جنوبی ایشیا میں عملیات

جنوبی ایشیا میں عملیات

 روحانی استحصال اور نفسیاتی و مذہبی بحران: ایک جامع تحلیلی و تحقیقی مطالعہ

جنوبی ایشیا کا معاشرتی ڈھانچہ صدیوں سے مذہب، تصوف اور مافوق الفطرت عقائد کے ایک پیچیدہ امتزاج سے عبارت رہا ہے۔ اس خطے میں جہاں روحانیت کو انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے، وہاں ‘عملیات’ اور ‘سحر’ جیسے مظاہر نے بھی گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ تاہم، عصرِ حاضر میں ان روایتی عقائد کی آڑ میں ہونے والے استحصال نے ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر لی ہے، جس کے اثرات نہ صرف انسانی جان و مال بلکہ لوگوں کے بنیادی عقائد اور ذہنی صحت پر بھی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ اس آرٹیکل میں  اس امر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح عملیات کے نام پر کیے جانے والے غیر شرعی اور غیر سائنسی اقدامات معاشرے کو پاگل پن، موت اور الحاد کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

تاریخی پس منظر اور عملیات کا ارتقاء

جنوبی ایشیا میں مافوق الفطرت علوم کی تاریخ محض توہم پرستی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک باقاعدہ علمی اور سیاسی نظام کا حصہ رہی ہے۔ سترہویں اور اٹھارویں صدی کے دوران مغل درباروں اور راجپوت ریاستوں میں علمِ نجوم، جفر اور دیگر مخفی علوم کو شاہی اقتدار کے استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا تھا 1۔ اس دور میں یہ علوم محض عوامی سطح تک محدود نہیں تھے بلکہ انہیں اشرافیہ کی سرپرستی حاصل تھی۔ مغل شہنشاہوں اور مقامی راجوں کے ہاں ان علوم کے ماہرین کو خاص مقام حاصل تھا، جو ریاست کے سیاسی و عسکری معاملات میں مشورے فراہم کرتے تھے۔

اٹھارویں صدی کے اواخر تک یہ صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی اور یہ ‘اشرافیہ کا علم’ عوامی سطح پر منتقل ہو گیا۔ مخفی علوم کا یہ پھیلاؤ (Democratization) معاشرے کے نچلے طبقات اور غیر درباری عاملین تک پہنچ گیا، جنہوں نے اسے ذاتی مفادات اور سماجی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا 1۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جب ریاستوں نے ان علوم پر اپنی گرفت کھو دی، تو عوامی سطح پر جادو ٹونے اور نقصان دہ عملیات کا رجحان بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں سماجی انتشار پیدا ہوا۔ یہی وہ نقطہ تھا جہاں سے ان ‘عملیات’ نے ایک باقاعدہ پیشے اور بعض صورتوں میں ایک مہلک ہتھیار کی شکل اختیار کر لی۔

دوربنیادی کردارمقاصد و محرکاتاثرات
مغل و راجپوت دور (17ویں صدی)شاہی نجومی، درباری عاملینریاستی استحکام، جنگی حکمتِ عملی 1سیاسی اقتدار کا تحفظ
مابعد مغل دور (18ویں صدی)مقامی ماہرین، عوامی عاملینسماجی اثر و رسوخ، دشمنی و انتقام 1سماجی تقسیم اور خوف کا پھیلاؤ
جدید دور (21ویں صدی)جعلی پیر، نوسرباز عاملینمالی فوائد، جنسی استحصال، سماجی کنٹرول 2موت، ذہنی امراض اور کفر و الحاد

سماجی و معاشی محرکات: توہم پرستی کی زرخیز زمین

پاکستانی اور عمومی طور پر جنوبی ایشیائی معاشرے میں عملیات کی مقبولیت کی جڑیں گہری سماجی و معاشی ناانصافیوں میں پیوست ہیں۔ تعلیم کی کمی، غربت اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی نے لوگوں کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ اپنی مشکلات کا حل مافوق الفطرت قوتوں میں تلاش کرتے ہیں 2۔ جب ایک فرد کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج نہیں ملتا یا وہ عدالتی نظام سے انصاف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو وہ اپنی محرومیوں کا بوجھ بانٹنے کے لیے کسی ‘عامل’ یا ‘پیر’ کا رخ کرتا ہے۔

تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں، خاص طور پر پنجاب اور سندھ میں، ‘تعویذ گنڈوں’ اور کالے جادو پر یقین محض توہم پرستی نہیں بلکہ ایک ‘دفاعی طریقہ کار’ (Coping Mechanism) کے طور پر کام کرتا ہے 3۔ کم پڑھے لکھے اور کم آمدنی والے طبقات میں یہ رجحان زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس معاشی اور سماجی طور پر بااختیار ہونے کے ذرائع محدود ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں، جادو یا عملیات ان کے لیے ایک ایسی خیالی طاقت بن جاتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنی قسمت بدلنے یا اپنے دشمنوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں، ذرائع ابلاغ (Media) کا غیر ذمہ دارانہ کردار بھی اس بحران کو ہوا دے رہا ہے۔ نجی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے پروگراموں میں جادو ٹونے اور جنات کے قصوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ عوام ذہنی طور پر ان باتوں کو سچ تسلیم کرنے لگتے ہیں 2۔ یہ صورتحال جعلی عاملین کے لیے ایک مفت تشہیری مہم کا کام کرتی ہے، جس سے ان کے ‘کاروبار’ میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے اور سادہ لوح عوام ان کے جال میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔

نفسیاتی اثرات: دماغی امراض کا لبادہ اور پاگل پن کا سفر

عملیات کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کا سب سے خطرناک پہلو انسانی ذہن پر اس کے اثرات ہیں۔ جنوبی ایشیا میں ذہنی امراض کو اکثر ‘سحر’، ‘نظِ بد’ یا ‘جنات کے اثرات’ کا نام دے کر اصل طبی علاج سے دور کر دیا جاتا ہے 4۔ یہ غلط تشخیص نہ صرف مرض کو پیچیدہ بناتی ہے بلکہ مریض کو مستقل طور پر ذہنی معذوری یا پاگل پن کی طرف دھکیل دیتی ہے۔

پاکستان میں کی گئی ایک جامع طبی تحقیق کے مطابق، جو مریض روحانی علاج کے لیے عاملین کے پاس جاتے ہیں، ان میں سے ایک بڑی اکثریت درحقیقت سنگین نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہوتی ہے 6۔ جب ان مریضوں کا DSM-V (نفسیاتی امراض کی عالمی درجہ بندی) کے تحت معائنہ کیا گیا تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔

نفسیاتی عارضہشرحِ تناسبعلامات جو اکثر جادو سے منسوب کی جاتی ہیں
پیرانائیڈ پرسنالٹی ڈس آرڈر (Paranoid Personality Disorder)80%ہر وقت یہ سمجھنا کہ کسی نے جادو کر دیا ہے یا کوئی دشمنی کر رہا ہے 6
سومیٹک سمپٹم ڈس آرڈر (Somatic Symptom Disorder)30%جسم کے مختلف حصوں میں درد کا احساس جس کی کوئی طبی وجہ نہ ملے 6
شیزوفرینیا اور دیگر سائیکوٹک امراض (Psychosis)20%آوازیں سنائی دینا، خیالی ہیولے دیکھنا (ہذیان و واہمہ) 6
شدید ڈپریشن (Persistent Depressive Disorder)20%زندگی سے بیزاری، رونے کے دورے، تنہائی پسندی 6

ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ جس کیفیت کو لوگ ‘کالا جادو’ سمجھتے ہیں، وہ 80 فیصد کیسز میں درحقیقت شک اور وہم کی ایک نفسیاتی بیماری ہوتی ہے 6۔ جب ایک عامل ایسے مریض کو یہ بتاتا ہے کہ “تم پر تمہاری قریبی رشتہ دار نے جادو کر دیا ہے”، تو یہ بات مریض کے وہم کو حقیقت میں بدل دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض کا سماجی بائیکاٹ شروع ہو جاتا ہے، خاندانی جھگڑے جنم لیتے ہیں اور مریض کی ذہنی حالت مزید بگڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر حواس کھو بیٹھتا ہے۔

نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ عملیات کے دوران استعمال ہونے والے طریقے، جیسے کہ مریض کو اندھیرے کمرے میں بند رکھنا، اسے مسلسل بھوکا رکھنا یا اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا، ‘نفسیاتی صدمے’ (Psychological Trauma) کا باعث بنتے ہیں 8۔ بہت سے کیسز میں، ان طریقوں کے نتیجے میں مریض کا اعصابی نظام مفلوج ہو جاتا ہے اور وہ دائمی طور پر پاگل پن کا شکار ہو جاتا ہے۔

موت کا رقص: مہلک رسومات اور کیس اسٹڈیز

عملیات محض ذہنی بیماری تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ اکثر انسانی جان کے ضیاع کا باعث بھی بنتے ہیں۔ جعلی عاملین اپنی ‘طاقت’ ثابت کرنے کے لیے ایسی رسومات اختیار کرتے ہیں جو براہِ راست انسانی جان کے لیے خطرہ ہوتی ہیں۔ ان میں زہریلی اشیاء کا استعمال، جسمانی تشدد، اور بعض اوقات انسانی بلی (Sacrifice) تک کے واقعات شامل ہیں۔

سرگودھا میں 2017 میں پیش آنے والا واقعہ اس سلسلے کی ایک دہلا دینے والی مثال ہے 10۔ ایک درگاہ کے متولی عبدالوحید نے اپنے مریدوں کو روحانی صفائی کے نام پر مدعو کیا اور پھر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 20 بے گناہ انسانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا 11۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس نے مریدوں کو پہلے نشہ آور کھانا کھلا کر بے ہوش کیا اور پھر خنجروں اور ڈنڈوں سے ان کی جان لے لی 10۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جب ایک ذہنی طور پر غیر مستحکم شخص روحانی پیشوا کا روپ دھار لیتا ہے، تو وہ کس طرح ایک سفاک قاتل بن سکتا ہے۔

واقعہ / کیس اسٹڈیمقامہلاکتیںمحرکات / طریقہ کار
سرگودھا درگاہ قتلِ عام (2017)چک 95، سرگودھا20روحانی ‘تطہیر’ کے نام پر تشدد اور قتل 10
خزانے کی تلاش میں ہلاکتملتان01عامل کے کہنے پر زمین کھودتے ہوئے دم گھٹنے سے موت 13
بچوں کی قربانی کے واقعاتملک گیرمتعددجادوئی طاقت کے حصول کے لیے کمسن بچوں کا قتل 13
جسمانی تشدد اور داغنا (Branding)مختلف دیہی علاقےغیر معینہجنات نکالنے کے لیے گرم سلاخوں سے داغنا، جس سے انفیکشن یا موت واقع ہوئی 8

ملتان میں خزانے کی تلاش کے دوران ایک نوجوان کی ہلاکت بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح ‘راتوں رات امیر بننے’ کے لالچ کو عاملین انسانی جانوں کے سودے کے لیے استعمال کرتے ہیں 13۔ یہ واقعات محض انفرادی حادثات نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرتی المیے کی عکاسی کرتے ہیں جہاں عقل اور شعور پر توہم پرستی کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔

دینی و ایمانی نقصان: شرک اور روحانی بربادی

عملیات کا سب سے المناک پہلو لوگوں کے ‘دین و ایمان’ کا ضیاع ہے۔ اسلام نے جادو کو ‘کفر’ اور ‘شرک’ کے مترادف قرار دیا ہے 15۔ تاہم، بہت سے لوگ نادانستہ طور پر اپنی پریشانیوں کے حل کے لیے ایسے اعمال کا حصہ بن جاتے ہیں جو انہیں دائرہ اسلام سے خارج کر سکتے ہیں۔ قرآن و سنت میں جادو کو سات ہلاک کر دینے والے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے 15۔

