17

نظر بد ، لگنا حقیقت ہے، کیفیت ، بچاؤ، عِلاج ،اعتراضات کا جواب

عادل سہیل حفظہ اللہ

بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلَی مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلَی مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلَی آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبَعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئیاور اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
ہمارے ہاں پائے جانے والے عقائد میں بہت سے عقائد افراط و تفریط کا شِکار کیے جا چکے ہیں ، اور غلط فہمیوں کی نذر ہو چکے ہیں ، اُن میں سے ایک عقیدہ “””نظر بد “”” کا بھی ہے ،
جی ہاں ، کہیں تو اِس کے بارے میں وہ کچھ سمجھا اور مانا جاتا ہے جس کی کوئی خبر ہمیں نہ تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور نہ ہی اُس کے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ،
اور کہیں کچھ عقل زدہ بد عقل لوگ اِس کا بالکل ہی نکار کرتے ہیں ،
اس لیے سب سے پہلے تو میں اللہ جلّ و عُلا کی کتاب کریم میں سے “””نظر بد “””کی حقیقت کا ثبوت پیش کرتا ہوں ، تا کہ تمام محترم قارئین کرام پر یہ واضح ہو جائے کہ “””نظر لگنا “””ایک حقیقت ہے ، کوئی خام خیالی نہیں ،
::::::: نظر بد ایک حقیقت ہے ، قران و صحیح سُنّت شریفہ سے دلائل :::::::
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ ﴿وَإِنْ يَكَادُ الّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمّا سَمِعُوا الذّكْرَ::: اور بالکل قریب تھا کہ کافر آپ کو اُن کی نظروں کے ساتھ پِھسلا دیں ، جب انہوں نے (یہ)ذِکر(قران کریم)سُنا﴾سُورت القلم /آیت 51،
اس آیت شریفہ میں ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی گئی ہے کہ انسان کی نظر میں ایسی تاثیر ہوتی ہے جو کسی دوسرے انسان کے جسم و جان پر اثر انداز ہوتی ہے ، اور تو اور ، اللہ کے رسولوں علیہم السلام پر بھی اس کا اثر ہوسکنے کی گنجائش تھی ، اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ مذکورہ بالا فرمان اِرشاد نہ فرماتا ،
اور اللہ جلّ و عُلا نے اپنے نبی یعقوب علیہ السلام کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے ، اُن علیہ السلام کا یہ قول بھی ذِکر فرمایا کہ﴿وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ وَمَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ:::اور (یعقوب علیہ السلام نے)کہا ، اے میرے بیٹو ، ایک دروازے میں سے داخل مت ہونا ، اور(بلکہ) مختلف دروازوں میں سے داخل ہونا، اور (یہ سب احتیاط کے طور پر ہے کیونکہ )میں اللہ کے (حکم اور مشیئت کے)سامنے تُم لوگوں کے لیے کسی چیز سے بچاؤ نہیں کر سکتا ، یقیناً حُکم اللہ کا ہے ، میں اُسی پر توکل کرتا ہوں اور اُسی پر اِیمان والے توکل کرتے ہیں﴾سُورت یُوسف (12)/آیت 67،
اس آیت شریفہ کی تفسیر میں امام ابن کثیر رحمہُ اللہ نے لکھا””””” قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَمُجَاهِدٌ وَالضَّحَّاكُ وَقَتَادَةُ والسُّدِّيُّ وغير واحد إِنَّهُ خَشِيَ عَلَيْهِمُ الْعَيْنَ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا ذَوِي جَمَالٍ وَهَيْئَةٍ حَسَنَةٍ، وَمَنْظَرٍ وَبَهَاءٍ، فَخَشِيَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَهُمُ النَّاسُ بِعُيُونِهِمْ، فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَسْتَنْزِلُ الْفَارِسَ عَنْ فَرَسِهِ:::ابن عباس ، اور محمد بن کعب، اور مجاھد ، اور ضحاک اور قتادہ اور سُدی اور کچھ اور لوگوں(رضی اللہ عنہم و رحمہم اللہ جمعیاً) نے بھی کہا کہ ، یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کو نظر لگنے سے خوف زدہ ہوئے تھے ، کیونکہ وہ (بیٹے)خوبصورت ، خوش نظر حلیےوالے ، اور خوش منظرتھے، لہذا یعقوب علیہ السلام اس بات سے ڈرے کہ کہیں لوگ اُن کےبیٹوں کو نظر بد کے ذریعے نقصان نہ پہنچائیں ، کیونکہ نظر لگنا حق ہے ، جو کہ کسی ماہر گُھڑ سوار کو اُس کے گھوڑے سے گِرا دیتی ہے “””””،
پس کسی اِیمان والے کے لیے یہ گنجائش نہیں رہتی کہ وہ اپنی کم علمی ، جہالت ، مادی علوم ، یا خود ساختہ سوچوں کی ڈسی ہوئی عقل کو کسوٹی بنا پر اللہ کے کلام کی باطل تاویلات کرے ، یا اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت شریفہ کا انکار کرے یا اُس کے بارے میں فضول باتیں کرے ،
اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرمان شریف کے بعد ہم اللہ کی ارسال کردہ اُن خبروں کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے ادا کروائِیں ،
پس اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا ::: اور نظر بد (لگنا)حق ہے ، اور اگر تقدیر پر کوئی حاوی ہو سکتا ہوتا تو یقیناً نظربد حاوی ہو جاتی ،اور اگر تُم لوگوں کو (خُود کو)غسل دینے کا کہا جائے تو غسل دو ﴾صحیح مُسلم/حدیث /5831کتاب السلام / باب 17،
اور ، اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اُن کے گھر تشریف لائے ، اور اُن کے پاس ایک بچی بھی تھی ، جس کے چہرے پر پیلاہٹ اور کمزوری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿اسْتَرْقُوا لَهَا ، فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ::: اس پر دم کرواؤ ، کیونکہ اس پر نظر کا اثر ہے﴾صحیح البخاری/حدیث5739/کتاب الطِب/باب35باب رُقْيَةِ الْعَيْنِ،صحیح مُسلم/حدیث5854/ کتاب السلام/باب21،
اِس کے علاوہ اور بھی بہت سی صحیح ثابت شدہ احادیث شریفہ ہیں جن میں رسول اللہ صلی علیہ علی آلہ وسلم نے نظر بد کے ہونے اور اثر کرنے کی خبر دی ہے ، اِن احادیث مُبارکہ میں سے کچھ کا ذِکر اِن شاء اللہ ، آگے مختلف عناوین میں کیا جائے گا ۔
اس کے بعد اِن شاء اللہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ :
