ایم ٹیگ کی لازمی شرط: سیکیورٹی کا ڈھونگ یا ٹیکس کا نیا جال؟

اسلام آباد میں ایم ٹیگ کی لازمی شرط: سیکیورٹی کا ڈھونگ یا ٹیکس کا نیا جال؟
اسلام آباد کی انتظامیہ نے اچانک ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں چلنے والی ہر چھوٹی بڑی گاڑی اور یہاں تک کہ موٹر سائیکلوں کے لیے بھی ایم ٹیگ لگانا ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم "سیکیورٹی" کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، لیکن کیا واقعی ایک ایسا اسٹیکر جو ٹول پلازہ پر رقم کٹوانے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ شہر کی سیکیورٹی کو یقینی بنا سکتا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر عوام سخت مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔
سیکیورٹی یا سہولت: اصل مقصد کیا ہے؟
تاریخی طور پر ایم ٹیگ کا تعارف موٹر وے پر ٹول پلازہ پر لگنے والی لمبی لائنوں اور رش کو ختم کرنے کے لیے کرایا گیا تھا۔ اس کا مقصد ایک خودکار نظام (Automated System) بنانا تھا جس میں پیمنٹ جمع کرنے اور وصول کرنے کا عمل بغیر کسی انسانی مداخلت کے مکمل ہو سکے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: اگر کسی گاڑی کی شناخت کرنی ہو تو اس کے لیے نمبر پلیٹ پہلے سے موجود ہے۔
اگر کسی مجرم یا دہشت گرد کا پیچھا کرنا ہو تو کیا ایم ٹیگ وہ کام کر لے گا جو ہائی ٹیک کیمرے اور نمبر پلیٹ ریکگنیشن سافٹ ویئر نہیں کر پا رہے؟
جب حکومت کے پاس پہلے ہی گاڑیوں کی رجسٹریشن کا مکمل ڈیٹا اور جدید سافٹ ویئرز موجود ہیں، تو ایک اضافی اسٹیکر کی کیا منطق ہے؟
نمبر پلیٹ بمقابلہ ایم ٹیگ
سیکیورٹی کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی سواری کی بنیادی پہچان اس کی نمبر پلیٹ ہوتی ہے۔ حکومت کے پاس موجود موجودہ ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے چالان بھی کیے جا رہے ہیں اور مجرموں کی شناخت بھی ممکن ہے۔ ایسی صورت میں یہ کہنا کہ ایم ٹیگ کے بغیر سیکیورٹی ادھوری ہے، عقل و شعور سے بالاتر معلوم ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ریاست نمبر پلیٹس کے ذریعے مجرموں کو نہیں پکڑ پا رہی، تو ایم ٹیگ بھی کوئی معجزہ نہیں دکھائے گا۔
کیا یہ مستقبل کی ٹیکسیشن کا پیش خیمہ ہے؟
عوامی حلقوں میں یہ خدشہ شدت سے پایا جاتا ہے کہ سیکیورٹی تو محض ایک بہانہ ہے، اصل مقصد اسلام آباد میں داخل ہونے اور نکلنے پر ٹول ٹیکس لگانا ہے۔ لگتا ایسا ہی ہے کہ عنقریب اسلام آباد اور پھر پورے پنجاب کے عوام کو اپنے ہی شہروں میں سفر کرنے پر روزانہ کی بنیاد پر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
یہ عوام کو لوٹنے کے نئے حربے معلوم ہوتے ہیں، جہاں سیکیورٹی کا نام استعمال کر کے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
سماجی اور مذہبی تناظر: ہمارے اعمال اور حکمران
موجودہ معاشی حالات اور انتظامیہ کے ایسے سخت گیر فیصلوں کو دیکھ کر عوام میں یہ احساس جڑ پکڑ رہا ہے کہ یہ شاید ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے کہ اللہ نے ہم پر ایسے حکمران مسلط کر دیے ہیں جو سہولت دینے کے بجائے مشکلات پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ جب کسی قوم پر اخلاقی زوال آتا ہے، تو ظالم حکمرانوں کا مسلط ہونا ایک فطری عذاب کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔
حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ عوام پر اس طرح کے بوجھ لادنے سے پہلے شفافیت کا مظاہرہ کرے۔ اگر مقصد واقعی سیکیورٹی ہے، تو اسے سائنسی بنیادوں پر ثابت کیا جائے، نہ کہ دھمکیوں اور تھانے کچہری کے خوف سے عوام کو ہراساں کیا جائے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اب "شہری ٹول ٹیکس" کا نیا بوجھ ان کی کمر توڑ دے گا۔

تحریر: سید عبدالوہاب شاہ
بانی و ایڈیٹر نکتہ گائیڈنس (Nukta Guidance)
آپ کے فکری مضامین اور اصلاحی تجزیات پچھلے کئی سالوں سے لاکھوں قارئین تک پہنچ رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد فکری شعور اور اسلامی علوم کی حقیقی تفہیم ہے۔
اس کیٹگری کے مزید اہم کالمز
اہم خبریںنیشنل کونسل فار طب کے سالانہ امتحانات 2026
نیشنل کونسل فار طب کے سالانہ امتحانات 2026 کی ڈیٹ شیٹ جاری قومی طبی کونسل (نیشنل کونسل فار طب) حکومت پاکستان کے زیر اہتمام فاضل الطب والجراحت کے سالانہ امتحانات 2026 اور ضمنی امتحانات 2025 کی تاریخوں
اہم خبریںدورۂ حدیث کے طلبہ کے لیے ایک جامع اور مفید ایپلی کیشن
دورۂ حدیث کے طلبہ کے لیے ایک جامع اور مفید ایپلی کیشن دینی مدارس میں دورۂ حدیث کو انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں طالب علم صحاحِ ستہ اور دیگر کتبِ حدیث کا باقاعدہ درس لیتا ہے اور ع
اہم خبریںوفاق المدارس رزلٹ 2026
وفاق المدارس رزلٹ 2026/1447ھ - آن لائن چیک کریں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں منعقد ہونے والے سالانہ امتحانات 2026ء (بمطابق 1447ھ) کے نتائج کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو
