Barbaroslar Barbarossa With Urdu Subtitles

بار بروس لار یعنی خیرالدین باربروسہ 

  • Season 1

سیزن 1

قسط نمبر: 04 قسط نمبر: 03 قسط نمبر: 02 قسط نمبر: 01
قسط نمبر: 05


Barbaroslar Urdu خیرالدین باربروسہ

خیرالدین بابروسہ کون تھا

بہت کم افراد کو علم ہے کہ خیرالدین بربروس ان کا اصل نام نہیں تھا بلکہ خضر تھا جن کی پیدائش 1478 میں لزبوس نامی جزیرے میں ہوئی تھی جو شمال مشرقی بحیرہ ایجیئن میں واقع ہے۔

وہ چاروں بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور انہوں نے عملی زندگی کا آغاز اپنے تیار کردہ ایک بحری جہاز سے مختلف جزیروں میں تجارتی سرگرمیوں سے کیا تھا۔

بربروس کی عرفیت کی وجہ

بربروس کی عرفیت کی وجہ دراصل ان کے بڑے بھائی بابا عروج اور ان کی سرخ داڑھی تھی اور وہ بربروس بردارن کہلانے لگے تھے جبکہ عثمانی سلطان سلیم اول نے انہیں خیرالدین کا نام دیا تھا۔

بڑے بھائی کے ساتھ سمندروں پر مہم جوئی

1492 میں سقوط غرناطہ کے نتیجے میں اندلس پر عیسائیوں کے مکمل قبضے کے بعد بابا عروج نے وہاں سے مسلم مہاجروں کو شمالی افریقہ اپنے جہازوں سے لانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

مگر 1503 میں بابا عروج کے جہاز پر حملہ کرکے گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد انہوں نے 2 سال صلیبی جنگجوؤں کے جہازوں میں غلام کے طور پر گزارے، مگر پھر وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

جوابی حملے

1505 ء میں سپین اور پرتگال نے شمالی افریقہ میں پیشقدمی کرتے ہوئے ساحلی علاقوں پر حملے شروع کردیئے تھے، مسلمانوں پر ان حملوں پر خضر اور عروج نے اس وقت کے عثمانی سلطان بایزید ثانی کے ایک بیٹے Korkud کی رہنمائی میں مغربی بحیرہ روم میں ہسپانوی اور پرتگیز جہازوں کو منتشر کرنے کے لیے جوابی حملے شروع کیے۔
1512 میں نئے عثمانی خلیفہ سلیم اول کی تخت نشینی کے بعد بربروس بردارن نے شمالی افریقہ میں تیونس کے ایک جزیرے جربہ کو اپنا مسکن بنایا اور بحیرہ روم میں سپین، جینوا اور فرانس کی بحری بالادستی کے خلاف جدوجہد شروع کی اور بتدریج کامیاب بھی ہونے لگے۔

اگلے 3 برسوں میں دونوں بھائی شمالی افریقہ میں نمایاں حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور اپنے طور پر سپین اور پرتگال کے بحری جہازوں کو ہدف بنایا۔

الجزائر پر حملہ

1516 ء میں انہوں نے الجزائر پر حملہ کرکے اسے سپین سے چھین لیا اور بابا عروج نے فتح کی جانے والی سرزمین سلیم اول کے زیرتحت کردی، جس کے بعد وہ عثمانی ریاست کا حصہ بن گیا۔

بابا عروج کو الجزائر کا گورنر اور خضر کو مغربی بحیرہ روم میں خیرالدین کے نام کے ساتھ چیف سمندری گورنر مقرر کیا گیا۔

بابا عروج 1518 ء کو سپین کے ساتھ جنگ میں زندگی کی بازی ہار گئے اور اس سے اگلے سال سپین نے الجزائر پر قبضہ کرلیا۔

خیرالدین بربروس کا عروج

بابا عروج کے بعد خضر کو خیرالدین بربروس کہا جانے لگا اور انہوں نے اپنی جنگ کو جاری رکھا جس کے لیے عثمانی خلافت سے مدد بھی طلب کی۔

آئندہ برسوں میں الجزائر ایک سے دوسرے ہاتھ میں کئی بار منتقل ہوا مگر اس خطے میں خیرالدین کا اثر و رسوخ بڑھتا چلا گیا جبکہ الجزائر کو عثمانی خلافت نے مغربی بحریہ روم کے لیے مرکزی بیس کی حیثیت دے دی گئی۔

سلیم اول کے بعد ان کے بیٹے سلیمان عالیشان سلطان بن گئے اور خیرالدین بربروس نے سمندروں میں یورپی اقوام کی بالادستی ختم کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں اور وہ عثمانی خلافت کے امیر البحر بن گئے۔

اس کے بعد خیرالدین بربروس نے جنوبی یورپ تک جاکر حملے کیے جبک امریکہ سے آنے والے سونے سے بھرے جہازوں پر قبضہ کرلیا۔

اس عرصے میں میں بحیر روم درحقیقت عثمانی جھیل کی حیثیت اختیار کرچکا تھا جس کے خلاف مغربی طاقتوں نے مل کر خیرالدین بربروس پر حملہ کیا۔

1538 ء کی اس جنگ میں وینس، سپین، جنیوا، پرتگال، مالٹا اور پاپائی ریاستوں نے مل کر حملہ کیا تھا، مگر جنگ پریویزا میں بربروس نے اینڈریا ڈوریا کی زیرقیادت مسیحی فوج کو زبردست شکست دی، جس کے پاس لگ بھگ 3 سو بحری جہاز تھے جبک بربروس کے پاس 122 جہاز تھے۔
اس جنگ میں خیرالدین بربروس نے 10 جہازوں کو تباہ کیا جبکہ 30 سے زائد پر قبضہ کرلیا جبکہ ان کے ایک جہاز کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔

اس جنگ میں کامیابی کے نتیجے میں وسطی اور مشرقی بحیرہ روم پر عثمانی خلافت کی بالادستی کئی دہائیوں تک برقرار رہی، جبکہ بربروس کو شمالی افریقہ میں عثمانی علاقوں کا بیلر بے (گورنروں کے گورنر) اور کپتان الدریا (چیف ایڈمرل) بنادیا گیا۔

اس کے بعد 1541 ء میں سپین کے طاقتور ترین بادشا چارلس پنجم کی الجزائر پر حملے کو بھی انہوں نے ناکام بنایا جبکہ طرابلس اور تیونس کو بھی فتح کیا۔
1545 میں خیرالدین بربروس نے ریٹائرمنٹ لے لی اور استنبول میں اپنی سوانح کو مکمل کیا اور 4 جولائی 1546 ءکو ان کا انتقال ہوا، جس پر عثمانی خلافت نے اعلان کیا تھا ‘سمندروں کے رہنما چل بسے ہیں۔

ان کا مقبرہ استنبول میں موجود ہے جو باسفورس کے یورپی کنارے پر واقع ہے۔

برسوں تک استنبول سے کوئی بھی ترک بحری جہاز اس مقبرے کو اعزازی سیلوٹ دیئے بغیر نہیں گزرتا تھا جبکہ انہیں بحیرہ روم کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔


Who is “Barbarossa”

He is “Khidir ibn Ya’qub”, his nickname is “Khair al-Din Barbaros turkish series episode 1 english subtitles“. He was born on the Greek island of “Lesbos”, and his father was a Janissary (a janissary squad of Ottoman infantrymen known for their strength and valor) from Vardar, and his mother “Catalina” was a Christian (widow of a priest), He has four older brothers: Ishaq, Aruj, Elias, and Muhammad.

Aruj and his brother barbarossa season 1 episode 1 english subtitles were Christians, then God guided them to Islam, and they entered the service of Sultan “Muhammad al-Hafsi” in Tunisia, as they were intercepting Christian ships and taking what was in them and selling their passengers and navigators as slaves. bid.

All the brothers worked against the pirates of Saint “John” stationed on the island of Rhodes.

Elias was killed in one of the battles, and his brother Aruj was captured in Rhodes, then fled to Italy, and from there to Egypt. He was able to meet the Sultan “Qansuh al-Ghouri”, who was preparing to send a fleet to India to fight the Portuguese, and ordered Larouj to ship a ship with its soldiers and equipment to liberate the Mediterranean islands from European pirates.

In 1505, Aruj captured 3 boats, moved his operations to the western Mediterranean and was stationed on the Tunisian island of Djerba.

Arouj worked to transfer thousands of Muslims from Andalusia to North Africa from 1504 to 1510. He also liberated Algeria and then Tlemcen from the grip of the Spaniards, so he became famous and became famous for his heroism.

Arouj declared himself ruler of Algeria, and was able with the power of his state to expel all the Spaniards from the coasts they occupied, and to annex Egypt to his state, and sent Sultan Selim I with his allegiance and obedience to the Ottoman Empire .

Barbarossa saves the Muslims of Andalusia

The Spaniards were appalled by the strength and expansion of the young state, so they prepared a campaign of 15,000 fighters to suppress it, and penetrated into Algeria and besieged Tlemcen. Arouj was captured and then killed in August 1518. His younger brother Barbarossa succeeded him and became governor of Algeria.

His strength was not enough to confront the Spaniards, so he asked Sultan Selim I for extensions, so he provided him with a force of artillery and 2000 strong Janissary soldiers.

Sultan Selim I asked Barbarossa to rescue the Muslims of Andalusia from the Spanish Inquisition, which was afflicting them with woes, so he sailed from the far east in Turkey to the far west in Andalusia to fight the crusader armies (Spanish, Portuguese, Italian, and the ships of St. John).

Barbaros episode 1 urdu subtitles penetrated the sea fortresses and was able to dock safely, and destroyed the Spanish garrison of the city, then entered the land, fought a street war and raised the banner of Islam over its castles. Barbarossa surprised the churches in order to prevent the escape of the Catholic priests who knew the secret places of torture, as all the dark church buildings were immediately searched and the secret tormenting West was found.

Barbaros episode 1 english subtitles full episode took care not to transfer the Muslims from the dark prison cellars until sunset, to avoid blindness as a result of not seeing the sun for years, and the prisoners were transferred to Islamic ships to avoid having their skins torn during pregnancy.

He also cautioned that the operation from docking until takeoff would not last more than 6 hours before the arrival of any extensions to the enemy from neighboring cities, and he sailed under cover of darkness, and was able to paralyze the enemy’s naval movement on his way back to Algeria, contrary to what the enemy thought his return to Turkey from Thus, he wanted to deceive the enemy and rescue the prisoners to treat them as soon as possible.

And 70,000 Andalusian Muslims were transported in a fleet of 36 ships, in seven voyages in 1529, and settled in Algeria, which fortified it against the attacks of Istanbul.

Barbarossa in Istanbul

After the death of Sultan Selim I, Sultan Suleiman the Magnificent succeeded him by providing Barbarossa with weapons and men. He summoned him to Istanbul , entrusted him with reorganizing the fleet and supervising the construction of new ships, and entrusted him with the task of including Tunisia (ruled by the Hafsid state) to the Ottoman Empire due to the importance of its location.

Barbarossa left with a fleet of a ship and 8,000 soldiers towards Tunisia, and succeeded in seizing it, and declaring its subordination to the Ottoman Empire in 1534.

In response to Barbarossa’s victory in Tunisia and his attack on the Spanish coast, the Spanish King Charles V prepared a tractor campaign that headed to Tunisia, and was able to seize it in the same year.

Barbarossa responded with a surprise raid on the Balearic Islands in the Mediterranean and captured 6,000 Spaniards and brought them back to Algeria. News of the raid reached Rome as it celebrates the capture of Tunisia from the Muslims.