ڈاکٹر ابراہیم کے گمراہ کن نظریات

ڈاکٹر ابراہیم کے گمراہ کن نظریات

سائنس یا سوفسطائیت؟ ڈاکٹر ابراہیم کے دعووں کا مکمل علمی، شرعی اور سائنسی پوسٹ مارٹم

سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں معلومات کا سیلاب ہے، وہیں “دینی رہنمائی” اور “جدید سائنس” کے نام پر توہم پرستی اور شیطانی عملیات کا ایک ایسا ملغوبہ پیش کیا جا رہا ہے جو نہ صرف عوام کے ایمان کے لیے خطرہ ہے بلکہ ان کی عقل و شعور کی بھی توہین ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم کی حالیہ ویڈیوز اس کی واضح مثال ہیں، جن میں وہ مٹی، گدھے، کتے، اور ہڈیوں کے ذریعے مسائل کے حل کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔

فہرست یہاں دیکھیں

ذیل میں ان کے مخصوص دعووں کا تفصیلی رد اور تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔


1. ایامِ بیض اور ازدواجی تعلقات: جھوٹی احادیث کا فتنہ

دعویٰ: ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ چاند کی 13، 14 اور 15 تاریخ (ایامِ بیض) کو شیاطین زمین پر اترتے ہیں اور ان دنوں میں میاں بیوی کا ملنا منع ہے، ورنہ اولاد نافرمان یا بیمار ہوگی۔

شرعی حقیقت: یہ دعویٰ رسول اللہ ﷺ پر صریح بہتان ہے۔ ذخیرہِ احادیث میں ایسی کوئی صحیح، حسن یا ضعیف حدیث بھی موجود نہیں جو ایامِ بیض میں میاں بیوی کے تعلق کو حرام یا مکروہ قرار دیتی ہو۔ اسلام میں یہ ایام روزے رکھنے کے لیے مستحب ہیں، نہ کہ خوفزدہ ہونے کے لیے۔ یہ نظریہ دراصل یہودی قبالہ (Kabbalah) یا قدیم جادوئی کتب سے لیا گیا ہے جسے حدیث کا نام دے کر پیش کرنا بدترین علمی خیانت ہے۔

عقلی و سائنسی پہلو: اگر ان تاریخوں میں پیدا ہونے والے بچے شیاطین کے اثر سے خراب ہوتے، تو دنیا کی ایک بڑی آبادی (جو ان تاریخوں میں کنسیو ہوئی) جسمانی یا ذہنی معذور ہوتی۔ میڈیکل سائنس اور جینیات (Genetics) میں چاند کی تاریخوں کا انسانی ڈی این اے پر منفی اثر ثابت نہیں ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم یہ نظریہ کہاں سے لائے

یہ ایک اہم اور علمی سوال ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم کا یہ دعویٰ کہ “ایامِ بیض (چاند کی 13، 14، 15 تاریخ) میں شیاطین اترتے ہیں اور میاں بیوی کو قربت نہیں کرنی چاہیے ورنہ اولاد پر اثر ہوگا”، اسلامی تعلیمات میں کہیں نہیں ملتا۔ لیکن جب ہم قدیم مذاہب اور خفیہ علوم (Occult Sciences) کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس نظریے کے ڈانڈے یہودی قبالہ (Kabbalah) اور قدیم جادوئی تصورات سے ملتے ہیں۔

اس کی تفصیلی دلیل اور پس منظر درج ذیل ہے:

1. یہودی قبالہ (Kabbalah) اور کتاب زوہر (Zohar)

یہودی تصوف کی سب سے بنیادی اور خفیہ کتاب “زوہر” (The Zohar) ہے۔ اس میں جنسی تعلقات اور روحوں کی تخلیق کے بارے میں عجیب و غریب نظریات پائے جاتے ہیں جو ڈاکٹر ابراہیم کے دعوے سے حیران کن حد تک مماثلت رکھتے ہیں۔

لیلتھ (Lilith) اور شیاطین کی پیدائش: قبالہ کے عقائد کے مطابق، “لیلتھ” نامی ایک مؤنث شیطان (Female Demon/Succubus) ہے۔ کتاب زوہر میں لکھا ہے کہ جب انسان جنسی عمل کے دوران پاکیزگی کا خیال نہیں رکھتا یا مخصوص ممنوعہ اوقات میں عمل کرتا ہے، تو “لیلتھ” وہاں موجود ہوتی ہے اور اس نطفے سے “شیطانی اولاد” یا بدروحیں (Shedim) پیدا کرتی ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم کا دعویٰ: ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا کہ “ان راتوں میں شیاطین اترتے ہیں اور اولاد نافرمان/شیطانی ہوتی ہے”، دراصل اسی “لیلتھ کے نظریے” کی اسلامی شکل بنانے کی کوشش ہے۔ اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں کہ شیطان انسان کے نطفے میں شریک ہو کر اولاد کو شیطان بنا دے (سوائے اس کے کہ بسم اللہ نہ پڑھی جائے، لیکن اس کا تعلق تاریخوں سے نہیں ہے)۔

2. چاند کی تاریخیں اور جادوئی اثرات (Moon Magic)

قدیم بابل (Babylon) اور یونان کے جادوئی کلچر میں “پورا چاند” (Full Moon – یعنی 13، 14، 15 تاریخ) بہت اہمیت رکھتا تھا۔

جادوگروں کا عقیدہ: جادوگروں کا ماننا ہے کہ چودہویں کا چاند (Full Moon) توانائی (Energy) کا سب سے بڑا منبع ہوتا ہے۔ قدیم جادوئی کتب (Grimoires) میں لکھا ہے کہ ان راتوں میں “روحانی دروازے” کھل جاتے ہیں اور جنات و شیاطین زمین پر زیادہ متحرک (Active) ہوتے ہیں۔

خوف کی فضا: بعض قدیم ملحدانہ (Pagan) فرقوں میں یہ عقیدہ تھا کہ چاند کی مکمل روشنی میں کی جانے والی قربت پر “چاند دیوتا” یا بدروحیں اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

اسلام کا ردِ عمل: اسلام نے آ کر ان توہمات کو توڑا۔ نبی کریم ﷺ نے انہی ایام (13، 14، 15) کو “ایامِ بیض” (روشن دن) قرار دیا اور ان میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی۔ جہاں جادوگر اسے “شیطانی راتیں” کہتے تھے، اسلام نے اسے “عبادت کے دن” بنا دیا۔ ڈاکٹر ابراہیم اسلام کے “نور” والے تصور کو چھوڑ کر واپس اسی قدیم جادوئی “خوف” کو زندہ کر رہے ہیں۔

3. قرونِ وسطیٰ کی عیسائی اور یہودی خرافات

قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) میں یہ توہمات عام تھے کہ مخصوص ستاروں کی پوزیشن یا چاند کی تاریخوں میں پیدا ہونے والے بچے “معلون” (Cursed) یا “بھیڑیا صفت” (Werewolf) ہوتے ہیں۔

یہ تصور کہ “فلان تاریخ کو قربت کرنے سے بچہ شیطان ہوگا”، دراصل ان فرسودہ یورپی اور اسرائیلی روایات (Isra’iliyat) کا حصہ ہے جو مسلمانوں میں غیر مستند واعظین کے ذریعے داخل ہوئیں۔

4. “شرک فی الاسباب” اور سائنسی لبادہ

ڈاکٹر صاحب نے ویڈیو میں کہا کہ ان دنوں میں “کیمسٹری” بدل جاتی ہے اور “فریکوئنسی” ہائی ہوتی ہے۔ یہ جدید الفاظ کا سہارا لے کر وہی پرانا قبالہ کا فلسفہ بیچ رہے ہیں۔

حقیقت: قبالہ میں بھی “توانائی کے بہاؤ” (Flow of Energy/Sefirot) کی بات ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی “فریکوئنسی” والی بات اسی فلسفے (Mysticism) کا جدید نام ہے۔

اسلامی موقف کیا ہے؟

اسلام میں قربت کے لیے کوئی دن یا تاریخ منحوس نہیں ہے۔

قرآن: “تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں آؤ” (سورۃ البقرہ: 223)۔ اس میں چاند کی تاریخوں کی کوئی قید نہیں لگائی گئی۔

سنت: نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی زندگی میں کبھی ایامِ بیض میں قربت سے اجتناب کا حکم نہیں ملتا۔ صرف حیض، نفاس، روزہ (دن کے وقت) اور احرام کی حالت میں ممانعت ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم کا یہ نظریہ کہ “ایامِ بیض میں شیاطین نطفے میں شریک ہوتے ہیں”، براہِ راست یہودی قبالہ کے “لیلتھ” کے افسانے اور قدیم جادوگروں کے “فل مون میجک” سے لیا گیا ہے۔ اسے حدیثِ رسول ﷺ کہنا ایک بہت بڑی جسارت اور علمی بددیانتی ہے۔


2. مٹی کے عملیات: توہم پرستی یا جادو؟

دعویٰ: گدھے کے لوٹنے والی مٹی سے رشتے طے ہونا، کالی بلی، کالے کتے کی مٹی، مزار کی مٹی بے شک اس مزار میں گدھا، کتا یہاں تک سور بھی دفن ہو، اور مسان گھاٹ کی مٹی۔ اہل تشیع کی وہ مٹی جس پر وہ سجدہ کرتے ہیں ان سب میں اثرات ہوتے ہیں اور انہیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جس میں غیب جاننا، تسخیر، بندش کھولنا وغیرہ شامل ہیں۔

  • شرعی محاسبہ: ڈاکٹر صاحب نے سامری جادوگر کی مثال دی کہ اس نے حضرت جبرائیلؑ کے قدموں کی مٹی سے بچھڑا بنایا۔ قرآن نے سامری کے عمل کو “گمراہی” اور “فتنہ” کہا ہے، جبکہ ڈاکٹر صاحب اسے مٹی کی تاثیر کی “دلیل” بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ کیا مسلمان اب انبیاء کی سنت چھوڑ کر سامری جادوگر کی پیروی کریں گے؟

  • مسان گھاٹ کی حقیقت: مسان گھاٹ (شمشان) کی مٹی کا تذکرہ ثابت کرتا ہے کہ ان کے علم کا ماخذ اسلامی نہیں بلکہ ہندووانہ تانترک ودیا اور کالا جادو ہے۔ اسلام میں نجاست (مردے جلانے کی راکھ) میں شفا کا کوئی تصور نہیں۔

  • عقلی پہلو: عقلِ سلیم یہ ماننے سے قاصر ہے کہ ایک گدھے کے زمین پر لوٹنے سے وہاں کی کیمسٹری میں ایسی تبدیلی آجاتی ہے کہ وہ انسانی جذبات کو تبدیل کر کے رشتہ طے کروا دے۔ اگر مٹی میں یہ طاقت ہوتی تو دنیا سے تمام تنازعات اور جنگیں ختم ہو چکی ہوتیں۔

سور (خنزیر) کی قبر کی مٹی

ڈاکٹر ابراہیم کا یہ کہنا کہ “مزار میں (نعوذ باللہ) سور، گدھا یا کتا بھی دفن ہو تو مٹی اثر کرے گی اور اس مٹی سے کینسر ٹھیک ہو جائے گا،  کیونکہ یہ کیمسٹری ہے”۔

ڈاکٹر ابراہیم کا یہ کہنا محض ایک طبی یا سائنسی مغالطہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہندو فلسفہ “حلول و اتحاد” (Pantheism)  کی بگڑی ہوئی شکل سے متاثر ہے۔

اس نظریے کی تفصیل درج ذیل تین نکات میں سمجھی جا سکتی ہے:

1. نظریہ حلول (Incarnation/In-dwelling)

تصور: ہندو مت کے بعض فرقوں (جیسے اَدویت ویدانت) کا عقیدہ ہے کہ خدا کائنات کی ہر چیز میں سرایت کر گیا ہے (حلول کر گیا ہے)۔ ان کے نزدیک کائنات کی ہر شے، خواہ وہ پاک ہو یا ناپاک، اس میں بھگوان کا روپ موجود ہے۔

تطبیق: جب ڈاکٹر صاحب یہ کہتے ہیں کہ مزار کے اندر دفن شدہ ہستی (انسان ہو یا نجس جانور) سے فرق نہیں پڑتا، بلکہ مٹی کی تاثیر اہم ہے، تو وہ دراصل اسی نظریے کی تشہیر کر رہے ہیں کہ مادہ (Matter) بذاتِ خود مقدس یا بااثر ہے، چاہے اس کا منبع کتنا ہی ناپاک کیوں نہ ہو۔ اسلام میں نجاست اور پاکیزگی کے درمیان واضح لکیر ہے، جبکہ نظریہ حلول میں یہ لکیر مٹ جاتی ہے۔

2. نجاست میں تاثیر کا تانترک عقیدہ

مسان اور اگھوری فلسفہ: ہندو مت کے تانترک اور اگھوری (Aghori) فرقوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ روحانی طاقت حاصل کرنے کے لیے پاکیزگی ضروری نہیں، بلکہ نجس اشیاء (جیسے انسانی گوشت، راکھ، یا غلیظ مقامات) میں زیادہ طاقت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا بیانیہ: ان کا یہ کہنا کہ مزار کے اندر سور بھی ہو تو مٹی کام کرے گی، دراصل اگھوری فلسفے کی بازگشت ہے۔ یہ نظریہ یہ باور کراتا ہے کہ مادی تاثیر (کیمسٹری) روحانی یا اخلاقی پاکیزگی سے بالاتر ہے، جو کہ صریحاً اسلام کے “تصورِ طہارت” کے خلاف ہے۔

3. اگھوری فلسفہ

اگھوری فلسفہ دراصل ہندومت کے ایک انتہائی انتہاپسند، باطنی اور صوفیانہ مکتبِ فکر اگھور پنتھ سے وابستہ ہے۔ یہ فلسفہ عام مذہبی اخلاقیات، سماجی اقدار اور روایتی پاک و ناپاک کے تصورات کو توڑنے پر قائم ہے۔

سادہ الفاظ میں، اگھوری یہ مانتے ہیں کہ کائنات میں کوئی چیز بذاتِ خود ناپاک یا حرام نہیں بلکہ ہر شے ایک ہی مطلق حقیقت کا حصہ ہے۔ اسی سوچ کی بنیاد پر وہ ایسے اعمال کرتے ہیں جو عام انسان کے لیے خوفناک، ناپسندیدہ یا مکروہ سمجھے جاتے ہیں۔

اگھوری فلسفے کے مطابق نجات اور معرفت تب حاصل ہوتی ہے جب انسان خوف، کراہت، نفرت اور سماجی ممنوعات سے بالکل آزاد ہو جائے۔ اسی مقصد کے لیے وہ جان بوجھ کر قبرستانوں، شمشان گھاٹوں میں رہتے ہیں، راکھ ملتے ہیں، بعض اوقات انسانی ہڈیوں کے پیالے استعمال کرتے ہیں اور بعض روایات میں مردار یا انسانی لاش کے قریب ریاضت کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک پاک اور ناپاک، خیر اور شر، حلال اور حرام جیسی تقسیمات محض انسانی ذہن کی بنائی ہوئی ہیں۔ جب تک انسان ان حد بندیوں کو توڑ نہیں دیتا، وہ حقیقی وحدت تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی وجہ سے اگھوری فلسفہ عام ہندو دھارے میں بھی ہمیشہ متنازع رہا ہے اور اکثریت اسے انتہاپسند اور گمراہ سمجھتی ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم مٹی کی جس “کیمسٹری” کی بات کر رہے ہیں، وہ دراصل مادی وجود کو ایک ایسی خود مختار طاقت دے رہے ہیں جو صاحبِ مزار کی نسبت (اللہ والے کی برکت) سے آزاد ہے۔ یہ کہنا کہ “اندر کوئی بھی ہو مٹی اثر کرے گی”، مزار کی نسبت کو ختم کر کے اسے ایک “جادوئی مٹی” کا ڈھیر بنا دیتا ہے، جہاں پاک و ناپاک کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔

خلاصہ و علمی رد

شرعی رد: اسلام میں نجاست (سور، کتا وغیرہ) برکت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے شفا کو پاکیزگی میں رکھا ہے، غلاظت میں نہیں۔ یہ کہنا کہ نجس جانور کی موجودگی مٹی کو بااثر بنائے گی، توہینِ مزارات بھی ہے اور شرک کی ایک قبیح شکل بھی۔

عقلی رد: اگر مٹی کی اپنی ہی کیمسٹری تھی تو پھر اسے “مزار” کا لیبل دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ وہ کسی بھی گڑھے کی مٹی ہو سکتی تھی۔ یہاں مزار کا نام لینا صرف لوگوں کی عقیدت کو شکار کرنا ہے۔

اگر مزار کی مٹی سے کینسر ٹھیک ہوتا تو اربوں کھربوں روپے خرچ کرکے ہسپتال نا بنائے جاتے، اور ہزاروں مریض ہسپتالوں کے بیڈز پر نا پڑے ہوتے۔

سائنسی رد: مردار (نجس جانور) کے گلنے سڑنے سے مٹی میں خطرناک جراثیم (Pathogens) پیدا ہوتے ہیں، جو کینسر یا بانجھ پن کا علاج نہیں بلکہ انفیکشن اور موت کا سبب بن سکتے ہیں۔


3. حضرت موسیٰ علیہ السلام اور “سسٹم انسٹالیشن”

دعویٰ: وادیِ مقدس میں حضرت موسیٰؑ کو جوتے اتارنے کا حکم اس لیے ملا تاکہ ان کی باڈی “ارتھ” (Earth) ہو اور نبوت کا سسٹم انسٹال ہو سکے۔

  • علمی رد: یہ قرآن کی تفسیر بالرائے کی بدترین مثال ہے۔ مفسرین کا اجماع ہے کہ جوتے اتارنے کا حکم وادیِ طویٰ کے ادب اور احترام کی وجہ سے تھا، یا اس لیے کہ جوتے کے ساتھ کوئی گندگی وغیرہ لگے ہونے کا امکان تھا۔ اسے “الیکٹرک ارتھنگ” یا “سافٹ ویئر انسٹالیشن” کہنا معجزے کی روحانیت کو ختم کر کے اسے مادی ٹیکنالوجی قرار دینے کی بھونڈی کوشش ہے۔


4. استخارہ، کشف اور “ویڈیو” نظر آنا

دعویٰ: اللہ والے کے قدموں کی مٹی تکیے کے نیچے رکھنے سے استخارے میں ویڈیو چلتی ہے اور غیب نظر آتا ہے۔

  • شرعی نقطہ نظر: استخارہ کا مطلب “اللہ سے خیر طلب کرنا” ہے، نہ کہ غیب کی خبریں جاننا یا فیچر فلم دیکھنا۔ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ کسی مٹی کے ذریعے غیب دانی کا دعویٰ کرنا انسان کو شرک کے دہانے پر لے جاتا ہے۔

  • نفسیاتی پہلو: جب انسان کو یقین دلایا جائے کہ اسے کچھ نظر آئے گا، تو اس کا لاشعور اسے خواب میں وہی خیالات دکھاتا ہے۔ یہ کشف نہیں بلکہ “پلاسیبو ایفیکٹ” اور نفسیاتی واہمہ ہے۔


5. تسخیر، کالی مرچ اور دیوار پر نظریں

دعویٰ: آیت قطب (آل عمران: 154) کو 108 مرتبہ پڑھ کر کالی مرچ یا دیوار پر نظریں جمانے سے لوگوں کو مسخر کیا جا سکتا ہے۔

حقیقت: یہ عمل ہپناٹزم (Hypnotism) اور یوگا کی مشق “تراٹک” کی نقل ہے۔ قرآن کریم کی آیات ہدایت کے لیے ہیں، لوگوں کے ذہنوں کو غلام بنانے یا تسخیر کے لیے نہیں۔ شریعت میں کسی انسان کو اس کی مرضی کے خلاف جادو یا عملیات کے زور پر مسخر کرنا جائز نہیں ہے۔

قرآن کا غلط استعمال: قرآنِ کریم ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے، لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول کرنے (تسخیر) یا جادوئی کرتب دکھانے کے لیے نہیں۔ آیت نمبر 154 (آیتِ قطب) جنگِ احد کے بعد مسلمانوں کو تسلی دینے کے لیے تھی، اسے “ہپناٹزم” کے لیے استعمال کرنا قرآن کی معنوی تحریف ہے۔

عدد 108 کا راز: ڈاکٹر صاحب نے 108 مرتبہ پڑھنے کا کہا۔ یاد رہے کہ 108 کا ہندسہ ہندو مت اور بدھ مت میں مقدس مانا جاتا ہے (ان کی مالا میں 108 دانے ہوتے ہیں)۔ اسلامی وظائف میں عموماً طاق اعداد (3، 7، 11) یا 100 کا ذکر ملتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عمل اسلامی نہیں بلکہ غیر مسلم یوگیوں سے مستعار لیا گیا ہے۔

حضرت موسیٰؑ پر بہتان: وادیِ مقدس میں حضرت موسیٰؑ کا جوتے اتارنا ایک “ادبی اور تعظیمی” عمل تھا۔ اسے “ارتھنگ” (Earthing) یا “سسٹم انسٹالیشن” کہنا انبیاء کے معجزات کو مادی ٹیکنالوجی کے ترازو میں تولنے کی گستاخانہ کوشش ہے۔

  • سائنسی حقیقت: دیوار پر کالی مرچ لگا کر ایک ٹک دیکھنا دراصل یوگا کی قدیم مشق “تراٹک” ہے۔ سائنس اسے Self-Hypnosis کہتی ہے۔ اس سے سامنے والے بندے پر کوئی “نیگیٹو یا پازیٹو” انرجی نہیں جاتی، یہ محض آپ کے اپنے دماغ کی تھکن ہے۔


6. کیمسٹری کے 327 عناصر اور ڈیجیٹل سائنس

دعویٰ: عناصر 118 نہیں 327 ہیں، جو کوانٹم لیول اور فریکوئنسی پر ہیں اور نظر نہیں آتے۔

  • سائنسی جائزہ: جدید سائنس میں پیریوڈک ٹیبل (Periodic Table) کے مطابق کل 118 عناصر دریافت شدہ ہیں۔ 327 عناصر کا دعویٰ سائنسی بنیادوں پر بالکل غلط اور من گھڑت ہے۔ کوانٹم فزکس میں بھی ہر چیز قابلِ پیمائش ہوتی ہے، محض الفاظ کے ہیر پھیر سے جھوٹ سچ نہیں بن جاتا۔ اگر واقعی 327 عناصر موجود ہوتے تو ان کا ذکر کسی یونیورسٹی کے نصاب میں ہوتا، نہ کہ صرف عملیات کی غیر مستند ویڈیوز میں۔

    Periodic Table of the Elements
    ڈاکٹر ابراہیم کے گمراہ کن نظریات

یہ بات ذرا توجہ اور گہرائی سے سمجھنے کی ہے، کیونکہ “327 عناصر” کا دعویٰ کرنے والے لوگ بظاہر مختلف نظر آتے ہیں، مگر ان سب کا طریقۂ فکر ایک جیسا ہوتا ہے۔ اسی لیے بات کو واضح اور آسان انداز میں سمجھنا ضروری ہے تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ 327 عناصر کا دعویٰ کرنے والے نہ کیمسٹری کے ماہر ہوتے ہیں، نہ فزکس کے، نہ ہی مستند اطباء یا فلسفی۔ یہ عدد دراصل ایک خاص باطنی اور غیر سائنسی ذہنیت کی پیداوار ہوتا ہے، جس کا حقیقی علم سے کوئی تعلق نہیں۔

پہلا طبقہ :ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اعداد، حروف اور ابجدی نظام کے ذریعے کائنات کو سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک حروفِ ابجد، اسماء، عددی مجموعے اور خاص نمبرز کو کائناتی راز کہا جاتا ہے۔ 327 کا عدد عموماً حروف کے جوڑ یا کسی من گھڑت عددی فارمولے سے نکال لیا جاتا ہے اور پھر اسے کائنات کے عناصر کی تعداد قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں نہ تجربہ ہوتا ہے، نہ مشاہدہ اور نہ کوئی مادّی ثبوت، بلکہ صرف اعداد کا کھیل ہوتا ہے۔

دوسرا طبقہ :جعلی عاملوں اور عملیات بیچنے والوں کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ روحانی علاج، تعویذات اور خاص علوم کے نام پر دعویٰ کرتے ہیں کہ عناصر چار یا بارہ نہیں بلکہ سینکڑوں ہیں، جو عام سائنس کی پہنچ سے باہر ہیں۔ پھر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ عناصر جنات، کشف یا خاص عملیات کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں۔ 327 جیسے نمبرز عام لوگوں پر رعب ڈالنے اور اپنی بات کو پراسرار بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جو دراصل ایک تجارتی چال ہوتی ہے۔

تیسرا طبقہ :جدید جعلی سائنس پیش کرنے والوں کا ہے۔ یہ لوگ سائنس کی زبان اور اصطلاحات چرا کر استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عناصر فریکوئنسی پر کام کرتے ہیں، نادیدہ ہیں، کوانٹم نوعیت کے ہیں یا مستقبل کی سائنس ہیں۔ حالانکہ نہ ان کا کیمیائی وزن بتایا جاتا ہے، نہ ساخت، نہ کوئی تجربہ، نہ پیریاڈک ٹیبل میں ان کی جگہ، اور نہ کسی مستند سائنسی جریدے میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ یہ سب خالص جعلی سائنس ہوتی ہے۔

چوتھا طبقہ: ان لوگوں کا ہے جو مذہب کو زبردستی ایسے دعوؤں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات دین کو بدنام بھی کر دیتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن میں 327 کی طرف اشارہ ہے یا اسماء الحسنیٰ کے نظام سے یہ عدد نکلتا ہے۔ حالانکہ نہ قرآن میں، نہ صحیح احادیث میں اور نہ معتبر تفاسیر میں ایسا کوئی تصور موجود ہے۔ یہ دین کا دفاع نہیں بلکہ دین کو غیر سائنسی باتوں میں الجھانا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگ “عنصر” کی تعریف ہی بدل دیتے ہیں۔ سائنس میں عنصر اس مادے کو کہتے ہیں جو ایک ہی قسم کے ایٹم سے بنا ہو، جس کا ایٹمی نمبر ہو اور جس کی واضح شناخت موجود ہو۔ جبکہ ان لوگوں کے نزدیک عنصر کا مطلب اثر، قوت، لہری کیفیت یا کوئی خیالی خاصیت ہوتا ہے۔ تعریف بدل کر تعداد بڑھا دی جاتی ہے اور یوں سینکڑوں عناصر کا دعویٰ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ 327 عناصر کا دعویٰ علم اور تحقیق پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ اعدادی، باطنی، تجارتی یا جعلی روحانی نظام کی پیداوار ہوتا ہے۔ یہ نہ جدید سائنس ہے، نہ مستند طب اور نہ معتبر دینی تعلیمات کا حصہ۔


7. بندش اور “تالے” کا ٹوٹکا

دعویٰ: تین تالے خریدیں، ایک سرہانے رکھیں، پھر مرد اسے مسجد اور عورت مزار پر رکھ آئے۔ جب کوئی چابی سے تالا کھولے گا تو آپ کی بندش ختم ہو جائے گی۔

  • شرعی تضاد: تالے سے تقدیر بدلنے کا عقیدہ رکھنا “بدفالی” اور “شرکِ اصغر” کے قریب ہے۔ عورتوں کو مزار پر جانے کی ترغیب دینا بذاتِ خود ایک غیر شرعی عمل ہے۔

  • عقلی رد: تالے کے اندر اسپرنگ اور لیور ہوتے ہیں۔ اس کا آپ کی جاب، شادی یا کاروبار کی رکاوٹ سے کوئی میکینیکل یا سماجی تعلق نہیں ہے۔ اگر تالوں سے تقدیر بدلتی تو تالے بنانے والے دنیا کے خوش قسمت ترین لوگ ہوتے۔

  • ۔ نیز مسجد میں تالے پھینکنا اللہ کے گھر کی بے حرمتی ہے۔اور عورتوں کو مسجد نا جانے اور مزار پر جانے کی ترغیب دینا بھی غلط ہے۔

8۔ ڈاکٹر ابراہیم کی کلائی پر بندھا ہوا دھاگہ

ویڈیو میں ڈاکٹر ابراہیم کی کلائی پر بندھا ہوا دھاگہ ان کے پورے بیانیے کی عملی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔ اس کا جائزہ بھی ہم انہی تین بنیادوں پر لے سکتے ہیں:

  1. شرعی جائزہ

عقیدہ و توکل: اسلام میں نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ کی ذات کو مانا گیا ہے۔ اگر یہ دھاگہ اس نیت سے باندھا گیا ہے کہ یہ بلاؤں کو ٹالے گا یا شفا دے گا، تو احادیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں پیتل کا چھلا دیکھ کر فرمایا تھا کہ “اسے اتار دو، یہ تمہاری کمزوری میں ہی اضافہ کرے گا” (مسند احمد)۔

تشبہ بالغیر: اسلام میں “تشبہ بالکفار” (غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنا) سے منع کیا گیا ہے۔ کلائی پر رنگین دھاگہ (جسے ہندو مت میں ‘کلاوا’ یا ‘مولی’ کہا جاتا ہے) باندھنا ان کی مذہبی شناخت ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے (ابو داؤد)۔

نظریہ حلول و اتحاد: ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا کہ مزار میں “سور” بھی ہو تو مٹی کام کرے گی، یہ دراصل “وحدت الوجود” کی اس بگڑی ہوئی شکل کی طرف اشارہ ہے جو کہ ہندو فلسفے (Adwaita) سے مماثلت رکھتا ہے، جہاں ہر چیز میں بھگوان کا تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام میں نجاست اور پاکیزگی کے درمیان واضح لکیر ہے، جسے ڈاکٹر صاحب مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  1. عقلی جائزہ

تضادِ بیانی: ڈاکٹر صاحب ایک طرف “سائنس” اور “ڈیجیٹل ورلڈ” کی باتیں کر رہے ہیں اور دوسری طرف ایک دھاگے کو کلائی پر سجائے ہوئے ہیں۔ عقل یہ سوال کرتی ہے کہ اگر وہ اتنے بڑے “سائنسدان” ہیں جو 327 عناصر کا علم رکھتے ہیں، تو وہ ایک مادی مسئلے کے حل کے لیے دھاگے جیسے غیر سائنسی ذریعے کا سہارا کیوں لے رہے ہیں؟

لیکن ان کا طریقہ کار (دھاگہ، گدھے کی مٹی، مخصوص رنگوں کی اصطلاحات) خالصتاً ہندوانہ جادو ٹونے اور “تانترک ودیا” کی عکاسی کرتا ہے، جس کا وہ خود بھی ویڈیو میں اعتراف کر رہے ہیں۔

نفسیاتی اثر: عام طور پر ایسے دھاگے لوگوں کو یہ تاثر دینے کے لیے باندھے جاتے ہیں کہ پہننے والا کسی خاص “روحانی” یا “طلسماتی” قوت کا حامل ہے، جو کہ ایک طرح کا نفسیاتی رعب قائم کرنے کا حربہ ہو سکتا ہے۔

  1. سائنسی جائزہ

 سائنسی نقطہ نظر سے ایک سوتی یا ریشمی دھاگے کا انسانی جسم کے اندرونی نظام، خلیات کی افزائش، یا تقدیر کے بدلنے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی ایسی مقناطیسی یا برقی لہریں نہیں ہوتیں جو کینسر یا ہڈی ٹوٹنے جیسے طبی مسائل کو حل کر سکیں۔

 سائنس میں کسی بھی دھاگے یا رنگ کی مادی تاثیر اس وقت تک تسلیم نہیں کی جاتی جب تک وہ کسی کیمیائی عمل (Chemical Process) سے نہ گزرے۔ ہندو مت میں رنگوں کے ذریعے “چکروں” (Chakras) کو متوازن کرنے کا تصور پایا جاتا ہے۔

نتیجہ: ڈاکٹر صاحب کا دھاگہ باندھنا ان کے اس دعوے کی عملی شکل ہے کہ “جادو ہی دراصل سائنس ہے”۔ وہ قدیم توہمات کو جدید اصطلاحات کا لبادہ پہنا کر پیش کر رہے ہیں، جو علمی اور طبی لحاظ سے کسی بھی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

ڈاکٹر ابراہیم کے اس بیانیے میں اسلامی تصوف، ہندووانہ تانترک ودیا اور ادھوری سائنس کا ایک عجیب ملغوبہ (Mix) بنایا گیا ہے۔ مزار کی مٹی کے بارے میں ان کا “سور” والا جملہ اور کلائی پر دھاگہ، دونوں چیزیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ان کا منبع اسلامی تعلیمات سے زیادہ برصغیر کی قدیم دیومالائی کہانیاں اور غیر مسلم رسومات ہیں۔


9۔ دعویٰ: میتھولوجی (اساطیر) کو ڈیجیٹل کرنا ہی سائنس ہے

ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ “میتھولوجی کو کنورٹ کریں گے ڈیجیٹل ورلڈ میں تو وہ سائنس کہلاتی ہے” اور “جو کل کالا جادو تھا آج وہ سائنس ہے”۔

شرعی جائزہ: اسلام جادو اور معجزے/کرامت میں واضح فرق کرتا ہے۔ جادو شیطانی اثرات اور باطل قوتوں سے مدد لینے کا نام ہے، جبکہ سائنس اللہ کی بنائی ہوئی کائنات کے مادی قوانین کو سمجھنا ہے۔ جادو کو سائنس کا پیش خیمہ قرار دینا ایک گمراہ کن تصور ہے کیونکہ جادو ایک ممنوعہ عمل ہے جبکہ تسخیرِ کائنات (سائنس) کی قرآن ترغیب دیتا ہے۔

عقلی جائزہ: میتھولوجی قصے کہانیوں اور مافوق الفطرت مفروضوں پر مبنی ہوتی ہے، جبکہ سائنس “قابلِ مشاہدہ” اور “قابلِ پیمائش” حقائق کا نام ہے۔ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ محض کسی داستان کو ڈیجیٹل کر دینے سے وہ حقیقت بن جائے۔ ریڈیو لہروں کا دریافت ہونا سائنسی عمل ہے، اسے قدیم قصوں کے “ہاتف” (غیبی آواز) سے جوڑنا صرف ایک تشبیہ ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں۔

سائنسی جائزہ: سائنس کا بنیادی ستون سائنسی طریقہ کار (Scientific Method) ہے۔ اس میں مفروضہ، مشاہدہ، تجربہ اور پھر نتیجہ نکالا جاتا ہے۔ میتھولوجی میں تجربے اور ثبوت کی گنجائش نہیں ہوتی۔ سائنس جادو کے کرشموں کو نہیں مانتی بلکہ مادی اسباب کو تسلیم کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جادو اور سائنس ایک ہی چیز ہے، بس ڈیجیٹل ہونے کے بعد اسے سائنس کہا جانے لگا۔

 اسلام میں جادو (Sihr) ایک حقیقت ہے لیکن اسے شیطانی عمل قرار دے کر حرام کیا گیا ہے۔ جادو کو سائنس کا نام دے کر جائز قرار دینا یا اسے ٹیکنالوجی کہنا شرعی حدود کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

 سائنس مشاہدے، تجربے اور منطق پر مبنی ہے جس کے نتائج ہر شخص کے لیے یکساں ہوتے ہیں۔ جادو وہم، تخیل اور بعض اوقات دھوکہ دہی پر مبنی ہوتا ہے۔ دونوں کو ایک ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔

 سائنس قوانینِ قدرت (Laws of Nature) کے تحت کام کرتی ہے، جبکہ جادو ان قوانین کو توڑنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ٹیلی فون یا انٹرنیٹ جادو نہیں بلکہ برقی مقناطیسی لہروں کا مرہونِ منت ہے، جس کی مکمل ریاضیاتی اور مادی وضاحت موجود ہے۔


خلاصہ و نتیجہ

ڈاکٹر ابراہیم کے بیانات کا مجموعی جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:

  1. ماخذِ علم: ان کے علم کا زیادہ تر حصہ یہودی قبالہ، ہندووانہ رسومات اور من گھڑت روایات پر مبنی ہے۔

  2. سائنسی لبادہ: وہ ان فرسودہ خیالات کو “کیمسٹری”، “فریکوئنسی” اور “کوانٹم” جیسے الفاظ کا تڑکا لگا کر جدید نسل کو متاثر کر رہے ہیں۔

  3. عقائد کا بگاڑ: ان کے بتائے ہوئے ٹوٹکے لوگوں کو اللہ پر توکل کرنے کے بجائے مٹی، تالوں اور جادوئی عملیات کا محتاج بنا رہے ہیں۔

عوام الناس کے لیے پیغام: خدارا! اپنے دین اور دنیا کو ان توہمات سے بچائیں۔ مسائل کا حل قرآن و سنت کی پیروی، مسنون دعاؤں، اور عقل و شعور کے استعمال میں ہے۔ 

Related posts

Leave a Reply