فرقہ واریت کا ایک پہلو یہ بھی ہے

0
510

(سید عبدالوہاب شیرازی)
فرقہ واریت کتنا گھناؤنا عمل ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں بارہا اس کی مذمت اور ممانعت بیان ہوئی ہے۔ یہ ایسا ناسور ہے جس کی تاریخ بہت پرانی ہے، ہمارے خطے میں مذہبی فرقہ واریت کو انگریز دور میں خاص طور پر پروان چڑھایا گیا، پاکستان بننے کے بعد بھی اس سانپ کو تازہ دودھ ملتا رہا۔
دوسری طرف فرقہ واریت کے خلاف اور اس کے خاتمے کے لئے بھی جدوجہد جاری رہی، ہر طبقے نے اس ناسور کو معاشرے سے ختم کرنے کی اپنی مقدور بھر کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت پھیلانے والے نادیدہ ہاتھ بہت مضبوط ہیں، فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد نے اس گھناؤننے عمل کو اتنا بدنام کیا کہ لوگ اس نام کے اپنے اوپر چسپاں ہونے سے گھبراتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد پوری دنیا Nukta Colum 003 1خصوصا ہمارے خطے میں جو جو تبدیلیاں واقع ہوئیں ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے سے مذہبی فرقہ واریت پہلے کی نسبت کافی حد تک کم ہوئی ہے۔ مختلف مسالک خاص طور پر اھل سنت والجماعت کے مسالک نے دوریاں ختم کی ہیں اور ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف جلسے جلوس، فتوے اور مناظروں کے چیلنج آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
یہ تو فرقہ واریت کا وہ پہلو تھا جو معروف اور مشہور ہے اور جب بھی فرقہ واریت کی بات کی جاتی ہے تو ہمارا ذہن اسی مذہبی فرقہ واریت کی طرف جاتا ہے۔ لیکن میں آج فرقہ واریت کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کی طرف ہمارا ذہن نہیں جاتا۔ ایک فکری اور انقلابی ذہن رکھنے والے کو اس فرقہ واریت کی طرف ضرور متوجہ ہونا چاہیے، نہ صرف متوجہ ہونا چاہیے بلکہ اس کے سدباب اور اس شعور کو اجاگر بھی کرنا چاہیے۔ یہ فرقہ واریت کا وہ پہلو ہے جس کی تاریخ ہمیں قرآن حکیم کی روشنی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ملتی ہے۔ سورہ قصص میں فرعون کے متعلق ارشاد خداوندی ہے: وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیْعًا۔فرعون نے وہاں کے لوگوں کو گِروہ گِروہ بنا رکھا تھا، یعنی فرعون اپنے شہریوں کو تقسیم کرتا اور Divide & Rule کی پالیسی پر عمل کرتا تھا، کیونکہ لوگ اگر گِروہ گِروہ نہیں ہوں گے تو کسی بھی وقت تختہ الٹ سکتے ہیں۔ یہ وہ پالیسی ہے جسے ہندوستان میں انگریزوں نے اختیار کیااور پھر پچھلے ستر سال سے پاکستان پر حکمرانی کرنے والے چند خاندان بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلکہ اب تو ایسی پالیساں باقاعدہ ملکوں کے خفیہ پلان کا حصہ ہوتی ہیں، چنانچہ صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی، لسانی، علاقائی اور دیگر بے شمار اقسام کی فرقہ واریتیں حکمرانی کرنے والوں کے پلان کا حصہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نئی جماعت بنانا چاہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص دو یا زیادہ جماعتوں کو آپس میں ضم کرنے کی کوشش کرے تو خفیہ ہاتھ حرکت میں آجاتے ہیں اور اس کام کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، ہم ہر روز سنتے ہیں فلاں نے نئی جماعت بنالی، یا فلاں شخص فلاں جماعت سے الگ ہوگیا اس نے اپنا دھڑا بنا لیا، لیکن ایسا بہت کم سننے میں آتا ہے کہ فلاں دو جماعتیں آپس میں ضم ہو کر ایک جماعت بن گئیں اور ان جماعتوں کے افراد ایک ہی پرچم تلے جمع ہوگئے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سیاسی فرقہ واریت اور دھڑا بندی مذہبی فرقہ واریت سے بھی بڑا جرم ہے کیونکہ مذہب کا تعلق انفرادی زندگی سے ہے جبکہ سیاست کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے ہے ، اسلام اور مسلمانوں کی سیاسی برتری اور ترقی کے لئے پاکستان میں جتنی بھی جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے کام کررہے ہیں ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بارہا کوششیں ہوتی رہی لیکن کوئی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوئی، نادیدہ قوتوں نے دھونس، دھمکی اور لالچ سے ایسی ہر کوشش کو مٹی میں ملا دیا، بلکہ اسی طرح کی مخلصانہ کوشش کرنے والے افراد اور علماء کو ٹارگٹ کلنگ کرکے راستے سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تنبیہ کردی کہ ان کا بھی یہی انجام ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ حضرت یحیٰ اور حضرت زکریہ علیھماالسلام کو شہید کرکے یہودیوں نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی اور اللہ کے نقد عذاب کے مستحق ہوکر ذلت اور رسوائی کے گڑھوں میں گرے تھے۔
یاد رہے یہاں سیاسی فرقہ واریت سے مراد صرف اسلامی سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں تو سب سے زیادہ فرقہ واریت پھیلا رہی ہیں، اگر ہم موجودہ دور کی تین چار بڑی سیاسی پارٹیوں کے حالات کو دیکھیں تو یہاں اسی طرح کے فتوے، اور مناظروں کے چیلنج ہیں جو مذہبی فرقہ واریت کے عروج کے وقت ہوتے تھے ، فرق صرف اتنا ہے کہ اصطلاحات ، طریقہ کار اور انداز تبدیل ہوگیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کبھی مسلم لیگ والے پی ٹی آئی والوں کو سیاسی گالیاں دیتے نظر آتے ہیں تو کبھی پی ٹی آئی والے بددیانتی،رشوت،کرپشن وغیرہ کے فتوے ان پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ان جماعتوں نے مسلمانوں خصوصا باصلاحیت اور قابل نوجوانوں کو فرعون کی طرح گِروہ گِروہ کررکھا ہے اور مزے سے باری باری حکمرانی کررہے ہیں۔
اس وقت اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح مذہبی فرقہ واریت مسلمانوں کے لئے ایک ناسور ہے اسی طرح سیاسی فرقہ واریت بھی اسلام اور مسلمانوں کی ترقی اور غلبے کے لئے ناسور اور رکاوٹ ہے۔

Leave a Reply