جعلی عاملین اکثر ایسے تعویذ دیتے ہیں جن میں قرآنی آیات کے ساتھ شیطانی نام، مبہم لکیریں اور غیر واضح نقش بنے ہوتے ہیں 16۔ بہت سے عاملین ‘سفلی علم’ کے ماہر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جو کہ خالصتاً شیطانی عمل ہے اور اس میں نجس اشیاء کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جب ایک مسلمان اللہ کے بجائے ان عملیات، تعویذوں اور غیر اللہ کی مدد پر بھروسہ کرنے لگتا ہے، تو اس کا ایمان متزلزل ہو جاتا ہے 17۔

اسلامی  تعلیمات کے مطابق، ایمان کا محور ‘توحید’ ہے، یعنی نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔ لیکن عملیات کا پورا نظام اس بنیادی عقیدے کی نفی کرتا ہے، جہاں ایک انسان دوسرے انسان کی قسمت بدلنے کا دعویٰ کرتا ہے 5۔ اس کے نتیجے میں لوگوں میں اللہ پر توکل ختم ہو جاتا ہے اور وہ اس کے بجائے پتھروں، رنگوں، تعویذوں اور عاملین کے محتاج ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سے الحاد اور کفر کی راہیں ہموار ہوتی ہیں، کیونکہ جب ان عملیات سے مراد بر نہیں آتی، تو لوگ مایوس ہو کر مذہب ہی سے منحرف ہونے لگتے ہیں۔

رقیہ شرعیہ بمقابلہ سفلی عملیات: ایک فرق

خصوصیترقیہ شرعیہ (جائز طریقہ)سفلی / کالا جادو (ناجائز)
بنیادقرآن کی تلاوت اور مسنون دعائیں 19جنات، شیاطین اور غلیظ اعمال 15
مقصداللہ سے شفا اور حفاظت کی طلب 20دوسروں کو نقصان پہنچانا یا تسخیر کرنا 15
ایمانی اثرتوکل اور ایمان میں اضافہ 21شرک اور ایمان کی بربادی 17
طریقہ کارتلاوت، دم اور پاکیزگی 22تعویذ، نجاست اور غیر شرعی رسومات 17

بہت سے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ “ہم تو صرف علاج کروا رہے ہیں”، لیکن وہ اس باریک لکیر کو نہیں دیکھ پاتے جہاں علاج ‘شرک’ کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ جب ایک عامل یہ کہتا ہے کہ “یہ تعویذ تمہاری حفاظت کرے گا”، تو وہ درحقیقت اللہ کی صفتِ حفاظت کو ایک کاغذ کے ٹکڑے سے منسوب کر رہا ہوتا ہے 17۔ یہی وہ ایمانی نقصان ہے جہاں لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے چکر میں اپنی آخرت داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

دھوکہ دہی کا نفسیاتی ڈھانچہ: نوسربازوں کا طریقہ واردات

جعلی عاملین اور پیروں کی کامیابی کا راز ان کی ‘روحانیت’ میں نہیں بلکہ ان کی ‘نفسیاتی مہارت’ میں چھپا ہوتا ہے۔ وہ انسانی نفسیات کے کمزور گوشوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور ‘سوشل انجینئرینگ’ کے ذریعے لوگوں کو اپنا اسیر بنا لیتے ہیں 23۔ ان کے طریقہ واردات میں چند اہم تکنیکیں شامل ہوتی ہیں جن کا علم ہونا ہر شہری کے لیے ضروری ہے۔

  1. کولڈ ریڈنگ (Cold Reading): عامل مریض کے لباس، گفتگو اور حرکات و سکنات سے اس کے حالات کا اندازہ لگاتا ہے اور پھر ایسی عمومی باتیں کرتا ہے جو ہر کسی پر صادق آ سکتی ہیں، جیسے کہ “تمہارے گھر میں کوئی تمہارے خلاف ہے” یا “تمہاری ترقی کسی نے بند کر دی ہے” 23۔
  2. ایم اتھارٹی بائیس (Authority Bias): مخصوص حلیہ، بڑی تسبیحات، اور پراسرار ماحول کے ذریعے وہ خود کو ایک پہنچا ہوا بزرگ ثابت کرتے ہیں، جس سے مریض کا تنقیدی شعور (Critical Thinking) مفلوج ہو جاتا ہے 24۔
  3. خوف اور امید کا امتزاج: وہ پہلے مریض کو کسی بڑے خطرے سے ڈراتے ہیں (جیسے کہ تمہارا بچہ مر جائے گا) اور پھر اسے نجات کی ایک مہنگی اور کٹھن راہ دکھاتے ہیں، جس کے لیے وہ بڑی رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں 23۔
  4. ہالو ایفیکٹ (Halo Effect): اگر ایک عامل کے پاس چند گاڑیاں یا بہت زیادہ مرید نظر آئیں، تو لوگ خود بخود اسے سچا سمجھنے لگتے ہیں، چاہے اس کے پاس کوئی علمی یا روحانی سند نہ ہو 24۔

یہ نوسرباز خاص طور پر خواتین اور مالی مشکلات کے شکار افراد کو نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ جذباتی طور پر زیادہ کمزور حالت میں ہوتے ہیں 3۔ محبت کی شادی، اولاد کی تمنا، اور رزق کی تنگی جیسے مسائل ان عاملین کے لیے سب سے زیادہ ‘منافع بخش’ ہوتے ہیں۔

قانونی خلا اور حکومتی ذمہ داری

پاکستان کے تعزیراتی ڈھانچے میں اگرچہ دھوکہ دہی اور قتل کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں، لیکن ‘روحانی دھوکہ دہی’ کے خلاف کوئی مخصوص اور جامع قانون سازی موجود نہیں ہے جس کے تحت ان جعلی عاملین پر فوری گرفت کی جا سکے 25۔ موجودہ قوانین کے تحت ان پر دفعہ 420 (دھوکہ دہی) یا دیگر فوجداری دفعات لگائی جاتی ہیں، لیکن ان کو ثابت کرنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ متاثرہ افراد خود ان اعمال کا حصہ بنتے ہیں۔

تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی چند متعلقہ دفعات درج ذیل ہیں:

دفعہجرم کی نوعیتممکنہ سزا
415دھوکہ دہی (Cheating)جرمانہ یا قید 26
419بہروپ بدل کر دھوکہ دینا (Personation)7 سال تک قید 26
420بدنیتی سے جائیداد یا رقم ہتھیانا7 سال تک قید اور جرمانہ 25
302قتل (جیسے سرگودھا واقعہ)سزائے موت یا عمر قید 27

دو تین دن قبل یعنی 19جنوری 2026 کو سینٹ سے ایک نیا قانون پاس ہو گیا ہے جس کے تحت جادو، عملیات اور روحانی علاج کے نام پر دھندہ کرنے  والوں کو  کم از کم 6 ماہ سے لے کر 7 سال تک قید اور زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔قانون کے مطابق یہ جرم ناقابلِ ضمانت ہوگا اور اس کا مقدمہ سیشن کورٹ میں چلایا جائے گا۔

ان قوانین کے باوجود، معاشرے میں آگاہی کی کمی کی وجہ سے لوگ پولیس کے پاس جانے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت میڈیا پر ان عاملین کے اشتہارات پر مکمل پابندی لگائے اور دیہی علاقوں میں ذہنی صحت کے مراکز قائم کرے تاکہ لوگوں کو کسی عامل کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ رہے 28۔

تدارک اور مستقبل کا لائحہ عمل: ایک جامع حل

عملیات کے نام پر جاری اس فتنے کو روکنے کے لیے محض قانون سازی کافی نہیں ہے، بلکہ ایک کثیر الجہتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انفرادی، سماجی اور حکومتی سطح پر درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:

  • ذہنی صحت کی آگاہی: سکولوں، کالجوں اور مساجد میں ذہنی امراض کے بارے میں تعلیم دی جائے تاکہ لوگ وسوسوں اور آوازیں آنے کو جادو کے بجائے بیماری سمجھیں 28۔
  • علماء کرام کا کردار: مستند علماء کو چاہیے کہ وہ منبر و محراب سے کالے جادو اور غیر شرعی عملیات کی حقیقت بیان کریں اور لوگوں کو رقیہ شرعیہ اور مسنون دعاؤں کی طرف راغب کریں 5۔
  • میڈیا ریگولیشن: ایسے تمام پروگراموں پر پابندی لگائی جائے جو توہم پرستی اور جادو ٹونے کو فروغ دیتے ہیں 2۔
  • طبی و روحانی اشتراک: نفسیاتی ڈاکٹروں اور جید دینی علماء کے درمیان ایک ایسا اشتراک ہونا چاہیے جہاں وہ مل کر مریض کی تشخیص کریں اور اسے درست سمت میں رہنمائی فراہم کریں 5۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور کی نعمت سے نوازا ہے تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کر سکے۔ جب ہم اپنی عقل کو توہم پرستی کے حوالے کر دیتے ہیں، تو ہم نہ صرف اپنی دنیا تباہ کرتے ہیں بلکہ اپنے خالق سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔ عملیات کی یہ ‘گہرائی’ درحقیقت ایک ایسی کھائی ہے جس میں گرنے والا اپنی جان، مال، عقل اور ایمان سب کچھ گنوا دیتا ہے۔ معاشرے کے ہر ذی شعور فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس فتنے کے خلاف آواز اٹھائے اور لوگوں کو اس تاریک راستے سے بچا کر علم، عقل اور حقیقی ایمان کی روشنی کی طرف لائے۔

اس بحران کا واحد حل توحید پر کامل یقین اور سائنسی علم کی ترویج میں پوشیدہ ہے۔ جب تک ہم اپنی کمزوریوں کا حل جعلی عاملین کی چوکھٹ پر تلاش کرتے رہیں گے، تب تک سرگودھا جیسے واقعات ہوتے رہیں گے اور لوگ پاگل پن کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس طلسمِ ہوشربا کو توڑیں اور ایک صحت مند، باشعور اور ایمانی طور پر مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھیں۔ 4۔

حوالہ جات

 

  1. (PDF) The Owl and the Occult: Popular Politics and Social Liminality in Early Modern South Asia – ResearchGate, accessed on January 20, 2026, https://www.researchgate.net/publication/372017937_The_Owl_and_the_Occult_Popular_Politics_and_Social_Liminality_in_Early_Modern_South_Asia
  2. Conventionally, spiritual healers (aamils in Urdu) are those who help people heal from psychologica, accessed on January 20, 2026, https://sujo.usindh.edu.pk/index.php/Grassroots/article/download/2338/1859/4251
  3. International Journal of Social Sciences Bulletin Volume 1, Issue, accessed on January 20, 2026, http://pjssrjournal.com/index.php/Journal/article/download/248/243
  4. TRADITIONAL HEALTH PRACTICES AMONG MUSLIM PSYCHIATRIC PATIENTS IN LAHORE, accessed on January 20, 2026, https://yjhip.com/index.php/YJHIP/article/download/12/29
  5. JOURNAL OF PAKISTAN PSYCHIATRIC SOCIETY (Reviewed Manuscript – Version of Record to Follow) GUEST EDITORIAL: BRIDGING THE GA, accessed on January 20, 2026, https://jpps.pk/index.php/journal/article/download/955/751
  6. MEGA4D: Layanan VIP Login Situs Togel Toto 4D Resmi & Daftar …, accessed on January 20, 2026, https://journals.internationalrasd.org/index.php/pjhss/article/download/1625/1077/8537
  7. “Impact of Pakistani culture on belief in faith healing Amongst Muslims” by Maham Rehan, accessed on January 20, 2026, https://ir.iba.edu.pk/sslace/195/
  8. Ethical Issues Relating to Faith Healing Practices in South Asia: A Medical Perspective, accessed on January 20, 2026, https://www.walshmedicalmedia.com/open-access/ethical-issues-relating-to-faith-healing-practices-in-south-asia-a-medical-perspective-2155-9627.1000190.pdf
  9. Traditional Healing Practices Sought by Muslim Psychiatric Patients in Lahore, Pakistan, accessed on January 20, 2026, https://www.researchgate.net/publication/249003226_Traditional_Healing_Practices_Sought_by_Muslim_Psychiatric_Patients_in_Lahore_Pakistan
  10. 2017 Sargodha shrine massacre – Wikipedia, accessed on January 20, 2026, https://en.wikipedia.org/wiki/2017_Sargodha_shrine_massacre
  11. Arrests after 20 people killed at Sargodha shrine | Crime News – Al Jazeera, accessed on January 20, 2026, https://www.aljazeera.com/news/2017/4/2/arrests-after-20-people-killed-at-sargodha-shrine
  12. Pakistan Shrine Killings: Twenty people murdered at Sufi shrine – YouTube, accessed on January 20, 2026,
  13. جعلی عاملوں کا شکار بے بس عوام – ایکسپریس اردو – Express.pk, accessed on January 20, 2026, https://www.express.pk/story/250080/jaly-aamlwn-ka-shkar-be-bs-awam-250080
  14. (PDF) Ethical Issues Relating to Faith Healing Practices in South Asia: A Medical Perspective – ResearchGate, accessed on January 20, 2026, https://www.researchgate.net/publication/287530785_Ethical_Issues_Relating_to_Faith_Healing_Practices_in_South_Asia_A_Medical_Perspective
  15. Signs of Black Magic in Islam, accessed on January 20, 2026, https://markazeislam.com/signs-of-black-magic/
  16. Ruling on Wearing Amulets for Protection – Islam Question & Answer, accessed on January 20, 2026, https://islamqa.info/en/answers/10543
  17. Why Amulets & Lucky charms are Not Allowed – Ruqyah Central, accessed on January 20, 2026, https://www.ruqyahcentral.com/understanding-taweedh-why-it-is-not-allowed-in-islam-and-how-ruqyah-can-help/
  18. An Islamic view of magic and occult sciences – Al Hakam, accessed on January 20, 2026, https://www.alhakam.org/an-islamic-view-of-magic-and-occult-sciences/
  19. What is Ruqyah shariah in Islam? – Studio Arabiya in Egypt, accessed on January 20, 2026, https://www.studioarabiyainegypt.com/what-is-ruqyah-shariah-in-islam/
  20. How Ruqyah Helps Against Black Magic & Jinn, accessed on January 20, 2026, https://www.ruqyahcentral.com/how-ruqyah-helps-protect-against-black-magic-and-jinn/
  21. What is Ruqyah and How to Do Ruqyah – SimplyIslam Academy, accessed on January 20, 2026, https://simplyislam.academy/blog/what-is-ruqyah
  22. A Remedy for Illnesses, Evil Eye, Magic and Jinn from the Qur’ān and Sunnah – Ummah Welfare Trust, accessed on January 20, 2026, https://uwt.org/wp-content/uploads/2019/03/Ruqyah-Booklet.pdf
  23. Scammers Use Modern Tech and Psychology to Manipulate Their Victims, accessed on January 20, 2026, https://www.discovermagazine.com/scammers-use-modern-tech-and-psychology-to-manipulate-their-victims-46991
  24. 9 Common Scams and the Tactics to Watch Out For – Verywell Mind, accessed on January 20, 2026, https://www.verywellmind.com/9-common-scams-to-watch-out-for-8703530
  25. CHEATING AND FRAUD – Prosecutor General Punjab, accessed on January 20, 2026, https://pg.punjab.gov.pk/cheating_and_fraud
  26. Cheating 1 | PDF | Deception | Fraud – Scribd, accessed on January 20, 2026, https://www.scribd.com/document/544599491/Cheating-1
  27. Pakistan: Shrine killing convicts get death penalties – Anadolu, accessed on January 20, 2026, https://www.aa.com.tr/en/asia-pacific/pakistan-shrine-killing-convicts-get-death-penalties/1662719
  28. Spiritual Healers as a Barrier to Timely Mental Health Access in Rural Pakistan: A Mini-Review by – ResearchGate, accessed on January 20, 2026, https://www.researchgate.net/publication/397626494_Spiritual_Healers_as_a_Barrier_to_Timely_Mental_Health_Access_in_Rural_Pakistan_A_Mini-Review_by

“Jinn Possession” and Delirious Mania in a Pakistani Woman – Psychiatry Online, accessed on January 20, 2026, https://psychiatryonline.org/doi/10.1176/appi.ajp.2015.15030281

Related posts

Leave a Reply