::::: جس کی نظر لگتی ہے وہ حاسد ہوتا ہے ، لیکن ہر حاسد کی نظر نہیں لگتی ::::::
یاد رکھیے گا کہ جس کی نظر لگتی ہے اُسے عربی میں عائن کہا جاتا ہے ، اور جسے نظر لگتی ہے اُسے معین کہا جاتا ہے ، ہر عائن حاسد ہوتا ہے ،لیکن ہر حاسد عائن نہیں ہوتا ، کیونکہ ہر ایک حاسد کے حسد میں وہ تأثیر نہیں ہوتی جو محسود (جس سے حسد کیا جاتا ہے)کی جان و مال وغیرہ پر اثر انداز ہو سکے ، لیکن حسد کے دیگر بہت سے ایسے نقصانات ناقابل انکار ہیں جو حاسد محسود اور پورے ہی معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں ، لہذا ، حسد نظر بد سے وسیع ہے ، کہ نظر بد حسد میں سے ہے ، اسی لیے جب حاسد حسد کرتے ہیں تو ہمیں اُن کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کا حُکم اور تعلیم دی گئی ہے ، لہذا حسد کے نقصانات سے ، حاسدوں کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرنے میں نظر بد سے پناہ طلب کرنا بھی شامل ہوجاتا ہے ،
امام ابن القیم رحمہُ اللہ نے زاد المعاد فی ھدی خیر العباد/فصل الرّدّعَلَىمَنْأَنْكَرَالْإِصَابَةَبِالْعَيْنِ اور فصل الْحَاسِدُأَعَمّمِنْالْعَائِنِ، میں اس بارے میں بہت اچھی تفصیل بیان فرمائی ہے ، جس کا با ترجمہ مطالعہ آپ درج ذیل ربط پر بھی کر سکتے ہیں:
[صحیح سُنّت شریفہ کے انکاریوں کے اعتراضات کی ٹارگٹ کلنگ، تیسرا فائر یاhttp://bit.ly/1448syM ]

::::: عائن دو قِسم کے ہوتے ہیں :::::
وہ لوگ جِن کی نظر لگتی ہے دو قِسم کے ہوتے ہیں:
::: (1) ::: وہ لوگ جو جان بوجھ کر نظر لگاتے ہیں ، یعنی انہیں اس بات کا پتہ ہوتاہے کہ اُن کی نظر میں وہ شر ہے جس کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے ، اور وہ جان بوجھ کر یہ کام کرتے ہیں ،
::: (2) ::: وہ لوگ جن کی نظر میں کسی کو نقصان پہنچانے کی تاثیر ہوتی ہے لیکن وہ لوگ جان بوجھ کر نظر نہیں لگاتے ہیں ، بلکہ اُن کے دِل میں پائے جانے والا حسد اور ضرورت سے زیادہ کسی چیز پر اکڑاو اور فخر اُس کا سبب ہوتا ہے ، اور ایسے لوگ اکثر اوقات اپنے آپ کو یا اپنے قریبی اور پیارے لوگوں کو بھی نظر کا شکار کر بیٹھتے ہیں،
اس لیے ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہم حسد اور خود پسندی سے بچیں ،اور کسی پسند آنے والی چیز یا خصوصیت کے ظاہر ہونے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اُس سے برکت کی دعا کریں نہ کہ اُس پر اکڑیں اور اِترایں، اِن شاء اللہ اِسکی تفصیل آگے بیان کی جائے گی ۔
::::: بڑوں کی نسبت بچوں پر نظر بد کا اثر کا جلدی ہوتا ہے :::::
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے (جعفر طیار رضی اللہ عنہ ُ کے بچوں کو دیکھا تو اُن بچوں کی والدہ)أسماء بنت عُمیس رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا ﴿مَا لِى أَرَى أَجْسَامَ بَنِى أَخِى ضَارِعَةً تُصِيبُهُمُ الْحَاجَةُ:::کیا معاملہ ہے کہ میں اپنے بھائی کی اولاد کے جسم دُبلے پتلے دیکھ رہا ہوں ،(کیا) انہیں کوئی مشکل (بھوک ، بیماری یا تکلیف وغیرہ)در پیش ہے ؟﴾،
أسماء بنت عُمیس رضی اللہ عنہا نے عرض کیا”””لاَ وَلَكِنِ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ::: جی نہیں ، لیکن انہیں بہت جلد نظر لگ جاتی ہے”””،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے(أسماء رضی اللہ عنہا ، کی اِس بات کی تائید فرماتے ہوئے ) اِرشاد فرمایا ﴿ارْقِيهِمْ:::اِن پر دَم کرو﴾،
أسماء بنت عُمیس رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ “””میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں دَم کے الفاظ پیش کیے ، تو انہوں نے اِرشاد فرمایا ﴿ارْقِيهِمْ::: اِن پر دَم کرو﴾، صحیح مُسلم/حدیث5855/کتاب السلام /باب 21،
::::: ایک وضاحت :::::
دَم سے مُراد وہ الفاظ ہیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالی کے حضور، نظر بد (جادُو، آسیب ، اور بیماری وغیرہ )سے نجات اور شفاء طلب کی جاتی ہے ، اور کسی شک اور شبہے کے بغیر یہ کہنا حق ہے کہ اس کام کے لیے قران کریم کی آیات مبارکہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ احادیث مبارکہ میں بیان کردہ الفاظ کے علاوہ کوئی اور الفاظ استعمال کرنا جائز نہیں۔
::::: فقہ الحدیث :::::
اِس حدیث شریف میں ہمیں یہ سبق ملتے ہیں کہ :::
(1)یہ حدیث شریف نظر بد کے اثر انداز ہونے کی دلائل میں سے ایک ہے ، اور ،
(2)اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کوئی بھی کلام (بات ، الفاظ وغیرہ)دم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ صرف وہ کلام استعمال کیا جائے گا جس کو استعمال کرنے کی اجازت اللہ اور اس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے میسر ہو ، کیونکہ ،
(3)اگر کسی بھی مروج کلام کے ذریعے دَم کرنا جائز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے عام اجازت ﴿ارْقِيهِمْ:::اِن پر دم کرو﴾عطاء ہونے کے بعد أسماء رضی اللہ عنہا وہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں پیش نہ کرتِیں جن الفاظ کو وہ دَم کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تِھیں ،لہذا (4)اللہ اور اس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِرشادات گرامی ، دین کے معاملات ، اور بالخصوص عقیدے کے مسائل اور معاملات سمجھنے کے لیے سلف الصالح یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا فہم دُرست ترین ذریعہ ہے ۔
::::::: نظر بد کا اثر کیسے ہوتا ہے؟ :::::::
سب سے پہلے تو یہ جان رکھیے اور اِس پر غیر متزلزل یقین یعنی اِیمان رکھیے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی مشیئت اور تدبیر کے مطابق ہوتا ہے ( اُس میں اللہ کی رضا شامل ہونا یا نہ ہونا ایک الگ معاملہ ہے ، اس کو سمجھنے کے لیے مذکورہ ربط کا مطالعہ کرنا اِن شاء اللہ فائدہ مند ہو گا :

[[[سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ، تو ،،،
پس کوئی بھی کسی دوسرے پر کسی بھی قسم کا کوئی اثر نہیں ڈال سکتا جب تک کہ وہ اثر ہونا اللہ کی مشیئت میں نہ ہو ، نہ کوئی فائدے والا اثر نہ کوئی نقصان والا ﴿قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ:::(اے محمد)فرما دیجیے کہ ہمیں صِرف اور صِرف وہی کچھ ملتا ہے جو کچھ اللہ نے ہمارے لیے لکھ رکھا ہے، وہ (ہی)ہمارا مولا ہے ، اوراِیمان والے اللہ پر (ہی) توکل کرتے ہیں﴾سُورت التوبہ(9)/آیت 51،
اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ حقیقت اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے ان الفاظ میں بھی ادا کروائی کہ ﴿يَا غُلاَمُ إِنِّى أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَىْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلاَّ بِشَىْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَىْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلاَّ بِشَىْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتِ الأَقْلاَمُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ :::اے بچے ، میں تمہیں کچھ باتیں سکھاتا ہوں (انہیں کبھی بھولنا نہیں) اللہ (کے احکام ، اس کے مقرر کردہ حلال وحرام کی پابندی کرنے )کی حفاظت کرو ، اللہ تُمہاری حفاظت کرے گا ، اُس کی طرف توجہ کرو ، وہ تُمہاری طرف متوجہ ہو گا ، جب سوال کرو تو اللہ سے سوال کرو ، اور جب مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو، اور جان رکھو کہ اگر کوئی ساری قوم تُمہیں فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھی ہو جائے تو بھی تمہیں ہر گِز کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے سوائے اُس چیز کے جواللہ نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے ، اور اگر سارے کے سارے (انسان)اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکیں تو نہیں پہنچا سکتے سوائے اُس چیز کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے،(اور خوب جان لو کہ جن سے مخلوق کی تقدیر لکھی گئی وہ )قلم اُٹھائے جا چکے ہیں اور ( جن میں مخلوق کی تقدیر لکھی گئی وہ)کتابیں خشک ہو چکی ہیں﴾سُنن الترمذی /حدیث /2706کتابصفۃ القیامۃ/باب 59، اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،
پس نظر بد کا جو بھی اثر ہوتا ہے وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیئت اور تدبیر کے مطابق ہوتا ہے ، اور اگر اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مشیئت میں اُس کا واقع ہونا نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوتا ،
رہا یہ معاملہ کہ کسی کی نظر کسی چیز یا کسی انسان پر مادی طور پر کسی طرح اثر انداز ہو جاتی ہے؟ اُس کا طریقہ اور کیفیت کیا ہوتی ہے ؟ تو اس کا کوئی جواب ہم اللہ کی کتاب کریم میں ، اور اللہ کے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح سُنّت شریفہ میں نہیں پاتے،
لہذا یہ معاملہ بھی””” ایمان بالغیب “”” میں سے ہے ، کہ ہمیں نظر کے اثر انداز ہونے کی خبر اللہ جلّ و عُلا اور اس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ملی ہے ، پس مادی علوم کی کسوٹیوں ، اور، نام نہاد عقل کی قلا بازیوں کی گمراہیوں وغیرہ کا شکار ہوئے بغیرہمیں اس پر اِیمان رکھنا ہے ۔
اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے قدیم سے ہی مختلف آراء پیش کی جاتی رہی ہیں ، اپنے خیالات کی اصلاح کی غرض ان کا مطالعہ بھی اِن شاء اللہ مددگار ہو سکتا ہے ، لہذا اختصار کے ساتھ وہ آراء بھی یہاں پیش کر رہا ہوں ،
::::: نظر بد کے اثر انداز ہونے کے بارے میں کچھ آراء ::::::
::::::: (1) :::::::نظر کا اثر اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارادے اور مشیئت سے ، برے نفس والے شخص کی آنکھ سے نکلنے والی زہریلی قوت کے نتیجے میں ہوتا ہے ، جو نظر لگنے والے تک پہنچ کر اسے نقصان پہنچنے کا سبب بنتی ہے ،
::::::: (2) ::::::: نظر کا اثر نظر لگانے والے شخص کی آنکھ سے نکلنے والی لطیف شعاعوں وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے جو شعاعیں نظر لگنے والے تک پہنچ کر، اُس کے جسم کے مساموں کے ذریعے جِسم میں داخل ہو کر اسے نقصان پہنچنے کا سبب بنتی ہے ،
::::::: (3) ::::::: نظر بد کا اثر اللہ کی قدرت سے ، کسی سبب اور کسی اثر کرنے والے ذریعے کے بغیر ہوتا ہے ،
یہ بات اُن لوگوں کی ہے جو لوگ دکھائی نہ دینے والے ، حسی اسباب کا انکار کرتے ہیں ، ان لوگوں کا یہ مذھب و مسلک دُرُست نہیں ہے ، نہ ہی کتاب و سنت کی روشنی میں ، اور نہ ہی مادی علوم کی روشنی میں ،
اِمام ابن القیم الجوزیہ رحمہ ُ اللہ کا فرمانا ہے کہ”””””” اور (یاد رکھیے کہ ایسی )اثر پذیری کے لیے جسمانی ربط ضرور ی نہیں ہوتا ، جیسا کہ طبعی اور شرعی علوم سے جاھلوں کا خیال ہے ، بلکہ نفوس کا اثر بعض اوقات جسمانی تعلق ہونے سے ہوتا ہے ، تو بعض اوقات صِرف آمنے سامنے ہو جانے سے ہوتا ہے ، اور بعض اوقات صِرف نظر ملنے سے ہوجاتا ہے ، اور بعض اوقات کسی رُوح کی دوسرے کی طرف توجہ سے (جسکی طرف توجہ کی جائے )اثر ہو جاتا ہے ، اور بعض اوقات دعاؤں سے، اور بعض اوقات جھاڑ پھونک (دم وغیرہ)کرنے سے، اور بعض اوقات (شر اور شریر سے )پناہ طلب کرنے والے کلمات سے اثر ہوجاتا ہے ، اور (تو اور)بعض اوقات تو صِرف (اپنے خود ساختہ، یا لاشعور کے بنائے ہوئے) وھم اور تخیل سے اثر ہو جاتا ہے “””””، زاد المعاد فی ھدی خیر العباد/فصل الرّدّعَلَىمَنْأَنْكَرَالْإِصَابَةَبِالْعَيْنِ اور فصل الْحَاسِدُأَعَمّمِنْالْعَائِنِ۔
[امام صاحب کے اس قول کو تفصیل سے پڑھنے اور سمجھنے کے لیے درج ذیل ربط کا مطالعہ فرمایے :
صحیح سُنّت شریفہ کے انکاریوں کے اعتراضات کی ٹارگٹ کلنگ، تیسرا فائر یا
:::::::: اُمت میں دینی عُلماء اور دُرُست عقل والےلوگوں میں سےنظر لگنے کے اسباب ، انداز اور کیفیت کے بارے میں اختلاف کے باوجود کوئی بھی نظرکے اثر اندازہونےکا منکر نہیں ،
انکار کرنے والے صِرف وہی لوگ ہیں جو””” اِیمان بالغیب “”” کی صِفت سے محروم ہوتے ہیں اور ہر بات پر یقین کرنے کے لیے اُسے مادی کسوٹیوں اور اپنی اپنی ذاتی عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں ، پس گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اور بسا اوقات گمراہ کر بھی دیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو ہدایت عطاء فرمائے اور اگر اللہ کی مشیئت میں اُن کے لیے ہدایت نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ساری ہی مخلوق کو اُن لوگوں کے شر سے محفوظ فرما دے ،
::::::: نظر بد کی پہچان :::::::
نظر بد (یاجادُو اور آسیب) کا اثر ہونے کی بہت سی علامات ہوتی ہیں ، کچھ علامات تو ایسی ہوتی ہیں جن کے ظاہر ہونے کی صُورت میں مزید کسی جانچ کی ضرورت نہیں ہوتی ،
اور کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جن کا سبب کوئی جسمانی یا نفسیاتی بیماری یا غیر معمولی رویہ بھی ہو سکتا ہے ، لہذاہمیں اچھی طرح سے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کسی پر جسمانی مشکلات نمودار ہونے کی صُورت میں اُسے نظر بد کا شِکار سمجھ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ جسمانی طور پر اس کا طبی معاینہ(Medical Checkup) کروایا جائے اورکسی صحیح مستند نفسیاتی طبیب(Certified Psychiatrist) سے بھی اس کامعاینہ کروایا جائے ، اور اگر ان دونوں اطراف سے اُس میں کسی بیماری یا غیر معمولی حالت و کیفیت کا پتہ نہ چل سکے تو پھر نظر بد لگنے (یا کسی جادو یا آسیب وغیرہ کے اثر ہونے )کے بارے میں سوچنا چاہیے ،
جی ہاں ، طبی اور نفسیاتی معاینے کے بعد اس امکان کے بارے میں سوچا جانا چاہیے ، فی الفور اس پر یقین نہیں کر لینا چاہیے کہ نظر ہی لگی ہے ، یا کوئی جادُو یا آسیب وغیرہ کا اثر ہو گیا ہے ،
یاد رکھیے کہ وھم ایسی خوفناک بیماری ہے جو بہت سی بیماریوں کا سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات انسان کو موت تک لے جاتی ہے ،اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہمارے ہر ایک کلمہ گو بھائی اور بہن کو اِس سے اور ہر شر سے محفوظ رکھے ۔
[[[الحمد للہ ، وھم کے بارے میں بھی ایک مضمون بعنوان “”” وھم کے مقتول “””پہلے نشر کر چکا ہوں]]]
جب نظر بند ، جادُو یا آسیب وغیرہ کے اثر انداز ہو چکنے کا ، یا ایسے کسی امکان کا معلوم کرنا ہو تو اُس کا بہترین اور تجربات سے ثابت شدہ طریقہ یہ ہے کہ جس شخص کے بارے میں ایسا کوئی شک ہو اُس شخص پر قران کریم کی تلاوت کی جائے ، اُن آیات کی تلاوت جو صحیح عقیدے اور عمل والے عُلماء کے تجربات کے مطابق، اور بلا شک و شبہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے ،ایسے معاملات میں عِلاج کی تاثیر رکھنے والی ہوتی ہیں ،
جب ان آیات کو مشکوک شخص یا مریض شخص کے سامنے تلاوت کیا جاتا ہے ، یا بسا اوقات جب اُس کے سامنے قران کریم کی تلاوت کی جاتی ہے تو اُس پر درج ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں :
(1) چہرے پر پیلاہٹ ظاہر ہونا ،
(2) سینے میں گُھٹن کا احساس ہونا ،
(3) تلاوت سننے کے دوران جِسم کےمختلف حصوں میں درد ہونا ،
(4) معمول سے زیادہ گرمی محسوس ہونا،
(5) پسینہ آنا ، خاص طور پر کمر پر ، پسینے کی کمی یا زیادتی سے نظر کی شدت کا اندازہ ہو جاتا ہے ،
(6) پہلوؤں میں درد محسوس ہونا ،
(7)بے چینی کی کیفیت ہو جانا اور اِدھر اُدھر دیکھتے اور متوجہ ہوتے رہنا ،
(8) رونا ، یا کسی سبب کے بغیر ، اور رونے کی کیفیت کے بغیر آنسو جاری ہو جانا ،
(9) کسی وقت یہ حالت پاس بیٹھے ہوئے لوگوں پر بھی ظاہر ہو جاتی ہے ، جو کہ عِلاج کی غرض سے نہیں بیٹھے ہوتے ، ایسی صُورت میں معالج کو اُن کی طرف بھی توجہ کرنا پڑتی ہے ، لیکن دیکھنے والوں پر عموماً یہ اثر مریض کی حالت دیکھنے یا آیات شریفہ کو سمجھنے کی وجہ سے ظاہر ہوتا ہے ، اِس سے یہ نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ وہ لوگ بھی کسی نظر بد(جادُو یا آسیب وغیرہ )کا شِکار ہیں ،
(10) پہلوؤں کا پھڑکنا ، اور جسم کے مختلف حصوں کا بلا ارداہ خود بخود حرکت کرنا ، پھڑکنے کی اور حرکت کی کیفیت ، رفتار اور انداز سے بھیعِلاج کرنے والوں کو نظر بد کی قوت کا انداز ہو جاتا ہے ،
(11) دِل ڈوبنے کی کیفیت وارد ہونا ،
(12) پٹھوں کا اکڑنا ، کھنچنا اور درد ہونا ،
(13) نیند ، نیم بے ہوشی اور بے حواسی محسوس ہونا ،ا ور کوئی بھی کام کرنے کی قدرت نہ پانا ،
(14) پہلوؤں میں ٹھنڈک کا احساس ہونا ،
(15) کسی طبی اور مادی سبب کے بغیر جسم پر نیلاہٹ اور سبزی مائل دھبوں کا ظاہر ہونا ،
:::::::کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جو تلاوت سننے کی حالت کے بغیر بھی ظاہر ہوتی ہیں ،
مثلاً کسی معروف طبی اور مادی سبب کے بغیر وہ کام کرنے سے عاجز ہو جانا جس کام کو وہ شخص اچھی طرح سے کرتا تھا ، یا شوق سے کرتا تھا ،
::::::: کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جن کا تعلق نظر کا شِکار ہونے والے کے جسم و جان سے نہیں ہوتا ، مثلاً کسی مادی اور ظاہری سبب کے بغیر اُس کے کاروبار ، نوکری ، مال و متاع ، خاندان وغیرہ میں نقصان ہوتے رہنا ۔
::::: پرہیز عِلاج سے بہتر :::::
نظر لگنے سے بچاؤ کے لیے عائن اور معین ، یعنی جِس کی نظر لگتی ہے ، اور جسے نظر لگتی ہے دونوں کو ہی اِس شرّ سے بچاؤ کی تعلیم و تربیت دی گئی ہے ،
:::::نظر بد کے اثر سے بچانے کے لیے برکت کی دعا کرنا واجب ہے، بالخصوص عائن پر :::::
نظر بد سے بچاؤ کے لیے ہمیں یہ حکم دِیا گیا ہے کہ جب بھی ہم کسی ایسی چیز ، یا شخصیت کو دیکھیں جو ہمیں اچھی لگے تو ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطاء پر رضا مندی کا اظہار کریں اور اُس چیز یا شخصیت کے لیے برکت کی دُعاء کریں ، اِس سے ایک تو ہمارے دِلوں میں سے حسد صاف ہو جاتا ہے اور دوسرا اُس چیز یا شخصیت کو ہماری نظر نہیں لگتی ،
اس حُکم پر عمل کرنا یُوں تو سب ہی مسلمانوں پر واجب ہے لیکن وہ لوگ جن کی نظر لگتی ہے ، اُن لوگوں پر توبدرجہ اُولیٰ واجب ہوتا ہے کہ وہ اِس پر عمل کریں ، تا کہ اُن کی بُری نظر اور اُن کے دِلوں میں پائے جانے والے حسد ، یا حسرت زدہ پسندیدگی کا کسی پر کوئی بُرا اثر نہ ہو، اور وہ کسی کو کوئی نُقصان ہونے کا سبب نہ بننے پائیں ، اور اُن کے دِلوں میں پائے جانے والے حسد کا بھی عِلاج ہو ،
::::: برکت کی دُعا کرنے کے واجب ہونے کی دلیل :::::
ایک دفعہ سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ ُ نہا رہے تھے کہ اُن کے پاس سے عامر بن ربیعۃ رضی اللہ عنہ ُ کا گذر ہوا ، تو انہوں نے سھل رضی اللہ عنہ ُ کو دیکھ کر کہا کہ””” میں نے ایسی خوبصورت جِلد آج سے پہلے نہیں دیکھی، یہ تو اپنی چادر میں چھپی ہوئی کسی کنواری کی جلد سے بھی اچھی ہے “””، سھل رضی اللہ عنہ ُ اُسی وقت بے ہوش سے ہو کر زمین پر گِر گئے ، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا ، اور بتایا گیا کہ سھل ہوش نہیں کر رہا ،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دریافت فرمایا ﴿مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ::: کیا تُم لوگ کسی کو اِس (نظر لگانے)کامورد الزام ٹھہراتے ہو؟ ﴾،
صحابہ نے عرض کیا “”” جی ہاں ، عمار بن ربیعۃ کو “””،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے عامر بن ربیعۃ رضی اللہ عنہ ُ کو طلب فرمایا اور اِرشاد فرمایا ﴿عَلاَمَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَةِ ::: کس بات پر تُم میں سے کوئی اپنے کسی (مُسلمان)بھائی کو قتل کرتا ہے ، (یاد رکھو کہ) اگر تُم میں سے کوئی اپنے (کسی مُسلمان) بھائی میں کچھ ایسا دیکھے جو اُسے پسند آئے تو(دیکھنے والا)اپنے اُس بھائی کے لیے برکت کی دُعا کرے﴾،
اور اُنہیں حُکم دِیا کہ ﴿اس کے لیے وضوء کرو ، غسل کرو﴾،
تو عامر رضی اللہ عنہ ُ نے وضوء کیا ، اور اپنے دونوں گھٹنوں اور اپنی کمر سے نیچے کے حصے کو دھویا ، اور اپنے دونوں ٹانگوں کو پہلوؤں سے دھویا ،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ﴿وہ پانی سھل پر ڈال دِیا جائے﴾،
یعنی وضوء اور دُھلائی میں استعمال کیے جانے والا جوپانی عامر رضی اللہ عنہ ُ کے جسم سے چھو کر نیچے آیا ، اُس پانی کو سھل رضی اللہ عنہ ُ کے سر کی پچھلی طرف سے اُن پر ڈالا جائے ،
تو سھل رضی اللہ عنہ ُ لوگوں کے ساتھ اس طرح واپس گئے جیسے کہ انہیں کچھ ہوا ہی نہیں تھا ۔
یہ واقعہ درج ذیل روایات سے اخذ کیا گیا ، سُنن ابن ماجہ /حدیث3638/کتاب الطب/باب32، صحیح ابن حبان /حدیث6105/کتاب الرقی و التمائم، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،مؤطا مالک/حدیث1714/کتاب العین/ پہلا باب، مُسند احمد /حدیث /16402حدیث سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ ُ میں سے آٹھویں حدیث ۔
::::: برکت کی دُعا کے اِلفاظ :::::
برکت کی دُعاء دینے کے لیے کوئی بھی ایسے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں جو دُرسُت عقیدے کے حامل ہوں ، یعنی براہ راست اللہ سے برکت کے لیے دُعا کی جائے ، واسطے اور وسیلے کے طور پر کسی زندہ یا مُردہ مخلوق کو اس میں شامل نہ کیا جائے ، کسی کے صدقے سوال نہ کیا جائے ، جائز واسطے اور وسیلے کا ذِکر کیا جا سکتا ہے ، مثال کے طور پر اللہ کے نیک ناموں ، اُس کی اعلیٰ صِفات ، اُس کے برکت والے چہرے، اور اپنے نیک اعمال کا ذِکر کرنا ،
لیکن عام طور پر، نظر بد سے بچاؤ کے لیے برکت کی دُعا فی الفور اُسی وقت کرنا درکار ہوتی ہے جب کسی چیز پر نظر پڑے اور ایسےمیں مختصر سے کلمات ہی ادا کیا جانا بہتر ہے جن میں دِل کی حاضری ہو ، مثال کے طور پر ،
مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ::: جو اللہ نے چاہا (وہ عطاء فرمایا ، میں اُس کی عطاء پر راضی اور خوش ہوں)، اللہ کے(دیے) بغیر کوئی طاقت (والا)نہیں،
تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ،اللَّهُمَ بارِك فِيهِ::: اللہ ہی برکت دینے والا اور سب سے بہترین(عدم سے وجود میں )بنانے والا ہے ، اے اللہ اس میں برکت عطاء فرما ،
بارَك َاللهُ فِيهِ::: اللہ اِس میں برکت عطاء فرمائے ،
اللَّهُمَ بارِك عَلِيهِ::: اے اللہ اس پر برکت نازل فرما ،
بارَك َاللهُ فِيکَ::: اللہ تُجھ میں برکت عطاء فرمائے ،
بارَك اللّٰہُ عَلِيکَ::: اے اللہ تُم پر برکت نازل فرمائے ،
اور اسی طرح کے دیگر الفاظ ، غائب اور مخاطب کے صیغوں میں استعمال کیے جاسکتے ہیں ، اور کیے جا تے ہیں ۔
::::::: نظر بد کا شِکار ہونے سے بچاؤ کے طریقے :::::::
نظر بد کا شِکار کرنے سے بچاؤ کے بارے میں سیکھنے کے بعد ، اب اِن شاء اللہ یہ سیکھتے ہیں کہ ہمیں نظر بد کا شِکار ہونے سے بچنے کے لیے کیا کرنے چاہیے ، اپنے لیے بھی اور کسی بھی دوسرے مسلمان بھائی بہن ، بچے بڑے کے لیے بھی جِس کے بارے میں یہ اندیشہ ہو کہ اِسے نظر بد شِکار کر سکتی ہے ،
::::: صبح و شام کے أذکار :::::
یعنی صبح و شام کے وہ أذکار جو صحیح سُنّت شریفہ سے ثابت ہوں ، اُسی عدد ، کیفیت اور الفاظ میں کرنا جِس طرح سے صحیح سُنّت مبارکہ میں ثابت ہوں ، نہ کہ اپنی طرف سے بنائے ہوئے الفاظ ، عدد اور کیفیات پر مبنی ذِکر ،أذکار ، وِرد ، اوراد،تسبیحات ،اور چلّے وغیرہ ،
صحیح سُنّت شریفہ سے ثابت شدہ صبح و شام کے اذکار اور مختلف اوقات میں کی جانے والی دعاؤں پر مشتمل کتب با آسانی دستیاب ہیں ، جن میں سے ایک بہترین کتاب””” حصن المسلم “””ہے ، جو شیخ سعید بن وھف القحطانی کی تیار کردہ ہے اور تقریبا پچا س سے زائد ز ُبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے ۔
:::::سُورت الفاتحہ ، آیت الکرسی، سُورت البقرہ ، اور معوذتین ، یعنی سُورت الفلق ، اور سُورت الناس کی قرأت کرتے رہنا :::::
لیکن اُن کو سمجھ کر ، اُن پر بیان فرمودہ باتوں پر مکمل اِیمان اور دِل و دِماغ کی حاضری کے ساتھ ،ان کی قرأت کی جانی چاہیے ،
::::: صحیح ثابت شدہ سُنّت مُبارکہ کے مطابق ، حفاظت طلب کرنے کی دعائیں اور دَم :::::
مثال کے طور پر یہاں چند دعائیں اور دَم ذِکر کرتا ہوں ، جو صحیح احادیث شریفہ سے ثابت ہیں :::
﴿أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ::: میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے (اللہ کی )پناہ طلب کرتا ہوں،ہر زہریلی شیطان چیز سے ، اور ہر ایک تکلیف دینے والے آنکھ سے﴾صحیح البخاری / حدیث /3371کتاب أحادیث الأنبیاء/باب10 ۔
﴿أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ :::میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے (اللہ کی )پناہ طلب کرتا ہوں،اللہ کی تخلیق کردہ ہر مخلوق کے شرّ سے﴾صحیح مُسلم/ حدیث /7053کتاب الذِکر و الدُعاء و التوبہ/ باب16،سُنن الترمذی / حدیث /3768کتاب الدعوات/باب41، اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ۔
﴿أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِى لاَ يُجَاوزُهُنَّ بَرٌّ وَلاَ فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِى الأَرْضِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلاَّ طَارِقاً يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ::: میں اللہ کے اُن مکمل کلمات کے ذریعے کہ جن کلمات (کی قوت و قدرت میں)سے نہ کوئی نیک نکل سکتا ہے نہ کوئی بدکار،(اُن مکمل کلمات کے ذریعے اللہ کی )پناہ طلب کرتا ہوں،اللہ کی تخلیق کردہ، اور پھیلائی ہوئی اور بالکل اُس کے مُقام پر رکھی ہوئیہر مخلوق کے شرّ سے،اور جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے اُس کے شرّ سے ، اور جو کچھ آسمان میں چڑھتا ہے اُس کے شرّ سے، اور جو کچھ زمین پر پھیلا ہوا ہے اُس کے شرّ سے ، اور جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اُس کے شرّ سے ، اور رات کے فتنوں کے شرّ سے اور دِن کے فتنوں کے شرّ سے، اور ہر کھٹکھٹانے والے کے شرّ سے ، سوائے اُس کے جو خیر کے ساتھ کھٹکھٹاتا ہے ، (قبول فرما ) اے رحمٰن ﴾مُسند أحمد/حدیث15859/حدیث عبدالرحمن بن خنبش رضی اللہ عنہ ُ میں سے دوسری حدیث ، اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ، مکمل تخریج کے لیے دیکھیے سلسلة الأحاديث الصحيحة / حدیث 840،/2995۔
﴿أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ ::: میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے(اللہ کی )پناہ طلب کرتا ہوں،اللہ کےغصے سے، اور اللہ کے بندوں کے شرّ سے ، اور (جِنّات اور انسانوں میں کے)شیطانوں کےوسوسوں سے (یعنی اُن کی طرف سے ڈالے جانے والے وسوسوں سے)، اور اس بات سے کہ وہ شیاطین میرے کاموں میں دخل اندازی کر سکیں﴾سُنن أبو داؤد/ حدیث /3895کتاب الطِب/باب19، اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ، مکمل تخریج کے لیے دیکھیے سلسلة الأحاديث الصحيحة / حدیث 264۔
خلیفہ اول بلا فصل أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے درخواست کی کہ “”” اے اللہ کے رسول مجھے ایسے کلمات سکھایے جو میں صبح اور شام کہتا رہوں،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿ قُلِ ،،، اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ:::کہو ، ،، اے آسمانوں اور زمین کو پھاڑ کر بنانے والے ، غیب اور حاضر کا عِلم رکھنے والے ، ہر ایک چیز کے رب اور ہر ایک چیز کے سب سے بڑے (حقیقی اور سچے)بادشاہ ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبودنہیں ، میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان اور اُس کے شرک کے شر سے ﴾،
اور اِرشاد فرمایا ﴿قُلْهَا إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ::: یہ کلمات اُس وقت کہو جب صبح کو اُٹھو ، اور جب تُم شام کے وقت میں داخل ہو، اور جب تُم اپنے بستر پر لیٹو ﴾سُنن أبو داؤد / حدیث /5069کتاب الادب/باب110،إِمام الالبانی رحمہ ُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،
:::::: ایک أہم نکتہ :::::
اِس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بڑی صراحت کے ساتھ یہ سبق فرمایا ہے کہ یہ ذِکر ، یہ حفاظت طلب کرنے کی دُعاء ، صبح ، شام اور رات کو بستر پر لیٹتے وقت کی جائے ، یقیناً اِس میں کوئی حِکمت ہے لہذا اس کو اپنے طور کسی بھی وقت میں کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے ، اور یہ معاملہ ہر اُس ذِکر کا ہے جِس کے ساتھ کسی وقت یا عدد کی قید بیان فرمائی گئی ہے ، اُس میں تبدیلی گویا ، معاذ اللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات سے زیادہ اچھی تعلیم دینے کی کوشش ہے ، خواہ کرنے والا اِس کا شعور رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، وہ اِس گستاخی کا مُرتکب ہو رہا ہوتا ہے ۔
:::::یاد دہانی :::::
صحیح سُنّت شریفہ سے ثابت شدہ صبح و شام کے اذکار اور مختلف اوقات میں کی جانے والی دعاؤں پر مشتمل کتب با آسانی دستیاب ہیں ، جن میں سے ایک بہترین کتاب””” حصن المسلم “””ہے ، جو شیخ سعید بن وھف القحطانی کی تیار کردہ ہے اور تقریبا پچا س سے زائد ز ُبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کی حفاظت طلب کرنے والی اِن دُعاؤں کے بارے میں اِمام ابن القیم الجوزیہ رحمہُ اللہ نے فرمایا “””ومَن جرَّب هذه الدعوات والعُوَذَ، عَرَفَ مِقدار منفعتها، وشِدَّةَ الحاجةِ إليها، وهى تمنعُ وصول أثر العائن، وتدفعُه بعد وصوله بحسب قوة إيمان قائلها، وقوةِ نفسه، واستعداده، وقوةِ توكله وثباتِ قلبه، فإنها سلاح، والسلاحُ بضاربه:::جِس نے اِن دعاؤں کا تجربہ کیا اور ان کے ذریعے(اللہ کی ) پناہ طلب کی ، وہ اِن دعاؤں کے فائدے کی مقدار جان لیتا ہے ، اور اِن دُعاؤں کی ضرورت بھی جان لیتا ہے ، یہ دُعائیں عائن (نظر لگانے والے)کے اثر کو (اللہ کی مشیئت سے ،معین یعنی نظر لگنے والے تک )پہنچنے سے روکتی ہیں ،اور دُعا کرنے والے کے اِیمان کی قوت، اور اُس کے نفس کی قوت ، اور اُس کی تیاری کی قوت ، اور (اللہ پر) اُس کے توکل ، اور اُس کے دِل کی مضبوطی کی قوت کے مطابق نظر بد کے اثر ہونے کے بعد اُس اثر کو دُور بھی کرتی ہیں (یعنی یہ دُعائیں بطور عِلاج بھی استعمال کی جا سکتی ہیں )، پس یقیناً یہ دُعائیں اسلحہ ہیں ، اور ایسا اسلحہ جو خوب مارنے والا ہے”””۔ زاد المعاد فی ھدی خیر العباد/ الطِب النبوی /فصل فى هَدْيه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فى العِلاج بالأدوية الروحانية الإلهية المفردة، والمركَّبة منها، ومن الأدوية الطبيعية ۔
::::: بے پردگی اور بے لباسی سے باز رہنا :::::اور ،
::::: ایسی خوبیوں ، اور خوبصورت چیزوں کو عام طور پر دوسروں کی نظروں سے بچانا جنہیں نظر لگنے کا اندیشہ ہو :::::
یہ بات ہم سب کو اچھی طرح سے معلوم ہے ، اور تجربے اور مشاہدے سے ثابت شدہ ہے کہ ہمارے شریعت میں مَرد اور عورت کے جسم کے وہ حصے جنہیں چھپانے کا حکم ہے ، جب وہ ستر والے حصے حکم کے خلاف ظاہر کیے جاتے ہیں تو ظاہر کرنے والے لوگ عموماً نہ سمجھ میں آنےو الی مصیبتوں یا بیماریوں کا شِکار ہوتے ہیں ،
جی ہاں ، ایسے لوگ بھی باکثرت موجود ہیں جو بہت بے پردگی ، بے حیائی بلکہ بالکل بے لباسی کی کیفیت میں بھی ہزاروں کے سامنے ظاہر ہوتے رہتے ہیں لیکن انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ، تو ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید وہ اُن لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دُنیا میں کسی مصیبت میں ڈالنے کی بجائے اُن کی نافرمانیوں اور گناہوں کی ساری سزائیں آخرت کے لیے محفوظ رکھتا ہے اور دُنیا میں انہیں مزید آسانیاں دیتا ہے ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔
::::: بھائیوں ، بہنوں ، بیٹوں ، بیٹیوں ، ایک ہی خاندان کے افراد کا کسی ایسی جگہ جمع ہونا جہاں دوسروں کی نظر پڑتی ہو :::::
قران کریم میں مذکور یعقوب علیہ السلام کے واقعہ میں اس کی دلیل کا ذِکر آغاز میں کیا جا چکا ہے ۔
::::::: نظر بد کا عِلاج :::::::
نظر بد سے بچاؤ نہ کرنے کی صُورت میں ، یا بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنے کے بعد بھی اگر اللہ کی مشیئت کے مطابق نظر بد کا اثر ہو جائے تو پھر بھی اللہ ہی پر توکل کرتے ہوئے ، اور اُس کی قضاء اور قدر پر راضی رہتے ہوئے نظر بد کے اثر کو دُور کرنے کے لیے ہمیں سکھائے گئے ذرائع اور طریقوں کے مطابق عِلاج کی طرف توجہ کی جانی چاہیے ،
جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ “””کسی پر جسمانی مشکلات نمودار ہونے کی صُورت میں اُسے نظر بد کا شِکار سمجھ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ جسمانی طور پر اس کا طبی معاینہ(Medical Checkup) کروایا جائے اورکسی صحیح مستند نفسیاتی طبیب(Certified Psychiatrist) سے بھی اس کامعاینہ کروایا جائے،
جی ہاں ، طبی اور نفسیاتی معاینے کے بعد اس امکان کے بارے میں سوچا جانا چاہیے ، فی الفور اس پر یقین نہیں کر لینا چاہیے کہ نظر ہی لگی ہے ، یا کوئی جادُو یا آسیب وغیرہ کا اثر ہو گیا ہے ،
یاد رکھیے کہ وھم ایسی خوفناک بیماری ہے جو بہت سے بیماریوں کو سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات انسان کو موت تک لے جاتی ہے “””،
لیکن جسمانی ، نفسیاتی اور مادی ذرائع تشخیص و عِلاج(diagnostic and treatment) کے اختیار کرنے سے پہلے بھی بطور احتیاط ہم روحانی عِلاج شروع کر سکتے ہیں کہ اگر وہ عِلاج اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں ہو گا تو اِن شاء اللہ اس کا کوئی نقصان نہیں ، بلکہ فائدہ ہی ہو گا ، خواہ وہ شخص واقعتا نظر بد کا یا کسی جادُو یا کسی آسیب وغیرہ کا شکار ہو یا نہ ہو ،
اور اگر جسمانی، نفسیاتی اور مادی ذرائع عِلاج و تشخیص اختیار کرنے کے بعد بھی کوئی سراغ نہیں ملتا تو پھر تو یقینی طور پر ہمیں عِلاج کے لیے وہ روحانی ذریعے اپنانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ، لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ صِرف وہ ذریعے اختیار کیے جائیں جو ذریعے اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حُدود کے اندر ہوں اور ان کی تعلیمات کے مطابق ہوں ، کسی بھی قِسم کے کسی دوسرے ذریعے کو شاید اللہ تعالیٰ ہمارا مطلوب دینے کا سبب بنا دے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اُس مطلوب کے ملنے سے پہلے ہم اپنی آخرت کی تباہی حاصل کرچکے ہوتے ہیں ،
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو ، اور ہمارے ہر مسلمان بھائی اور بہن کو ہر اُس کام اور بات سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے جو ہمارے دِین ، دُنیا اور آخرت میں ہمارے لیے کسی بھی نقصان کا سبب ہوسکتا ہو ،
اِن شاء اللہ اب ہم نظر بد (جادُو، یا آسیب وغیرہ )کے عِلاجکے اُن طریقوں کو سمجھتے اور سیکھتے ہیں جو طریقے رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت شریفہ کے مطابق ہیں ، اور پھر جو طریقے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، کتاب اللہ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی موافقت کے مطابق اُمت کے عُلماء کرام کے تجربات اور مشاھدات کے نتیجے میں ہم تک پہنچے ہیں ۔
:::(1):::سُنّت شریفہ میں بتایا گیا طریقہ ، اگر نظر لگانے والے کا پتہ ہو تو اُس کی دھلائی والا پانی استعمال کرنا:::
