Sultan Abdul Hameed Episode 30


خلافت عثمانیہ کے آخری باختیار خلیفہ سلطان عبدالحمید

31 August 1876 – 27 April 1909

Sultan Abdul Hameed Episode 30

واپس فہرست پر جائیں

سلطان عبد الحمید (ثانی) 21 ستمبر 1842ء کو استنبول میں پیدا ہوئے-وہ 1876ء سے 1909ء تک سلطنت عثمانیہ کے سلطان و خلیفہ کے منصب پر فائز رہے-تاریخ میں ان کا نام سلطنتِ عثمانیہ کے آخری با اثر اور با اختیار خلیفہ کے طور پر جانا جاتا ہے جو اپنا وژن، خارجہ پالیسی اور نظریات رکھتے تھے-اپنے اس منصب پر فائز ہونے سے قبل انہوں نے اپنے چچا سلطان عبدالعزیز کے ہمراہ کئی ممالک کا دورہ بھی کیا جن میں یورپ کے کئی اہم شہر شامل ہیں-کئی محققین اس دورہ کو ان کے آنے والے دورِ سلطنت کیلئے بہت اہم قرار دیتے ہیں کیونکہ اس دوران ان کے مشاہدات سلطنت کی پالیسیز کیلئے بہت اہم ثابت ہوئے-آپ نے عربی اور فارسی زبان کی تعلیم بھی حاصل کی اور دیگر علوم کے ساتھ ساتھ تصوف کے رموز سے بھی آگاہی حاصل کی-سلطان عبدالحمید اگست 1876ء میں سلطنت عثمانیہ کے حکمران بنے- 13 اگست 1876ء کو اُن کے ہاتھ پر بیعتِ امارَت و خلافت ہوئی اور انہیں باقاعدہ طور پر خلیفہ کے عہدہ پر تسلیم کیا گیا-

Abdul Hamid II (Ottoman Turkish: عبد الحميد ثانی‎, `Abdü’l-Ḥamīd-i-sânî; Turkish: İkinci Abdülhamit; 21 September 1842 – 10 February 1918) was the 34th Sultan of the Ottoman Empire and the last Sultan to exert effective control over the fracturing state.[3] He oversaw a period of decline, with rebellions particularly in the Balkans, and he had an unsuccessful war with the Russian Empire followed by a successful war against the Kingdom of Greece in 1897. Hamid II ruled from August 31, 1876 until he was deposed shortly after the 1908 Young Turk Revolution, on April 27, 1909. In accordance with an agreement made with the Republican Young Ottomans, he promulgated the first Ottoman Constitution of 1876 on December 23, 1876,[4] which was a sign of progressive thinking that marked his early rule. Later, however, he noticed Western influence on Ottoman affairs and citing disagreements with the Parliament,[4] suspended both the short-lived constitution and Parliament in 1878 and accomplished highly effective power and control.


Leave a Reply