جمعیت اطباء العلماء پاکستان کا قیام
Jamiat Atibba-ul-Ulama Pakistan
مدارس کے فضلاء کے لیے طب کے دروازے بند کرنا ناانصافی ہے، حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ
اسلام آباد (نیوز ڈیسک، نکتہ گائیڈنس): پاکستان میں طبِ یونانی اور قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کے فروغ اور علماء کرام کو دوبارہ شعبہ طب سے جوڑنے کے لیے ایک نئی تنظیم ’جمعیت اطباء العلماء پاکستان‘ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ تنظیم کے بانی و چیئرمین، معروف معالج اور علمی شخصیت حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ نے تنظیم کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے حکومت سے تعلیمی قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
تاریخی تسلسل اور موجودہ رکاوٹیں
حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ کا کہنا ہے کہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے بڑے علماء ہی ہمیشہ بڑے حکماء اور اطباء رہے ہیں۔ تاہم، گزشتہ چند سالوں سے حکومتِ پاکستان نے ایسے قوانین متعارف کروائے ہیں جنہوں نے علماء کے لیے طب سیکھنے کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ ’میٹرک سائنس‘ کی شرط ہے، جس کی وجہ سے دینی مدارس کے باصلاحیت فضلاء اس فن سے محروم ہو رہے ہیں۔
تعلیمی تضاد اور منطقی پیچیدگی
چیئرمین جمعیت اطباء العلماء نے موجودہ قانون پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک بڑا تضاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا:
“یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ ایک 16 سالہ بچہ جس نے ابھی تازہ میٹرک سائنس کیا ہو، اسے تو طبیہ کالج میں داخلہ مل جاتا ہے، لیکن وہ شخص جس نے میٹرک آرٹس میں کیا اور اس کے بعد 8 سالہ درسِ نظامی (ایم اے کے برابر) مکمل کیا، یا ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں، اسے محض ’میٹرک سائنس‘ نہ ہونے کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا جاتا ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی شرط کا مقصد ذہنی استعداد کو پرکھنا ہوتا ہے۔ ایک ایم فل یا پی ایچ ڈی ڈاکٹر کی ذہنی استعداد میٹرک کے بچے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا انہیں داخلے سے روکنا قانون کی پیچیدگی اور علم کے ساتھ زیادتی ہے۔
شہادۃ العالمیہ کو داخلے کی بنیاد بنانے کا مطالبہ
حکیم عبدالوہاب شاہ نے تجویز پیش کی کہ جو طلباء صرف میٹرک کی بنیاد پر داخلہ لینا چاہیں، ان کے لیے میٹرک سائنس کی شرط برقرار رکھی جائے، لیکن جنہوں نے میٹرک کے بعد درسِ نظامی، ایم اے یا ایم فل کر لیا ہے، ان کے لیے یہ شرط ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
- درسِ نظامی کی آخری سند ’شہادۃ العالمیہ‘ کی بنیاد پر طبیہ کالجز میں داخلہ آسان بنایا جائے۔
- مدارس کے فاضلین کو طب کی تعلیم کے لیے خصوصی کوٹہ یا رعایت دی جائے۔
- نئے ایکٹ میں ایف ایس سی (F.Sc) کی مجوزہ شرط میں یونیورسٹی لیول کی تعلیم رکھنے والے افراد کو استثنیٰ دیا جائے۔
ایک تلخ مثال
اپنے موقف کی تائید میں انہوں نے ایک حالیہ واقعہ ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک نوجوان جو ایم فل کا طالب علم، مفتی، اور عربی و انگریزی زبانوں پر عبور رکھنے کے باوجود صرف اس لیے طبیہ کالج میں داخلہ نہ لے سکا کیونکہ اس کے پاس میٹرک سائنس کا سرٹیفکیٹ نہیں تھا۔
آئندہ کا لائحہ عمل
’جمعیت اطباء العلماء پاکستان‘ کے قیام کا بنیادی مقصد سرکاری طب کونسل، وزارتِ صحت اور حکومت کو ان سنجیدہ مسائل کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ نے عزم ظاہر کیا کہ وہ حکیم علماء اور مدارس کے طلباء کے حقوق کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ طبِ مشرق کی علمی وراثت کو دوبارہ علماء کے ہاتھوں میں دیا جا سکے۔

(جمعیت اطباء علماء پاکستان کا منشور و مقاصد)
اسلامی تاریخ میں اطباء اور علماء دو الگ گروہ نہیں تھے، بلکہ علمائے دین ہی انسانیت کی جسمانی شفا کے ضامن (طبیب) ہوا کرتے تھے۔ دورِ حاضر میں تعلیمی قوانین کی پیچیدگیوں نے علماء کے لیے طب کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے۔ یہ تنظیم اس تضاد کو ختم کرنے اور طب و شریعت کے قدیم رشتے کو جدید سائنسی بنیادوں پر بحال کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔
اول: تنظیمی مقاصد (Aims & Objectives)
- اتحادِ اطباء العلماء: پاکستان بھر کے ان تمام اطباء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا جو دینی علوم (درسِ نظامی) کے فضلاء ہیں، تاکہ ایک بااثر اور منظم قوت پیدا کی جا سکے۔
- تعلیمی اصلاحات و قانونی جدوجہد: نیشنل کونسل فار طب اور وزارتِ صحت سے یہ مطالبہ منوانا کہ “شہادۃ العالمیہ” کو طبیہ کالجز میں داخلے کے لیے میٹرک سائنس/ایف ایس سی کے مساوی (Equivalence) درجہ دیا جائے۔
- تبدیلیِ اہلیت (Admission Policy Reform): اس تضاد کو ختم کرنا کہ پی ایچ ڈی اور ایم فل لیول کے حامل علماء محض میٹرک سائنس کی سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے طب کی تعلیم سے محروم رہیں۔
- تحقیق و علمی ہم آہنگی: طبِ قدیم اور جدید طبی پر شرعی و طبی نقطہ نظر سے مشترکہ تحقیق کرنا، اور ڈاکٹروں ، حکیموں کو علاج معالجے کے ضمن میں شرعی رہنمائی دینا۔
- فروغِ طبِ پاکستانی: قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو بطور سائنسی نظریہ مدارس اور جدید تعلیمی حلقوں میں متعارف کروانا اور اسے حکومتی سطح پر ایک مکمل سائنسی علاج کے طور پر منوانا۔
دوم: منشور (Manifesto)
- علمی وقار کی بحالی: ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ طب کسی خاص سرٹیفکیٹ کی محتاج نہیں بلکہ “ذہنی استعداد” کی مرہونِ منت ہے۔ ہم علماء کے اس حق کو چھیننے نہیں دیں گے۔
- تعلیمی پالیسی میں لچک: ہمارا منشور یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم درسِ نظامی کے 8 سال مکمل کر چکا ہے، تو اس کی علمی قابلیت ایک میٹرک پاس بچے سے کئی گنا بہتر ہے۔ لہٰذا، اسے طب کی تعلیم میں ترجیحی بنیادوں پر داخلہ ملنا چاہیے۔
- میڈیکل اخلاقیات (Bioethics): ہسپتالوں اور کلینکس میں اسلامی اخلاقیات اور ہمدردی کے جذبے کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا۔
- حقوق کا تحفظ: کسی بھی حکومتی ایکٹ (جیسے مجوزہ ایف ایس سی شرط) میں علماء کے مفادات کا تحفظ کرنا اور ایسی ترامیم تجویز کرنا جن سے مدارس کے طلباء کے لیے راستے مسدود نہ ہوں۔
- تربیتی ورکشاپس: طبیب علماء کے لیے جدید طبی آلات اور قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کی خصوصی تربیتی و تعلیمی نشستوں کا انعقاد کرنا۔
سوم: عملی لائحہ عمل
- نیشنل کونسل فار طب کے اراکین اور حکومتی حکام سے ملاقاتوں کے لیے ایک “اعلیٰ سطح وفد” کی تشکیل۔
- قانونی ماہرین کے ذریعے عدالتِ عالیہ میں تعلیمی تضادات کے خلاف چارہ جوئی کی تیاری۔
- مدارس کے طلباء کے لیے “پری میڈیکل” طرز کے مختصر کورسز کا آغاز تاکہ وہ فنی اصطلاحات سے واقف ہو سکیں۔
- حکومتی ایوانوں، نیشنل کونسل فار طب اور دیگر ریگولیٹری اداروں میں اطباء العلماء کی آواز بننا اور ان کے پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ یقینی بنانا۔
دعا ولسلام:حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ
بانی و چیئرمین: جمعیت اطباء العلماء پاکستان


