​حکماء برادری کا ملک گیر احتجاج

IMG 20260111 WA0013 1

​حکماء برادری کا ملک گیر احتجاج: TCAM کونسل کے نئے قوانین “نامنظور”

​اسلام آباد (نکتہ گائیڈنس رپورٹ): پاکستان بھر کے حکماء اور اطباء نے نیشنل کونسل فار طب کے تحت متعارف کروائے گئے ادویات کی تیاری اور استعمال پر پابندی کے نئے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کا آغاز کر دیا ہے۔ اطباء کا موقف ہے کہ TCAM کونسل کے یہ قواعد و ضوابط مقامی حکمت اور روایتی طریقہ علاج کو مفلوج کرنے کی کوشش ہیں۔

​تنازع کی بنیاد: ایکٹ کا وہ پیراگراف جس پر اعتراض ہے

​حالیہ ایکٹ میں “رجسٹرڈ پریکٹیشنر کی ذمہ داریوں” کے تحت ایسی پابندی عائد کی گئی ہے جس سے حکیموں کے دوا بنانے کے بنیادی حق پر ضرب پڑتی ہے۔

​ایکٹ کا اصل انگریزی متن:

​(2) No registered practitioner shall be permitted to stock, use, or sell any drugs or medicines except those included in the pharmacopeia of the TCAM approved by the Council, and registered or enlisted by the Drug Regulatory Authority of Pakistan.

​اردو ترجمہ:

​”(2) کسی بھی رجسٹرڈ پریکٹیشنر کو ایسی ادویات ذخیرہ کرنے، استعمال کرنے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی سوائے ان کے جو کونسل کی منظور شدہ TCAM (روایتی اور متبادل ادویات) کی فارماکوپیا میں شامل ہوں، اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) سے رجسٹرڈ یا لسٹڈ ہوں۔”

​احتجاج کی وجوہات اور حکماء کے مطالبات

​ماہرین قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) اور طبِ یونانی کے اطباء کا کہنا ہے کہ TCAM کونسل کی جانب سے ادویات کو صرف مخصوص فارماکوپیا تک محدود کرنا حکمت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

​مطب سازی پر قدغن: حکیم مریض کی کیفیت کے مطابق موقع پر دوا تیار کرتا ہے، TCAM کے تحت صرف لسٹڈ ادویات کے استعمال کی شرط اس آزادی کو چھین رہی ہے۔

​فارماکوپیا کی محدودیت: اطباء کا کہنا ہے کہ حکمت کا علم وسیع ہے، اسے چند مخصوص فارمولوں (فارماکوپیا) تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

​ٹیکنیکل رکاوٹیں: کونسل اور متعلقہ اداروں کے پیچیدہ رجسٹریشن پراسس کی وجہ سے ایک عام معالج کے لیے کام کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

​​حکماء برادری کا ملک گیر احتجاج

​اطباء کا مطالبہ ہے کہ TCAM کونسل اپنے قوانین پر نظرثانی کرے اور “رجسٹرڈ پریکٹیشنر” کو اپنی تشخیص کے مطابق دوا تیار کرنے اور استعمال کروانے کا مکمل اختیار دیا جائے۔ حکماء نے تنبیہ کی ہے کہ اگر یہ دفعات واپس نہ لی گئیں تو ملک گیر تحریک چلائی جائے گی کیونکہ یہ قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) اور دیگر روایتی علوم کے بقا کا مسئلہ ہے۔

Related posts

Leave a Reply