2020 تبدیلی کا سال تھا 

تحریر :محمد نفیس دانش 
2020 بھی گزر گیا گزشتہ سال بہت سارے وہ لوگ جو ہمارے درمیان تھے ، وہ آج 2021 میں ہمارے درمیان نہیں ہیں ، 2020 میں اکابر علماء کی بھی ایک قابل ذکر تعداد اس دنیا سے رخصت ہوئی ، 2020 کو ہماری کئی نسلیں کرونا وائرس کے نام سے بھی یاد رکھیں گی اور بعض لوگوں کے لیے سنہ 2020 تباہی و بربادی کا سال رہا جس میں عالمی وبا کے دوران لاکھوں اموات ہوئیں، ہمیں گھر سے کام کرنا پڑا اور زوم پر میٹنگز ہوتی رہیں۔
لیکن تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صورتحال اس سے بھی زیادہ مشکل ہوسکتی تھی اور شاید تاریخی پس منظر جان کر ہمیں لگے کہ سنہ 2020 درحقیقت اتنا بھی برا نہیں تھا!
بہت سے لوگوں کی نوکریاں گئیں عالمی وبا سے معیشت کو بھی کافی نقصانات پہنچا اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں کئی لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔
تاہم بیروزگاری کی شرح اب بھی 1929-33 کے معاشی بحران کی سطح پر نہیں پہنچی۔
تاریخی اعتبار سے یہ سال عالمی سیاحت کے لیے بھی کافی بُرا تھا۔
لیکن اگر آپ کو اپنے گھر رہنے پر اتنا افسوس ہو رہا ہے تو تھوڑا اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں بھی سوچ لیں۔
لیکن دسمبر 1984 میں انڈیا کے شہر بھوپال میں کیمیکل پلانٹ میں ایک لیک کی وجہ سے دھماکہ پیش آیا تھا۔ اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے اور اسے جدید تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔جس میں تقریباً 3500 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگلے برسوں میں پھیپھڑوں کی بیماروں کی وجہ سے کوئی 15 ہزار مزید اموات ہوئیں۔دھماکے کے بعد کئی دہائیوں تک شہر میں خطرناک دھند چھائی رہی جس کی وجہ سے آج بھی لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔
کئی زاویوں سے 2020 ایک نہایت مشکل سال رہا ہے۔ عالمی وبا سے ہم افراتفری میں ضروری اشیا خرید رہے تھے تو کبھی اپنے پیاروں سے سماجی فاصلہ رکھے ہوئے تھے۔ ہم میں سے کئی لوگ لاک ڈاؤن سے اکتاہٹ کا بھی شکار ہوئے اور صرف سینیٹائزر سے ہاتھ ملاتے پائے گئے۔
 یقیناً 100 سال بعد دنیا مزید تبدیل ہوگی ، ہم میں سے جو بالغ لوگ آج موجود ہیں ، یقیناً وہ 2121 میں اس دنیا میں موجود نہیں ہوں گے ، پھر اس وقت کوئی تاریخ لکھے گا کہ 2020 میں علماء کرام کی کثیر تعداد میں موت کی وجہ کرونا وائرس تھی تو 100 سال بعد 2121 میں لوگ اس بات کو بالکل درست مان لیں گے ، لیکن آج جو عاقل ، بالغ لوگ اس دنیا میں موجود ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ مفتی زر ولی خان رح ، مفتی محمد نعیم رح ، مولانا عادل خان رح ، علامہ خادم حسین رضوی رح اور جماعت اسلامی کے منور حسن رح سمیت متعدد ممتاز دینی و قومی شخصیات کرونا کی وجہ سے دنیا سے رخصت نہیں ہوئی ہیں ، یہ بات فقط ریکارڈ کی درستگی کے لئے لکھی ورنہ وجہ جو بھی بنی علماء کرام اور ممتاز دینی شخصیات کی جدائی نے دینی طبقے کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کیا ہے ، بالخصوص مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید رح اور علامہ خادم حسین رضوی رح کی جدائی کا صدمہ دینی تحریکوں کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے ، 31 دسمبر 2020 کو جب رات کے 12 بجے تب صرف ایک سال مکمل نہیں ہوا بلکہ ایک دہائی بھی مکمل ہوئی ہے ، تحریک تحفظ ناموس صحابہ کے لئے 2020 کا سال گزشتہ دہائی کا سب سے بہترین سال تھا ، اس سال گرفتاریاں ، جبری گمشدگیاں اور ٹارگٹ کلنگ گذشتہ سالوں کی نسبت بہت کم ہوئی ، جھوٹے مقدمات بھی گذشتہ سالوں کی نسبت کم درج ہوئے ، جبکہ اس کے مقابل کئی کامیابیاں تحفظ ناموس صحابہ کی تحریک کے پلڑے میں اس سال آکر گریں ، رکن پنجاب اسمبلی مولانا معاویہ اعظم صاحب کی جہد مسلسل کی وجہ سے پنجاب اسمبلی میں تحفظ اساس بنیاد اسلام بل متفقہ طور پر منظور ہوا حالانکہ اس بل کے خلاف ایک منظم سازش ہوئی اور تاحال گورنر پنجاب نے اس پر دستخط نہیں کئے ہیں ، لیکن اس بل کی منظوری کی وجہ سے دیوبندی ، بریلوی اور اہل حدیث کا اتحاد جو ایک خواب تھا جو 2020 میں پورا ہوا بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ 2020 میں تحفظ ناموس صحابہ کی تحریک پر امت کا اجماع ہوا تو یہ بات بے بنیاد نہیں ہوگی ، تحفظ ناموس صحابہ کے لئے ملک بھر میں تاریخی عظمت صحابہ مارچ ہوئے ، لیکن کراچی بازی لے گیا ، تاریخ کی آنکھ نے وہ منظر بھی اپنی نظر میں محفوظ کیا کہ 11 ستمبر کو لاکھوں کی تعداد میں دیوبندی مسلک کے لوگ سڑکوں پر تھے ، 12 ستمبر کو بریلوی مسلک کے لاکھوں اور 13 ستمبر کو اہل حدیث مسلک کے لوگ سڑکوں پر نکلے ، 2020 میں ایسا بھی وقت آیا کہ دشمن صحابہ تنہا رہ گیا ، اسے خود محسوس ہو رہا تھا کہ ہم اچھوت بن گئے ، لیکن تاریخ شرما جائے گی ایسے ناموں پر کہ جو ایسے وقت میں دشمنان صحابہ کو سہارا دینے کی کوشش کرتے رہے ، باقی یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ مفتی منیب الرحمن صاحب نے جب اصحاب رسول ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی بات کی تو انہیں رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین کے منصب سے ہٹا دیا گیا ، مولانا عادل خان شہید نے تحفظ ناموس صحابہ کی بات کی تو انہیں گولیوں سے بھون دیا گیا ، حق گوئی کی یہ قیمت اکابر کو بھی ادا کرنی پڑی ۔
خیر 2020 نے تو دنیا ہی بدل ڈالی۔ دنیا میں رہنے کا چال چلن بالکل بدل چکا ہے۔گھروں میں محبوس رہنے والے افراد رفتہ رفتہ ای کامرس یعنی آن لائن تجارت میں مشغول ہوتے گئے، ای کامرس کی بدولت صارف اپنی من پسند مصنوعات کو بغیر وقت ضائع کیے دیکھ اور خرید سکتا ہے اور اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے مختلف اشیاء کی قیمت، مقدار، اجزا ترکیب کا موازنہ کر سکتا ہے، جو کہ روایتی بازار میں شاید ممکن نہیں۔ 
اب 13 دسمبر 2020 سے کرونا وائرس کی دوسری خطرناک لہر کیا چاند چڑھاتی ہے یہ تو معلوم نہیں لیکن پہلی لہر نے ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی آٹھ کروڑ آبادی میں گھسا اور تقریباً ساڑھے سترہ لاکھ کے قریب لوگوں کی جان لے لی۔ ابھی معلوم نہیں کہ کتنے اور لاکھ جان سے جائیں گے اور اب بڑوں کی بجائے بچوں اور جوانوں میں بھی سرایت کرے گا۔
اللہ تعالیٰ 2021 کو ہمارے لیے رحمتوں اور برکتوں والا سال بنائے اور ہمارے اس پاک وطن کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور نظر بد سے بچائے ۔
2021-01-07

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *