برطانیہ امریکا اور افیون کا کاروبار

برطانیہ،امریکا اور پوست کی کاشت
(سید عبدالوہاب شاہ شیرازی) افغانستان پر عالمی طاقتوں کے حملہ آور ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ امریکا اور برطانیہ کی ذریعہ آمدن بند ہو جانا بھی تھا۔ آپ سوچیں گے افغان سٹوڈنٹ نے ان کا ذریعہ آمدن کیسے بند کردیا تھا؟
یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا کہ برطانیہ اور امریکا فصلوں کی خود نگرانی کرتے، امریکا کی فوج فصلوں کی حفاظت کے لیے باقاعدہ فصلوں میں موجود رہتی اور پھر پاکستان، تاجکستان کے راستے یہ منشیات پوری دنیا میں سپلائی کی جاتی تھیں۔ پاکستان نے جب کبھی بھی طورخم، چمن، یا خاص طور پر انگور اڈا کراسنگ پوائنٹ بند کیے تو افغان اور امریکن فوجوں کے ساتھ اس وجہ سے جھڑپیں بھی ہو جاتی تھیں، کیونکہ دو چار دن بھی انگور اڈا کراسنگ پوائنٹ بند ہونے سے امریکا برطانیہ کو منشیات سمگلنگ رکنے سے لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوتا تھا، اس لیے وہ کراسنگ پوائنٹ فورا کھلوانے کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ افغان بارڈر پر باڑ لگانے میں بھی برطانیہ اور امریکا نے بہت رکاوٹ ڈالی اس کی وجہ بھی منشیات میں سمگلنگ کے کاروبار کا نقصان تھا۔ جب پاکستان نے اکثر بارڈر پر باڑ لگا لی تھی تب برطانیہ اور امریکا زیادہ تر سمگلنگ انگور اڈا کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے کرتے تھے۔ چند ماہ پہلے حکومت پاکستان نے کچھ دنوں کے لیے انگور اڈا کراسنگ پوائنٹ کو بند کیا تو امریکی فوجیں حملہ کرنے کے لیے پہنچ گئیں اور زبردستی انگور اڈا گیٹ کھلوا دیا۔ بیس سالوں میں افغانستان میں پوست کی کاشت اور اس کی سمگلنگ سے امریکا برطانیہ نے کروڑوں ڈالر کمائے لیکن ان دونوں ملکوں کا میڈیا من گھڑت پروپیگنڈا کرتا رہا۔
اس معاملے میں کتنا جھوٹ بولا جاتا رہا اس کا اندازہ آپ اس تصویر سے لگائیں جو ایک افغان فارسی ویب سائٹ کی ہے جس کا ٹائٹل یہ دیا گیا ہے کہ افغان حکومت یعنی (امریکی زیرنگرانی چلنے والی اشرف غنی کی حکومت) خوست صوبے میں افیون کی فصلوں کو تباہ کررہی ہے، اگر آپ اس تصویر کو غور سے دیکھیں تو یہ تصویر پاکستان کے کسی علاقے کی ہے جہاں ایف سی اہلکار فصل کو تباہ کررہے ہیں اور ان کے بازو پر پاکستان کا جھنڈا بھی بنا ہوا ہے۔
جبکہ دوسری طرف ان دونوں ملکوں کے مشہور میڈیا چینل بی بی سی اور وائس آف امریکا ہمیشہ یہ پروپیگنڈا کرتے آئے ہیں کہ افغان سٹوڈنٹس کا ذریعہ آمدن افیون ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے بیس سال تک تو امریکا اور برطانیہ حکومت کرتے رہے اور سٹوڈنٹس پہاڑوں اور غاروں میں چھپے رہے جبکہ افیون کھیتوں میں کاشت ہوتی ہے وہ کیسے اتنی بڑی فصل کاشت کرسکتے ہیں جس کے لیے ہل چلانا، بیج بونا، پانی اور گوڈی کا بندوبست کرنا اور پھر فصل اکھٹی کرنا وغیرہ طویل محنت کھیتوں میں کی جاتی ہے وہ یہ کیسے کرسکتے تھے۔ فصلیں غاروں میں نہیں اگتیں۔ اب ان کی حکومت دوبارہ قائم ہونے والی ہے اور وہ دبارہ پوست کی کاشت پر پابندی لگا دیں گے، جس کا برطانیہ اور امریکا کو بہت دکھ ہو رہا ہے۔ اس سارے معاملے سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بی بی سی، وائس آف امریکا وغیرہ مغربی میڈیا چینل کتنا جھوٹ بولتے اور من گھڑت پروپیگنڈا کرتے ہیں، ان کے ہاں سچ، اخلاقیات اور ایمانداری کا تصور تک نہیں پایا جاتا۔

تحریر: سید عبدالوہاب شاہ
بانی و ایڈیٹر نکتہ گائیڈنس (Nukta Guidance)
آپ کے فکری مضامین اور اصلاحی تجزیات پچھلے کئی سالوں سے لاکھوں قارئین تک پہنچ رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد فکری شعور اور اسلامی علوم کی حقیقی تفہیم ہے۔
اس کیٹگری کے مزید اہم کالمز
نکتہپندرہ سسٹم بنائیں۔
پندرہ سسٹم بنائیں۔ زندگی میں کامیابی اور خوشحالی محض قسمت کی بات نہیں اور نہ ہی یہ صرف دن رات کوہلو کے بیل کی طرح کام کرنے سے ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب اور ناکام انسان کی سوچ میں ایک بنیادی فرق ہ
نکتہفرقہ واریت اور مسلک پرستی میں فرق
فرقہ واریت اور مسلک پرستی میں فرق تحریر نام: Syed Abdul Wahab Shah ای میل: sherazi313@gmail.com تاریخِ اشاعت: 28 مارچ 2024 مسلمانوں میں فرقہ واریت اور مسلک پرستی یا گروہ بندی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، ا
نکتہبچوں کے نام اور لوگوں کے عجیب تصورات
بچوں کے نام اور لوگوں کے عجیب تصورات تحریر نام: Syed Abdul Wahab Shah ای میل: sherazi313@gmail.com تاریخِ اشاعت: 05 مارچ 2019 جب کسی کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو سنت طریقہ یہ ہے کہ ساتویں دن تک اس کا نا
