93

شوگر کا شکار ہونے پر آپ کو اس کا علم کیسے ہوسکتا ہے؟

ذیابیطس وہ مرض ہے جو اس وقت دنیا بھر میں 42 کروڑ سے زائد افراد کو اپنا شکار بناچکا ہے اور یہ صرف ایک بیماری نہیں، درحقیقت پورے جسمانی نظام کو متاثر کرنے والا عارضہ ہے، جس سے گردوں، دل، دماغ، ہاتھ پیر، غرض ہر عضو متاثر ہوتا ہے۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مرض میں مکمل طورپر مبتلا ہونے سے پہلے بھی ایسے کئی علامات سامنے آتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ جسم میں گلوکوز (ایک قسم کی شکر) کی مقدار عام معمول سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

مگر یہ انتباہی نشانیاں اتنی غیرواضح ہوتی ہیں کہ اکثر افراد تو ان پر توجہ بھی نہیں دے پاتے، خاص طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد کو اکثر اس کا علم طویل المعیاد نقصان پہنچنے کے بعد ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ذیابیطس ٹائپ ون کی علامات بہت تیزی سے یعنی چند دنوں یا ہفتوں میں نمودار ہوتی ہیں اور ان کی شدت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ذیابیطس کی ابتدائی علامات

ذیابیطس کی دونوں اقسام کی چند نمایاں انتباہی علامات ہوتی ہیں، جو درج ذیل ہیں۔

بھوک اور تھکاوٹ: ہمارا جسم غذا کو ہضم ہونے کے دوران گلوکوز میں بدلتا ہے جسے خلیات توانائی کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر خلیات کو اس گلوکوز کو استعمال کرنے کے لیے انسولین کی ضرورت ہوتی ہے، اگر جسم انسولین کو مناسب مقدار یا مکمل طور پر بنانے سے قاصر ہوجائے یا تیار انسولین کے خلاف خلیات مزاحمت کرنے لگے تو گلوکوز ان تک نہیں پہنچ پاتا اور جسم توانائی سے محروم ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عام معمول سے زیادہ تھکاوٹ طاری ہوجاتی ہے جبکہ بھوک بھی زیادہ لگنے لگتی ہے۔

زیادہ پیشاب آنا اور پیاس محسوس ہونا: عام طور پر ایک فرد 24 گھنٹوں میں اوسطاً 4 سے 7 بار پیشاب کرتا ہے، مگر ذیابیطس کے مریضوں میں یہ تعداد کافی زیادہ ہوسکتی ہے۔ مگر کیوں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب جسم گلوکوز کو جذب کرتا ہے تو یہ گردے سے گزرتا ہے، مگر جب ذیابیطس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول بڑھتا ہے، تو گردوں کے لیے اس پر قابو پانا ممکن نہیں ہوتا، اس کے نتیجے میں جسم زیادہ پیشاب آنے لگتا ہے اور پیاس بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے، یعنی ایک عجیب چکر ہے یعنی زیادہ پیشاب آئے گا تو پیاس بھی زیادہ لگے گی، اور جب آپ پانی زیادہ پینا شروع کریں گے تو پیشاب بھی زیادہ آئے گا۔

خشک منہ اور جلد میں خارش: چونکہ ذیابیطس کے دوران ہمارا جسم سیال کو پیشاب بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے تو دیگر اعضا کے لیے نمی کی مقدار کم ہوجاتی ہے، جس سے ڈی ہائیڈریشن کا امکان ہے اور منہ خشک ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ جلد خشک ہونے سے بھی خارش کی شکایت ہوجاتی ہے۔

بینائی دھندلانا: جسم میں سیال کی سطح میں تبدیلی کے نتیجے میں آنکھوں کے لینس بھی سوج جاتے ہیں، ان کی ساخت بدل جاتی ہے اور کسی منظر پر توجہ مرکوز نہیں کرپاتے، جس سے دھندلے پن کا احساس ہوتا ہے۔

ذیابیطس ٹائپ 2 کی علامات

یہ علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب طویل عرصے تک جسم میں گلوکوز کی سطح میں اضافہ برقرار رہے۔

یست یا فنگس(Yeast) انفیکشن: مردوں اور خواتین جو ذیابیطس کے مریض ہوں، ان کو اس انفیکشن کا سامنا ہوسکتا ہے، یست کو گلوکوز سے غذا ملتی ہے، تو یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے، یہ انفیکشن جلد کے کسی بھی گرم اور نم حصے میں پھیل سکتا ہے جیسے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے درمیان ، چھاتیوں کے نیچے یا مخصوص اعضا کے اندر یا ارگرد۔

خراشوں یا چوٹوں بھرنے کی رفتار سست ہوجانا: وقت کے ساتھ ہائی بلڈ شوگر دوران خون پر اثرات کرتا ہے اور اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم کے لیے زخموں کو بھرنا مشکل سے مشکل تر ہوجاتا ہے۔

پیروں یا ٹانگوں میں تکیف یا سن ہونا: یہ اعصاب کو نقصان پہنچنے کا ایک اور نتیجہ ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ون کی علامات

آپ کو یہ علامات نظر آسکتی ہیں:

جسمانی وزن میں غیرمتوقع کمی: اگر جسم کو غذا سے توانائی حاصل نہیں ہوتی تو وہ مسلز اور چربی کو توانائی کے لیے گھلانا شروع کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں غذا میں کمی کے بغیر ہی اچانک جسمانی وزن کم ہونے لگتا ہے۔

دل متلانا اور قے ہونا: جب جسم چربی کو گھلانے لگتا ہے تو اس سے کیٹونز بنتے ہیں جو نامیاتی مرکبات کا سلسلہ ہوتا ہے، یہ مرکبات خون میں جمع ہوکر خطرناک سطح تک پہنچ جاتے ہیں، جو کہ جان لیوا عارضے کی شکل بھی اختیار کرسکتے ہیں جسے ڈائیٹک ketoacidosis کہا جاتا ہے۔ کیٹونز کے نتیجے میں دل متلانے اور قے کی شکایت بھی زیادہ ہونے لگتی ہے۔

دوران حمل ذیابیطس کی علامات

حمل کے دوران بلڈ شوگر لیول بڑھنے سے عام طور پر کوئی علاامت سامنے نہیں آتی، بس معمول سے کچھ زیادہ پیاس محسوس ہوتی ہے یا زیادہ پیشاب آنے لگتا ہے۔

ذیابیطس کی پیچیدگیوں کی انتباہی نشانیاں

ذیابیطس ٹائپ ٹو سے مختلف پیچیدگیاں کی ممکنہ علامات یہ ہوسکتی ہیں :

جلد پر خارش (عموماً رانوں کے درمیانی حصے میں)۔

یست انفیکشن کا بار بار سامنا۔

جسمانی وزن میں غیرمتوقع اضافہ۔

گردن، بغلوں اور رانتوں کے درمیان کی جلد ملائم ہونا اور رنگت گہری ہوجانا۔

ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونے اور سوئیاں چبھنے کا احساس۔

بینائی کمزور ہوجانا۔

مردوں کے جنسی افعال کمزور ہوجانا۔

خون میں گلوکوز کی کمی

یہ عارضہ جسم بلڈ شوگر لیول بہت کم ہونے کی صورت میں نظر آتا ہے، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب خون میں شکر یا گلوکوز کی مقدار بہت کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں جسم ایندھن سے محروم ہوتا ہے، جس کی علامات یہ ہوسکتی ہیں:

جسم کانپنا۔

ذہنی الجھن یا فکرمندی بڑھ جانا۔

زیادہ پسینہ آنا، ٹھنڈ لگنا۔

کنفیوز ہونا۔

سرچکرانا۔

بھوک لگنا۔

غنودگی۔

کمزوری۔

ہونٹوں، زبان یا گالوں کا سن ہونا یا سوئیاں چبھنا۔

دل کی دھڑکن تیز ہونا۔

جلد زرد ہوجانا۔

بینائی دھندلانا۔

سردرد۔

نیند کے دوران رونا یا ڈراﺅنے خواب نظر آنا۔

بات چیت میں مشکلات۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟

اگر آپ کی عمر 45 سال سے زیادہ ہے یا ذیابیطس کے دیگر خطرات نظر آرہے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر ماہ یا 3 ماہ بعد شوگر ٹیسٹ کرانا عادت بنالیں۔ اگر اس مرض کی تشخیص جلد ہوجائے تو اعصاب کو نقصان، دل کے مسائل اور دیگر پیچیدگیوں سے بچنا ممکن ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر سے اس وقت رجوع کریں جب یہ علامات نظر آئیں:

معدے میں خرابی محسوس ہو، کمزوری اور بہت زیادہ پیاس لگنے لگے۔

بہت زیادہ پیشاب کرنے لگے۔

پیٹ میں بہت شدید درد رہنے لگے۔

عام معمول سے زیادہ گہری اور تیز سانسیں۔

سانس سے میٹھی بو جیسے نیل پالش ریموور آنا (یہ بہت زیادہ کیٹونز کی نشانی ہوتی ہے)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں