18

چرخِ تقدیر اپنا چکر مکمل کر چکا؟

دنیا بدل گئی، حالات بدل گئے، تاریخ تک تبدیل ہوگئی مگر پانچ صدیاں گزرنے کے باوجود انگریزی ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے، اس کے سینکڑوں ڈائیلاگ ضرب المثل بن چکے ہیں، آج بھی اس کے ہزاروں اقوال بطورِ حوالہ استعمال ہوتے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ولیم شیکسپیئر اپنے عہد میں وہ عظمت حاصل نہ کر سکا جو اسے بعد از مرگ حاصل ہوئی۔ اس کی تحریریں پڑھیں تو یوں لگتا ہے کہ قدرت نے اسے تاریخ کے وہ اسرار و رموز سمجھا دیے تھے جن سے انسان کو عروج و زوال ملتا ہے۔ اسی لئے اس کی کہی ہوئی باتیں آج بھی زندہ جاوید ہیں۔

اپنے کلاسیکی المیہ ڈرامے ’’کنگ لیئر‘‘ میں اس نے اپنے ایک کردار سے کہلوایا “The wheel has come full circle” یعنی چرخِ تقدیر اپنا چکر مکمل کر چکا، جس کا مطلب یہ ہے کہ قسمت کا پہیہ جب چکر پورا کر لیتا ہے تو گرے ہوئے اٹھنے لگتے ہیں اور طاقتور کمزور ہونے لگتے ہیں۔

پاکستان کا آج، ولیم شیکسپیئر کے اسی فقرے ’’چرخِ تقدیر اپنا چکر مکمل کر چکا‘‘ کے مصداق ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے نواز شریف کی بیماری نے حکومتی بیانیے میں سوراخ کر دیا ہے، وہ جو دن رات این آر او نہ دینے، نواز شریف کو رلانے، باہر نہ جانے دینے اور ڈیل نہ کرنے کے دعوے کرتے نہ تھکتے تھے، آج ہاتھ جوڑ کر کہہ رہے ہیں کہ خدارا اسے باہر بھیجیں۔ اسی لئے لکھا تھا ’’اگر وہ مر گیا تو…‘‘ مگر گالیوں سے نوازا گیا۔

ادب اور تاریخ کے طالبعلموں کو قسمت کا پہیہ گھومتا ہوا نظر آ جاتا ہے، پہلے ہی سے لگ رہا تھا کہ حکومتی بیانیہ چل نہیں سکتا، وہی ہوا اتنا بڑا یو ٹرن، اب تو اس بیانیے کا سارا تانا بانا ہی ٹوٹ جائے گا۔ نواز شریف کی ضمانت، رہائی اور بیرونِ ملک جانے کی اجازت کا فیصلہ ہر ایک کے لئے بہت اچھا ہے۔

اس کے سوا شاید کوئی چارہ بھی نہیں، مگر معاملہ ڈیل کا نہیں سرنڈر کا ہے، سیاسی فائدہ یا نقصان کسے ہوگا، یہ تو بعد میں دیکھا جائے گا مگر یہ ماننا پڑے گا کہ تقدیر کے پہیے نے نواز شریف کی مدافعانہ مزاحمت کو جتوا دیا ہے جبکہ حکومت کے جارحانہ بیانیے کو جھٹکا لگا ہے۔ لڑائی بڑی تھی اس لئے اس میں نواز شریف کی صحت جاتی رہی، وہ موت کے دہانے پر پہنچا ہے مگر اس نے خانی بیانیے کی اعلیٰ اخلاقی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔خانی بیانیہ کیوں ٹوٹا؟ اس وجہ سے کہ وہ اگر جیل میں مر گیا تو اس کی سیاسی قیمت بہت بھاری ہوگی یا پھر سراسر انسانی ہمدردی؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ موت کی بھاری سیاسی قیمت نے اوپر نیچے کے سب فیصلہ سازوں کو ڈرا دیا اور پھر جب شوکت خانم کینسر اسپتال کے قابلِ اعتماد ڈاکٹر نے بیماری کی تفصیل بتائی تو ہاتھ پائوں پھول گئے۔

ہلاکو خان کی طرح انسانی لاشوں کے مینار تعمیر کرنے کے لئے جس سنگ دلی کی ضرورت ہوتی ہے وہ تاریخ میں خال خال ہی ملتی ہے۔ مسئلہ یہی ہے کہ ہلاکو خان کے نام سے ڈرانا آسان ہے مگر ہلاکو خان بننا مشکل۔ اسی لئے بہتر ہوتا ہے کہ انسان، انسان ہی رہے، ظلم، انتقام اور بے دردی اسے انسانیت سے باہر کرکے حیوان بنا دیتی ہے۔

ظلم اچھے مقصد کے لئے بھی کیا جائے تب بھی ظلم ہے، سزا، عقوبت اور ایذا کے بھی قانونی پیمانے مقرر ہیں، ان سے ماؤرا اقدامات ظلم ہیں، اگر جیل مینوئل کے مطابق قانون ایئر کنڈیشنز کی اجازت دیتا ہے تو اس اجازت کو واپس لینا بھی ظلم ہے، اگر قانون گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت دیتا ہے تو اس اجازت کو ختم کرنا بھی ظلم ہے، اگر جیل مینوئل قیدی سے ملاقات کی اجازت دیتا ہے تو پابندی لگانا سراسر ظلم ہے۔

دوسری طرف حالت یہ ہے کہ سیاسی قیمت کا دبائو پڑا ہے تو ٹی وی اسکرینوں، عدالتوں اور بازاروں میں کہنے لگے ہیں کہ ہم کوئی ڈاکٹر یا جج ہیں کہ ’’ملزم کی بیماریوں اور جیل کے سلسلے میں ذمہ دار ٹھہرائے جائیں۔ یاد رکھیں اسی کو سیاسی بیانیے کی ٹوٹ پھوٹ کہتے ہیں۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جنوبی افریقہ میں کالوں اور گوروں کے درمیان جو این آر او ہوا اس کا اچھا نتیجہ نکلا۔ مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان این آر او اچھا تھا، آگے کو چلنے کا اشارہ تھا، ماضی کو بھلانے اور سبق سیکھنے کا عندیہ تھا مگر اس میں بھی مسئلہ جنرل مشرف اور ان کے اتحادیوں کے بیانیے کا تھا، وہ کہتے تھے ’’بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو کبھی واپس نہیں آنے دیں گے‘‘ اس لئے ان کا این آر او ’’یوٹرن‘‘ تھا جو کسی نے بھی نہ مانا۔

وہ حکومتی فیصلے جو دبائو میں کئے جائیں ان کے اچھے نتائج نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ نواز شریف کی شدید علالت پر جو راستے کھولے گئے وہ پہلے کھولے جاتے تو سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار کرتے مگر اب ان حکومتی فیصلوں کو مجبوری، مصلحت اور خوف کا نتیجہ قرار دیا جائے گا، اگر وجوہات پر بھی شک ہو تو نتائج بھی لازماً مشکوک ہوں گے۔

ایک طرف نواز شریف اور ان کے سیاسی ساتھیوں کو ریلیف ملا ہے تو دوسری طرف آصف زرداری کو اسپتالوں میں مرنے کے لئے چھوڑ دینا بیوقوفی کے مترادف ہے۔ اگر پنجاب کی کسی جیل سے سندھ میں نئی لاش گئی تو پیپلز پارٹی کو اگلے کئی سال کے لئے سیاسی ایندھن مل جائے گا۔

وہ اہلِ سیاست جو اعلیٰ اخلاقی بنیادوں پر کھڑے تھے، ان سے پوچھا تو جانا چاہئے کہ آپ نے رائے کیوں بدل لی۔ اب سارے کینسر زدہ مریضوں کو چھوڑیں، وہ تمام قیدی جن کے پلیٹ لیٹس کم ہیں، ان سب کو بھی ضمانت دیں یا پھر یہ مان لیں کہ نواز شریف کی قید اور رہائی دونوں سیاست تھے، وہ بھی سیاسی شعبدہ بازی تھی اور اب رہائی بھی ریاکاری ہے۔

کوئی کچھ بھی کہے، سیاست بہرحال نئی کروٹ لے چکی ہے، تقدیر کا پہیہ اپنا چکر مکمل کر چکا، خانی بیانیہ تضادات کا شکار ہو چکا۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ حالات کے تھپیڑے کس کس کو متاثر کریں گے۔ سیاست کی عظیم الشان عمارت بیانیے پر کھڑی ہوتی ہے، بیانیہ کمزور ہو جائے تو عمارت لرزنے لگتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں