سید عبدالوہاب شاہ شیرازی کے فکری و تحقیقی مضامین کا باضابطہ پلیٹ فارم
نکتہ

کلیکرز ٹک ٹک

سید عبدالوہاب شاہ
297 مشاہدات
کلیکرز ٹک ٹک

کلیکرز ٹک ٹک 

Clackers

(سید عبدالوہاب شاہ)

کلیکرز ٹک ٹک پہلی بار 1968 میں ایک امریکی کمپنی نے بنانا شروع کیے اور ایک سال بعد یہ پورے امریکا میں وبا کی طرح پھیل گئے۔

چونکہ یورپ اور امریکا میں قوانین سخت اور ان پر عملدرآمد بھی کروایا جاتا ہے اس لیے کوئی بھی نئی ایجاد ہونے والی چیز  کی پہلے متعلقہ اداروں سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اس لیے اسے بنانے والی کمپنی نے حکومت سے انہیں بیچنے کی اجازت مانگی، متعلقہ اداروں نے ان کلیکرز کا باریک بینی سے جائزہ لیا، ان کی رسی ان کا سائز ان کا استعمال اور ان کی مضبطوطی سمیت تمام پہلووں کا جائزہ لینے کے  بعد ان کے فروخت کی اجازت دے دی۔

[caption id="attachment_25090" align="aligncenter" width="182"]کلیکرز ٹک ٹک  کلیکرز ٹک ٹک[/caption]

اس وقت امریکا میں اس کے مختلف نام تھے مثلا:

Black Eyes

ناک کاٹنے والا بلیڈ(Nose Blade )

Nockers

Click Clickers

ہڈی توڑ (Broken Bones)

[caption id="attachment_25091" align="aligncenter" width="300"]کلیکرز ٹک ٹک  کلیکرز ٹک ٹک[/caption]

برکن بونز کا معنی ہے ہڈی توڑنے والا کیونکہ ایسے واقعات کثرت سے ہو رہے تھے اور بچوں کی ہڈیاں اس سے ٹوٹ رہی تھیں۔

کلیکرز نا صرف بچوں کو زخمی کر رہے تھے بلکہ آہستہ آہستہ بچوں نے اسے لڑائیوں میں ایک دوسرے کو مارنے کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا، گویا بچوں کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار آگیا تھا جسے بچے لڑائی میں استعمال کرتےتھے۔

ستر کی دہائی میں پورا امریکا اور یورپ ان کلیکرز کی لپیٹ میں آچکا تھا اور ڈپریشن کا شکار یا سکون کے عادی لوگوں کا جینا حرام ہو گیا تھا کیونکہ ہر وقت اور ہر طرف سے ٹک ٹک کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔

چنانچہ ان مسائل کو دیکھتے ہوئے امریکی ادارے (ایف ڈی اے ) نے وارننگ جاری کی، اور پابندی لگا دی، چنانچہ ایک بہت بڑا آپریشن ضرب عضب ان ننھے دہشت گردوں کے خلاف لانچ کیا گیا،پوری امریکی اور یورپی اقوام یک جان ہو کر اس دہشت گردی کے خلاف اکھٹی ہو گئی، سکولوں کے ٹیچر، پولیس، حتی کے انٹیلی جنس کے ادارے بھی متحرک ہو گئے اور کہیں سے  بھی ٹک ٹک کی آواز آتی فورا وہاں پہنچ کر اس ہتھیار کو ضبط کیا جانے لگا، بنانے والی کمپنیوں پر پابندی لگا دی گئی، فروخت ممنوع قرار دے دی گئی اور ہتھیاروں کی تلفی کا کام شروع ہو گیا۔

Clackers کلیکرز ٹک ٹک

جو کام صرف ایک سال میں پورے امریکا اور یورپ میں پھیلا تھا اسے ختم کرنے میں چھ سات سال لگ گئے اور باالاخر سن 80 کی دہائی تک اس وباء کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد چالیس سال تک یہ کلیکرز پوری دنیا میں غائب رہے اور اب چالیس پنتالیس سال بعد اچانک یہ کلیکرز پاکستان کے شہر کراچی سے دبارہ نمودار ہوئے اور ایک دو مہینے میں پورے پاکستان میں وائرس کی طرح پھیل چکے ہیں،

[caption id="attachment_25088" align="aligncenter" width="300"] Clackers کلیکرز ٹک ٹک کلیکرز ٹک ٹک[/caption]

ہر چیز کے کچھ سائیڈ ایفکٹس بھی ہوتے ہیں جن سائیڈ ایفکٹس کی وجہ سے کلیکرز پر امریکا نے پابندی لگائی تھی وہی سائیڈ ایفکٹس پاکستان میں آنا شروع ہو گئے ہیں، بچے زخمی ہو رہے ہیں، لوگوں کا سکون برباد ہو گیا ہے اور بچے لڑائی میں بطور ہتھیار ایک دوسرے پر وار کرنے اور مارنے کے لیے کلیکرز کا استعمال کر رہے ہیں۔

اس کالم کو شیئر کیجیے:
سید عبدالوہاب شاہ

تحریر: سید عبدالوہاب شاہ

بانی و ایڈیٹر نکتہ گائیڈنس (Nukta Guidance)

آپ کے فکری مضامین اور اصلاحی تجزیات پچھلے کئی سالوں سے لاکھوں قارئین تک پہنچ رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد فکری شعور اور اسلامی علوم کی حقیقی تفہیم ہے۔

اس کیٹگری کے مزید اہم کالمز

پندرہ سسٹم بنائیں۔نکتہ
11

پندرہ سسٹم بنائیں۔

پندرہ سسٹم بنائیں۔ زندگی میں کامیابی اور خوشحالی محض قسمت کی بات نہیں اور نہ ہی یہ صرف دن رات کوہلو کے بیل کی طرح کام کرنے سے ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب اور ناکام انسان کی سوچ میں ایک بنیادی فرق ہ

سید عبدالوہاب شاہمکمل تحریر پڑھیں←