ما قبل اسلام عرب میں اصنام پرستی

·        محمد انور ایوبی

ما قبل اسلام عرب میں اصنام پرستی

جس وقت حضرت ابراہیمؑ  اپنے  بیٹے  حضرت اسمٰعیلؑ  اور حضرت ہاجرہؑ  کو عرب کے  ریگستان میں  تنہا و یکہ چھوڑ کر چلے  گئے  جبکہ ان کے  پاس تھوڑا سا توشہ (تھوڑی سی املی )اور ایک کُپّی میں  تھو ڑا پانی تھا۔ چونکہ انھیں  اللہ کے  حوالے  کر کے  لوٹ گئے  تھے  اللہ تعالیٰ نے  اپنی رحمت سے  زم زم کا چشمہ جاری کر دیا جس میں  کھانے  اور پانی دونوں  کی ماہیتیں  موجود تھیں۔ بعد میں  عربی قبیلہ جرہم حضرت ہاجرہؑ  کی اجازت سے  وہیں  آباد ہو گیا۔ حضرت اسمٰعیلؑ  نے  جرہم قبیلہ کی ایک لڑکی سے  شادی کر لی۔ مگر اپنے  والد حضرت ابراہیمؑ  کے  حکم سے  اسے  طلاق دے  دی۔ جبکہ ابن کثیر لکھتے  ہیں  کہ انہوں  نے  جوان ہونے  کے  بعد عمالیق قوم کی ایک لڑکی عمارہ بنت سعد بن اسام بن اکیل العمالقی سے  شادی کر لی، مگر والد کے  حکم سے  اسے  طلاق دے  کر جرہم قبیلہ کی لڑکی سعیدہ (رعلتہ)بنت مضاض بن عمر و الجر ہمی سے  شادی کر لی۔ ایک قول کے  مطابق یہ ان کی تیسری بیوی تھی۔ آپ کو اس بیوی سے  ۱۲ ؍ لڑکے  اور ایک لڑکی تولد ہوئے۔ لڑکی نسیمہ (باسمہ یا محلات، بائبل میں  مہلت ہے ) کی شادی اپنے  بھائی اسحٰق ؑ کے  بیٹے  عیصو سے  کر دی۔ قبیلہ جرہم کے  لوگوں  نے  حضرت اسمٰعیلؑ  کے  بڑے  بیٹے  ’نابت‘ کو ان کا حکمراں  یابیت اللہ کا متولی تسلیم کر لیا اور انہیں  کو زم زم کا نگراں  بنایا۔

کچھ عرصہ بعد بنی خزاعہ ( جس کا تعلق قبیلہ بنی اسمٰعیل ہی سے  تھا) کے  دو اشخاص عمرو و حارث نے  بنی جرہم کو سرداری سے  معطل کر کے  بیت اللہ کی تولیت اور زم زم کی نگرانی اپنے  ذمہ لے  لی۔ انہوں   نے  حجر اسود کے  علاوہ جو کہ اس جگہ پہلے  ہی موجود تھا، اور پتھر لالا کر وہاں  جمع کر لئے۔ یمن جا کر وہاں  سے  بہت سا سونا لا کر چاہ زم زم میں  لا کر دفن کر دیا۔ بیت اللہ کی تولیت عمرو و حارث کے  بعد یکے  بعد دیگرے  حلیل بن حثیہ بن مہلول بن کعب بن عمرو بن ربیعہ خزاعی تک پہنچی۔ جس نے  قصی بن کلاب کی بیٹی حَبّی سے  شادی کر لی۔ جس سے  اس کے  بیٹے  عبد الدار، عبد مناف، عبد العزیٰ وغیرہ پیدا ہوئے، اور بیت اللہ کی تولیت اور زم زم کی نگرانی یکے  بعد دیگرے  انہیں  میں  منتقل ہوتی رہی۔

چونکہ مضمون کا موضوع ’عربوں  میں  اصنام پرستی‘ہے  اس لئے  اب ہم ان روایتوں  کو بیان کریں  گے  جو عربوں  کی اصنام پرستی سے  متعلق ہے۔ پہلی روایت ہے  کہ بنی خزاعہ کے  ایک شخص ’سوس‘ نے  بیت اللہ میں  بت پرستی کی رسم شروع کی۔ چونکہ اس وقت لوگ دینِ ابراہیم پر قائم تھے  اس لئے  لوگ اسے  ’سوس‘ (بُرا  – کیڑا لگا ہوا  – گھن لگا ہوا ) کہنے  لگے۔ جبکہ اس شخص کا اصل نام کچھ اور ہی رہا ہو۔

مگر سب سے  مشہور روایت جو اہل علم بیان کرتے  ہیں  وہ یہ ہے  کہ مکہ کا ایک شخص عمر و بن محی اپنے  کسی کام سے  یا تجارت کے  سلسلے  میں  شام گیا تو راستے  میں  بلقا ء کے  مقام آب (بائبل میں  مُواب کہا گیا ہے ) پر کسی کام سے  ایک آدھ روز کے  لئے  مقیم ہو گیا۔ وہاں   عمالیق قبیلہ کے  لوگ رہتے  تھے۔ عمرو بن لحّی نے  دیکھا کہ وہ لوگ پت پرست ہیں  اور خاص پتوں  کی پوجا کرتے  ہیں۔ انہوں  نے  ان بتوں  کے  الگ الگ نام بھی رکھ چھوڑے  ہیں۔ یہ دیکھ کر اس نے  ان لوگوں  سے  پو چھا کہ یہ کیسی عبادت ہے  جو وہ کرتے  ہیں  اور وہ ان پتھروں کے  بتوں  کو کیوں  پوجتے  ہیں۔ لوگوں  نے  جواب دیا کہ ان بتوں  سے  خشک سالی کے  زمانے  میں  بارش کے  لئے  مدد مانگتے  ہیں  تو بارش ہو جاتی ہے  اور جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے  تو انہیں  سے  مدد طلب کرتے  ہیں اور بت ان کی حسب خواہش مدد کرتے  ہیں۔ عمر و بن لحّی ان سے  درخواست کر کے  ایک بت مکہ لے  آیا اور مکہ والوں  سے  عمالیق کے  عقائد اور بتوں کی کرشمہ سازی کا بھی ذکر کیا تب مکہ والوں  نے  اسے  وہ بت بیت اللہ میں  رکھنے  کی اجازت دے  دی اور خود بھی اس کا دیکھا دیکھی بت کی پرستش کرنے  لگے۔ عمر و بن لحّی عرب میں  بت پرستی کا بانی ہے۔ اسی کے  تعلق سے  آپ  ﷺ نے  فرمایا کہ ’’میں  نے  عمر و بن لحّی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں  آگ میں  گھسیٹے  جا رہا ہے۔ ‘‘دوسری حدیث حضرت ابو ہریرہؓ  بیان کرتے  ہیں کہ میں  نے  رسول اللہ  ﷺ کو اکثم بن جُون خزاعی سے  کہتے  سنا ’’اے  اکثم میں  نے  عمر و بن لحّی بن قمعہ بن خیذف کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں  آگ میں  کھینچے  لئے  جا رہا ہے  اور میں  نے  تم سے  زیادہ کسی شخص کو اس سے  مشابہ نہیں  دیکھا کہ اس سے  زیادہ تم سے  مشابہ ہو۔ اکثم نے  کہا یا رسول اللہ  ﷺ! اس کی مشابہت شاید مجھے  نقصان پہنچا دے۔ فرمایا نہیں ، تم ایماندار ہو اور وہ کافر تھا، وہ پہلا شخص تھا جس نے  اسمٰعیلی دین کو بدل دیا اور مورتیاں  نصب کیں۔ پھر بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حامی کے  طریقے  رائج کئے۔ ‘‘(بحیرہ، سائبہ اور حامی کی تفصیل آئندہ صفحات میں  آ رہی ہے۔ )

بعض روایت کے  مطابق اس پہلے  بت کا نام ’ہُبل‘ تھا جسے  عمرو بن لحّی نے  نصب کیا اور بعض نے  لات و مناۃ بتایا ہے۔ جب تک بنی اسمٰعیل مکہ تک محدود رہے  مکہ میں  بت پرستی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ مگر جوں  جوں  وہ عرب کے  دوسرے  علاقے  میں  آباد ہو تے  گئے  اور وہاں  سے  جب بھی وہ مکہ آتے  اپنے  ساتھ کوئی نہ کوئی نیا بت لے  کر آتے۔ اس طرح بیت اللہ میں  بتوں  کی تعداد جیسا کہ مشہور ہے  ۳۶۰؍ تک جا پہنچی۔ بت پرستی تو قوم نوحؑ  میں  بھی رائج تھی۔ اس کے  تعلق سے  تفسیر ابن کثیر میں  حضرت حافظ ابن عساکرؒ  حضرت شیثؑ  کے  قصہ میں  بیان کرتے  ہیں  کہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ  نے  فرمایا کہ آدمؑ  کے  چالیس بچّے  تھے۔ بیس لڑکے  اور بیس لڑکیاں۔ ان میں  سے  جن کی عمریں  بڑی ہوئیں  ان میں  قابیل، ہابیل، صالح اور عبدالرحمن تھے۔ عبدالرحمن کو ہی عبدالحارث، وَدَ، شیث اور ہیبت اللہ کہا جاتا ہے۔ تمام بھائیوں  نے  سرداری انہیں  کو دے  رکھی تھی۔ ان کی اولاد یہ چار تھے۔ یعنی سواع، یغوث، یعقوق اورنسر۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ  فرماتے  ہیں  کہ حضرت آدمؑ  کی بیماری کے  وقت وَدَ، یغوث، یعقوق اور نسر موجود تھے۔ ان کا آپس میں  بڑا نیک سلوک تھا۔ ان سب کے  انتقال کے  بعد انہیں  کو بتوں کی طرح پوجا جانے  لگا۔ قاضی منصور پوری نے  انہیں  حضرت شیثؑ  کے  پوتوں  اور پر پوتوں  کے  نام بتائے  ہیں۔ حقیقت میں  یہ سب شیثؑ  کی قوم کے  نیک لوگ تھے  جن کے  انتقال کے  بعد لوگ ان کے  بت بنا کر پوجنے  لگے۔

ان بتوں  کے  علاوہ عرب میں  جن بتوں کو پوجا جاتا تھا ان میں  بہر(بہم)، لات، مناۃ، عزیٰ، اساف، نائلہ، ہبل، فلس، ذوالشریٰ، قیس ، عم، بُعل رَبّہ، نہک، مجاودالرّیح، مطعم الطیر، ودّار، عبعب( صبعب )، عم انس، ذوالکنین، سعد، شعر وغیرہ تھے۔ ان بتوں کے  علاوہ کچھ مشہور بت خانے  بھی تھے۔ جیسے  ذوالخلصہ، الکعبۃالیمانیہ، الکعبۃالشمامیہ ، ریام، رضااور ذوالکعبات۔

ان بتوں  اور بت خانوں  کے  علاوہ کعبہ کے  اندر حضرت ابراہیمؑ کی تصویر تھی اور ان کے  ہاتھ میں  استخارہ کے  تیر تھے  جو ازلام کہلاتے  تھے۔ ایک بھیڑ کا بچہ ان کے  قریب کھڑا ہوا دکھایا گیا تھا۔ حضرت اسمٰعیلؑ  کی مورت خانۂ کعبہ میں  رکھی ہوئی تھی حضرت عیسیٰ ؑ اور مریم ؑ کی تصویریں  رکھی ہوئی تھیں۔

بت پرستی کے  ساتھ ساتھ عربوں  میں  سنگ پرستی (پتھروں  کی پوجا )بھی شروع ہو چکی تھی۔ و ہ اس طرح کہ جب مکہ والے  تنگ دستی میں  روزی کی تلاش میں  غیر ممالک میں  نکل جاتے  تو سفر میں  جاتے  وقت حرم کے  پتھروں  میں  سے  کوئی ایک پتھر حرم کی عظمت کے  لحاظ سے  ساتھ اٹھا لے  جاتے  اور وہ جہاں  کہیں  بھی قیام کرتے  اس پتھر کو درمیان میں  رکھ کر اس کا طواف کرتے، جس طرح وہ خانۂ کعبہ کا کرتے  تھے۔ نوبت یہاں  تک پہنچ گئی کہ وہ جس پتھر کو اچھا دیکھتے  یا جو انہیں  پسند آ جاتا اسی کی عبادت کرنے  لگ جاتے۔

اتنی گمراہیوں  میں  مبتلا ہونے  کے  باوجود ان میں  حضرت ابراہیمؑ  کے  زمانے  کی رسم و رواج کی پابندی بھی تھی۔ جیسے  بیت اللہ کی تعظیم، بیت اللہ کا طواف، حج و عمرہ کی بجا آوری، عرفات و مزدلفہ کا قیام، جانوروں  کی قربانی۔ حج و عمرہ میں  لبیک کہنا بھی لازم تھا۔ مگر اسی کے  ساتھ بتوں کو بھی شریک کر لیتے  تھے۔ اسی لئے  اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ سے  فرماتا ہے  ’’وَمَا یُؤْ مِنُ اکْثَرُھُمْ بِاللّٰہ الّا وھُمْ مشرِکُونَ۔ ‘‘ترجمہ:اور ان میں  سے  اکثر کا حال یہ ہے  کہ اللہ پر ایمان لاتے  ہیں  تو اس حال میں  لاتے  ہیں  کہ اس کے  ساتھ شریک بھی ٹھہراتے  ہیں۔

عرب کے  مشہور بتوں  کے  علاوہ ہر گھر میں  ای بت رکھا ہوا تھا جس کی وہ پوجا کرتے  تھے۔ جب ان میں  سے  کوئی شخص کسی سفر کا ارادہ کرتا اور وہ سوار ہونے  کا ارادہ کرتا تو اس بت پر ہاتھ پھیرتا اور یہ وہ آخری چیز ہوتی جو اس کے  سفر پر نکلنے  کے  وقت ہوتی۔ اور وہ جب سفر پر سے  لوٹتا تو پھر اس بت پر ہاتھ پھیرتا اور یہ سب سے  پہلی چیز ہوتی جو گھر والوں کے  پاس جانے  سے  پیشتر کی جاتی۔ جب رسول اللہ  ﷺ نے  مبعوث ہونے  کے  بعد توحید کی دعوت دینی شروع کی تو قریش کہنے  لگے  ’’اَجعَلَ الاَلَھہَّ اِلٰھاً وَّاحِداً اِنّ ھٰذاَ لَشَیٔ عَجاب ‘‘ترجمہ:کیا اس شخص نے  تمام معبودوں  کو ایک معبود بنا دیا ؟ بے  شک یہ بڑی ہی عجیب چیز ہے۔

سواع

ہَذَل بن مُدرکہ بن الیاس بن مَضر نے  سواع نامی بت بنا لیا۔ یثرب کے  مغرب میں  ینبع کے  قریب رہاط یا ریاط میں  اسے  رکھا۔ اس بت کو نوح ؑ  کی قوم پوجتی تھی، اس کے  معنی قائم کرنے  اور ٹھہرنے  کے  ہیں۔ شرع میں  اسے  صفت قومیت کہتے  ہیں۔ یہی صفت بقائے  عالم کا باعث ہے۔ قوم نوح ؑ  نے  اس معنیٰ کو عورت کی شکل میں  ڈھالا تھا جو محبوبیت اور حسن و جمال کی دیوی تھی اس لئے  کہ خانہ داری اور خانگی انتظام ورت کی ذات سے  وابستہ ہے۔ ہندو اس صفت کو بِشن کے  لفظ سے  تعبیر کرتے  ہیں۔ انہوں  نے  بھی اس کی مورت بنا رکھی ہے۔ یہ قبیلہ ہذل کی دیوی تھی جسے  عورت کی شکل پر بنا یا گیا تھا۔ ابن خلدون نے  اسے  بنو مدلج کا بت بتا یا ہے۔ عمر و بن العاصؓ  نے  فتح مکہ کے  بعد حضرت محمد ﷺ کے  حکم سے  اس بت کو توڑا تھا۔ جب عمر بن العاصؓ  سواع کے  قریب پہنچے  تو مجاور نے  کہا کہ تم کس ارادے  سے  آئے  ہو ؟ عمر بن العاصؓ  نے  جواب دیا کہ مجھ کو آنحضرت ﷺ نے  اس بت کو منہدم کرنے  کے  لئے  بھیجا ہے۔ مجاور نے  حیرت کی نگاہ سے  ان کی طرف دیکھ کر کہا تم اس کے  اوپر قابو نہ رکھ سکوگے۔ عمر بن العاصؓ  نے  کہا کیوں  ؟ مجاور نے  جواب دیا کہ خداوند سواع تم کو خود روک دے  گا۔ عمر بن العاصؓ  نے  کہا تجھ پر تف ہو تو اب تک اسی خیال باطل میں  گرفتار ہے۔ عمر بن العاصؓ  یہ کہہ کر سواع کی طرف بڑھے  اور ایک ہی ضرب سے  اسے  پاش پاش کر دیا۔ ہمراہیوں  نے  اس کے  ارد گرد کے  چھوٹے  چھوٹے  بتوں  کو توڑ ڈالا۔

نسر

یہ آلِ ذی الکلاع کا بت تھا۔ یہ بھی اصل میں  قوم نوح کا بت تھا۔ انہوں  نے  خدا تعالیٰ کی صفت سرمدیت کے  لحاظ سے  اسے  گدھ کی شکل میں  بنایا تھا۔ اس خیال سے  کہ گدھ کی عمر بڑھی ہوتی ہے۔ یہ بصارت کا دیوتا تھا حمیر کے  علاقے  بلخع کے  مقام پر یہ بت نصب تھا۔ سبا کے  پرانے  کتبوں  میں  اس کا نام نسور ملتا ہے۔ اس کے  مندر کو وہ لوگ بیت نسور اور پجاریوں  کو اہل نسور کہتے  تھے۔ گدھ کی شکل کا  ایک مجموعہ کواکب آسمان میں  ہے  جس کو نسر کہتے  ہیں۔ یہ دیوتا سامی قوم میں  بڑی قدر سے  پوجا جاتا تھا۔ اہل بابل کے  دیوتاؤں  میں  ایک نسروک نامی دیوتا تھا۔ اب بابل میں  کھدائی کے  دوران اس دیوتا کا ایک مجسمہ نکلا ہے۔

ودّ

یہ بھی قوم نوحؑ کا بت تھا۔ اس کے  معنی محبت کے  ہیں یہ بت محبت اور خواہش کا بت تھا۔ مردانہ قوت اور عشق محبت کا دیوتا تھا۔ اکثر لوگ اپنے  بچوں  کا نام اس کے  نام پر رکھتے  تھے۔ اس معنی کو ظاہر کرنے  لئے  اسے  مرد کی شکل میں  ڈھالا گیا تھا۔ دراز قد مرد کی مورت ایک تہمد کمر میں  لپٹے ، ایک چادر اوڑھے  گلے  میں  تلوار حمائل، کمان لٹکی ہوئی ایک طرف ترکش پڑا ہوا، سامنے  نیزہ، اس میں  جھنڈا بندھا ہوا۔ آسمان میں  ستارہ جبار کی تقریباً یہی شکل ہے۔ قوم نوحؑ اسے  تمام کائنات کا باعث ِ ایجاد مانتی تھی۔ ان کے  عقیدہ کے  مطابق حق سبحانہٗ تعالیٰ کی خواہش ہوئی کہ میں  ظاہر ہوں  تو اس نے  دنیا پیدا کی اور اپنے  آپ کو مرد کی شکل میں  ظاہر کیا۔ اس لئے  مرد کے  دل میں  عورت کی محبت اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ ہندو اس مظہر کو برہما کہتے  ہیں۔ قبیلۂ قضاعہ کی شاخ بنی کلب بن وَ بَّرہ کا معبود تھا۔ اس کا استھان دومۃ الجندل میں  تھا۔ عرب کے  قدیم کتبات میں  اس کا نام وَدّمَ، اَ  بَم(وَ دّ بایو ) لکھا ہوا ملتا ہے۔ قریش کے  لوگ بھی اس کو معبود مانتے  تھے۔ اور اس کا نام ان کے  یہاں   وَدّ تھا۔ اسی کے  نام پر تاریخ میں  ایک شخص کا نام عبد وَدّ ملتا ہے۔ یہ قریش کا مشہور بہادر عمر بن عبد ود تھا، جسے  حضرت علیؓ  نے  قتل کیا تھا۔ اس کے  مقابل دوسری دیوی ’نکرہ ‘تھی۔ جس کے  معنی نا پسندیدگی اور عداوت کے  ہیں۔ یہ بت بھی کتبات میں  موجود ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے  کہ وَ دّ کی اصل ’ اد ‘ ہے  بابلی میں  آفتاب کو کہتے  ہیں  غزوۂ  تبوک کے  وقت حضور ﷺ نے  حضرت خالد بن ولیدؓ  کو اس بت کو توڑنے  لئے  روانہ کیا وہاں  کے  لوگ جب مانع ہوئے  تو خالد بن ولیدؓ  نے  ان سے  قتال کر کے  اس بت کو توڑ دیا۔

یغوث

قوم نوحؑ  کا بت تھا جس کے  معنی مدد اور حاجت روا کے  ہیں۔ اس بت کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کی صفت میں  گھوڑے  کی شکل میں  بنا رکھا تھا۔ جس طرح کہ ایک گھوڑا جلد دوڑ کر آتا ہے  اس طرح یہ بت بھی اپنے  پوجنے  والوں  کی مدد کو جلد آ تا ہے۔ اہل ہند اس مظہر کو اندر دیوتا بتاتے  ہیں۔

ابن اسحٰق کے  مطابق بنی طے  میں  سے  انعم نے  اور بنی مذحج میں  سے  جرش والوں  نے  مقام جرش (یمن کا ایک علاقہ ) پر یغوث نامی بت بنا رکھا تھا اس کی شکل شیر کی سی تھی۔ قریش کے  لوگوں  میں  بعض کا نام عبد یغوث ملتا ہے۔ کہیں  پر یغوث کو گھوڑا اور کہیں  پر شیر لکھا ملتا ہے، جبکہ یعوق کو بھی کہیں  شیر اور کہیں  گھوڑا بتایا گیا ہے۔ ابن خلدون کے  مطابق یغوث قبیلہ مراد کا بت تھا۔ ایک جگہ یہ بت اکمہ (یمن ) میں  نصب بتایا گیا ہے۔

یعوق

یہ بھی قوم ِ نوحؑ کا بت تھا جس کے  معنی ہے  روکنا۔ مصیبتوں  اور دشمنوں  کے  دفاع کر نے  کی صفت کے  لحاظ سے  شیر یا گھوڑے  کی شکل میں  بنایا تھا۔ یمن کے  علاقہ میں  ہمدان کی ایک شاخ خیوان کا معبود تھا۔ یہ بھی ان پانچ بتوں  کی طرح جدہ میں  دفن تھا۔ عمر بن لحی کے  تابع ایک جن نے  ان بتوں  کا اسے  پتہ بتایا۔ یعوق یمن میں  ارحب کے  مقام پر نصب تھا اس کا استھان صنعاء سے  دو راتوں  کے  فاصلہ پر مکہ کی جانب واقع تھا۔ اسے  رفتار کا دیوتا بھی مانا جاتا تھا۔

یعوق عوق سے  (روکنا)مضارع کا صیگہ ہے۔ یمن والوں کے  یہاں  صیگہ مضارع بطور علم استعمال کرنے  کا خاص دستور تھا۔ چنانچہ یعرب، یشجب، یکرب، یعفر وغیرہ اصل نام کے  ساتھ صفت کے  طور پر مستعمل ہوئے۔

عَم ّ ِ اَنَس

بنی خولان کا ان کی سر زمین پر یہ بت تھا۔ کتابوں  میں  اس کا نام عمائیس یا عم ا َ نَس بھی ملتا ہے۔ یہ زراعت کا دیوتا تھا۔ اس کو پوجنے  والے  اپنی کھیتیاں  اس بت کے  اور اللہ تعالیٰ کے  درمیان تقسیم کیا کرتے  تھے۔ پھر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی نذر میں  سے  جو خود انہوں  نے  اللہ تعالیٰ کے  لئے  نامزد کر دی ہو عم انس کی نذر میں  داخل ہو جاتی تو اسے  اسی طرح چھوڑ دیتے  اور کوئی چیز عم انس کی نذر میں سے  اللہ تعالیٰ کی نذر میں  شامل ہو جاتی تو اسے  اس کی (عم انس ) نذر میں  واپس کر دیتے۔ یہ خولان کے  ایک چھوٹے  سے  قبیلے  سے  تھے  جو ادیم کہلاتا تھا۔ انہیں  کے  بارے  اللہ تعالیٰ نے  آیت نازل کی:

’’جو کچھ خدا نے  کھیتیوں  اور مویشیوں  سے  پیدا کیا ہے  اس میں  سے  ایک حصہ یہ اپنے  زعم باطل کے  مطابق خدا کے  لئے  ٹھہراتے  ہیں  اور کہتے  ہیں یہ اللہ کے  لئے  ہے  اور ایک حصہ بتوں  کے  لئے  ٹھہرا کر کہتے  ہیں  یہ ان کے  لئے  ہے  جنہیں  ہم نے  خدا کا شریک ٹھہرایا ہے۔ پس جو کچھ ان کے  ٹھہرائے  ہوئے  شریکوں  کے  لئے  ہے  وہ تو خدا کی طرف پہنچتا نہیں ، لیکن جو کچھ خدا کے  لئے  ہے  وہ ان کے  ٹھہرائے  ہوئے  شریکوں  کو پہنچ جاتا ہے  کیا ہی برا فیصلہ ہے  ان لوگوں  کا۔ ‘‘

سعد

بنی ملکان کا بت تھا۔ اک لمبی چٹان کی شکل کا تھا۔ کہتے  ہیں  اس کے  پاس بنی ملکان کا ایک شخص آیا، ساتھ میں  تجارت کے  بہت سے  اونٹ تھے  بت کے  پاس قیام کیا تاکہ اونٹوں  کی برکت حاصل ہو۔ اونٹ چراگاہوں  میں  چرنے  کی غرض سے  آئے  تھے  ان پر سواری نہیں  کی گئی تھی، بت کو دیکھ کر بدک گئے  اور ادھر ادھر بھاگ گئے  کیونکہ بت پر قربانیوں  کا خون بہتے  بہتے  اس کی شکل بڑی خوفناک ہو گئی تھی۔ مالک غصہ میں  آ گیا اور پتھر لے  کر اس بت پر پھینک مارا اور کہنے  لگا اللہ تجھے  برکت نہ دے  تو نے  میرے  اونٹ بدکا دئیے۔ پھر وہ اونٹوں  کی تلاش میں  نکلا اور انہیں  جمع کرنے  کے  بعد کہنے  لگا :

’’ہم سعد کے  پاس آئے  کہ وہ ہماری پریشان قوموں  کو مجتمع کر دے  سعد نے  ہمیں  اور بھی پریشان کر دیا۔ پس سعد سے  ہمیں  کوئی سروکار نہیں اور سعد اس کے  سوا ہے  ہی کیا کہ میدان میں  ایک چٹان ہے  وہ نہ کسی کو گمراہ کر سکتا ہے  اور نہ ہی سیدھے  راستے  پر لگا سکتا ہے۔ ‘‘

اساف و نائلہ

اساف و نائلہ دو بت کعبہ سامنے  بنائے  گئے  تھے  ایک کعبہ سے  ملا ہوا تھا، دوسرا زم زم کے  پاس تھا قریش کے  قبیلہ والوں  نے  کعبہ کے  پاس والے  بت کو بھی زم زم کے  پاس والے  بت کے  قریب منتقل کر دیا تھا اس جگہ پر عرب قربانی وغیرہ کیا کرتے  تھے۔

اساف اور نائلہ قبیلہ جرہم میں  سے  ایک مرد اور ایک عورت تھیاساف یعلیٰ کا بیٹا اور نائلہ زید بن جر ہم کی بیٹی تھی۔ اساف نائلہ کے  تعلقات گندے  تھے۔ مکہ مکرمہ پہنچ کر کعبہ میں  یہ مرتکب جمیرہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے  ان دونوں  کو پتھر بنا دیا۔ یہی روایت عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمر و بن حزم نے  عمرۃ عبد الرحمن بن سعد بن زرارہ سے  کی ہے۔ مگر قاضی منصور پوری کے  مطابق ان کو سزا دی گئی اور دونوں  کے  لاشے  تشہیر و رسوائی کے  لئے  بلا دفن رکھے  گئے۔ اساف کو کوہ صفا ء پر اور نائلہ کو کوہ مروہ پر۔ اور جب لاشے  سڑ گل گئے  تو ان کے  بت بنا کر رکھ دیئے  گئے  اور ان کی پرستش ہونے  لگی۔

نہیک مجاود الریح اور مطعم الطیر

نہیک مجاود الریح نامی بت صفا پر نصب تھا۔ جبکہ مطعم الطیر نامی بت روہ پر نصب تھا۔

عبعب (صبعب)

ایک بڑا پتھر تھا۔ قربانی چڑھانے  کا استھان تھا۔

  ذوالکفین

اس بت کے  حالات وفد خولان نے  اسلام لانے  کے  بعد حضور ﷺ کے  گوش گذار کئے  تھے۔ قبیلہ دوس کا معبود تھا۔ لکڑی کا بت تھا۔ جلیل بن عمر بن صمصہ نے  اسلام لانے  کے  بعد اسے  آگ لگا کر خاک کر دیا تھا۔

فلس

یہ بت بنی طے  اور ان لوگوں  کا تھا جو بنی طے  کے  دونوں پہاڑوں کے  پاس رہتے  تھے۔ یہ بت سَلمیَ اور اجَا دو پہاڑوں  کے  درمیان تھا۔

بعض اہل علم کے  مطابق رسول اللہ ﷺ نے  حضرت علیؓ بن ابی طالب کو روانہ کیا۔ انہوں  نے  اس بت کو ڈھا دیا۔ اس میں  دو تلواریں  رسوب اور مخذم بر آمد ہوئیں۔ حضرت علیؓ نے  وہ تلواریں  حضور ﷺ کو پیش کیں ، تو آپ ﷺ نے  ان تلواروں  کو حضرت علیؓ  کو عنایت فرما دیں۔ یہی حضرت علیؓ کی تلواریں  تھیں۔

 دواریہ

ابن خلدون کے  مطابق یہ نوجوان عورتوں  کا بت تھا۔

بہم (بہر ):بنی قزینہ کا بت تھا۔

شعیر: بنی غزہ کابت تھا۔

ذوالشریٰ: بنو حرث شکر کا بت تھا۔

لات

ایک منقش سفید پتھر تھا۔ جس پر قبہ بنا ہوا تھا۔ غلاف چڑھائے  جاتے  تھے۔ مجاور، محافظ اور جاروب کش مقرر تھے۔ اس کے  آس پاس کی جگہ کو مثل حرم بزرگی و حرمت والی جانتے  تھے۔ اہل طائف کا بت کدہ تھا۔ قبیلہ ثقیف کے  لوگ اس کے  پجاری اور  متولی تھے۔ بنی ثقیف اس بت کے  اس حد تک معتقد تھے  کہ جب ابرہہ ہاتھیوں  کی فوج لے  کر خانۂ کعبہ ڈھانے  کے  لئے  مکہ پر چڑھائی کرنے  جا رہا تھا اس وقت ان لوگوں  نے  محض اپنے  اس بت کے  آستانے  کو بچانے  کی خاطر اس ظالم کو مکہ کا راستہ بتانے  کے  لئے  بدر قے  ( قافلہ کا رہنما )فراہم کئے  تاکہ وہ لات کو ہاتھ نہ لگائے۔ حالانکہ تمام اہل عرب کی طرح ثقیف کے  لوگ بھی مانتے  تھے  کہ کعبہ اللہ کا گھر ہے۔

لات کے  معنی میں  اہل علم کے  درمیان اختلاف ہے۔ ابن جریر کی تحقیق یہ ہے  کہ یہ اللہ کی تانیث ہے۔ یعنی اصل لفظ اللہۃ تھا۔ جسے  اللّات کر دیا گیا۔ اسے  ربّہ بھی کہتے  تھے۔

زنحژی کے  نزدیک یہ لَوی یَلوی سے  مشتق ہے۔ جس کے  معنی مڑنے  اور کسی کی طرف جھکنے  کے  ہیں۔ کیونکہ مشرکین عبادت کے  لئے  اس کی طرف رجوع کرتے  اور اس کے  آگے  جھکتے  اور اس کا طواف کرتے  تھے۔ اسی لئے  اس کو لات کہا جانے  لگا۔

ابن عباسؓ اس کو لاتّ بتشدید  تاء پڑھتے  ہیں  اور اسے  لت یَلّتسے  مشتق قرار دیتے  ہیں  جس کے  معنی متھنے  اور لتھیڑنے  کے  ہیں۔ ان کا اور مجاہد کا بیان ہے  کہ در اصل ایک شخص تھا جو طائف کے  قریب ایک چٹان پر رہتا تھا۔ جب وہ مر گیا تو لوگوں  نے  اسی چٹا ن پر اس کا استھا ن بنا لیا اور اس کی عبادت کرنے  لگے۔ مگر لات کی یہ تشریح ابن عباسؓ  اور مجاہد جیسے  بز رگوں  سے  مروی ہونے  کے  باوجود دو وجوہ سے  قابل قبول نہیں  ہے  ایک یہ کہ قرآن میں  اسے  لات کہا گیا ہے  نہ کہ لَاتّ، دوسرے  یہ کہ قرآن مجید ان تینوں  (لات، مناۃ، عزیٰ)کو دیویاں  بتارہا ہے۔ اسے  ابو سفیانؓ  اور مغیرہ بن شعبہؓ نے  پاش پاش کر ڈالا۔

یاقوت حموی نے  معجم البلدان میں  اس کو لیتا سے  مشتق کیا ہے ، جس کے  معنی پھیرنے  کے  ہیں لات یعنی مصیبتوں کا پھیرنے  والا۔

تاریخ ارض القرآن میں  مولانا سید سلیمان ندویؒ نے  بڑی تفصیل سے  اس کے  بارے  میں  لکھا ہے۔ وہ لکھتے  ہیں  کہ مستشرقین یورپ کے  یہاں  اللہ اور اللات ایک ہی لفظ کی دو صورتیں  ہیں۔ اللہ مذکر دیوتا کے  لئے  قریش میں  مستعمل ہو تا تھا، اور اللات یعنی دیوی اس لفظ اللہ کی قریش نے  تانیث بنا لی تھی۔ جبکہ عربی قواعد کے  مطابق اللات اللہ کی تانیث نہیں  ہو سکتی۔ تانیث اگر ممکن ہے  تو اللہۃ یا الا لہۃ ہونی چاہئے۔ اللہ کی ہائے  اصلی کیونکر  تانیث سے  ساقط ہو گئی۔ اس زنانہ لفظ کی پیدائش کے  لئے  عربی کی خشک سر زمین کی بجائے  ملک شام کا سر سبز علاقہ مناسب ہو گا۔ کیونکہ عرب کے  اکثر دیوتا ملک شام ہی کے  باشندے تھے۔ مشہور مورخ ہیرو ڈوئس نے  مسیح  ؑ  سے  چار سو برس پہلے  عرب کے  ایک دیو تا کا نام الیلات بتایا ہے۔ حالانکہ اس وقت قریش کا وجود بھی نہ تھا۔ اس لئے  ان کی زبانی کا لفظ بھی موجود نہیں  ہو سکتا۔

مولانا لکھتے  ہیں  کہ قدیم سامی زبانوں  میں  خدائی کے  لئے  ال یا ایل کا لفظ عام طور پر موجود تھا۔ تائے  تانیث لگنے  سے  ایلوت ہو گیا۔ جس کے  معنی دیوی کے  ہوں  گے۔ عربوں  نے  جب اس لفظ کو اختیار کیا تو اپنا الف لام تعریفی اس پر اضافہ کیا، اور پہلے  الف کو اپنے  قاعدہ کے  مطابق جیسا کہ اللہ میں  ہوا ہے  گِرا کر اللوات بنا لیا اور اس سے  اللات ہو گیا۔ لات کا نام نبطی کتبات میں  ایلات کی صورت میں  ملا ہے۔

مولانا سید سلیمان ندویؒ  نے  لفظ اللہ کے  تعلق سے  جو اعتراض مستشرقین نے  کیا ہے  ان کا بھی بہترین جواب دیا ہے۔ لفظ اللہ کے  تعلق سے  مارگو لیتھ کی تحقیق ہے  کہ یہ اصل میں  قریش کا خاندانی دیوتا کا نام ہے۔ اس لئے  محمد ﷺ کی توحید پرستی کے  یہ معنی ہیں  کہ انہوں  نے  دوسرے  قبائل کے  دیوتاؤں   کو مٹا کر اپنے  خاندانی دیوتاؤں   کو منوایا۔ اس کے  جواب میں  مولانا فرماتے  ہیں  ’’سوال یہ ہے  کہ اس عظیم الشان عربی زبان میں  ’’حقیقی خدا ‘‘کے  مفہوم کے  لئے  کوئی لفظ موجود نہ تھا۔ تم کہتے  ہو کہ محمد ﷺ سے  پہلے  عرب میں  موحدین موجود تھے ، بہتر ہے، لیکن کیا وہ اپنے  خدا کے  لئے  اللہ کے  سوا کوئی اور لفظ پیش کرتے  تھے  ؟ موجودہ عیسائی ادبائے  عرب کے  بیان کے  مطابق عرب میں  عیسائی شعراء ہوئے  ہیں۔ لیکن کیا ان کی زبان سے  لفظ اللہ تم نے  نہیں  سنا ؟قرآن نے  اللہ تعالیٰ کی صفات خود مشرکین کے  اقرار کے  مطابق جو بیان کئے  ہیں  وہ کیا کسی دیوتا پر صادق آ سکتے  ہیں  ؟سب سے  آخر یہ کہ اللہ کی اصل تو الالہ ہے۔ الہ تو صرف عربی میں  نہیں  بلکہ تمام سامی زبانوں  میں  خدا تعالیٰ ہی کے  لئے  مستعمل ہے۔ کم از کم الوہ اور الوہیم سے  تو ناواقفیت نہ ہو گی، قریش اپنے  دیوتاؤں  کے  مجسمے  بنا کر پوجتے  تھے  کیا اس سب سے  بڑے  قریشی دیوتا کا بھی کہیں  کوئی مجسمہ تھا؟‘‘

 عزیٰ

عزیٰ(عز) سے  مشتق ہے  جس کے  معنی عزت و غلبہ ہے۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی۔ اس کا استھان مکہ اور طائف کے  درمیان وادیِ نخلہ میں  حَراص کے  مقام پر واقع تھا۔ عزیٰ کا بت حرم کعبہ میں  بھی رکھا ہو ا تھا۔ جسے  فتح مکہ کے  وقت توڑا گیا۔

نخلہ وہی مقام ہے  جہاں  جنوں  کی پہلی حاضری کا واقعہ پیش آیا تھا۔ جب آپ ﷺ طائف سے  واپسی کے  وقت تلاوت قرآن فرما رہے  تھے  کہ جنوں  کے  ایک گروہ کا گذر وہاں  سے  ہوا۔ وہ آپ ﷺ کی قرأت سننے  کے  لئے  ٹھہر گیا۔ بنی ہاشم کے  حلیف قبیلے  بنو سلیم اور بنو شیبان کے  لوگ اس کے  مجاور تھے۔ قریش اور دوسرے  قبائل کے  لوگ اس کی زیارت کرتے  اور اس پر نذریں  چڑھاتے  اور قربانیاں  کرتے۔ ہو سکتا یہ قریش اور اس کے  ہم نسب قبائل کی لڑائی کی دیوی ہو۔ کعبہ کی طرح اس کی طرف بھی ہَدی (قربانی)کے  جانور لے  جاتے  اور تمام بتوں  سے  بڑھ کر اس کی عزت کی جاتی۔ ابن ہشام کی روایت ہے  کہ ابو اُحّیحہ جب مرنے  لگا تو ابو لہب نے  کہا کہ ’’کیوں   روتے  ہو ابو اُحّیحہ؟کیا موت سے  ڈرتے  ہو؟حالانکہ وہ سب کو آنی ہے ‘‘اس نے  کہا ’’خدا کی قسم میں  موت سے  نہیں  ڈرتا بلکہ مجھے  یہ غم کھائے  جا رہا ہے  کہ میرے  بعد عزیٰ کی پوجا کیسے  ہو گی؟‘‘ابو لہب بولا ’’اس کی پوجا نہ تمہاری زندگی میں  تمہاری خاطر ہوتی تھی اور نہ تمہارے  بعد اسے  چھوڑا جائے  گا۔ ‘‘ابو اُحّیحہ نے  کہا کہ ’’اب مجھے  اطمینان ہو گیا کہ میرے  بعد کوئی میری جگہ سنبھالنے  والا ہے۔ ‘‘

عزیٰ اصل میں  ایک درخت تھا۔ مکہ اور طائف کے  درمیان نخلہ میں  اس پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس پر چادریں  چڑھی ہوئی تھیں۔ قریش کے  نزدیک اس کی بڑی عظمت تھی۔ ابو سفیان نے  احد والے  دن کہا تھا ’’ہمارا عزیٰ ہے  تمہارا کوئی نہیں۔ ‘‘اس کے  جواب میں  حضرت ﷺ نے  کہلوایا تھا ’’اللہ ہمارا والی ہے  تمہارا کوئی نہیں۔ ‘‘عربوں  کا عقیدہ تھا کہ گرمی کے  موسم میں  خدا اسی استھا ن میں  رہا کرتا تھا۔ بنو کنعان بھی اس کے  معتقد تھے۔

بنو کنعانہ اور بنو مضر اس کی بڑی عزت کرتے  تھے۔ اس کے  حاجب اور خدمت گار بنی ہاشم کے  حلیف قبائل بنی شیبان اور بنی سلیم نے  فراہم کئے  تھے۔ جب اس کے  حاجب سلمیٰ نے  خبر سنی کہ حضرت خالد بن ولیدؓ  اس بت کو منہدم کرنے  مکہ سے  روانہ ہو چکے  ہیں  تو اس نے  میان سے  تلوار نکال لی اور اس پہاڑی پر چڑھ کر عزیٰ کے  معبد میں  داخل ہوا اور عزیٰ سے  دعا مانگی ’’اے  عزیٰ تو اپنی قوت کا مظاہرہ کر اور خالد کو اپنے  پاس تکنہ پھٹکنے  دے۔ ‘‘مگر حضرت خالدؓ  نے  نخلہ پہنچتے  ہی اسے  منہدم کر دیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں  پہنچ کر آپ ﷺ کو اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے  حضرت خالدؓ  سے  پوچھا کہ تم نے  وہاں  کیا چیز دیکھی۔ تو حضرت خالدؓ  نے  عرض کیا کہ کوئی خاص چیز نہیں  دیکھی۔ آپ ﷺ نے  کہا ’’اچھا تو پھر وہاں   لوٹ کر جاؤ۔ ‘‘حضرت خالدؓ حکم کی تعمیل میں  جب نخلہ کی پہاڑی پر پہنچے  تو دیکھا کہ معبد میں  سے  ایک حبشی عورت جس کے  سر کے  بال ایڑیوں  کے  نیچے  زمین تک لٹک رہے  تھے  خوفناک انداز میں  تلوار لے  کر حضرت خالدؓ  کی طرف جھپٹی۔ حضرت خالدؓ نے  تلوار کے  ایک ہی وار میں  اسے  قتل کر دیا اور معبد کو منہدم کر کے  نذرانے  کا جو مال اس میں  جمع تھا اپنے  قبضہ میں  لے  کر مکہ پہنچے۔ جب انہوں  نے  اس کی خبر آپﷺ کو دی تو آپ ﷺ نے  فرمایا ’’بس وہی عزیٰ تھی، جس کی پرستش اب تا ابد کوئی نہیں  کرے  گا۔ ‘‘

مناۃ

لفظ کا مونث ہے۔ مناۃ کا استھان مکہ اور مدینہ کے  درمیان بحر احمر کے  کنارے  کوہ مشلل پر قدید کے  مقام پر تھا۔ دوسری روایت کے  مطابق بحر احمر کے  ساحل پر قدید کے  قریب مشلّل میں  نصب تھا۔ خاص طور پر خزعہ، اوس اور خزرج کے  لوگ اس کے  بہت معتقد تھے  اس کا حج اور طواف کیا جاتا۔ اس پر نذر کی قربانیاں  چڑھائی جاتیں  زمانۂ حج میں  جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے  فارغ ہو جاتے  تو وہیں  سے  مناۃ کی زیارت کے  لئے  لبیک لبیک کی صدائیں  بلند کر دی جاتیں  اور جو لوگ اس دوسرے  حج کی نیت کر لیتے  وہ صفا ء و موہ کے  درمیان سعی نہ کرتے  تھے۔ اہل عرب ان تینوں  (لات، عزیٰ، مناۃ )کو اللہ کی بیٹیاں  قرار دیتے  تھے۔ ایک روایت میں  ہے  کہ بنی کنانہ میں  عبد یا لیل کا بت تھا۔ بنو ازد اور عسان مناۃ کا بھی حج کرتے  تھے۔ اور اوس و خزرج حج کے  بعد مناۃ کے  پاس آ کر اپنا احرام اتارتے  تھے۔

اس بت کو کس نے  منہدم کیا اس کی کئی روایتیں  ہیں۔ ایک روایت کے  مطابق سعد بن اشہلیؓ نے  منہدم کیا۔ دوسری روایت میں  حضرت ابو سفیانؓ  نے  ریزہ ریزہ کیا۔ اور ایک روایت کے  مطابق فتح مکہ کے  لئے  جاتے  ہوئے  حضور ﷺ کے  حکم پر یہ کفرستان حضرت علیؓ  کے  ہاتھوں  تباہ ہوا۔

مولانا سید سلیمان ندویؒ  اپنی تاریخ ارض القرآن میں  تحریر کرتے  ہیں  کہ ’’مناۃ لفظ منیٰ سے  مشتق ہے  جس کے  معنی بہانے  کے  ہیں  اسی سے  مکہ کے  مقام منیٰ کا نام ماخوذ ہے  یعنی خون بہانے  کی جگہ۔ مناۃ شاید قربانی کا دیوتا تھا جس کے  نام سے  خون بہایا جاتا ہو گا۔ (قربانیاں  ہوتی ہوں گی۔ )

یعقوت حموی نے  معجم البلدان میں  اس کے  مختلف اشتقاقات بتائے  مگر ہمارے  نزدیک سب سے  صحیح یہ ہے  کہ وہ منا سے  مشتق ہے۔ اس لفظ کے  معنی تقدیر اور ثانی موت کے  بھی ہیں۔ ۃفقط علامت تانیث کے  لئے  ہے۔ گویا مناۃ تقدیر اور موت کی دیوی تھی۔ نبطی کتبات میں  بھی مناۃ منوت کی صرت میں  ہے۔ قرآن مجید میں  بھی اس کا املا منوۃ ہے۔

بعل

بعل کے  لغوی معنی آقا، مالک، سردار کے  ہیں۔ شوہر کے  لئے  بھی یہ لفظ بولا جاتا تھا۔ متعدد جگہ پر قرآن مجید میں  یہ لفظ اس معنی میں  استعمال ہوا ہے۔

قدیم زمانہ کی سامی قوم اس لفظ کو الہٰ یا خداوند کے  معنی میں  استعمال کرتی تھی۔ انہوں  نے  ایک خاص دیوتا کو بعل نام سے  موسوم کر رکھا تھا۔ خصوصی طور پر لبنان کی فنیقی قوم (Phoenicians)کا سب سے  بڑا دیوتا بعل تھا۔ اور اس کی بیوی عشتارات (Ashtoreth)ان کی سب سے  بڑی دیوی تھی۔

تحقیق کرنے  والوں  کے  درمیان اختلاف ہے  کہ آیا بعل سے  مراد سورج ہے  یا مشتری اور عشتارات سے  مراد چاند یا زہرہ۔ مگر یہ بات طئے  ہے  کہ بابل سے  مصر تک پورے  مشرق وسطیٰ میں  بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی۔

ابن کثیر کے  مطابق حضرت الیاسؑ  کی بعثت دمشق کے  مغربی علاقے  کے  لوگوں  یعنی بعلبک کے  لئے  ہوئی تھی۔ جو بعل نامی بت کی پرستش کرتے  تھے۔ کہتے  ہیں  کہ بعل نام کی وہاں  ایک عورت تھی۔ مگر صحیح یہ ہے  کہ وہ بیس گز قد آور چار منہ والا ایک بت تھا۔ بعلبک وہاں  کے  ظالم بادشاہ کا نام تھا، جس کے  خوف سے  حضرت الیاسؑ  چھپ گئے  تھے۔

تاریخ ارض القرآن میں  لکھا ہے  کہ مشہور دیوتا ہبل جو قریش کا خدائے  عظیم تھا اسی بعل کی تحریف ہے۔ عبرانی میں  ھ کلمۂ تعریف ہے۔ بعل کو ہبعل کہتے  تھے۔ عمر بن لحّی شام کے  دیوتاؤں  کو جب عرب لے  کر چلا تو مکہ پہنچتے  پہنچتے  ہبعل کی صور ت ہبل سے  بدل گئی۔

مگر اصل میں  ہبل ایک دوسرا بت تھا جس کی تفصیل آگے  پیش کی جائے  گی۔

ہُبل

کعبہ کے  اندر اور صحن میں  ۳۶۰ ؍ بت رکھے  ہوئے  تھے۔ جن میں  سب سے  بڑا بت ہبل کا تھا جوجوفِ کعبہ کے  اندر (کعبہ کے  سامنے  والی دیوار کی منڈیر پر)نصب تھا۔ نیچے  ایک گڑھا تھا۔ جہاں  پر نذرانے  جمع ہوتے  تھے  عرب کے  تمام قبائل اس کی عظمت کے  آگے  سرنگوں  تھے۔ یہ بت سرخ عقیق کا بنا ہوا تھا۔ انسان کی شکل کا تھا۔ جس کا دایاں   ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا۔ قریش نے  اس کو اسی طرح پایا تھا۔ انہوں  نے  اسے  سونے  کا ہاتھ لگوایا تھا۔ کہتے  ہیں  کہ باب السلام کے  باہر پتھر کا ایک بڑا ستون پڑا ہوا تھا۔ جس کے  اوپر سے  لوگ قدم رکھ کر آتے  جاتے  تھے۔ عام طور پر مشہور ہے  کہ یہ ستون اسی بت ہبل کا ایک حصہ ہے  اس کے  تین پہلو نمایاں  تھے۔ اس پر کوئی مورت نہ تھی۔ فال کے  پانسے  اسی کے  آگے  ڈالے  جاتے  تھے۔ (ہبل دیو تا کے

ذوالخلصہ

یمن میں  ایک عمارت تھی۔ جس میں  خثعم اور جبیلہ کے  بت نصب تھے۔ جن کی وہ پرستش کرتے  تھے۔ بخاری میں  فتح مکہ کے  بعد اس بت کا ذکر ہے  کہ اسے  کعبہ کی ایک شاخ سمجھا جاتا تھا۔ اور کعبہ یمانیہ کہلاتا تھا۔ جبکہ کعبہ (بیت اللہ ) کو کعبہ شامیہ کہتے  تھے۔

جریرؓ  کہتے  ہیں  کہ جب وہ ذوالخلصہ کو منہدم کرنے  یمن پہنچے  تو وہاں  انہیں  ایک شخص ملا جو زمانۂ جاہلیت کے  عام دستور کے  مطابق تیروں  سے  فال نکالا کرتا تھا، اس شخص نے  جریرؓ  سے  کہا ’’ اگر تمہارا رسول واقعی اللہ کا رسول ہے  تو جو تیر میں  چلاؤں  گا تمہاری گردن میں  پیوست نہیں  ہو گا۔ ‘‘ چنانچہ جریرؓ  اس کے  سامنے  کھڑے  ہو گئے۔ اس شخص نے  تیر چلایا تو تیر خطا ہو گیا۔ اس کے  بعد جریرؓ  نے  میان سے  تلوار نکال کر اس شخص سے  کہا ’’اگر اب تو اشہد ان لا الٰہ الا للہ نہیں  کہے  گا تو تلوار سے  تیری گردن اڑا دوں  گا۔ ‘‘ اس میں  ایک تاج پوش عورت کا بت تھا۔

واپسی پر حضرت محمد ﷺ کو عمارت کے  منہدم ہونے  اور جلا کر راکھ کرنے  کی خوش خبری دی گئی تو آپ ﷺ نے  ہر ایک کو پانچ پانچ مرتبہ مبارکباد دی۔

رضا

ابن ہشام نے  کہا بنی ربیعہ بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم کا ایک معبد ( بت خانہ ) تھا جس کا نام رضا تھا۔ زمانۂ اسلام میں  اسے  ڈھا دیا گیا۔

اس کے  متعلق عرب کے  مشہور شاعر مستو غر بن ربیعہ بن کلب نے  یہ شعر پڑھا ’’میں  نے  رضا نامی معبد ڈھا نے  میں  ایسی قوی ضربیں  لگائیں  کہ اسے  ویران سیاہ زمین بنا ڈالا۔ ‘‘

اسی شاعر کے  بارے  میں  مشہور ہے  کہ اس نے  ۳۳۰ ؍ برس کی عمر پائی۔

ذوالکعبات

ابن اسحٰق نے  کہا بکر و بن لغلب وائل وایاد کے  دونوں  بیٹوں  کا ایک معبد ذوالکعبات نامی سنداد میں  تھا۔ ( سنداد کوفہ کی طرف مکہ معظمہ سے  سات رات کی مسافت پر تھا ) ایک روایت کے  مطابق سنداد حیرہ میں  اور ابلہ کے  درمیان ایک نہر تھی اس پر ایک قصر تھا جس کا عرب حج کیا کرتے  تھے۔

اقیصر

زمانۂ جاہلیت میں  عربوں  کا معبود تھا۔ اس کی پوجا قضاعہ، لخم، جذام، عاملہ اور غطفان کے  قبائل کرتے  تھے۔ صحرائے  شام کی سطح مرتفع عشار ف میں  واقع تھا قضاعہ، لخم، جذام اور شام کے  لوگ اس کا حج کرتے  اور اس کے  پاس سر منڈاتے  تھے۔

الجسد

ایک ضخیم انسان کی شکل کا سفید پتھر سے  تراشا ہو ا بت تھا۔ اس کے  متولی بنی شکامہ بن شیب (آل کندہ ) تھے۔ حضر موت کے  علاقے  میں  نصب تھا۔ اس بت کی ایک مخصوص چراگاہ تھی۔ جس میں  اس پر چڑھائے  جانے  والے  جانور چرتے  تھے۔

ذوالشریٰ

شریٰ ایک پہاڑی مقام تھا۔ جو ادوم ( اردن ) میں  واقع تھا۔ یہاں  پر ذو الشریٰ اور حریس ( نبطیوں  کے  دیوتا ) کا جوڑا تھا۔ جسے  دوس اور ازد قبائل پوجتے  تھے۔ پسٹرا ( بطرا ) میں  خاص طور پر اس کی پوجا ہوتی تھی۔ بنو حرث شکر کا بت تھا۔

الضَیزنَان

ضیزن کی تثنیث ہے۔ جس کے  معنی ایک دوسرے  کے  خلاف مزاحم ہونا ہے۔ یہ دو بت تھے۔ جو جذیمہ، الابرش یا منذ الاکبر کے  ذریعے  حیرہ ( عراق ) کے  دروازے  پر نصب تھے  تا کہ جو بھی حیرہ میں  داخل ہو انہیں  سجدہ کرے۔ اس سے  آ نے  والے  کی اطاعت کا امتحان مطلوب تھا۔

عائم

ازدسراۃ کے  بت کا نام تھا۔

حجر اسود

بعض متعصب مخالفین اسلام طعن کرتے  ہیں  کہ مسلمان حجر اسود کی پرستش کرتے  ہیں۔ جبکہ یہ ایک سیاہ پتھر ہے  جو کعبہ کی ایک دیوار میں  نصب ہے۔ اس کے  نصب کرنے  کا مقصد یہ تھا کہ کعبہ کا طواف شروع ہونے  اور ختم ہونے  کی نشانی ہو۔ جب حضرت ابراہیمؑ  خانۂ کعبہ کو بناتے  بناتے  اس جگہ پہنچے  جہاں  اب حجر اسود ہے  تو انہوں  نے  اسمٰعیلؑ  سے  کہا کہ ایک ایسا پتھر لاؤ کہ شروع طواف کی نشانی کے  لئے  اس جگہ رکھ دوں۔ وہ اس کی تلاش میں  گئے ، اتنے  میں  حضرت جبرئیلؑ  حجر اسود جس کو اللہ تعالیٰ نے  طوفان ِ نوح کے  وقت کوہ ابو قبیس میں  امانت رکھا تھا، لئے  ہوئے  حضرت ابراہیمؑ  کے  پاس آئے  اور اس کو اس جگہ رکھا آج جہاں  اس کا ٹھکانہ ہے  پھر ابراہیمؑ  نے  اس پر دیوار پوری کی۔ یہ پتھر اس وقت اس درجہ روشن اور چمکدار تھا کہ خانۂ کعبہ کی ہر طرف کی حدود اس کی چمک سے  روشن تھیں۔ لیکن کفر کی کثافتوں  نے  اسے  سیاہ کر دیا۔ اب بھی اوپر کا حصہ جو دیتا ہے  وہ سیاہ ہے  اور جس قدر دیوار کے  اندر ہے  وہ بہت سفید ہے۔

ایک اور تحقیق کے  مطابق حجر اسود دو دفعہ آتشزدگی میں  جلنے  کی وجہ سے  سیاہ ہو گیا۔ ایک دفعہ زمانۂ جاہلیت میں  قریش کے  عہد کی ایک عورت کے  ہاتھ سے  پردہ میں  خوشبو چلاتے  وقت آگ لگ گئی، جس سے  کعبہ اور حجر اسود دونوں  جل گئے۔

دوسری مرتبہ عبداللہ بن زبیرؓ  کے  وقت کعبہ میں  آگ لگ گئی اور حجر اسود ٹوٹ کر تین ٹکڑے  ہو گیا۔ ابن زبیرؓ  نے  تینوں  ٹکڑوں  کو چاندی کے  ایک حلقے  سے  جڑوا دیا۔ اس وقت یہی چاندی کا حلقہ چڑھا ہوا ہے  اور شکستہ ٹکڑے  لاکھ سے  جوڑے  ہوئے  معلوم ہوتے  ہیں۔ لیکن اس کے  ٹوٹنے  کی روایت ۱۲ ؍ صدی کی ہے۔

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ  نے  سعید کے  باپ ابی بردہ سے  پوچھا ’’کیا تم جانتے  ہو تمہاری قوم کے  لوگ جاہلیت کے  زمانے  میں  بیت اللہ کا طواف کرتے  ہوئے  کیا کہتے  تھے  ؟‘‘ ابی بردہ نے  کہا کہ ’’انہوں  نے  کیا کہنا تھا ‘‘عبداللہ بن عمر نے  فرمایا ’’وہ یہ کہا کرتے  تھے :

’’اللہم ھٰذا واحد ان تما اتمہ الل وقد اتما ان تغفر اللھم تغفر حما وای عبد لک لا الما ؟ ‘‘

ترجمہ: اے  اللہ یہ تیرا گھر ایک ہی گھر ہے  اگر چہ مخلوقات کثیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے  اس گھر کو مکمل کیا ہے  اور وہ مکمل ہے۔ اے  اللہ تو معاف کرے  تو سب مخلوقات کو معاف کر تیرا کون سا وہ بندہ ہے  جو گناہگار نہیں  اور تیرے  اس گھر سے  چمٹا ہوا نہیں  ہے ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *