سید عبدالوہاب شاہ شیرازی کے فکری و تحقیقی مضامین کا باضابطہ پلیٹ فارم
قانون اربعہ طب مفرد اعضاء

قانون اربعہ طب مفر د اعضاء کی تعریف

سید عبدالوہاب شاہ
1,243 مشاہدات
قانون اربعہ طب مفر د اعضاء کی تعریف

قانون اربعہ طب مفر د اعضاء کی تعریف

نظریہ مفرد اعضاء کی ایک ایسی تحقیق ہے جس سے ثابت کیا گیا ہے کہ امراض کی پیدائش مفر اعضاء یعنی گوشت ،پٹھے اور غدد میں ہوتی ہے ۔اور اس کے بعد مرکب اعضاء کے افعال میں افراط و تفریط اور ضعف پیدا ہوجاتا ہے ۔ علا ج کی صورت میں انہی مفرد اعضاء کے افعال درست کر دینے سے حیوانی ذرہ خلیہ یا سیل (Cell) سے لے کر عضوِ رئیس تک کے افعال درست ہوجاتے ہیں بس یہی ’’نظریہ مفرد اعضاء ‘‘ہے۔ مجدد طب ؒ نے ایک تہائی صدی تک متواتر شب و روز تحقیق و تجدید پر محنتِ شاقہ صرف کی ۔طب کے بحرِعمیق میں اتر کر نیا گوہر نایاب تلاش کیا ۔جسے ’’نظریہ مفرد اعضاء ‘‘کا نام دے کر دنیا ئے طب کی خدمت میںپیش کر دیا ___جو اَب’’ قانون مفرد اعضاء ‘‘کے نام سے موسوم و معروف ہو چکا ہے ۔

قانون مفرد اعضاء کا مقصد

طب قدیم کا علم و فن تشخیص و تجویز کے سلسلے میں کیفیات و امزجہ و اخلاط تک ہی محدود تھا اور ماڈرن میڈیکل سائنس اس ایٹمی دور تک اپنی تدقیقی تحقیقات کے نتیجے میں صرف منافع الاعضاء (PHYSIOLOGY)کا ہی کارنامہ انجام دے سکی ۔ جب کہ مجدد طب ؒ نے کیفیات ،امزجہ اور اخلاط کو مفرد اعضاء سے تطبیق دیتے ہوئے طب کو اس انداز میں پیش کیا کہ ایک طرف طب قدیم کی اہمیت واضح ہو گئی اور دوسری طرف یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ جس طریقہ علاج میں کیفیات امزجہ اور اخلاط کو مد نظر نہیں رکھا جاتا وہ نا صرف غلط بلکہ غیر علمی ،غیر سائنسی اور عطائیانہ علاج ہے ۔کیفیات ، امزجہ اور مفرد اعضاء کی باہمی تطبیق سے طب قدیم میں زندگی پیدا ہوگئی اور ساتھ ہی اعضاء کے افعال کے علاج و درستی کی صورت سامنے آگئی جس کے نتیجے میں تجدید طب کا سلسلہ قائم ہوگیا اور ’’نظریہ مفرد اعضاء ‘‘قدیم و جدید جملہ طریقہ ہائے علاج (طبوں ) کے لئے معیار اور کسوٹی بن گیا ہے ۔

قانون مفردا عضاء کی تشریح :

نظریہ مفرد اعضاء میں حیوانی ذرہ (CELL)کو جسم کی بنیاد اول (فرسٹ یونٹ ) قرار دینے کے بعد کیفیات ،امزجہ اور اخلاط کو مفرد اعضاء سے تطبیق دے کر ان کے تحت امراض و علامات کی ماہیت و حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ماڈرن میڈیکل سائنس (فرنگی طب )نے بھی جسم انسانی کی اصل بنیاد پہ چار انسجہ(TISSUES)تسلیم کئے ہیں ۔جن کو اعصابی انسجہ (NERVOUS TISSUES) عضلاتی انسجہ(MUSCULAR TISSUES) قشری انسجہ (EPITHELIAL TISSUES) الحاقی انسجہ (CONNECTIVE TISSUES)کہتے ہیں ۔ مجدد طب و بانی نظریہ مفرد اعضاء حضرت صابر ملتانی ؒ نے ان چاروں انسجہ کو چاروں اخلاط سے تطبیق دے دی ہے ۔ نظریہ مفرد اعضاء میں مفردا عضاء اور اخلاط ایک ہی چیز ہیں یا بالفاظ دیگر مفرد اعضاء مجسم اخلاط ہیں ۔خلیات یا حیوانی ذرات (CELL) سے انسجہ TISSUES) ، انسجہ سے مفرد اعضاء (SIMPLE ORGANS) اور مفرد اعضاء سے مرکب اعضاء (ComPOUND ORGANS) بنتے ہیں ۔

غرضیکہ خلیہ ہی سے جسم کی تعمیر ہوتی ہے اور مختلف قسم کے خلیات کے ملاپ سے جسم کی تکمیل ہوتی ہے ۔ گویا اناٹومی (ANOTOMY)کے پہاڑوں کو قانون مفرد اعضاء کے ریڈار نے ڈھانچہ دماغ ،جگر اور قلب کے روپ میں دکھا کر دنیائے طب کی شرح صدر کردی ہے ۔ قدرت نے اعضاء کی ترتیب و ترکیب یوں رکھی ہے کہ’’اعصاب ‘‘ اوپر رکھے ہیں اور ہر قسم کے احساسات ان کے ذمہ ہیں ۔ ’’غدد‘‘ کو درمیان میں رکھا ہے اور غذا کی ترسیل ان کے ذمے ہے۔ ’’عضلات ‘‘ سب سے نیچے (اندر) رکھے ہیں اور تمام قسم کی حرکات ان سے متعلقہ ہیں ۔ بس یہی طبعی افعال سر انجام دیتے ہیں ۔اور نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق اعضائے رئیسہ دل ،دماغ اور جگر حیاتی اعضاء (LIFE ORGANS) ہیں جو کہ بالترتیب عضلات ، اعصاب اور غدد کے مراکز ہیں ۔ ان کے افعال میں افراط ، تفریط اور ضعف سے امراض پیدا ہوتے ہیں ۔اور انہیں مفرد اعضاء کے افعال درست کر دینے سے ایک حیوانی ذرہ (CELL)سے لے کر عضوِ رئیس تک کے افعال درست ہوکر صحت قائم اور ’’تن‘‘درست ہوجاتا ہے ۔ ’’تن درستی ‘‘ ہی طب کا مطلوب و مقصود ہے ۔

نظریہ مفرد اعضاء کا تخلیقی اصول

یہ نظریہ فطرت کا ایک اصول ہے جو مادہ اور جوہر سے ماخذ ہے ۔’’یعنی جوہر سے مادہ پیدا ہوتا ہے ‘‘گویا مادہ کی اصل جوہر ہے اور ہر چیز اپنی اصل کی طرف راجع ہوتی ہے ___’’کل شیء یرجع اصلہ ‘‘ ۔ اس لئے جوہر و مادہ اپنے افعال و اثرات کی حیثیت سے یکساں یعنی ایک جیسے خواص و فوائد رکھتے ہیں ۔مراحل کے لحاظ سے جو ہر مادہ ،مادہ سے عنصر ،عنصر سے خلط ،خلط سے مفرد عضو اور مفرد اعضاء کے مجموعے سے جسم ترکیپ پاتا ہے ۔ گویا جوہر مجسم ہو کر مادہ بن جاتا ہے جب مادہ میں تخصیص ہوتی ہے تو وہ عنصر بن جاتا ہے اور عناصر محلول بن جاتے ہیں تو اخلاط پیدا ہوتی ہیں اور اخلاط مجسم ہو کر مفرد اعضاء بن جاتے ہیں یہی مفرد اعضاء علم الابدان اور فن طب کی بنیاد ہیں ۔

عنبر کیا ہے

اس کالم کو شیئر کیجیے:
سید عبدالوہاب شاہ

تحریر: سید عبدالوہاب شاہ

بانی و ایڈیٹر نکتہ گائیڈنس (Nukta Guidance)

آپ کے فکری مضامین اور اصلاحی تجزیات پچھلے کئی سالوں سے لاکھوں قارئین تک پہنچ رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد فکری شعور اور اسلامی علوم کی حقیقی تفہیم ہے۔

اس کیٹگری کے مزید اہم کالمز

سوانح حیات حکیم رحمت علی راحتقانون اربعہ طب مفرد اعضاء
1,267

سوانح حیات حکیم رحمت علی راحت

مختصر سوانح حیات حکیم رحمت علی راحت از قلم حکیم غلام مصطفی محقق قانون اربعہ طب مفرداعضاء حالات زندگی حکیم رحمت علی راحت محقق قانون اربعه طب مفرد اعضاء انڈیا کی تحصیل بٹالہ کے قصبہ کلانور موضوع جرمیاں

سید عبدالوہاب شاہمکمل تحریر پڑھیں←
ہاتھ اور پاٶں کی تشخیصی علاماتقانون اربعہ طب مفرد اعضاء
749

ہاتھ اور پاٶں کی تشخیصی علامات

ہاتھ اور پاٶں کی تشخیصی علامات 1. مستقل ہاتھ پاٶں ٹھنڈے رہناقلت الدم,فشارالدم ضعیف یا جریان وسیلان مزمن کی علامت ہے۔ 2.ہاتھ پاٶں ضرورت سے زیادہ گرم رہنا,سوزش معدہ امعاء,تیزابیت کی کثرت کی دلیل ہے۔ 3.

سید عبدالوہاب شاہمکمل تحریر پڑھیں←
قانون اربعہ طب مفرداعضاء اور نبضقانون اربعہ طب مفرد اعضاء
1,464

قانون اربعہ طب مفرداعضاء اور نبض

قانون اربعہ طب مفرداعضاء اور نبض (1) - سب سے پہلے نبض کے مقام اورنبض کا لمس ( گرم و سرد اور تر و خشک ) چیک کریں .پھر اس کے بعد اس کی طوالت (لمبائی چاروں پوروں تک چیک کریں ) پھر اس کا میلان ( مائل) یا

سید عبدالوہاب شاہمکمل تحریر پڑھیں←