فرقہ واریت کا ایک پہلو یہ بھی ہے

فرقہ واریت کا ایک پہلو یہ بھی ہے
تحریر نام: Syed Abdul Wahab Shah
ای میل: sherazi313@gmail.com
تاریخِ اشاعت: 07 مارچ 2019
فرقہ واریت کتنا گھناؤنا عمل ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں بارہا اس کی مذمت اور ممانعت بیان ہوئی ہے۔ یہ ایسا ناسور ہے جس کی تاریخ بہت پرانی ہے، ہمارے خطے میں مذہبی فرقہ واریت کو انگریز دور میں خاص طور پر پروان چڑھایا گیا، پاکستان بننے کے بعد بھی اس سانپ کو تازہ دودھ ملتا رہا۔
دوسری طرف فرقہ واریت کے خلاف اور اس کے خاتمے کے لئے بھی جدوجہد جاری رہی، ہر طبقے نے اس ناسور کو معاشرے سے ختم کرنے کی اپنی مقدور بھر کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت پھیلانے والے نادیدہ ہاتھ بہت مضبوط ہیں، فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد نے اس گھناؤننے عمل کو اتنا بدنام کیا کہ لوگ اس نام کے اپنے اوپر چسپاں ہونے سے گھبراتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد پوری دنیا
خصوصا ہمارے خطے میں جو جو تبدیلیاں واقع ہوئیں ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے سے مذہبی فرقہ واریت پہلے کی نسبت کافی حد تک کم ہوئی ہے۔ مختلف مسالک خاص طور پر اھل سنت والجماعت کے مسالک نے دوریاں ختم کی ہیں اور ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف جلسے جلوس، فتوے اور مناظروں کے چیلنج آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
یہ تو فرقہ واریت کا وہ پہلو تھا جو معروف اور مشہور ہے اور جب بھی فرقہ واریت کی بات کی جاتی ہے تو ہمارا ذہن اسی مذہبی فرقہ واریت کی طرف جاتا ہے۔ لیکن میں آج فرقہ واریت کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کی طرف ہمارا ذہن نہیں جاتا۔ ایک فکری اور انقلابی ذہن رکھنے والے کو اس فرقہ واریت کی طرف ضرور متوجہ ہونا چاہیے، نہ صرف متوجہ ہونا چاہیے بلکہ اس کے سدباب اور اس شعور کو اجاگر بھی کرنا چاہیے۔ یہ فرقہ واریت کا وہ پہلو ہے جس کی تاریخ ہمیں قرآن حکیم کی روشنی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ملتی ہے۔ سورہ قصص میں فرعون کے متعلق ارشاد خداوندی ہے: وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیْعًا۔فرعون نے وہاں کے لوگوں کو گِروہ گِروہ بنا رکھا تھا، یعنی فرعون اپنے شہریوں کو تقسیم کرتا اور Divide & Rule کی پالیسی پر عمل کرتا تھا، کیونکہ لوگ اگر گِروہ گِروہ نہیں ہوں گے تو کسی بھی وقت تختہ الٹ سکتے ہیں۔ یہ وہ پالیسی ہے جسے ہندوستان میں انگریزوں نے اختیار کیااور پھر پچھلے ستر سال سے پاکستان پر حکمرانی کرنے والے چند خاندان بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلکہ اب تو ایسی پالیساں باقاعدہ ملکوں کے خفیہ پلان کا حصہ ہوتی ہیں، چنانچہ صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی، لسانی، علاقائی اور دیگر بے شمار اقسام کی فرقہ واریتیں حکمرانی کرنے والوں کے پلان کا حصہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نئی جماعت بنانا چاہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص دو یا زیادہ جماعتوں کو آپس میں ضم کرنے کی کوشش کرے تو خفیہ ہاتھ حرکت میں آجاتے ہیں اور اس کام کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، ہم ہر روز سنتے ہیں فلاں نے نئی جماعت بنالی، یا فلاں شخص فلاں جماعت سے الگ ہوگیا اس نے اپنا دھڑا بنا لیا، لیکن ایسا بہت کم سننے میں آتا ہے کہ فلاں دو جماعتیں آپس میں ضم ہو کر ایک جماعت بن گئیں اور ان جماعتوں کے افراد ایک ہی پرچم تلے جمع ہوگئے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سیاسی فرقہ واریت اور دھڑا بندی مذہبی فرقہ واریت سے بھی بڑا جرم ہے کیونکہ مذہب کا تعلق انفرادی زندگی سے ہے جبکہ سیاست کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے ہے ، اسلام اور مسلمانوں کی سیاسی برتری اور ترقی کے لئے پاکستان میں جتنی بھی جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے کام کررہے ہیں ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بارہا کوششیں ہوتی رہی لیکن کوئی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوئی، نادیدہ قوتوں نے دھونس، دھمکی اور لالچ سے ایسی ہر کوشش کو مٹی میں ملا دیا، بلکہ اسی طرح کی مخلصانہ کوشش کرنے والے افراد اور علماء کو ٹارگٹ کلنگ کرکے راستے سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تنبیہ کردی کہ ان کا بھی یہی انجام ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ حضرت یحیٰ اور حضرت زکریہ علیھماالسلام کو شہید کرکے یہودیوں نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی اور اللہ کے نقد عذاب کے مستحق ہوکر ذلت اور رسوائی کے گڑھوں میں گرے تھے۔
یاد رہے یہاں سیاسی فرقہ واریت سے مراد صرف اسلامی سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں تو سب سے زیادہ فرقہ واریت پھیلا رہی ہیں، اگر ہم موجودہ دور کی تین چار بڑی سیاسی پارٹیوں کے حالات کو دیکھیں تو یہاں اسی طرح کے فتوے، اور مناظروں کے چیلنج ہیں جو مذہبی فرقہ واریت کے عروج کے وقت ہوتے تھے ، فرق صرف اتنا ہے کہ اصطلاحات ، طریقہ کار اور انداز تبدیل ہوگیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کبھی مسلم لیگ والے پی ٹی آئی والوں کو سیاسی گالیاں دیتے نظر آتے ہیں تو کبھی پی ٹی آئی والے بددیانتی،رشوت،کرپشن وغیرہ کے فتوے ان پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ان جماعتوں نے مسلمانوں خصوصا باصلاحیت اور قابل نوجوانوں کو فرعون کی طرح گِروہ گِروہ کررکھا ہے اور مزے سے باری باری حکمرانی کررہے ہیں۔
اس وقت اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح مذہبی فرقہ واریت مسلمانوں کے لئے ایک ناسور ہے اسی طرح سیاسی فرقہ واریت بھی اسلام اور مسلمانوں کی ترقی اور غلبے کے لئے ناسور اور رکاوٹ ہے۔

تحریر: سید عبدالوہاب شاہ
بانی و ایڈیٹر نکتہ گائیڈنس (Nukta Guidance)
آپ کے فکری مضامین اور اصلاحی تجزیات پچھلے کئی سالوں سے لاکھوں قارئین تک پہنچ رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد فکری شعور اور اسلامی علوم کی حقیقی تفہیم ہے۔
اس کیٹگری کے مزید اہم کالمز
نکتہپندرہ سسٹم بنائیں۔
پندرہ سسٹم بنائیں۔ زندگی میں کامیابی اور خوشحالی محض قسمت کی بات نہیں اور نہ ہی یہ صرف دن رات کوہلو کے بیل کی طرح کام کرنے سے ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب اور ناکام انسان کی سوچ میں ایک بنیادی فرق ہ
نکتہفرقہ واریت اور مسلک پرستی میں فرق
فرقہ واریت اور مسلک پرستی میں فرق تحریر نام: Syed Abdul Wahab Shah ای میل: sherazi313@gmail.com تاریخِ اشاعت: 28 مارچ 2024 مسلمانوں میں فرقہ واریت اور مسلک پرستی یا گروہ بندی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، ا
نکتہبچوں کے نام اور لوگوں کے عجیب تصورات
بچوں کے نام اور لوگوں کے عجیب تصورات تحریر نام: Syed Abdul Wahab Shah ای میل: sherazi313@gmail.com تاریخِ اشاعت: 05 مارچ 2019 جب کسی کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو سنت طریقہ یہ ہے کہ ساتویں دن تک اس کا نا
