عاملوں کی فریب کاریاں

عاملوں کی فریب کاریاں

اب یہاں عملیات اور عاملوں کی فریب کاریوں پر فیض الابرار صاحب کی ایک رپورٹ جو کسی فورم پر شائع ہوئی تھی پیش کی جاتی ہے۔

شر طیہ عیسائی عامل اور مسلمان:

آج لوگوں کی جہالت کاعالم تویہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کا ہرصورت حل چاہتے ہیں۔چاہے اس کے لئے انہیں کتنا ہی غیر شرعی اورشرکیہ طریقہ اختیار کرنا پڑے‘ اس کااندازہ اس سے لگائیں کہ آج کل اخبارات میں ایک ایسے عامل کااشتہار بھی آنے لگاہے جو خود کو شرطیہ عیسائی عامل لکھتاہے،اور عیسائی عامل ثابت نہ ہونے پر انعام کا بھی اعلان کرتاہے۔ہمارے معاشرے میں عیسائی حضرات خود کو عیسائی کم ہی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ عموماً ہر اقلیت پر ایک نفسیاتی اثر ہوتاہے۔ لیکن اس عیسائی عامل کو یقین ہے کہ لوگ اس کے پاس ہی آئیں گے کیونکہ لوگوں کو توہرصورت اپنے مسائل کا حل چاہئے۔ اس کے لئے انہیں چاہے شرک کرنا پڑے ‘چاہے کالے علم اورکالے جادو یا نوری علم سمیت کسی بھی ذریعے کو اختیار کرنا پڑے۔ انہیں اپنے عقیدہ‘ مذہب اور ایمان کی کوئی پروانہیں۔ لوگوں کو چونکہ کالے علم اور کالے جادو کی کاٹ پر زیادہ یقین ہے‘ شیطان صفت لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے شیطانی کاموںکے لئے شیطان ہی ان کی مکمل مد دکرسکتا ہے‘ اس لئے وہ کھل کرشیطانی علم کے حامل عامل سے ہی اپنے مسئلے کا حل چاہتے ہیں اور ایک غیر مسلم عامل پر انہیں پورا یقین ہوتاہے کہ اسی کے کے پاس یہ شیطانی اورکالا علم ہوگا کیونکہ مسلمان عامل کوئی شرکیہ کام کرتے ہوئے پھربھی تھوڑا بہت جھجھک سکتاہے لیکن ایک غیر مسلم کوکیا پروا۔ چنانچہ لوگ ایسے عیسائی عامل کے پاس جارہے ہیں اور وہ بھی انہیں ڈنکے کی چوٹ پرشرک کی طرف بلارہاہے۔یہ آج مسلمانوں میں جہالت‘ حرص و ہوس اور توہم پرستی کی انتہاہے۔

ایسے ہی کالے پیلے عملیات کرنے والوںکے نت نئے طریق واردات اور پھر ان عاملوں اوران کے مریدوں کا عبرتناک انجام سردست ہمارا موضوع ہے تاکہ عوام مال و ایمان کے ان لٹیروں سے خبردار رہیں اور ان کے انجام سے عبرت پکڑیں۔ آئیے مختلف ذرائع سے جمع شدہ یہ چشم کشا اور عبرتناک رپورٹیں ملاحظہ کریں۔

قرآنی آیات لکھے تعویزوں پر جوتے مار کرعلاج کرنے والا عامل پیر:

کچھ عرصہ قبل پولیس نے ایک ایسے پیر کوپکڑا جو قرآنی آیات پر نعوذباللہ جوتے مار کر علاج کرتا تھا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میںنشاط کالونی میلاد چوک میں بیوٹی ہیئرڈریسر کے مالک محمد ارشد کی بیوی نائلہ ارشد کے پیٹ میں درد رہتا تھا جس کاعلاج کرنے کے لئے نائلہ کے سسربشیر احمد نے اسے کسی پیر سے علاج کروانے کا مشورہ دیا۔ نائلہ کا خاوند محمد ارشد اسے نشاط کالونی کے آخری بس سٹاپ کے قریب کوارٹروںمیں رہائش پذیر باریش امیر علی کے گھر لے گیا اور بیوی کی تکلیف کے بارے میں بتایا۔

یہ بھی پڑھیں: قسط نمبر20: موکل ہمزاد قابو کرنے کا چلہ      

قسط نمبر21: جادوٹونہ عام ہونے کی وجہ

امیرعلی نے محمدارشد کے گھرآکرپانی کی بوتل دم کرکے دی اور کہا ‘گھر میں اس پانی کا چھڑکاو کرو‘ کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ پیر نے محمد ارشد سے کہا کہ بکرے کا پانچ کلو گوشت قبرستان میں رکھ آو‘ اسے بلائیں کھاجائیں گی۔ تمہیں ایک لفظ بتاوں گا‘ وہ پڑھتے ہوئے قبرستان میں داخل ہونا۔ اس کی وجہ سے تمہیں خوف نہیں آئے گا۔ ارشد کے والد بشیر احمد نے پیر کو بتایا کہ ارشد کو اندھیرے سے خوف آتاہے۔وہ قبرستان کیسے جائے گا۔ امیر علی نے کہا کہ مجھے200روپے دے دو۔ میں خود ہی گھر میں میٹھی چیز پکا کر کسی میدان میں رکھ دوں گا۔ارشد نے اسے پیسے دے دئیے۔ امیر علی نے نائلہ کو چند تعویز دئیے اور کہا کہ ان کو پکڑ کر مٹھی میں بند کرلینا … آدھ آدھ گھنٹے بعد ان تعویزوں کو دونوں ہاتھوں میں بدلتی رہنا۔ جب 12بج جائیں توان تعویزوں کو زمین پر رکھ کر 21جوتے مارنا۔ اس طرح تمہارے پیٹ کی تمام تکلیفیں ختم ہوجائیں گی۔ اسی رات اچانک نائلہ کے پیٹ میں شدید درد اٹھا۔ شوہر نے اس سے تعویزلے کرجیب میں ڈال لئے اور بیوی کو قریبی عائشہ کلینک لے گیا جہاں نائلہ کو داخل کرلیا گیا۔اس کے میڈیکل ٹیسٹ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کے معدے میں سوزش کی وجہ سے درد ہوتا ہے۔نائلہ کوڈرپ لگا دی گئی۔ ارشد بھی بیوی کے پاس ہسپتال میں ٹھہر گیا۔ اس کا چچا زاد بھائی مسعود حسین بھی ہسپتال آگیا۔ ارشد نے تعویز دکھائے‘ مسعود نے تعویزوں کو دیکھا توان پر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ ارشد اسی وقت اپنے کزن کو لے کراپنی دکان کے قریب ایک دکان کے مالک ریاض علی کے پاس آیا‘ریاض ان تعویزوں کو محلے کی مسجد حیات اسلام کے خطیب حافظ قاری عنایت اللہ کے پاس لے کر چلا گیا اور قاری کو تمام حالات سے آگاہ کیا۔ قاری عنایت اللہ نے جوتیاں مارنے کی تصدیق کرنے کے لئے ارشد اور ریاض کو جعلی پیر کے پاس بھیجا۔انہوں نے امیر علی کو بتایا کہ آپ کے تعویزوں سے میری بیوی کو آرام آگیاہے جس پر امیر علی نے کہا کہ آپ تعویزوں کو جتنی زیادہ جوتیاں مارو گے‘ اتنی جلدی تمہاری بیوی تندرست ہوجائے گی۔ ریا ض اور ارشد دوبارہ خطیب کے پاس گئے جس نے رات گئے محلے داروں کو اکٹھاکیا اور پیر کو اس کے گھر سے اٹھاکر گاڑی میں ڈال کر تھانہ جنوبی چھاونی کی پولیس کے حوالے کردیا۔ یہ واقعہ یکم ستمبر 2000 ءکو پیش آیا۔

لاہورمیں جنسی بھیڑئیے عامل پولیس کو باقاعدہ منتھلی دیتے ہیں

شوہروں کو راہ راست پرلانے کی خواہش مند عورتیں زیادہ شکار بنتی ہیں۔

لاہورمیں جنسی بھیڑئیے نوسر باز عاملوں کو پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کھلے عام لوگوں کو لوٹنے اور شریف گھرانوں کی لڑکیوں کی عزتیں پامال کرنے کا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہرعامل اپنے علاقہ کے ایس ایچ او کو باقاعدہ منتھلی دیتاہے اور اگر ان کے ہاتھوں لٹنے والا شخص تھانے میں شکایت کرے تو اسے پولیس اہلکار ڈرا دھمکا کر باہر نکال دیتے ہیں۔ نو سربازعاملوں کی بڑی تعداد پریشان حال مردو خواتین کو کچھ دیر بعد جھوٹا حساب لگا کر یہ کہتے ہیں کہ تمہارے جسم میں زہر پھیل چکاہے اور تمہارے دشمنوں نے تم پراتنے زبردست تعویز کروائے ہیں کہ تم دو دن بعد مرجاو گے۔یہ سن کر ہرشخص پریشان ہوجاتاہے اور اس کا حل پوچھتا ہے تونوسرباز عامل بھاری رقم کا مطالبہ کردیتے ہیںاور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے عمل کے بعد تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔نوسر باز عاملوں کا شکار زیادہ تر امیرگھرانوں کی خواتین بنتی ہیںجو اپنے عیاش شوہروں کو راہ راست پرلانے کے لئے ان نوسرباز عاملوں سے رابطہ کرتی ہیں۔بعدازاں انہیں نہ صرف اپنی عزت گنوانا پڑتی ہے بلکہ ہزاروں روپے بھی ان کی چکنی چیڑی باتوں میں آکر لٹابیٹھتی ہیں۔ نوسر باز عامل ان خواتین کو مستقل بلیک میل کرنا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ خواتین ان کی ہرجائز وناجائز خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

ایک ایک عامل کی کئی برانچیں۔الووں کے خون سے سے تعویز:

عاملوںنے لوگوں کو لوٹنے کے لئے کیا کیاحربے اختیار کر رکھے ہیں‘اس کااندازہ اس سے لگائیں کہ ان عاملوں نے صوبائی دارالحکومت لاہورمیں لوگوں کو لوٹنے کے لئے علیحدہ علیحدہ شاخیں قائم کررکھی ہیں جبکہ ہرشاخ کانام بھی مختلف ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہر بھر میں پھیلے ہوئے نوسرباز عاملوں اور نجومیوں نے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے لالچ اوراپنی ہوس مٹانے کے لئے مختلف شاخیں قائم کررکھی ہیں اور ہر شاخ میں اپنا کوئی عزیز بٹھایاہوتاہے یا پھر کوئی چیلا وہاں موجودہوتاہے جو پریشان حال لوگوں کو گھیرنے کاکام سرانجام دیتاہے۔ ہرنوسر باز عامل اورنجومی کا یہ دعویٰ ہے کہ دنیا کاسب سے بڑا طلسم کدہ اس کے پاس ہے اور صرف وہی الووں کے خون سے تعویز بناتا ہے جبکہ ان ”نوسرباز“ عاملوں نے یہ بھی دعویٰ کررکھاہے کہ وہ ایشیا میں تہلکہ مچا چکے ہیں۔ جبکہ کچھ اپنے آپ کو فخر بنگال قرار دیتے ہیں۔ ان نوسرباز عاملوں کے مطابق کالا علم صرف وہی جانتے ہیں اور ان کے آباو اجداد بھی یہی کام کرتے تھے۔انہیں جو علم آتاہے ‘وہ انہیں اپنے بزرگوں سے ملاہے۔

متعدد عامل حکمت میں ناکامی کے بعد اس پیشے میں آئے:

عاملوں کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو دراصل پہلے حکیم تھے لیکن جب انہیں حکمت کے کام میں ناکامی ہوئی تو پھر انہوں نے کالے پیلے عملیات ‘تعویزات اور جن نکالنے کا دھندا شروع کردیا۔ کئی ایسے عامل ہیں جنہوں نے حکمت اور عملیات دونوں پیشوں کو بیک وقت اختیار کیاہواہے۔ یہ لوگ پہلے کسی مریض کا دیسی طریقوں سے علاج کرتے ہیں اور پھر جب اس میں ناکامی ہونے لگتی ہے تو اس کا اعتراف کرنے کی بجائے وہ مریض کو یہ بتاتے ہیں کہ دراصل آپ پر کسی جن ‘آسیب یا جادو وغیرہ کا اثرہے اور یوں وہ دونوں طریقوں سے لوگوں کو لوٹ لوٹ کر ان کا براحال کردیتے ہیں اور جب دونوں طریقوں سے بھی کچھ نہیں بنتا توپھر کہہ دیتے ہیں کہ شفاءتو اللہ کی جانب سے ہوتی ہے… اللہ چاہے گا تو آپ کو شفاءملے گی ‘ہم کیا کرسکتے ہیں۔ حالانکہ شروع میں وہ ایسی بات نہیں کرتے بلکہ بڑے بڑے دعوے کرکے مریض کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے مسئلے کا حل ہے ہی ان کے پاس ہے۔

 آئیے اب ایسے ہی کراچی کے ایک نوسر باز عامل وحکیم کے بارے میں روزنامہ امت (11-12-2002)کی ایک رپورٹ ملاحظہ کریں۔

عیسائی عامل وحکیم اور پیر سوہنا مسیح:

کراچی کے عامل حکیم مقدم شاہ عرف سوہنا مسیح عرف یونس مسیح نے عیسیٰ نگر ی کے آستانے میںمطب بھی بنایا ہوا ہے جہاں مختلف امراض میں مبتلا لوگوں سے علاج کے نام پر بھاری رقوم بٹوری جاتی ہیں۔اس عامل و حکیم کو گلشن اقبال ٹاون کے ایک پولیس افسر کی سرپرستی حاصل ہے۔ذرائع کے مطابق یونس مسیح گزشتہ 8سال سے حکیم وعامل بن کر لوگوں کو لوٹ رہاہے۔ عیسیٰ نگری سے قبل لیاقت آباد میںعامل سوہنا مسیح کے نام سے آستانہ چلاتاتھا تاہم 8سال قبل عیسیٰ نگری کے علاقے میں اس نے ماہانہ 3ہزار روپے کرائے پر دکان حاصل کرکے عامل سوہنامسیح کے نام سے آستانہ اور پیر مقدم شاہ کے نام سے مطب چلانا شروع کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس مسیح عملیات وتعویزات کے علاوہ مختلف امراض میں مبتلا لوگوں سے علاج کے نام پربھاری رقوم وصول کرتاہے جبکہ اس نے اپنے آستانے کے باہر چند جرائم پیشہ افراد کو بھی بٹھا رکھاہے جورقم کی واپسی کا تقاضہ کرنے والے گاہکوں کو تشدد کانشانہ بناتے ہیں۔ یونس مسیح کے آستانے پرعلاج کے لئے آئے ہوئے ایک شخص اسلم کے مطابق اسے گردوں میں پتھری کی شکایت ہے جس کے لئے وہ پیر مقدم شاہ کے پاس آیا تھا۔ اسلم کے مطابق پیر مقدم شاہ عرف یونس مسیح نے اس سے ڈھائی سوروپے معائنہ فیس وصول کی اور اسے دم کیا ہواپانی‘ شکر اور چند دوائیں دے کر دوبارہ معائنے کے لئے ایک ہفتے بعد بلایا حالانکہ اسے کوئی فرق نہیں پڑا۔

تحقیقات کے مطابق جعلی عامل سوہنا مسیح عرف پیر مقدم شاہ عرف یونس مسیح فیصل آباد کا رہنے والا ہے اور اس کے خاندان کے دیگر افراد بھی پنجاب اورکراچی کے مختلف علاقوںمیں یہی کاروبار کررہے ہیں۔یونس مسیح پسند کی شادی‘ محبت میں ناکامی‘ بے روز گاری سے نجات اور دیگر گھریلو و کاروباری مسائل سے نجات کے لئے مختلف تعویزات وعملیات کے نام پرلوگوں کو بیوقوف بناتاہے جبکہ پیر مقدم شاہ کے نام سے حکیم بن کر کینسر‘ گردوں ومثانہ میں پتھری‘ بلڈ پریشرہرقسم کے جنسی امراض سمیت دیگر بیماریوں کے علاج کے نام پر لوگوں سے بھاری رقوم بٹوررہاہے۔ذرائع کا کہناہے کہ جعلی عامل وحکیم کوگلشن اقبال ٹاون انوسٹی گیشن پولیس کے ایک ڈی ایس پی کی سرپرستی حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی کا بیٹرانور عامل سے ہرہفتہ3ہزارروپے بھتہ وصول کرتاہے۔ جعلی عامل یونس مسیح کے آستانے سے شراب اور منشیات بھی فروخت کی جاتی ہے۔ان دیکھے موکل قابوکرنے کیلئے عاملوں کی مضحکہ خیز حرکات ‘کالی دیوی اور ہنومان کے جادو سے کاٹ‘الو‘ سور‘ انسانی لاش کی ٹانگ اور چیل کے انڈہ کی ہزاروں روپے میں فروخت ہوتے ہیں۔

فہرست پر واپس جائیں

2021-02-12

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *