Dirilis Ertugrul Urdu دیریلش ارطغرل کے مکمل پانچوں سیزن

دیرلیش ارطغرل غازی

 بانی خلافت عثمانیہ  تیرویں صدی عیسوی



چرواہوں کے ایک ایسے قبیلے کی داستان جس کے پاس رہنے کے لیے زمین بھی نہیں تھی، لیکن اپنی ایمانی طاقت، اخلاص، محنت، کوشش اور جہاد فی سبیل اللہ کی بدولت دنیا کی عظیم سلطنت خلافت عثمانیہ قائم کردی۔



پانچ سیزن

Dirilish Ertughrul Season 1,2,3,4,5, ارطغرل سیزن

کسی بھی سیزن کو دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔ جو پیج اوپن ہو اسے ایک بار ریفریش بھی کردیں۔ اگر پسند آئے تو یہ پیج اپنے دوست احباب سے وٹس اپ پر شیئر کریں

ertugrul in urdu season 1











ارطغرل کا تعارف

سلیمان شاہ

کون جانتا تھا کہ 1198ء میں ایک چھوٹے سےترک قبیلے کے سردار سلیمان شاہ کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ جبرواستبداد’غلامی و لاچاری’مقہوری و بے بسی میں مبتلا انسانوں کیلئے صورِ اسرافیل علیہ السلام کا کام کردے گا. غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں میں اتنی قوت آ جائے گی کہ وہ تِنکوں کےسہارے اپنے گھونسلے تعمیر کرنےلگیں گے. ظلم وجبر کی کالی رات نویدِ سحر لے کر دن کےاجالے میں تبدیل ہوجائے گی اور چارسو عدل و انصاف کے پھریرے لہرانے لگیں گے.

ریت کے ذروں کی طرح بکھری ہوئی امت یکجان ہوکر اپنی وحدت اور مرکزیت کی طرف لوٹ آئے گی اورایک ایسی مسلم ریاست کی بنیادڈالے گی جس کے سایہ رحمت میں چھ سوسال تک مسلمان آدھی دنیا پر حکومت کریں گےاورعالمِ کفر کے قلب پر اسلام اور مسلمانوں کی عظمت کی دھاک کچھ اس انداز میں بیٹھ جائے گی کہ وہ صدیوں تک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغاوت کرنے کی جرأت نہ کرسکیں گے. مسلم دنیا کیلئے روشنیوں کی امید بن کر طلوع ہونے والے اس آفتاب کا نام تاریخ میں
“ارتغل غازی ” کے نام سے محفوظ ہے.

ارطغرل نے کتنے سال جدجہد کی

عالمِ اسلام کے اس شیردل مجاہداور عظیم غازی نے اپنی زندگی کے نوے سالوں میں سے تقریباً ستر سے پچھتر سال اعلاءِ کلمۃ اللہ اورچارسو عدل انصاف کا بول بالا کرنے کیلئے عَلَمِ جہاد بلند کئے رکھا اور اس راستے میں پیش آنے والی تمام رکاوٹوں اور باطل قوتوں کو اپنی تلوار کی نوک پہ رکھتے ہوئے نشانِ عبرت بنادیا. ارتغل غازی نے ایک طرف اپنی تلوارکی طاقت اور خداداد ذہنی صلاحیت کواستعمال کرتےہوئےعہد شکن صلیبیوں اور درندہ صفت منگولوں کو ہرمیدان میں ناکوں چنے چبوائےتودوسری طرف سلجوق سلطنت کے اندر موجود بڑے بڑے غداروں کاپردہ چاک کرکےانہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکااور اسلام اوراسلامی ریاست کے ساتھ وفاداری کاعہد تادمِ زیست نبھاتےرہے.

اوغوز خان

ترکوں کے جدِّامجد اوغوز خان کے بارہ بیٹے تھے جن سےان کے بارہ قبیلے ہوئے.
ماوراء النہر کاعلاقہ جسے آج ہم ترکستان کہتے ہیں اور جو مشرق میں منگولیا اور شمالی چین کی پہاڑیوں سے مغرب میں بحرِ خزز ( بحرِ قزوین) اور شمال میں سیبریاکے میدانی علاقوں سے اور جنوب میں برصغیراور فارس تک پھیلا ہواتھا اوغوز خاندان کا وطن تھا اس علاقے میں اوغوز خاندان کے بڑے بڑے قبائل آباد تھے. جوترک یااتراک کہلاتےتھے.

قائی قبیلہ

ساتویں صدی ہجری کے اوائل میں ان قبائل نے چنگیزی لشکر کی ہولناکیوں سے بچنے کیلئے ایشائے کوچک کی راہ لی اور سلجوق سلطنت میں جاملے.اس وقت سلجوق سلطنت کے سلطان, سلطان علاؤ الدین تھے.
ان ہی ترک قبائل میں جو چنگیز خان کے حملے کے بعد اپناوطن چھوڑ کر مارے مارے پھررہے تھے ارتغل غازی کاقبیلہ بھی تھا جس کاسردار ارتغل غازی کا باپ سلیمان شاہ تھا اور قبیلے کانام قائی قبیلہ تھا.سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جن کے نام صارم, گلدارو,ارتغل اور ذوالجان تھے سلیمان شاہ کے تمام بیٹے بہت بہادر اور اعلٰی درجے کے جنگجو تھے مگر ارتغل غازی ان سب میں ایک منفرد حیثیت کے مالک تھے. ارتغل غازی نے چھوٹی عمر میں ہی شمشیرزنی, تیراندازی, نیزہ بازی اور گھڑ سواری جیسے جنگی فنون میں مہارتِ تامہ حاصل کرلی.جس کے نتیجے میں انہوں نے کئی معرکوں میں دشمن کو حیرت انگیزطورپر شکست دی.سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارتغل غازی قائی قبیلے کے سردار منتخب ہوئے.

کائی قبیلہ کا پیشہ

بعض تاریخی روایات کے مطابق قائی قبیلے کاپیشہ گلہ بانی تھا اوروہ اسی سے اپنی گزربسر کرتے تھے قحط اور خشک سالیوں سے تنگ آکر یہ سرسبز علاقوں اورزرخیززمینوں کی طرف ہجرت کرنے پہ مجبور ہوئے. تاریخی حقیقت جوبھی ہو مگر کسے معلوم تھا کہ دنیا کی نظر میں جو چرواہےہیں اورجن کےپاس رہنےکواپنی سرزمین نہیں وہ ایک ایسی عظیم الشان اسلامی سلطنت کی داغ بیل ڈالنے والے ہیں جس کی سرحدیں تین براعظموں کوپھلانگ جائیں گی اور جوصدیوں تک اسلام کا پرچم سربلند رکھےگی.

چنانچہ چنگیز خان کے لشکر کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے یا قحط اور خشک سالیوں سے چھٹکارہ پانے کیلئے قائی قبیلہ سب سے پہلے ہجرت کرکےاہلت آیا پھر اہلت سے حلب میں آگئے. حلب میں اس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے غیاث الدین العزیز کی حکومت تھی اور حلب کے وزیراعظم غیاث الدین العزیز کے ماموں شہاب الدین طغرل تھے.

حلب کی صورتحال

حلب اس وقت صلیبیوں کی سازشوں میں گِھرا ہواتھااورصلیبیوں نے یہاں مسلمانوں کےروپ میں ہرجگہ اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑرکھے تھے اورکلیدی عہدوں پرفائز تھےیہاں تک کہ العزیز کی فوج کاسالار بھی ایک صلیبی شخص (ظاہراًمسلمان) تھا جس پر العزیز بہت زیادہ اعتماد کرتا تھا اور یہ العزیزسے اپنی مرضی کے فیصلے کرواتاتھایعنی حلب میں العزیز کی حیثیت صرف ایک کٹھ پتلی کی تھی اور العزیز کواس کااحساس تک نہیں تھا حلب کے قریب صلیبیوں کا ایک خفیہ قلعہ تھا اور اس شہرمیں ہونے والی تمام سازشوں کے تانےبانے اسی قلعے سے جا ملتے تھے.اسی قلعے میں موجود مسیحی رہنماالقدس کو فتح کرنے کے منصوبے تیار کررہے تھے اور اس مقصد کی تکمیل کیلئے انہوں ایوبیوں اور سلجوقیوں کے درمیان اختلافات کی آگ بھڑکائی یہاں تک کہ ایوبیوں اور سلجوقیوں کےدرمیان ایک خونریز جنگ چھڑنے والی تھی جس میں دونوں طرف مسلمانوں کاخون بہتا اور سب سےزیادہ فائدہ صلیبیوں کوہوتااوراس کے علاوہ حلب کے امیر العزیز کے سائے میں چھپے ان صلیبی ناگوں نے سلجوق سلطنت میں آباد مختلف ترک قبائل کو سلجوق سلطنت کے سلطان علاؤ الدین کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنے کی حددرجہ کوشش کی مگر ارتغل غازی نےاپنےزورِبازواوراپنی خدادادصلاحیت کواستعمال کرتےہوئے بروقت کارروائی کی اوریہاں بچھائے گئے صلیبیوں کےتمام جال کاٹ ڈالے اور ایک ایک صلیبی کو العزیز کے سامنے بےنقاب کرکےان کے تمام منصوبوں کوناکام بنادیااور پھر اپنے سپاہی لے کر ان کے قلعےپرچڑھ دوڑااور قلعے کی اینٹ سے اینٹ بجادی یوں صلیبیوں کی تمام سازشیں دم توڑ گئیں اور ارتغل غازی امت مسلمہ کو ایک خونریزجنگ اوراختلافات کی بھینٹ چڑھ جانے سے بچانے میں کامیاب ہو گئےیوں ارتغل غازی نے ایوبیوں اور سلجوقیوں کےدرمیان دوستی کرادی.

حلیمہ سلطان

اسی دوران ارتغل غازی نے سلطان علاؤ الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کرلی جس سے ان کے تین بیٹے گوہر’شہریار اور عثمان ہوئے اسی عثمان کے نام سے خلافتِ عثمانیہ کا نام پڑا اور خلافتِ عثمانیہ کا پہلا خلیفہ بھی یہی عثمان غازی بنا.

نویان اور اوگنائی خان

جب ارتغل غازی نے حلب میں صلیبی کارستانیوں کو ناکام بنادیا تو ان کی جرأت’ بہادری’ جانبازی اوربےخوفی کی شہرت اناطولیہ سے قونیہ تک بلکہ سلجوق سلطنت کی سرحدوں کوپھلانگتے ہوئے منگول سلطنت کے شہنشاہ اوگتائی خان کے مسکن تک جاپہنچی (اوگتائی خان چنگیز خان کابیٹا اور ہلاکو خان کاباپ تھا)اور منگولوں کو اس بےباک بہادر کی گھن گرج سے خطرہ محسوس ہوا تو اوگتائی خان نے ان کو کچلنے کیلئے اپنے سب سے قریبی سالار نویان کاانتخاب کیا جو ایک درندہ صفت اور سفاک انسان تھااورجو انسانوں کے خون سےاپنی پیاس بجھاتااور ان کی املاک کو لوٹ کر یا تباہ کرکے اپنی بھوک مٹاتا.
نویان اپنی پوری قوت اور غرور کے ساتھ ارتغل غازی کو مات دینے کیلئے میدان میں اترامگر ارتغل غازی نے اپنی بہترین عسکری چالوں اور جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے عظیم منگول کمانڈر نویان کو بے بس کردیااور اسے عبرت ناک شکست دی.

اوگتائی خان کے رائٹ ہینڈ نویان کو شکست دینے کے بعد ارتغل غازی اپنے قبیلے کے ساتھ ارزروم سے ہجرت کرکے اناطولیہ میں بازنطینی سرحد پر آگئے جہاں سرسبز چراگاہوں کےساتھ زرخیز زمین اپنی مثال آپ تھی مگر یہاں بازنطینی مقتدر قوتوں نے عوام الناس کا جینا دوبھر کررکھا تھا لوٹ مار کابازار گرم تھا لوگوں کی معاشی حالت بدتر تھی اور حکومت کی طرف سے ناجائز ٹیکسز نے عوام الناس کی کمر توڑ دی تھی مسلمان تو مسلمان خود بازنطینی لوگ اپنی حکومت سے بیزار تھے الغرض لوگ غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے مگر کوئی ان کی رہنمائی کرنے والا نہیں تھا ان حالات میں جب ارتغل غازی اپنے قبیلے کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں آئے تو انہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور مسلم و غیر مسلم دونوں کیلئے بلاتفریق عدل و انصاف کے نظام کے قیام کاعَلَم بلند کیا تو لوگوں میں امید کی کرن پھوٹی اور وہ ارتغل غازی کے ساتھ شامل ہوتے گئے .

صلیبی ٹمپلرز

اس مقصد کیلئے ارتغل غازی نے سب سے پہلے بازنطینی سرحد پر موجود ہانلی بازار پر حملہ کرکے اسے فتح کرلیا جو صلیبی (ٹمپلرز) کے قبضے میں تھا اوراس علاقےکی تجارت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھاہانلی بازار فتح کرکے ارتغل غازی نے یہاں پر لاگو ناجائز ٹیکسز ختم کردیئے اور مسلم و غیر مسلم دونوں کیلئے بلاتفریق تجارت کی سہولیات فراہم کیں جسکی وجہ سے ارتغل غازی کی مقبولیت ارد گرد کے قبائل اور بازنطینی تاجروں میں روز بروز بڑھتی گئی جو بازنطینی مقتدر قوتوں اور سلجوق سلطنت کے اندر موجود بڑے بڑے غداروں کو لمحہ بھر کیلئے بھی برداشت نہ تھی اس لئے ہرآئے روز وہ ارتغل غازی کے خلاف سازشوں کے جال بچھاتے مگر ہردفعہ انہیں منہ کی کھانی پڑتی.

قراجہ حصار

یہاں بازنطینی صلیبیوں کا ایک قلعہ تھا جس کانام قراجہ حصار تھا جہاں سے بازنطینی ارتغل غازی کو مات دینے کیلئے آئےروز سازشیں کرتے رہتے اس لئے ارتغل غازی اور قراجہ حصار کے صلیبیوں کے درمیان کئی معرکے ہوئے جن میں صلیبیوں کوبھاری نقصان اٹھاناپڑا.مگر قراجہ حصار قلعے میں موجود بازنطینی صلیبی پھر بھی اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئے تو ارتغل غازی نے اپنے سپاہیوں کےساتھ قلعے پرحملہ کردیانہایت خطرناک جنگ ہوئی مگر آخر کار فتح کا سہرا اسلام کے متوالوں کے سر پرسجا اور قلعے کے درودیوار اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھےاور جآء الحق وزھق الباطل کے نغمے فضا میں بلند ہوئے اور بازنطینی صلیبیوں کا غرور خاک میں مل گیا..

جب سلطان علاؤ الدین کو قراجہ حصار قلعے کی فتح کی خبر ملی توان کی نظر میں ارتغل غازی کامقام ومرتبہ اور بڑھ گیااور سلطان علاؤ الدین نے انہیں اس علاقے کا سردارِ اعلی بنا دیا یوں ارتغل غازی کی طاقت اور مقبولیت میں اضافہ ہوتاگیااوروہ اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلےگئے.

سعدتین کوپیک

جب ارتغل غازی ایک طرف سلجوق سلطنت کیلئے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے تودوسری طرف سلجوق سلطنت کے اندر موجود غدارِاعظم سعدتین کوپیک ( یہ سلجوق سلطنت کاسب سے بڑا وزیرتھا) نے اپنی سلجوق سلطنت کاسلطان بننے کی ناجائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے غداریوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سلطان علاؤ الدین کو زہر دے دیاجسکی وجہ سے سلطان علاؤ الدین شہید ہوگئےاور ان کے بعد ان کابیٹا غیاث الدین سلجوق سلطنت کاسلطان بن گیا. چونکہ سلطان غیاث الدین کم سن تھے اورامورِ سلطنت کو چلانے میں ناتجربہ کار تھے اس لئے امیر سعدتین کوپیک ان پہ حاوی تھا قریب تھا کہ امیرسعدتین کوپیک سلطان غیاث الدین کوبھی قتل کرکے خود سلطان بن جاتا مگر سلطان غیاث الدین ارتغل غازی اور کچھ دوسرے وفاداروں کے ساتھ مل کر امیر سعدتین کوپیک کے خلاف صف آرا ہوئے. یہاں ایک بار پھر ارتغل غازی نے اپنی سپہ گری کے بہترین جوہر دکھائے اور اپنی بہترین عسکری چالوں اور جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے امیر سعدتین کوپیک کو شکست دی اور اسے قتل کر کے سلجوق سلطنت کو ایک بہت بڑے غدار سے نجات دلائی اور ایک بارپھرریاست کے ساتھ وفاداری کا عہد نبھایا..

ایک تاریخی روایت کےمطابق جب ارتغل غازی ہجرت کر کے اناطولیہ پہنچے تو انہوں نے دو لشکروں کو آپس میں برسرِ پیکار دیکھاجن میں سے ایک تعداد میں زیادہ اور دوسرا کم تھا وہ کسی فریق سے واقف نہ توتھےمگر اپنی فطری ہمدردانہ طبیعت کے باعث ارتغل غازی نے چھوٹے لشکر کا ساتھ دیا اور 444 شہسواروں کے ساتھ میدانِ جنگ میں کود پڑے اور شکست کے قریب پہنچنے والا لشکر اس اچانک امداد سے جنگ کا پانسا پلٹنے میں کامیاب ہو گیا۔ ارتغل غازی نے جس فوج کی مدد کی وہ دراصل سلجوق سلطنت کےسلطان علاؤالدین کا لشکر تھا جو مسیحیوں سے برسرِپیکار تھا اور اس فتح کے لیے ارتغل غازی کی خدمات کے پیش نظرسلطان علاؤالدین نے انہیں سوغت شہر جاگیر کے طور پر عطاکیا۔چونکہ یہ شہردریائے سقاریہ کے بائیں جانب بازنطینی سرحد کےقریب واقع تھا اس لئے اکثر اوقات ارتغل غازی کی بازنطینی قلعہ داروں سے جنگ کی نوبت آتی رہتی تھی یہاں ارتغل غازی نے تھوڑےہی عرصے میں اپنی بہادری کاسکہ بٹھادیا.

ارتغل غازی کے اوصاف

ارتغل غازی نہ صرف عظیم سپہ سالار اور بہترین جنگجو تھے بلکہ وہ بہت ہی اعلٰی اوصاف کے حامل انسان تھےدن کے مجاہد اوررات کے عابد کے ساتھ ساتھ انتہائی شریف النفس ‘سادگی پسند’مہمان نواز’فیاض اور رحمدل انسان بھی تھےجسکی وجہ سے ایشائے کوچک میں پہلےسے مکین ترک قبائل ارتغل غازی کے ساتھ شامل ہوتے گئے اور وہ اپنے مشن کی طرف آگےبڑھتے رہےاور پورے شہر میں عدل و انصاف کا بول بالا کردیا..
اسی شہرکو ہی ارتغل غازی نے تادمِ آخر اپنا مستقر بنائےرکھااور 1288ء میں اسی شہر میں ہی عالمِ اسلام کے یہ عظیم مجاہد خالقِ حقیقی سے جاملےاور سوغت کے قریب دفن ہوئے.
رحمۃ اللہ تعالی علیہ

ارتغل غازی کی مسلسل مجاہدانہ کوششوں اور خلوصِ نیت نےہی ان کے بیٹے عثمان غازی کیلئے راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں انہوں 27 جولائی 1299ء میں سلجوق سلطنت سے خود مختاری کااعلان کرتے ہوئے ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی جو عثمان غازی کے نام کی نسبت سےہی سلطنتِ عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی اور 1299ء سے 1924ء تک اسلام کا پرچم سربلند رکھا.


Introduction

he life of a group of Turkic nomads becomes difficult when Ertugrul rescues a family from some knights and brings them to their tribe, without knowing their true identity.

Ertugrul was the father of Osman I. According to Ottoman tradition, he was the son of Suleyman Shah, leader of the Kayi tribe of Oghuz Turks, who fled from western Central Asia to Anatolia to escape the Mongol conquests, but he may instead have been the son of a Gündüz Alp.

Season 1

Following the M Seeking to solve the unrest, Suleyman Shah sends Ertuğrul on a mission to find a new place for the nomad group to settle. He specifically sends Ertuğrul and his three friends to [[seek an agreement with the Sultan; an event that sets off the chain of events that ultimately lead to the founding of the Ottoman Empire.

Season 2

In the second season, Ertugrul is captured by the Mongols, led by Baycu Noyan. Meanwhile, the Kayi Tribe led by Hayme Ana seeks refuge with the Dodurga, led by Korkut Bey, brother of Hayme Ana. Ertugrul’s escape from the Mongols and subsequent return to his tribe creates internal strife between him and his cousin Tugtekin, the head alp of the Dodurga. Meanwhile, Aytolun (Hayme Ana’s sister in law – Korkut Bey’s second wife), plots behind his back to help her brother Gumustekin become the margrave with the help of Emir Sadettin Kopek. Later Abdurrahman Alp kills her. The tension is further escalated with the arrival of Sungurtekin, Ertugrul’s long lost brother. After defeating Gumustekin and Noyan, the tribe is split between joining Ertugrul on the Western border of Anatolia, or staying with Gundogdu and Sungurtekin. In the end, Ertugrul, his brother Dundar, Halime Sultan, and Hayme Ana, along with 400 other people journey to the western edge of Anatolia, leaving behind the rest of the Kayi Tribe.

Season 3

In the third season, Ertugrul deals with the Cavdar tribe, the most powerful tribe in the western region of Anatolia. Led by Candar Bey and his children Ural, Aslihan, and Aliyar, the Cavdars are very skilled at trading. However, Ural is devious and seeks his father’s beylik, and does anything to achieve this. Following Ertugrul’s conquest of the Hanli Bazar, Ural Bey is sentenced to death for his role in destroying property, killing Ertugrul’s Alps, and killing the Tekfur of Karacahisar. With the help of Emir Sadettin Kopek, Ural is freed and seeks help from Vasiliyus the new commander of Karacahisar, who seeks a bloody war with the Turks. Ertugrul bands together with Aliyar Bey to defeat Ural and Vasiliyus, but Aliyar Bey dies along the way. Savci, Etugrul’s son is born and Bamsi marries Helena who later becomes Muslim and changes her name from Helena to Hafsa Hatun. To strengthen his ties with the Cavdars, Ertugrul requests Turgut to marry Aslihan, who accepts. Ertugrul is also given the title of Uc Bey by Sultan Alaeddin, which angers Kopek who vows to destroy Ertugrul.

Season 4

In the fourth season, the Kayilar mourn Ertugrul’s death. Aslihan deals with the arrival of Bahadir Bey, her uncle who seeks her beylik. Meanwhile, Ertugrul is actually alive and captured by a slave trader. Dundar becomes the bey of the Kayilar and tries to sell Hanli Bazar and move back to Gundogdu’s tribe, but is stopped by the appearance of Ertugrul. Ertugrul banishes Dundar and reclaims Hanli Bazar and declares war on the Byzantines after his son Gunduz is kidnapped by Ares. After Bahadir Bey’s treachery, Ertugrul executes him and conquers Karacahisar, leaving Ares to go on the run. The conquest of Karacahisar leads to Ertugrul making a move against Kopek, whose treachery threatens the Seljuk state. Following a failed ambush, Ertugrul captures Ares and promises to set him free if he confesses to the Sultan about Kopek’s misdeeds. The plan nearly works, however, Kopek is saved by the Sultan’s wife Mahperi Hatun, who seeks to make her son Giyaseddin the Sultan. Kopek is exiled, and sends his men after Ares, who is saved when Erturgrul shows up. Ares converts to Islam and becomes Ahmet, and serves as a spy for Ertugrul. Kopek misplays this attack and the Sultan requests a meeting with Ertugrul, who explains everything to him.. However, the Sultan is poisoned by this meeting by Kopek, and dies in the hands of Ertugrul. Giyaseddin becomes the new Sultan and imprisons Ertugrul until Ibn Arabi rescues him. Meanwhile, Gunalp Bey, Kopek’s adopted son captures Karacahisar and Ertugrul’s alps and tries to have them executed, only to be stopped by Ertugrul. Ertugrul attempts to convince Gunalp of Kopek’s wrongdoings, but fails. Kopek kills Giyaseddin’s brother Kilic Arslan and seizes power in the palace. Giyaseddin issues an execution warrant for Kopek, who has enough power now to become the sultan. Aslihan Hatun takes Aliyar’s sword and secretly leaves the tribe with the intention to kill Kopek. She fails causing her death and Sadettin to nearly die. With the help of Sungurtekin and Husamettin Karaca, Ertugrul chops off Kopek’s head in an epic showdown. The feasts begin, but are cut short with Halime’s death following Osman’s birth. The Mongols start to make a move on Anatolia and Ogedei Han sends Baycu Noyan, back from the dead, as an envoy to the Seljuk. Noyan and Ertugrul team up to deliver a peace treaty, but it is broken when Ogedei dies. Noyan’s sister, Alangoya, infiltrates the Kayi tribe and causes chaos, only to be killed by Hayme Ana. Noyan makes a move on Anatolia, and the Kayilar move to Sogut at the end of the season.

Season 5

The fifth season takes place 10 years after the Battle of Kose Dag, where the Mongols took over the Seljuk state. The arrival of the new tax collectors, the Umurogullari, disrupts the balance of Sogut. Umur Bey’s daughter, Ilbilge Hatun, infiltrates the Kayi tribe to gain information on Ertugrul, and falls in love with him. Meanwhile, Commander Dragos, a disgraced Byzantine warrior seeks to conquer Sogut. He kills Umur Bey and frames Gunduz Alp, pitting two tribes against each other. Emir Bahattin’s presence serves to disrupt Ertugrul’s plans against the Mongols. Following Gunduz’s acquittal after the truth about Dragos is revealed, Beybolat Bey arrives. As the son of Umur Bey and Bey of the Umuroğlu after his father’s death he is a Seljuk assassin that works with the Mongols to wipe out rebelling Oğuz Tribes, under a fake name Albaşti. Ertugrul’s brothers are on the run from Albasti and hide in the mountains. Beybolat seeks to marry Ilbilge with Bahattin, but his plans are ruined when Ertugrul asks her for marriage, and she accepts. Ertugrul raids the Mongols and steals the tax gold in order to start a huge war. This leads to Emir Bahattin’s death with Albasti and Dragos still at large. Ertugrul survives an assassination attempt when Zangoc (the real Dragos) saves him from the assassin’s arrows. Ertugrul now suspects Zangoc of being Dragos and tasks Mergen to track him. Hulagu Han sends Commander Alincak and Subutay to raid the Kayi tribe. They capture the family, make Beybolat the uc bey, Artuk Bey the new bey of the Kayilar, and command Ertugrul to hand over the chest or else they take Osman’s life. Ertugrul refuses to hand over the chest, allies with Dragos and Lefke Castle, and tasks Ilbilge Hatun with spying for him in the tribe. Sirma Hatun becomes the head hatun of the Kayi, angering Selcan who fights and assaults her. Suleyman is imprisoned by Beybolat for speaking out against his beylik, but escapes with Ilbilge’s help. Ertugrul and his alps intercept a message from Hulagu Han and change it, saving Lefke Castle from being conquered. Ertugrul learns the location of his son by eavesdropping on a meeting between Uranos and Alincak, and saves him from becoming a Mongol slave. Then, Ertugrul trades the chest (the real contents of which he took, and replaced instead with falsified documents) for the right to his tribe back, and humiliates Alincak. When he realizes Alincak is going after Sultan Izzettin Kaykavus, Ertugrul rescues him and pins the blame on Berke Han, the leader of the Golden Horde. He gives the location to Kaykavus to Alincak in exchange for Gundogdu’s pardon, which would allow him to restore his tribe. Subutai falls in the trap Ertugrul set and is killed, along with Yinal, Beybolat’s head alp. Ertugrul retakes Sogut and his beylik back and removes all the Umur alps and flags. Beybolat, angry at Ertugrul, kidnaps his nephew Suleyman and kills him under the guise of Albasti. Alincak captures Mergen, who he realizes is a spy, and tortures him until Ertugrul rescues him. During the fight between Ertugrul and his alps and Alincak and Albasti, Bamsi comes late, which results in Alincak escaping and Gunduz getting injured. Bamsi’s head alp title is taken away and given to Abdurrahman. Beybolat tasks Sirma with stirring conflict between Hafsa and Selcan, which works. Ertugrul plots with Uranos to get rid of Alincak and successfully traps him. However, Dragos makes a deal with Beybolat to get rid of Ertugrul. Ertugrul tortures Alincak to tell him who Albasti is. Meanwhile, Hafsa and her kids are attacked by Albasti’s men, who kidnap Aybars. Ertugrul sets a trap for Zangoc, knowing he is conspiring with Lefke Castle, but it is unknown that the bellringer is the real Dragos. Ertugrul traps Uranos and captures him, asking him to tell him who the real Dragos is. The bellringer is put in prison, but escapes by killing Oguz Alp. Bamsi goes after Aybars but is trapped by Albasti’s men. Beybolat shows up and kills the fake Albasti, thinking he fooled Ertugrul. Bamsi disobeys orders and kidnaps Alincak to give to Dragos, who has Aybars. Ertugrul saves Bamsi from Dragos’s trap, kills Alincak, and captures Dragos. After suspecting Beybolat, he puts a plan in motion to prove he is Albasti. Beybolat makes a deal with Dragos that will help him escape Ertugrul. On the day of Dragos’s execution, Beybolat betrays Dragos and helps Ertugrul and his alps kill Dragos’s men who infiltrated Sogut. Ertugrul kils Dragos. Bamsi, who was repenting in the Sogut mosque, is injured severely during the fight, but survives and is forgiven by Ertugrul. Ertugrul meets with Ilbilge, and both realize that Beybolat is Albasti. Ertugrul and Ilbilge set a trap for Beybolat and confront him while Turgut and the alps take care of Batur Alp and the rest of Albasti’s men. Beybolat reveals himself to be Albasti, shocking Ilbilge and infuriating Ertugrul. Ertugrul engages in battle with Beybolat and Gundogdu makes an appearance, injuring Beybolat. Beybolat, to escape, jumps off a cliff into a river below and floats downstream unconscious. He is rescued by Arikbuka, a commander of Hulagu Han, feared spy, and blood brother of Alincak. Ertugrul makes Ilbilge the Bey of the Umurogullari and tells her that he will fulfill his promises. Ertugrul and Gundogdu make plans to negotiate with Berke Han to start a war with the Mongols. Mergen is tailed by Arikbuka when meeting with Berke Han’s men and unknowingly leads them to Ertugrul’s meeting place. A battle ensues between the Mongols and Beybolat on one end and Ertugrul and his alps on the other. Bamsi finds traces of arrows used to rescue Beybolat and brings them to Gundogdu, who identifies them as Arikbuka’s and sets off to rescue Ertugrul. Dumrul and Mergen are killed in the battle, with Turgut severely injured by Beybolat and near dead, and Ertugrul severely injured and captured. Gundogdu reaches the battlefield and realizes that Turgut is injured severely. Melikshah takes Turgut to the tribe, while Abdurrahman tells Ilbilge Hatun that Ertugrul was captured. Gundogdu, Bamsi, Gunduz, and Gunkut set off to look for Ertugrul. Arikbuka and Albasti question Ertugrul, who reveals that Albasti tried to kill Alincak. Enraged, Arikbuka nearly draws his sword against Beybolat, but stops himself, to Ertugrul’s displeasure. Arikbuka is informed that Gundogdu is searching for them and plans a trap. Sirma meets with Umurogullari beys to try and usurp the beylik from Ilbilge and reinstating Beybolat. Albasti is ambushed by Ilbilge and Abdurrahman while taking Ertugrul to Arikbuka’s secret cave. Ertugrul kills Beybolat and tells Ilbilge to take the corpse to her tribe. Gundogdu falls into Arikbuka’s trap and is poisoned with gas. Ertugrul saves him and Arikbuka goes on the run. Ilbilge brings back the corpse of Beybolat and clamps down on her tribe, enraging Sirma. Ertugrul and his alps come back to the Kayi camp and Ertugrul reunites with a now healed Turgut. Artuk Bey bring word from the white beards, who meet with Ertugrul and tell him about an important shipment going towards Anatolia. They also reveal that there is a Mongol spy near Berke Han. Sirma plots with Taskun Bey to take the Beylik when Ilbilge opens the position. Ilbilge nominates Battal Bey, who loses to Taskun Bey who paid off the other Beys. Taskun Bey then proposes to Sirma Hatun while Ilbilge connects the dots. Bamsi, Gunkut, and Gunduz infiltrate the caravansary and learn about the Mongol spy. Gundogdu and Turgut go to take the gold on behalf of Ertugrul, but are trapped by Arikbuka’s men. They fend them off but the gold is missing. Ertugrul encounters Arikbuka and is led to a trap while trying to question him about the spy. Bamsi, Gunkut, and Gunduz rescue Ertugrul from Arikbuka’s trap, who escapes. Gundogdu and Turgut find the gold and secure it. Ertugrul chases after Arikbuka but is misled by a look alike. Ilbilge is removed from her position by Taskun Bey and Sirma, and suspects something is wrong. Gundogdu and Turgut return to the tribe to hear the news of the Umurogullari elections, and decide to meet with Taskun Bey. Ilbilge follows Sirma and sees her meeting with a Mongol spy at Beybolat’s grave. Taskun Bey angers Gundogdu and Turgut when he says that he will continue to collect taxes for the state. Ertugrul ventures to meet Berke Han with his alps to bring news of the situation in Anatolia and to tell him of a spy. Berke Han is misled by the spy, who is his closest advisor. Gundogdu and Selcan leave the tribe when news from Sungurtekin arrives saying that Dundar is taking care of an injured Iltekin and they are needed in their camp. Gundogdu says Dundar will come back to Ertugrul’s camp. Turgut and Ilbilge lay an ambush for the Mongol spy and capture him. Ertugrul meets with Berke Han and nearly fails before telling him of the spy. The two create a plan to isolate the vizier who is the traitor. Turgut and Ilbilge arrive back at the camp with the spy, and question him, and he reveals that Sirma and Taskun Bey are traitors. Turgut kills Taskun Bey and Sirma is left imprisoned in her tent. Ertugrul and his alps fall into Arikbuka’s trap but are saved by Berke Han who reveals that they tricked the spy. A fight ensues and Arikbuka walks away again. Sirma Hatun confronts Ilbilge and poisons her, but is killed by a dying Ilbilge. Ilbilge is taken to the Kayi tribe where Artuk Bey revives her. The spy and Arikbuka create a trap but are foiled and killed by Berke Han and Ertugrul. Ertugrul marries Ilbilge and the show ends with the alps with Ertugrul leading riding their horses into war while Osman picks up Suleyman Shah’s sword and says he will carry the resurrection and the Kayi flag all over the world.Dirilis Ertugrul is carried by new drama serial Kurulus Osman which revolves around first ottomon emperor and founder of it ,son of Ertugrul °Osman”

Diriliş: Ertuğrul – Wikipedia

ertugrul season 1 urdu



Dirilis Ertugrul Urdu ارطغرل اردو, ertugrul in urdu season 1 ertugrul urdu, dirilis season 1 in urdu, give me 5 dirilis, giveme5 season 3, ertugrul season 1 urdu, ertugrul in urdu, ertugrul season 1 in urdu, turkish drama dirilis in urdu, artagral, artghral, artaghral, ertughral, give me five, give me 5, give me 5 ertugrul,