قسط 29 عملیات سیکھنے کا طریقہ

0
134

عملیات سیکھنے کا طریقہ

سید عبدالوہاب شاہ شیرازی

بہت سارے لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی عملیات سیکھ لیں، مجھے بھی میسج اور کالیں آتی رہتی ہیں کہ آپ ہمیں عملیات سکھائیں، ہم مخلوق خدا کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،چنانچہ شیطانوں نے اس مسئلے کو بھی کمائی کا دھندہ بنا لیا ہے، وہ لوگوں کو عملیات سکھانے کے نام پر بھاری فیسیں وصول کرکے لوٹتے ہیں۔انہوں نے عملیات سکھانے کے لیے طرح طرح کے نصاب بنا رکھے ہیں، قرآن کی مختلف آیات کے عجیب عجیب چلے اپنی طرف سے بنا لیے ہیں۔ فلاں آیت کو فلاں طریقے سے، فلاں وقت پر اتنے عرصے تک ایسے ایسے پڑھنا ہے وغیرہ۔مختلف آیات اور مختلف سورتوں کے الگ الگ چلے اور کورس ہیں اور ان کی الگ الگ فیس ہے۔جبکہ ہم دین و شریعت اور سنت و سیرت سے اس بارے رہنمائی لیں تو ہمیں ان چلوں کی کوئی حقیقت نظر نہیں آتی۔یہ سب بے بنیاد، من گھڑت اور کمائی وشہرت کمانے کے جال ہیں۔

عامل کیسے بنیں

کسی صاحب نے میری ایک ویڈیو کے نیچے کمنٹ کیا کہ میں اتنے اتنے سالوں سے بے شمار عاملوں سے اپنا علاج کروا کر تھک گیا ہوں مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا، لہٰذا اب میں خود عامل بننا چاہتا ہوں، عامل بنانے والے حضرات مجھ سے رابطہ کریں۔ آگے انہوں نے اپنا فون نمبر دیا ہوا تھا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان صاحب نے جب سینکڑوں عاملوں سے علاج کروایا اور کوئی فائدہ نہیں ہوا تو کیا اب انہی عاملین سے عملیات سیکھنا چاہتے ہیں؟ جب وہ آپ کا مسئلہ حل نہیں کرسکے تو کیا وہ آپ کو ایسا عامل بنا لیں گے کہ آپ اپنے اور لوگوں کے مسائل حل کرسکیں؟یہ ساری سوچ ہی غلط ہے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ مسائل اور پریشانیاں کیسے اور کس کی طرف سے آتی ہیں۔ظاہر ہے مسئلے کا تجزیہ کیے بغیر آپ اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔ ڈاکٹر اور حکیم بھی کسی جسمانی بیماری کا علاج اس وقت تک نہیں کرسکتے جب تک ان کو اس بیماری کی وجہ اور سبب کا علم نہ ہوجائے چنانچہ وجہ اور سبب کو تلاش کرنے کے لیے وہ ٹیسٹ، ایکسرے، الٹراساونڈ، نبض وغیرہ چیک کرتے ہیں۔ اور جب بیماری کی وجہ اور سبب مل جاتا ہے تو پھر اس سبب کو دور کرکے بیماری کا علاج کرلیا جاتا ہے۔

بالکل ایسے ہی ہمیں جو مسائل اور پریشانیاں لاحق ہیں جب تک ہم اس کے سبب کو نہیں معلوم کریں وجہ معلوم نہیں ہوگی اس وقت تک ہم ان مسائل اور پریشانیوں سے نکل نہیں سکتے۔ قرآن حکیم کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے انسان پر جو بھی مصائب اور پریشانیاں آتی ہیں وہ اللہ کی طرف سے آتی ہیں۔ اور ان کے آنی کی دو وجہیں ہیں: ایک اللہ کی طرف سے آزمائش، اور دوسری ہمارے برے اعمال کی سزا۔پہلی وجہ کا علاج صبر ہے اور دوسری وجہ کا علاج توبہ اور رجوع الی اللہ ہے۔ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیے جو بھی پریشانی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور اسے دور بھی اللہ نے ہی کرنا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کسی کو نقصان دینا چاہے تو ساری دنیا کے انسان مل کر اسے نقصان سے نہیں بچا سکتے، اور اگر اللہ کسی کو فائدہ دینا چاہے تو ساری دنیا کے انسان مل کر اس کے فائدے کو روک نہیں سکتے۔ اور قرآن ہی ہمیں بتاتا ہے کہ جادو بھی اس وقت تک اثر نہیں کرتا جب تک اللہ اجازت نہ دے، جب اللہ جادو کو اجازت دیتا ہے تو تب کسی پر جادو کا اثر ہوتا ہے۔

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ نفع ونقصان، خوشی وغمی،دکھ وسکھ سب اللہ کی طرف سے ہے ۔ لہٰذا ہمیں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، ہمیں صبر کرنا چاہیے، ہمیں توبہ کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: قسط نمبر28: خانقاہی نظام اور لٹیرے 

عامل بننے کا طریقہ

1۔عامل بننے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ قرآن حکیم کو اٹھائیں اور اسے ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھتے جائیں، کم از کم ایک دو تین سال تک قرآن حکیم ترجمہ و تفسیر کے ساتھ مطالعہ کریں، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے لے کر وفات تک مکمل سیرت کم از کم تین بار پڑھیں۔صحابہ کرام اور خلفائے راشدین کی زندگی کے حالات کم از کم تین بار پڑھیںاس سارے مطالعے میں جو جو عملی چیزیں ہیں ان پر عمل کریں،مثلا قرآن کہتا ہے نماز پڑھو تو آپ وہ شروع کردیں، قرآن کہتا زکوة دو تو آپ وہ شروع کردیں، قرآن کہتا ہے امرباالمعروف نہی عن المنکر کرو تو آپ وہ شروع کردیں، قرآن کہتا ہے پردہ کرو تو آپ وہ شروع کردیں، الغرض قرآن جو کہتا ہے کرو تو کریں اور جو کہتا ہے نہ کرو تو وہ نہ کریں۔آپ جتنا عمل کرتے جائیں گے اتنا ہی بڑا عامل بنتے جائیں گے۔اور یہی اصلی عملیات اور عامل بننا ہے۔

2۔آپ جادو کی حقیقت کو سمجھیں، یعنی جادو کے بارے شریعت کیا کہتی ہے، جادو کیا ہے، جادو کی تاریخ کیا ہے، جادو کی اقسام کتنی ہیں، جادو کیسے کیسے ہوتا ہے، جادو کی آج کل کے دور میں کتنی شکلیں اور طریقے ہیں۔ (ان تمام باتوں پر میں نے کتاب کے شروع میں بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے)

3۔جنات کی حقیقت کو سمجھیں، جنات کی تاریخ، ان کی اقسام، ان کے کرتوت قرآن و حدیث اور تاریخ کی روشنی میں مطالعہ کریں۔

4۔ جادوگروں اور عاملوں کو سمجھیں۔ کہ جادوگر کون ہے، نجومی کون ہے، کاہن کون ہے، یہ کیسے کام کرتے ہیں؟ کیسے لوگوں کو لوٹتے ہیں، کیا کیا حربے آزماتے ہیں۔

5۔ تعویذوں، نقشوں، گنڈوں کو سمجھیں، ان کی تاریخ ان کی ہسٹری جاننے کی کوشش کریں یہ کب شروع ہوئے، کس نے شروع کیے اور ہمارا دین ہمیں کیا رہنمائی دیتا ہے۔

6۔ سنت طریقہ علاج کو سمجھیں۔ یعنی یہ جاننے کی کوشش کریں کہ جن مسائل کا علاج آج عامل اور جادوگر جس طریقے سے کرتے ہیں کیا صحابہ کرام نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ کیونکہ اس طرح کے مسائل کا شکار تو اس وقت بھی لوگ ہوتے تھے، تو وہ کیا کرتے تھے؟ کیا وہ تعویذ بنا کر دیتے تھے، کیا وہ دھونیاں دیتے تھے، کیا وہ بھی قبرستانوں میں جاکر چلے کرتے تھے، کیا وہ بھی چار قسم کی دالوں، اور گوشت اور ہانڈیوں کے ذریعے علاج کرتے تھے۔ کیا وہ بھی لوگوں سے الو کا سر، کوے کی ٹانگ کالا بکرا، کالا مرغا اور ہڈے کے بغیر گوشت، وغیرہ چیزیں منگواتے تھے؟۔ اس بات کو جاننے کے لیے صحابہ کرام کی سیرت اور ان کے حالات زندگی کو پڑھیں۔

7۔ تقوے ، توکل اور صبر کی حقیقت کو سمجھیں۔ تقوی کیا بلا ہے۔ توکل کیا چیز ہے۔ اور صبر کیا ہوتا ہے، یہ تینوں لفظ قرآن میں آئے ہیں لہٰذا ان الفاظ کے ضمن میں مفسرین نے کیا بحث کی ہے ان کا معنی اور مفہوم کیا بتایا ہے اس بڑی گہرائی کے ساتھ جاننے کی کوشش کریں۔

باقی رہے وہ عملیات جو مارکیٹ میں ملتے ہیں، فلاں چلہ کرو، فلاں عمل کرو، ترک حیوانات کرو، قبرستان میں چالیس دن یہ عمل کرو، کاغذ پر فلاں چیز ایسے ایسے لکھو، یہ سب نہ صرف فراڈ ہے بلکہ آپ سے آپ کے ایمان کو چھیننے کے طریقے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے عملیات اور چلے نہ خود کیے اور نہ ہی صحابہ کرام سے کروائے، اور نہ ہی اپنی امت کو اس کی تعلیم فرمائی۔یہ چلے آغاز ہوتے ہیں، ان چلوں کی آڑ میں بعدازاں آپ سے جادوگری کی عملیات کروائی جاتی ہیں۔ شروع میں آپ سے بسم اللہ کا چلہ کروایا جائے گا آپ سمجھیں گے میں کوئی غلط تو نہیں کر رہا، لیکن جب سال چھ مہینے بعد جب آپ اچھی طرح کئی چلے کرکے اس کام میں گھس جاتے ہیں تو پھر شیطان آہستہ آہستہ آپ کو غلط لائن پر چڑھانا شروع کرتا ہے۔ ظاہر ہے جب آپ نے بسم اللہ کا چلہ کیا ہے اور بعد میں آپ کے پاس کوئی سائل آکر کہتا ہے مجھے پر جادو ہے اس کی کاٹ کرو، تو لامحالہ آپ اپنے اسی استاد سے رابطہ کرتے ہیں جس سے آپ عملیات سیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ پھر آپ کو کہتا ہے جادو کی کاٹ کے لیے آپ کو قبر کی مٹی لانی ہوگی۔ گوشت ویرانے میں پھینکنا ہوگا، کوے کی سری، الو کی ٹانگ، بکرے کا دل ، چار قسم کی دالیںوغیرہ لے کر اس پر فلاں عمل کرنا ہوگا۔ فلاں نقش اس اس چال سے بھرنا ہوگا۔اس طرح آپ آہستہ آہستہ اس شیطانی دنیا میں داخل ہو جائیں گے اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب پانی سر سے گزر جائے گا اور آپ واپس مڑنا چاہیں تو نہیں مڑ سکیں گے۔میں نے اسی کتاب میں اس عامل کا انٹرویو بھی لکھ دیا ہے جس نے اپنی پوری کہانی سنائی کہ وہ کیسے عامل بنا اور پھر اس شیطانی دنیا میں داخل ہوا اور جب اللہ نے اسے ہدایت دی تو پھر کتنی مشکل سے اس شیطانیت سے باہرنکلا۔

عملیات کی دنیا میں آنے والوں کو تفاسیر اور احادیث کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی مکمل سو سالہ تاریخ اور سیرت کو مطالعہ کرنا چاہیے، قرآن وحدیث کی روشنی میں جنات اور جادو کی ہسٹری اور تاریخ کو پڑھنا چاہیے۔ جادو کیا ہے؟ جادو چند اعمال کا نام ہے یعنی کچھ پڑھنے والی چیزیں ہیں، کچھ لکھنے والی چیزیں ہیں اور کچھ کرنے والی چیزیں ہیں۔ یہی جنتر، منتر، تنتر یعنی چند خاص چیزیں لکھنا، پڑھنا، کرنا جادو کہلاتا ہے۔آپ کسی کو کسی کتاب سے ایک نقش لکھ کر دیتے ہیں یہی تو جادو ہے، اور کیا ہے جادو؟ جادو کے کوئی سینگ تو نہیں ہوتے، یا جادو خود تو نہیں بولتا میں جادو ہوں مجھے نہ کرو۔؟

فہرست پر واپس جائیں

Leave a Reply