خیرالدین باربروسہ 

ٹریلر

طغرل غازی’ كے شائقین كے لیے خوشخبری  Ertugrul Ghazi
اگر آپ ‏’ارطغرل غازی’ كے سارے سیزنز دیکھ چکے ہو تو اب کچھ دن انتظار کریں
جلد آرہا ہے ایک اور تاریخی پس منظر سے لبریز ڈراما جس میں ہمارے ہر دِلعزیزایکٹر انجین التان دزیاتان ( ‏’ارطغرل غازی’ ) اب ایک نئے کردار كے ساتھ آپ تمام کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے كے لیے آرہے ہیں، . . . . . .
اُس ڈرامہ کا نام ہے ” خیر الدین باربروسا ” .
اِس دفعہ ‏’غازی ارطغرل بے’ ” امیر البحر ” ( سمندر کا بادشاہ) ” خیر الدین بارباروسا ” كے مرکزی کردار میں نظر آئیں گے . . .
دوستوں آپ کو بتا دوں كے “خیر الدین باربروسا سلطنت عثمانیہ كے جانباز ایڈمرل تھے ( یعنی بحریہ کا سب سے سینیر کمانڈر ). انکی بہادری اور بے خوفی ضرب المثل تھی . وہ سن 1510 میں پیدا ہوئے، ان کو 3 سمندروں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے اور وہ ” سلطان سلیمان آلی شان ” كے دور خلافت میں ” امیر البحر ” بن گئے تھے . . .
انکی ہیبت اور دبددبے کا یہ عالم تھا كے اس کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے كے جب انکی موت ہوئی تو یورپ نے 1 مہینے كے جشن کا اعلان کیا تھا .
كے آخر کار ہم نے خیر الدین بارباروسا عرف ” سمندر كے دیوتا ” سے نجات پالی ہے. یہ نام اہل یورپ نے ہی انہیں دیا تھا . . . .
یہ تو تھا خیر الدین بارباروسا کا مختصر سا تعارف ، جلد ہی ساری تفصیلات منظر عام پر آجایگی

BarBaroSa
Mera naya junoon

عالم اسلام کے ہیرو اور یورپ کیلئے ڈراؤھنی کردار
نام
خیرالدین بار بروصہ
پہچان
سرخ داڑھی
پیدائش
1475ء
انتقال
1546ء
جائے پیدائش
یونان کا جزیرہ مڈیلی موجودہ دور کا لزبوس میں پیدا ہوئے
اصل نام
حضرابن یعقوب
باپ کانام
یعقوب آغا
ماں کانام
قطرینہ. ۔مذھب عیسائی

خیرالدین باربروسہؒ اور اسکے نامور ساتھیوں کے متعلق اہلِ یورپ کا خوف و ڈر اہلِ یورپ کے زبانی۔

خیرالدین باربروسہؒ=
سمندر کا ہیولہ،بحر کا دیوتا، پہلوانوں کی طرح تنومند،پیدائیشی ملاح،سمندر کا اتنا تجربہ رکھنے والا کہ جب کسی سمت سے طوفان اُٹھنے والا ہوتا تھا تو اُنھیں پہلے خبر ہوجاتی تھی۔

حسن کرسوؒ
بحر اور سمندر کا چھلاوه، بچپن سے خیرالدین ؒ کا ساتھی،نوجوان اور انتہا درجہ کا جانباز۔

کاکادؒ
جیسے یورپ والے شیطان شکاری کہتے تھے۔بحری جُنوں میں سمندری طوفان کیطرح اپنے دوشمنوں پر چھا جانے کا ہنرمند۔

طرغوتؒ
عالمِ اسلام کا نایاب امیر البحر،بےمثال سپہ سلار اور اناطولیہ کے میدانوں کا لاجواب مجاہد،سمندر کے اندر الٹ پلٹ اور انقلاب برپا کرنے کا بڑا ہنرمند، جب انتقام پر اُتر اتا تھا تو سمندر تک گھنگال لیتا تھا۔

صالح رئیسؒ
جنگ کا صحیح تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ دشمن پر بروقت ضرب لگانا۔

صنعانؒ
سمندر کا بھیدی،تجربہ کار سپہ سالار۔
کیپٹن باربروسہ اور تاریخ کا جبر۔۔۔

آپ میں سے جن افراد نے جونی ڈیپ کی شہرہ آفاق ہالی ووڈ فلم *”پائریٹس آف دی کیریبین*” دیکھی ہے
یقینا ان کے لیے یہ نام اور کردار نیا نہیں ہو گا۔۔۔۔
فلم میں اس کردار کو ایک تخریبی اور سازشی موقع پرست بحری قزاق کے طور پر دکھایا گیا ہے۔۔۔
لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں
کہ کیپٹن باربروسہ صرف ایک افسانوی کردار نہیں
بلکہ سلطنت عثمانیہ کی بحری افواج کا ایک مجاہد اور امیر تھا۔۔۔۔

عثمانی خلیفہ سلیم نے البانیہ سے تعلق رکھنے والے امیر البحر بابا عروج کو طلب کیا
اور وہ خطوط دکھائے جو ہسپانیہ کی مختلف چرچز کے تنگ و تاریک عقوبت خانوں سے مسلمانوں نے لکھے تھے

اور انہیں ان مسلمانوں کو ریسکیو کرنے کا مشن سونپا۔۔۔

بحیرہ روم کے مشرق میں ترکی کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے مغرب میں اندلس کے ساحلوں تک کے سفر میں اطالیہ اور پرتگال سمیت بہت سی عیسائی ریاستوں کی بحری افواج حائل تھیں۔۔۔
حکمت عملی کے تحت فیصلہ یہ ہوا
کہ امیر البحر بابا عروج بحری افواج کی قیادت کرتے انہیں ہسپانیہ اتاریں گے
وہاں ان عقوبت خانوں سے مسلمانوں کو رہائی دلوانے کے بعد مغرب کے بعد انہیں وہاں سے نکالا جائے گا
اور افریقہ میں مسلمان ریاست الجزائر لے جایا جائے گا تاکہ عیسائی بحریہ سے واپسی پر کسی قسم کی لڑائی کا کوئی موقع نا بنے
اور ان مسلمانوں کو بخیر و عافیت زمینی راستے سے واپس لایا جا سکے۔۔۔
اس مقصد کے لیے بابا عروج نے اپنے بھائی خیرالدین باربروسہ کو الجزائر بھیجا
جہاں ان کا مشن عیسائی نواز مسلمان حکمرانوں کو شکست دینا تھا۔۔۔
بابا عروج کو مختلف وجوہات کی بنا پر حکمت عملی بدلنا پڑی
اور وہ اپنے بھائی خیرالدین باربروسہ کے پاس الجزائر پہنچے
جہاں ایک شہر تلمسان کے محاصرے میں
ایک مسلمان حکمران نے غداری کی اور صلیبی حملہ آوروں کو عقب سے حملہ کی دعوت دی۔۔
ترک اور الجزائر فوجوں نے بابا عروج کی قیادت میں ہتھیار ڈالنے کی بجائے شہادت کو ترجیع دی
اور یوں بابا عروج نے اس جگہ جام شہادت نوش کیا۔۔۔

کئی دن تک عیسائی جشن میں بابا عروج کے سر کو اندلس کی گلیوں میں لے کر پھرتے رہے اور گرجاگروں سے خوشی میں شادیانوں کی آوازیں آتی رہیں۔۔۔

اس کے بعد کمان خیر الدین باربروسہ کے حوالے کی گئی

جنہوں نے خود اپنا ایک بحری بیڑہ ترتیب دیا
اور بحیرہ روم میں موجود پرتگالی اور اطالوی افواج کو شکست دی۔۔۔
باربروسہ کو یہ لقب اطالوی افواج نے ہی دیا تھا جس کا مطلب سرخ داڑھی والا ہے۔۔۔
پھر باربروسہ نے تیونس اور الجزائر پر حملے کر کے ان علاقوں کو عیسائیوں کے قبضہ سے پاک کیا۔۔۔
باربروسہ کے کارناموں کی خبر جب ویٹیکین میں پوپ جان پال سوئم کو ملی
تو پاپ نے پورے یورپ کا ایک مشترکہ بحری بیڑہ قائم کر کے باربروسہ کو شکست دینے کا حکم دیا۔۔۔
بلاشبہ یہ اس وقت تک کی انسانی تاریخ کا سب سے عظیم بحری بیڑہ تھا جس میں 6000 جنگی بحری جہاز تھے۔۔۔۔

مقابلے میں باربروسہ کے بیڑے میں 1200 بحری جہاز تھے۔۔۔۔۔۔
دونوں افواج کا ٹکراو پرویزیہ کے مقام پر 28 ستمبر 1538 کو ہوا
جس میں باربروسہ نے کمال مہارت اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سے پانچ گنا بڑی فوج کو شکست دی

اور عیسائی بیڑے کو غرق آب کیا۔۔۔
حالت یہ تھی کہ عیسائی بحریہ کے کمانڈر اینڈریا ڈوریہ نے ایک چھوٹی سی کشتی پر فرار ہو کر اپنی جان بچائی۔۔۔

پھر باربروسہ نے اندلس کے ساحلی علاقوں پر پے در پے حملے کر کے 70000 مسلمان بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو چرچ کے مظالم سے نجات دلوائی۔۔۔

باربروسہ کی فتوحات کے نتیجہ میں بحیرہ متوسط جو کہ مشرق اور مغرب کے مابین واحد تجارتی گزرگاہ بھی تھا

مسلمانوں کے قبضہ میں تین سو سالوں تک رہا۔۔۔۔
برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ وغیرہ جیسی ریاستیں اس عرصہ میں یہاں سے اپنے جہاز گزارنے کے لیے سلطنت عثمانیہ کو ٹیکس دیتی رہیں۔۔۔۔
شاید آپ کو جان کر حیرت ہو
کہ پہلے امریکی صدر جارج واشنگٹن نے اس بحری فوج کو امریکہ پر حملے نا کرنے کے معاہدے پر راضی کرنے کے لیے مسلمانوں کے ایک بھاری جزیہ ادا کیا تھا۔۔۔
یہ معاہدہ تقریبا دو صدیوں پر محیط امریکی تاریخ کا واحد معاہدہ ہے
جو انگریزی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں کیا گیا ہے۔۔۔۔
یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا
کہ اس میں امریکی حکومت کسی دوسری ریاست کو ہر سال باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے کی پابند تھی۔۔۔۔۔

معزز دوستوں افسوس کی بات ہے کہ ہمیں بہت سے اپنے ہیروز کا ذکر تک غیروں سے سننے کو ملتا ہے
اور وہ ذکر بھی اس قدر مسخ شدہ چہرہ پیش کرتا ہے
کہ ہمیں ان ناموں سے ہی نفرت ہو جاتی ہے۔۔۔۔
قومیں جب اپنی تاریخ دوسروں سے سننا شروع کر دیں تو انکی زوال شروع ہوجاتی ہے

. . .

*ایک غلط فہمی اور اسکا اِزالَہ* : –
بارباروسا کا نام سن کر دُھوکا نا کھاجائیں ، Hollywood کی مشہور زمانہ مووی سیریز “Pirates of the Caribbean” ( سمندری لوٹیرے ) میں کیپٹن باربوسا نامی ایک کریکٹر ہے ، تعصب پسند صلیبیوں نے اپنی روایت کو رواں رکھتے ہوئے ایک دیندار، مجاہد، اور غازی شخص کی پہچان مٹانے کی ناکام کوشش کی ہے ، عیسای اپنی اسلام دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے بَڑی مہارت سے اس فلم کے مرکزی کردار Captain Jack sparrow کو فنی اور ڈرامائی طور پہ پیش کرنے اور وہیں باربوسا کو لٹیرہ ، غاصب، اور ظالم کی شکل دیکر بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کرتےرہے.
فلم میں باربوسا کو ایک آنکھ سے کانہ، ایک ہاتھ ٹوٹا ہوا اور ایک پیڑ سے معذور شخص بتایا گیا…
اس فلم میں موجود باربوسا کا ” خیر الدین بارباروسا ” سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ ایک کھلم کھلا جھوٹ كے تحت کی گئی سازش ہے

2021-01-22