مجلس اتحاد امت پاکستان کا مشاورتی اجلاس

مجلس اتحاد امت پاکستان کے مشاورتی اجلاس

مجلس اتحاد امت پاکستان کا مشاورتی اجلاس

کراچی: مفتی تقی عثمانی کی میزبانی میں تمام مکاتبِ فکر کا مجلس اتحاد امت پاکستان تاریخی اجلاس، 10 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری

کراچی (نکتہ نیوز): ملک کے ممتاز جید عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی کی دعوت پر کراچی میں تمام مکاتبِ فکر اور دینی تنظیموں کا ایک اہم مشاورتی و عملی نمائندہ اجتماع منعقد ہوا۔

پیر (یکم رجب 1447ھ بمطابق 22 دسمبر 2025ء) کو ہونے والے اس اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن، مفتی منیب الرحمٰن، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، شاہ اویس نورانی، علامہ افتخار نقوی، شیخ شجاع الدین اور ابتسام الہٰی ظہیر سمیت تمام مسالک کے جید علماء اور قائدین نے شرکت کی۔

مجلس اتحاد امت پاکستان کے مشاورتی اجلاس
مجلس اتحاد امت پاکستان کے مشاورتی اجلاس

مجلس اتحاد امت پاکستان کے مشاورتی اجلاس کا اعلامیہ جاری

اجلاس کے اختتام پر ایک 10 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں ملک کی سیاسی، آئینی اور عالمی صورتحال پر دو ٹوک موقف اختیار کیا گیا ہے۔

1. غزہ میں پاکستانی فوج بھیجنے کی مخالفت

اعلامیہ میں فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ علماء نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے غزہ میں اپنی افواج بھیجنے کے کسی بھی عالمی دباؤ کو قبول نہ کرے۔ اعلامیہ کے مطابق، پاکستانی فوج جذبہ جہاد سے سرشار ہے اور اسے کسی بھی ایسی مہم کا حصہ بنانا ناممکن ہے جو آزادیِ فلسطین کی جدوجہد کے خلاف ہو۔

2. استثنیٰ کے قانون پر دو ٹوک موقف

اجلاس میں مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمٰن نے آئینی استثنیٰ کے معاملے پر سخت موقف اپنایا۔ علماء نے صدرِ مملکت اور فیلڈ مارشل کو حاصل استثنیٰ کو اسلامی تعلیمات کے صریح متصادم قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مفتی منیب الرحمٰن نے اس حوالے سے انتہائی دبنگ انداز میں سلفِ صالحین کی روایت کو تازہ کیا۔

3. پاک افغان تعلقات اور مذاکرات

مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر علماء نے پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے، جنگ کسی صورت مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔

4. نفاذِ شریعت اور آئینی ترامیم

اجلاس میں آئینِ پاکستان کی دفعہ 227 کے تحت تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کا مطالبہ کیا گیا۔

26 ویں ترمیم: اسے ایک مستحسن قدم قرار دیا گیا۔

27 ویں ترمیم: اس حوالے سے بھی شرکاء نے اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں۔

وفاقی شرعی عدالت: مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی شرعی عدالت میں ججوں کی تقرری میرٹ پر کی جائے اور علماء ججوں کو ان کا جائز مقام دیا جائے۔

5. مسلح جدوجہد اور داخلی امن

مفتی تقی عثمانی نے پاکستان کی حدود میں ریاست کے خلاف کسی بھی قسم کی مسلح جدوجہد کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ نفاذِ شریعت کے لیے پرامن اور آئینی راستہ ہی اختیار کیا جانا چاہیے۔

6. دیگر اہم نکات

اجلاس میں ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کی خامیوں، مدارس کی رجسٹریشن کے مسائل اور جون 2025 میں اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور ان کے حوالے سے متفقہ تجاویز دی گئیں۔

تجزیہ: “حق کا ساتھ دینے کا وقت”

تجزیہ کاروں کے مطابق مفتی تقی عثمانی نے اپنی عمر کے اس حصے میں تمام مکاتبِ فکر کو ایک چھت تلے جمع کر کے ایک بڑا اور مشکل فیصلہ کیا ہے۔ ایسے وقت میں جب طاقتور حلقوں کی خوشنودی حاصل کرنا عام ہو چکا ہے، ان علماء کا کلمہ حق بلند کرنا آخرت کے لیے ایک نفع بخش سودا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے باوجود، یہ اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے جید علماء قومی و ملی مسائل پر یکجا ہیں۔

نکتہ گائیڈنس ویب سائٹ تمام قارئین سے اپیل کرتی ہے کہ کلمہ حق کہنے والوں کا ساتھ دیں اور رنگ، نسل اور فرقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر حق کی آواز کو مضبوط بنائیں۔

عوامی و دینی حلقوں کا ردِعمل: “سرکاری اجتماع بمقابلہ عوامی نمائندہ جرگہ”
اس حالیہ اجتماع کے حوالے سے عوامی اور سماجی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ چند روز قبل وفاقی دارالحکومت کے کنونشن سینٹر میں ہونے والا علماء کنونشن اور کراچی کا یہ حالیہ “مجلسِ اتحادِ امت” کا اجلاس اپنی ماہیت میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

علماءِ حق اور عوام کے ایک بڑے حلقے کا ماننا ہے کہ:

حقیقی نمائندگی کا فرق: کنونشن سینٹر کا اجتماع محض ان شخصیات پر مشتمل تھا جو عموماً ہر دور کے حکمران اور مقتدر حلقوں کی “ہاں میں ہاں” ملانے کے عادی ہیں، جس کی وجہ سے اسے عوامی سطح پر ‘سرکاری نشست’ قرار دیا گیا۔ اس کے برعکس کراچی کا یہ اجلاس مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں منعقد ہوا، جس میں ملک کے وہ بڑے نام شامل تھے جن کی علمی اور سیاسی جڑیں براہِ راست عوام میں پیوست ہیں۔

دو ٹوک موقف: جہاں سرکاری اجتماعات میں اکثر مصلحت پسندی سے کام لیا جاتا ہے، وہیں کراچی کے اس اعلامیہ میں غزہ میں فوج بھیجنے کی مخالفت اور آئینی استثنیٰ جیسے حساس موضوعات پر دبنگ گفتگو کی گئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اجتماع کسی حکومتی ایجنڈے کی تکمیل نہیں بلکہ خالصتاً دینی و قومی مفادات کی پاسبانی کے لیے تھا۔

سوداگری بمقابلہ کلمہ حق: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طاقتور حلقوں کی خوشنودی حاصل کرنا بہت سے علماء کا وطیرہ بن چکا ہے، جو کہ دنیاوی اعتبار سے فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر کراچی کے اس اجلاس میں شریک علماء نے مشکل حالات میں کلمہ حق کہہ کر ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی عہدے یا مراعات کے بدلے ملت کے مفاد کا سودا نہیں کریں گے۔

نتیجہ: کراچی کا یہ نمائندہ اجتماع اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے حقیقی قائدین آج بھی ایک صفحے پر ہیں اور وہ کسی بھی ایسے فیصلے کو قبول نہیں کریں گے جو آئینِ پاکستان اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہو۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ان علماء کی پہچان کریں جو صرف عہدوں کے لیے نہیں بلکہ حق کی سربلندی کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔

Related posts

Leave a Reply