منقی میں گوندھ کر گولیاں چنے برابر بنالیں۔ ایک گولی دن میں تین بار پانی کے ساتھ استعمال کریں۔ (نوٹ) کوئی بھی دوا ڈاکٹر یا حکیم سے مشورہ کے بعد استعمال کریں۔

غورطلب بات

جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ آسیب زدگی کی زیادہ تر شکایات عورتوں کے بارے آتی رہتی ہیں، اور جب کسی عورت کے ساتھ اس طرح کا معاملہ ہوتا ہے یعنی اس کی سانس گھٹتی ہوئی معلوم ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ کوئی گلے کو دبا رہا ہے اور دورہ پڑ گیا ہے۔ پہلے تو گھر والے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتے ہیں، چونکہ عام ڈاکٹر جو گلی محلوں میں دکان کھول کر بیٹھے ہیں، ان کا علم صرف میڈیکل ریپ کے لیکچر کا محتاج ہوتا ہے اس لیے یہ معاملہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا جبکہ بڑے ڈاکٹروں تک ہر کسی کی پہنچ نہیں ہوتی تو پھر لوگ یہ کہتے ہیں ہم نے بہت علاج کرایا لیکن مریضہ ٹھیک نہیں ہوئی چنانچہ اب عاملوں کے پاس جانا شروع کردیتے ہیں۔عامل مریض کی علامات سنتے ہی کہہ دیتے ہیں اس پر باہر کی مخلوق کا سایہ ہے۔ اب یہ ایسا جملہ ہے جو کسی آلے میں نا تو ناپا جاسکتا ہے اور نا ہی تولہ یا دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد عملیات اور تعویذات کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں۔

عورتوں کو ہسٹیریا ہونے کی بڑی وجہ

جیسا کہ عرض کیا زیادہ تر عورتوں کو ہسٹیریا ہوتا ہے بہت کم عورتوں کو واقعی جنات کا مسئلہ ہوتا ہے۔ لہذا علاج کرتے ہوئے بھی پہلے ہسٹیریا کے اسباب کو تلاش کرکے دور کرنا چاہیے۔ عورتوں کو ہسٹیریا ہونے کے اسباب پیچھے بیان ہوئے ہیں، ان میں سے دو اسباب ایسے ہیں جو سب سے زیادہ عورتوں کو ہسٹیریا کا شکار بناتے ہیں: ایک شادی میں دیر کرنا، اور دوسرا کوئی صدمہ وغیرہ۔ جب والدین اپنی بچی کے رشتے میں باربار انکار کرتے ہیں، اور پھر بائیس تئیس سال کی عمر کے بعد رشتے ملنا بند ہو جاتے ہیں ، اور عورت بھی انسان ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے بھی جذبات رکھے ہیں اس لیے وہ یا تو غلبہ شہوت کی وجہ سے ہسٹیریا کا شکار ہو جاتی ہے اور یا صدمے اور ٹینشن کی وجہ سے۔ ظاہر ہے مرد تو اپنی بات زور سے یا کسی پر دباو ڈال کر مارپٹائی کرکے منوا لیتے ہیں یا گھر سے احتجاجا بھاگ بھی جاتے ہیں۔ لیکن عورت کمزور ذات ہے نہ تو وہ کسی پر دباو ڈال سکتی ہے اور نہ گھر سے بھاگ سکتی ہے، اس لیے ان تمام پریشانیوں کے دباو کی وجہ سے ہسٹیریا کا شکار ہو جاتی ہے اور اسے دورے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں اس پر باہر کی مخلوق کا سایہ ہے حالانکہ یہ گھر کے اندر کی مخلوق کا سایہ ہوتا ہے جو اس کی شادی میں رکاوٹ بنے ہوتے ہیں، جس سے فطری جذبات بھی مجروح ہوتے ہیں اور رحم میں بھی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یاد رکھیں یہ معاملہ صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ جانوروں کو بھی اگر ان کا ساتھی نہ ملے تو پاگل ہو جاتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں اسلام آباد کے چڑیا گھر کے ہاتھی کاوان کو کمبوڈیا منتقل کردیا گیا کیونکہ اسے زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور زنجیروں میں جکڑنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ پاگلوں والی حرکتیں کرتا اور حملہ آور ہوتا تھا، اس کی ایسی حرکتوں کی وجہ یہ تھی کہ اس کو مادہ ہاتھی سے کئی سالوں تک دور رکھا گیا جس سے وہ گویا کہ ہسٹیریا کا شکار ہوگیا۔

آسیب زدگی

دوسری چیز واقعی جنات کا تنگ کرنا بھی ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات جنات کسی مرد یا عورت کو تنگ کرنا شروع کردیتے ہیں۔اس بات کا ثبوت ہمیں احادیث سے بھی ملتا ہے۔

1۔عن عطاء بن رباح قال : قال ابن عباس رضی اللہ عنہ الا اریک امراة من اھل الجنة، قلت بلی، قال ہذہ المراة السوداءاتت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقالت: انی اصرع وانی اتکشف فادع اللہ لی، قال: ان شئت صبرت ولک الجنة، وان شئت دعوت اللہ ان یعافیک۔ فقالت: اصبر، فقالت انی اتکشف فادع اللہ لی ان لا اتکشف، فدعالھا۔(متفق علیہ)

ترجمانی: عطاءبن رباح کہتے ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاوں؟ میں کہا ضرور دکھائیں، فرمایا یہ کالی عورت ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علی وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی میں آسیب زدگی کا شکار ہوں اور جب دورہ پڑتا ہے تو میں ننگی ہو جاتی ہوں،آپ میرے لیے دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نہ تو دھونی دی، نہ تعویذ دیا، نہ گرہیں لگاکر دھاگے دیے، نہ ہانڈیاں جلائیں، نہ چار قسم کی دالیں منگوائیں، نہ کالابکرا منگوایا، نہ کستوری اور زعفران مانگا، نہ عجیب و غریب نقش بناکر دیے، بلکہ ) فرمایا اگر تو اس پریشانی پر صبر کرے تو تیرے لیے جنت ہے اور اگر کہتی ہے تو میں دعا بھی کردیتا ہوں۔ وہ عورت کہنے لگی میں(جنت کے حصول کے لیے) صبر کروں گی، البتہ یہ جو دورہ پڑنے پر میرا ستر ننگا ہو جاتا ہے اس کے لیے دعا فرما لیں کہ میں ننگی نہ ہو جایا کروں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔

اس حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنات وشیاطین واقعی انسانوں پر سوار ہوتے اور تنگ کرتے ہیں تو دوسری طرف یہی حدیث ایسے مسائل کا شکار لوگوں کی رہنمائی بھی کرتی ہے کہ ان کو کیا کرنا چاہیے۔تیسرا سبق اس حدیث سے عملیات کا کام کرنے والے علماءکے لیے بھی ہے کہ وہ اپنے پاس آنے والے ،کو مزید ڈرا دھمکا کراور بلند وبالا دعوے کرکے اسے لوٹنے کے بجائے آخرت اور جنت کی تبلیغ کریں اور اسے صبر اور حوصلہ اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔

2۔عن یعلی بن مرة رضی اللہ عنہ قال: رایت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثلاثا ما رآہا احد قبلی، ولا یراہا احد بعدی، لقد خرجت معہ فی سفر حتی ا کنا ببعض الطریق مررنا بامراة جالسة معہا صبی لہا، فقالت یا رسول اللہ: ہذا الصبی اصابہ بلاءواصابنا منہ بلائ، یخذ فی الیوم لا ادری کم مرة، قال: (ناولینیہ)، فرفعتہ یہ، فجعلہ بینہ وبین واسطة الرحل، ثم فغر (فاہ)، فنفث فیہ ثلاثا، وقال: (بسم اللہ، انا عبداللہ، اخسا عدو اللہ)، ثم ناولہا یاہ، فقال: (القینا فی الرجعة فی ہذا المکان، فاخبرینا ما فعل)، قال: فذہبنا ورجعنا فوجدناہا فی ذلک المکان معہا ثلاث شیاة، فقال (ما فعل صبیک؟) فقالت: والذی بعثک بالحق ما حسسنا منہ شیئا حتی الساعة، فاجترر ہذہ الغنم، قال: انزل خذ منہا واحدة ورد البقیة۔(مسند احمد۔۔الحاکم المستدرک)

ترجمانی: یہ واقعہ کئی احادیث میں مختلف الفاظ اور باتوں کی کمی بیشی کے ساتھ آیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک عورت کے پاس بچہ تھا جسے جناتی دورے پڑتے تھے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی اس بچے کو کسی بھی وقت کوئی بلاءپکڑ لیتی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قریب کیا اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ فرمایا میں محمد بن عبداللہ ہوں ، اللہ کے دشمن تو رسوا ہو یہاں سے نکل جا۔ چنانچہ اس کے بعد اس بچے اور اس کے گھر والوں سے یہ بلاءاور تکلیف بالکل ختم ہو گئی۔

3۔عن عثمان بن العاص رضی اللہ عنہ قال: لما استعملنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الطائف، جعل یعرض لی شیءفی صلاتی، حتی ما ادری ما اصلی فلما رایت ذلک، رحلت لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: (ابن ابی العاص؟) قلت: نعم! یا رسول اللہ! قال: (ما جاءبک؟) قلت: یا رسول اللہ! عرض لی شیءفی صلواتی، حتی ما ادری ما اصلی قال: ذاک الشیطان ۔ ادنہ، فدنوت منہ ، فجلست علی صدور قدمی، قال، فضرب صدری بیدہ، وتفل فی فمی، وقال: (اخرج عدو اللہ!) ففعل ذلک ثلاث مرات ، ثم قال: (الحق بعملک) (اخرجہ ابن ماجة فی سننہ کتاب الطب۔

ترجمہ : عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا ابن ابی العاص ہو“؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: ”تم یہاں کیوں آئے ہو“؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آو، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاوں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور (شیطان کو مخاطب کر کے) فرمایا: «اخرج عدو اللہ ۔اللہ کے دشمن! نکل جا۔ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ”اپنے کام پر جاو“ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔(ابن ماجہ2858)

قارئین کرام ان روایات سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جنات کے اثرات افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہیں اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج کیسے کیا۔ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے مسئلہ یا پریشانی کوئی بھی ہوسب اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اس کی وجہ دو باتوں میں سے ایک ہے: یا تو اپنے اعمال کی معمولی سزا ہے، اور یا اللہ کی طرف سے امتحان اور آزمائش ہے۔ علاج اس کا توبہ استغفار، رجوع الی اللہ، تعلق مع اللہ ، تعلق مع القران اور صبر ہے۔ ہم ان دعاوں اور مسنون اذکار کا اہتمام کریں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔ چونکہ شیطان کا کام انسان کو اللہ ،رسول،قرآن اور دین سے دور کرنا ہے ، اس لیے وہ اپنی دشمنی میں انسانوں کو پہلے تنگ کرتے ہیں اور پھر اس پریشانی کو دور کرنے کے چکر میں ناجائز کام و عملیات کرواتے ہیں ، اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کوئی شرکیہ عمل کرواتے ہیں کہ ایسا کرو تو ٹھیک ہو جاو گے، مثلا کسی اللہ والے کی قبر کو سجدہ کرنا، یا غیراللہ کے نام پر قربانی وغیرہ اور جب کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ شیطان تنگ کرنا چھوڑ دیتا ہے جس سے اس آدمی کا یہ عقیدہ بن جاتا ہے کہ قبر کو سجدہ کرنے سے اس قبر والے نے ٹھیک کردیا اس طرح اپنا ایمان کھو دیتا ہے اور یہی کام شیطان کروانا چاہتا تھا۔

فہرست پر واپس جائیں

2021-01-02

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *