ضروری ہدایت

ہر دفعہ اس پیج کو اوپن کرنے کے بعد ایک بار ریفریش کردیا کریں تاکہ نئی قسط نظر آسکے

ترکی کے اس ڈرامے نظام عالم میں مسلمانوں کی عطیم سلطنت سلجوق سلطنت کے عروج کے زمانے میں ایک باطنی شیعہ حسن بن صباح کی انتہائی خطرناک خفیہ تنظیم حشاشین کے ساتھ کشمکش دکھائی گئی ہے۔  حشاشین تنظیم کیسے کام کرتی تھی، اور کیسے کیسے ظلم ڈھاتی تھی اور سلجوق سلطنت کیسے اس کے خلاف برسرپیکار رہی۔ 

ڈرامے کا آغاز سلجوق سلطان الپ ارسلان کی ایک جنگ اور جنگ میں فتحیابی کے بعد اچانک الپ ارسلان کی شہادت اور پھر اس کے بیٹے سلطان ملک شاہ کے حکمران بننے سے ہوتا ہے۔



You can watch uyanis buyuk selcuklu aka nizam e alam with Urdu subtitles . You can watch latest episodes and updates about nizam e alam on this page.

نظام عالم سلجوقوں کا عروج سیزن1

উয়ানিস বুয়ুক সেলজুকলু (বাংলা সাবটাইটেল)
Uyanis Buyuk Selcuklu English

قسط  6 قسط  5 قسط  4 قسط  3 قسط  2 قسط  1
قسط  12 قسط  11 قسط  10 قسط  9 قسط  8 قسط  7
قسط  18 قسط  17 قسط  16 قسط  15 قسط  14 قسط  13
 قسط24  قسط23 قسط  22 قسط  21 قسط  20 قسط  19
    قسط28 قسط27 قسط26 قسط25


حشاشین (Assassins)

حشاشین (Assassins) جس کو باطنیان بھی کہتے ہیں۔ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد حسن بن صباح نے رکھی۔ اور انکا مرکز” الموت” میں قلعہ الموت تھا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔

قلعہ الموت (Alamut Castle) بحیرہ قزوین کے نزدیک صوبہ جیلان، ایران میں ایک پہاڑی قلعہ تھا۔ یہ موجودہ تہران، ایران سے تقریبا 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر ہے۔ حسن بن صباح کی قیادت میں یہ دہشت پسند اور خفیہ جماعت حشاشین (Assassins) کا مرکز رہا۔ اس قلعہ اور جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔

حشاشین کی ابتدا کے شواہد 1080ء میں ملتے ہیں۔ حشاشین کے ماخذ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک دشوار کا م ہے کیونکہ زیادہ تر معلومات ان کے مخالفین کے حوالے سے ہیں۔ اور 1256 ءمیں ہلاکو خان کے ہاتھوں قلعہ الموت کی فتح کے وقت اس تنظیم کے بارے میں اکثر معلومات بھی ضائع ہو گئیں۔ البتہ حسن بن صباح کے اس تنظیم کے بانی ہونے کے بارے میں شواہد موجود ہیں۔

حسن بن صباح کی تنظیم میں درجہ بندیاں تھیں۔ اور اس کے ادبی کارکنان جن کو مہلک قاتلوں کی حیثیت سے تربیت دی جاتی تھی انہیں فدائی کہا جاتا تھا جو کہ حشاشین کے نام سے مشہور تھے۔

یہی لفظ حشاشین انگریزی لفظ

(Assassins)

کی بنیاد ہے۔

Assassins
Assassins

تنظیم کے حشاشین نام کی وجہ یہ تھی کہ حسن بن صباح اپنے فدائیوں کو حشیش پلا کر انھیں فردوس کی سیر کراتا تھا۔ جو اس نے قلعہ الموت میں بنائی تھی۔ اور اس کے بعد ان فدائیوں سے مخالفیں کو قتل کرایا جاتا تھا۔

حشاشین کا بانی حسن بن صباح قم ’’مشرقی ایران‘‘ میں پیدا ہوا۔ باپ کوفے کا باشندہ تھا۔ 1071ء میں مصر گیا اور وہاں سے فاطمی خلیفہ المستنصر کا الدعاۃ بن کر فارس آیا۔ اور یزد ، کرمان ، طبرستان میں فاطمیوں کے حق میں پروپیگنڈے میں مصروف ہوگیا۔ کہتے ہیں کہ نظام الملک اور عمر خیام کا ہم سبق تھا۔ مگر بعد میں نظام الملک سے اختلاف ہوگیا تھا۔ چنانچہ ملک شاہ اول نے اس کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے 1090ء میں کوہ البرز میں الموت کے قلعے پر قبضہ کر لیا جو قزوین اور رشت کے راستے میں ہے۔ کئی دوسرے قلعے بھی اس کے قبضے میں آگئے۔

اس نے اپنے آپ کو “شیخ الجبال” نامزد کیا اور قلعہ الموت کے پاس کے علاقے میں چھوٹی سی آزاد ریاست قائم کر لی ۔اور حشاشین تحریک کا آغاز کردیا۔ پھر اپنے پیروؤں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ اس میں داعی اور فدائی بہت مشہور ہیں۔ فدائیوں کا کام تحریک کے دشمنوں کو خفیہ طور پر خنجر سے ہلاک کرنا تھا۔

بہت سے مسلمان اور عیسائی فدائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ دہشت انگیزی کی یہ تحریک اتنی منظم تھی کہ مشرق قریب کے سبھی بادشاہ اس سے کانپتے رہتے تھے۔

کہتے ہیں کہ حسن بن صباح اپنے فدائیوں کو حشیش ’’گانجا‘‘ پلا کر بیہوش کر دیتا تھا اور پھر انھیں فردوس کی سیر کراتا تھا۔ جہاں پر خوبصورت عورتوں کو حوریں بنا کر ان فدائیوں کے سامنے پیش کرتا ۔ وہ حوریں ان کو حسن بن صباح کے حکم پر فدا ہونے کا کہتیں اوروعدہ کرتی کہ تم جلد ہمارے بیچ ہمیشہ کے لئے پہنچ جاؤ گے بھر نہ تمہیں کو ئی غم ہوگا نہ کو ئی ملال۔

اس نے یہ جنت وادی الموت میں بنائی تھی۔

حسن بن صباح نے طویل عمر پائی اور اس کے بعد بزرگ امیر اُس کا ایک نائب اس کا جانشین ہوا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے 



سلجوق سلطنت

 

سلجوقی سلطنت 11ویں تا 14ویں صدی عیسوی کے درمیان میں مشرق وسطی اور وسط ایشیا میں قائم ایک مسلم بادشاہت تھی جو نسلا اوغوز ترک تھے۔ مسلم تاریخ میں اسے بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ دولت عباسیہ کے خاتمے کے بعد عالم اسلام کو ایک مرکز پر جمع کرنے والی آخری سلطنت تھی۔ اس کی سرحدیں ایک جانب چین سے لے کر بحیرۂ متوسط اور دوسری جانب عدن لے کر خوارزم و بخارا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کا عہد تاریخ اسلام کا آخری عہد زریں کہلا سکتا ہے اسی لیے سلاجقہ کو مسلم تاریخ میں خاص درجہ و مقام حاصل ہے۔ سلجوقیوں کے زوال کے ساتھ امت مسلمہ میں جس سیاسی انتشار کا آغاز ہوا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اہلیان یورپ نے مسلمانوں پر صلیبی جنگیں مسلط کیں اور عالم اسلام کے قلب میں مقدس ترین مقام (بیت المقدس) پر قبضہ کر لیا۔

طغرل بے سلجوق کا پوتا تھا جبکہ چغری بیگ اس کا بھائی تھا جن کی زیر قیادت سلجوقیوں نے غزنوی سلطنت سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ابتداء میں سلجوقیوں کو محمود غزنوی کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ خوارزم تک محدود ہوگئے لیکن طغرل اورچغری کی زیرقیادت انہوں نے 1028ء اور 1029ء میں مرو اور نیشاپور پر قبضہ کر لیا۔ ان کے جانشینوں نے خراسان اور بلخ میں مزید علاقے فتح کئے اور 1037ء میں غزنی پر حملہ کیا۔ 1039ء میں جنگ دندانیقان میں انہوں نے غزنوی سلطنت کے بادشاہ مسعود اول کو شکست دے دی اور مسعود سلطنت کے تمام مغربی حصے سلجوقیوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھا۔ 1055ء میں طغرل نے بنی بویہ کی شیعہ سلطنت سے بغداد چھین لیا

الپ ارسلان اپنے چچا طغرل بیگ کے بعد سلجوقی سلطنت کے تخت پر بیٹھا اور اس نے 1064ء میں آرمینیا اور جارجیا کو سلطنت میں شامل کر لیا۔ وہ ایک بہت بیدار مغز اور بہادر حکمران تھا ۔ مشہور مدبر نظام الملک طوسی کو اپنے باپ چغری بیگ کی سفارش پر وزیر سلطنت مقرر کیا۔ اس کے عہد میں سلجوقی سلطنت کی حدود بہت وسیع ہوئیں۔ پہلے ہرات اور ماوراء النہر کو اپنی قلمرو میں شامل کیا۔ پھر فاطمی حکمران کو شکست دے کر مکہ اور مدینہ کو اپنی قلمر و میں شامل کیا۔ اس سے اسلامی دنیا میں سلجوقیوں کا اثر و اقتدار بڑھ گیا۔ بازنطنیوں نے حملہ کیا تو 26 اگست 1071ء کو ملازکرد کے مقام پر ان کو عبرتناک شکست دی۔ اور قیصر روم رومانوس چہارم کو گرفتار کر لیا۔ قیصر روم نے نہ صرف تاوان جنگ ادا کیا اور خراج دینے پر رضامند ہوا۔ بلکہ اپنی بیٹی سلطان کے بیٹے سے بیاہ دی اور آرمینیا اور جارجیا کے علاقے اس کو دے دیئے ۔ خوارزمی ترکوں کے خلاف ایک مہم میں قیدی بناکر لائے گئے خوارزمی گورنر یوسف الخوارزمی کی تلوار سے شدید زخمی ہوا اور 4 دن بعد 25 نومبر 1072ء کو محض 42 سال کی عمر میں انتقال کرگیا ۔ الپ ارسلان کو مرو میں ان کے والد چغری بیگ کی قبر کے برابر میں دفن کیا گیا

الپ ارسلان کے جانشیں ملک شاہ اول اور ان کے دو ایرانی وزراء نظام الملک اور تاج الملک کی زیر قیادت سلجوق سلطنت اپنے عروج پر پہنچ گئی جس کی مشرقی سرحدیں چین اور مغربی سرحدیں بازنطینی سلطنت سے جاملی تھیں۔ ملک شاہ نے دار الحکومت رے سے اصفہان منتقل کر دیا۔ اس دوران میں نظام الملک نے بغداد میں جامعہ نظامیہ قائم کی۔ ملک شاہ کے دور حکمرانی کو سلجوقیوں کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ 1087ء میں عباسی خلیفہ نے ملک شاہ کو “سلطان مشرق و مغرب” کا خطاب کیا۔ ملک شاہ کے دور میں ہی ایران میں حسن بن صباح نے زور پکڑا جس کے فدائین نے نے کئی معروف شخصیات کو موت کے گھاٹ اتاردیا

1092ء میں ملک شاہ اول کی وفات کے بعد اس کے بھائیوں اور 4 بیٹوں کے درمیان میں اختلافات کے باعث سلطنت تقسیم ہوگئی۔ اناطولیہ میں قلج ارسلان اول ملک شاہ اول کا جانشیں مقرر ہوا جس نے سلطنت سلاجقہ روم کی بنیاد رکھی۔ شام میں اس کا بھائی توتش اول حکمران بنا جبکہ ایران میں اس کے بیٹے محمود اول نے بادشاہت قائم جس کی اپنے تین بھائیوں عراق میں برکیارق، بغداد میں محمد اول اور خراسان میں احمد سنجر سے تصادم ہوتا رہا۔

توتش اول کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں رضوان اور دوقق کو بالترتیب حلب اور دمشق میں وراثت میں ملا اور ان دونوں کی نااتفاقی کے باعث شام کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا جن پر مختلف امراء کی حکومتیں تھیں۔

1118ء میں احمد سنجر نے سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بھتیجے اور محمد اول کے بیٹے محمود ثانی نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور بغداد میں دار الحکومت قائم کرتے ہوئے اپنے سلطان ہونے کا اعلان کر دیا تاہم 1131ء میں بالآخر احمد سنجر نے اسے ہٹادیا

علامہ اقبال نے سلطان سنجر کی عظمت و شان کو سراہا ہے۔

شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!

فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!

جب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں

شکوہ سنجر و فقر جنید و بسطامی

2020-10-15