دنیا کا واحد ملک جہاں کورونا وائرس کے تمام مریض صحتیاب ہوگئے

0
222

دنیا کا واحد ملک جس نے نئے نوول کورونا وائرس کی وبا پر مکمل طور پر قابو پالیا اور اب وہاں کوئی بھی اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا شکار نہیں رہا۔

جی ہاں گرین لینڈ اس وقت دنیا کا پہلا اور واحد ملک ہے جہاں اس وائرس کے مریض سامنے آئے مگر تمام 11 مریض اب صحتیاب ہوچکے ہیں۔

گرین لینڈ کے نیشنل میڈیکل آفس کے مطابق 57 ہزار آبادی والے اس ملک میں 844 ٹیسٹوں میں 11 افراد میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی تھی۔

گرین لینڈ کے تمام کیسز دارالحکومت نوک میں سامنے آئے تھے جس کی آبادی 18 ہزار سے زائد ہے۔

ای یو آبزرور کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 11 کیسز کی تشخیص کے بعد گرین لینڈ میں سخت لاک ڈائون کا نفاذ ہوا تھا۔

گرین لینڈ کی جانب سے تمام سرحدوں کو بھی بند کردیا گیا ہے اور سخت اقدامات کیے ہیں تاکہ دوبارہ یہ وائرس سر نہ اٹھاسکے۔

اس مقصد کے لیے سرحدوں کو بند کردیا گیا ہے، ہوائی سفر، بحری جہاز یا کسی بھی ذریعے سے اب گرین لینڈ کا سفر نہیں کیا جاسکتا اور خصوصی اجازت کے بغٖیر کسی کو ملک سے باہر یا اندر آنے کی اجازت نہیں۔

رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ میں 18 ویں اور 19 ویں صدی میں جان لیوا وبائی امراض پھوٹ پڑے تھے اور کورونا وائرس بھی بڑے پیمانے پر پھیلنے کا ڈر تھا۔

درحقیقت کیسز نہ ہونے کے باوجود گرین لینڈ میں سخت اقدامات کو برقرار رکھا گیا ہے اور ملک کے سابق وزیر صحت اووی روزینگ اولس نے بتایا کہ یہ لاک ڈائون ایک سال تک برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ گرین لینڈ کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ زیادہ بیمار افراد کو سنبھال سکے۔

ان کا کہنا تھا ‘نظام تنفس کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ہماری صلاحیت محدود ہے، اگر نظام پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا تو بیشتر افراد ہلاک ہوجائیں گے، تو وائرس کو پھیلنے کا موقع دینے کی بجائے اس کی روک تھام اس وقت تک کرنا بہتر ہے جب تک ویکسین دستیاب نہیں ہوجاتی، میرا ماننا ہے کہ ہمیں طویل عرصے تک دیگر افراد سے بہت کم تعلق رکھنا ہوگا، کم از کم مزید 12 ماہ کے لیے’۔

گرین لینڈ کے واحد بڑے ہسپتال کوئین انگریڈ ہاسپٹل کے ڈاکٹر جیرٹ مولوڈ نے کہا کہ انہیں کوئی اندازہ نہیں کہ اگر ویکسین کی دستیابی سے پہلے لاک ڈائون ختم کردیا جائے گا تو کتنے افراد کو طبی امداد کی ضرورت پڑے گی۔

انہوں نے کہا ‘ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ صحت کے نظام کو بوجھ سے بچایا جائے، ہمارے پاس ملک کو آئسولیٹ کرنے کے زیادہ آپشنز ہیں، اگر ہم نے درست طریقے سے کام کیا، ہم ایک اور وبا کو کنٹرول کرلیں گے اور یہ کوئی دنیا کا ختتام نہیں’۔

Leave a Reply