:::طریقہ ::: اگر عائن یعنی نظر لگانے والے ، یا جس کی نظر لگی ہو اُس کا پتہ ہو تو اُسے وضوء کرنے اور اپنی کمر سے نیچے والے حصوں کو دھونے کا حکم دِیا جائے ، اور جو پانی اُس کے جِسم کو چُھو کر گرے ، اُس پانی کو ایک برتن میں جمع کر کے ، معین ، یعنی جسے نظر لگی ہو ، اُس کے سر پر پچھلی طرف سے سارے جسم پر بہایا جائے ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے نظر بد کا اثر ختم ہو جاتا ہے ۔
:::دلائل :::
::: (1) :::مضمون کے آغاز میں “””نظر بد ایک حقیقت ہے “”” کے زیر عنوان بیان کردہ حدیث شریف ﴿الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا ::: اور نظر بد (لگنا)حق ہے ، اور اگر تقدیر پر کوئی حاوی ہو سکتا ہوتا تو یقیناً نظربد حاوی ہو جاتی ،اور اگر تُم لوگوں کو (خُود کو)غسل دینے کا کہا جائے تو غُسل دو ﴾صحیح مُسلم/حدیث /5831کتاب السلام / باب 17،
::: (2) ::: مسئلہ “””برکت کی دُعا کرنے کے واجب ہونے کی دلیل”””میں بیان کردہ سھل بن حنیف اور عامر بن ربیعۃ رضی اللہ عنہما والا واقعہ ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::: (2) ::: قُران کریم کی آیات مُبارکہ کی تلاوت کے ذریعے شفاء طلب کرنا :::
یقیناً یہ حق ہے ، لہذا کسی صحیح عقیدے اور اِیمان والے مُسلمان کو اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قُران کریم ، کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے شِفاء بنایا ہے ، اللہ جلّ وعُلا نے اپنے اِس کلام میں دِلوں ،دِماغوں ، رُوحوں ، اور جِسموں کے لیے شفاء رکھی ہے ، اور یہ شِفاء صِرف اُسے ہی ملتی ہے جِسے ملنے کا فیصلہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ،اوریہ معاملہ خود اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ ، اور اُس کی وحی کے مطابق فرمائے گئے اقوال رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور قران حکیم کے نزول سے لے کر آج تک ناقابل تردید مشاھدات اور تجربات کی روشنی میں بھی یقینی طور پر ثابت شدہ ہے ،کہ ، قران حکیم کی آیات شریفہ میں کوئی ایسی ذاتی اور مستقل تاثیر نہیں جو ہر کسی پر یقینا ً اثر انداز ہوتی ہو ،
جی ہاں ، قران پاک کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ سے شِفاء طلب کرنے کےطریقوں کے بارے میں اُمت میں اختلاف پایا جاتا ہے ، گو کہ اِس وقت ہمارا موضوع اِن طریقوں ، اور اِس کے بارے میں پائے جانے والے اختلاف نہیں ، لیکن اِس طریقہ ء عِلاجکے نام پر کیے او رکروائے جانے والے غلط کاموں کی پہچان کے لیے آپ کی خدمت میں کچھ بنیادی اور أہم معلومات مہیا کرنا ضروری سمجھتا ہوں ، اللہ تعالیٰ اِنہیں بھی ہم سب کے لیے فائدہ مند بنائے ،
:::::: قران کریم کے ذریعے عِلاج کی اِقسام :::::
قران کریم کے ذریعے عِلاجکو ہم تین قِسموں میں بانٹ کر سمجھ سکتے ہیں ، اِن شاء اللہ ،
::::: (1) ::::: متفقٌ علیہ ،جس پر سب کا اتفاق ہے ،
::::: (2) :::::مختلف فیہ ،جس میں اختلاف ہے ،
::::: (3) :::::ممنوع ،جو قران ، اور صحیح سُنّت شریفہ کی روشنی میں ممنوع قرار پاتا ہے ،
:::::: قران کریم کے ذریعے عِلاج کی اِقسام کا تعارف :::::
قران کریم کے ذریعے عِلاج کی مذکورہ بالا اِقسام کا تعارف درج ذیل ہے :::
::::: (1) :::::متفقٌ علیہ ،جس پر سب کا اتفاق ہے ،
اس میں درج ذیل دو طریقے آتے ہیں :::
::::: (۱) ::::: قران کریم میں سے کوئی یا کچھ آیات مُبارکہ پڑھ کر سیدھے ہاتھ پر یا دونوں ہاتھوں پر پھونکا جائے اور پھر وہ ہاتھ مریض (نظر بد ، جادُو، یا آسیب وغیرہ میں) مبتلا کے جِسم میں سے تکلیف والے حصے اور دیگر حصوں پر پھیرے جائیں۔
::::: (۲) ::::: قران کریم میں سے کوئی یا کچھ آیات مُبارکہ پڑھ کر کسی حلال طیب محلول (سائل )پر پھونکا جائے جیسا کہ پانی ، دُودھ ، لسی ، کوئی جوس ، کوئی پاکیزہ تیل جیسا کہ زیتون کا تیل ، سرسوں کا تیل وغیرہ ، اور پھر وہ محلول مریض (نظر بد ، جادُو، یا آسیب وغیرہ میں) مبتلا کو پلایا جائے ،یا آگے اور پیچھے والی شرم گاہوں اور اُن کے آس پاس کے حصوں کے عِلاوہ تکلیف والے حصے پر لگایا جائے ،
اور اِس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اِس طریقہ عِلاج کی اپنی کوئی تاثیر نہیں ، اللہ تبارک وتعالی ٰ اِس میں جس کے لیے جو اثر چاہتا ہے دیتا ہے ۔
::::: (2) :::::مختلف فیہ ،جس میں اختلاف ہے ،
اور یہ ہے کہ قران کریم کی کوئی یا کچھ آیات شریفہ کسی چیز پر لکھ کر مریض یا (نظر بد ، جادُو، یا آسیب وغیرہ میں)مبتلا کے جسم پر باندھا یا لٹکایا جائے ،
اس عمل کے بارے میں کچھ علماء کی طرف سے اجازت کی بات ملتی ہے ، اور اکثریت کے ہاں اس کی ممانعت کا حکم ہے ، اور یہ ہی درست ہے کیونکہ ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ثابت نہیں ، بلکہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ایسی کسی بھی چیز کے لٹکانے سے ممانعت کا حکم صادر ہوا ہے جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہو کہ اس کی وجہ سے کوئی پریشانی یا تکلیف وغیرہ نہ آئے گی اور اگر آ چکی ہے تو دُور ہو گی ، ایسی چیز کو عربی میں تمیمہ کہا جاتا ہے ، اور تعویذ بھی ، یعنی جس کے ذریعے پناہ حاصل کی جاتی ہے ،
اور اس قِسم کی چیزوں کے بارے میں اللہ کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ حکم فرما دِیا ہے کہ ﴿مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ:::جس نے تمیمہ لٹکایا تو یقیناً اُس نے شِرک کیا﴾مُسند أحمد /حدیث /17884حدیث عُقبہ بن عامر بن الجھنی میں سے حدیث رقم 130، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دیا، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ /حدیث 6394،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِس عام حکم میں سے قران کریم کی آیات مبارکہ کے تمیمہ یا تعویذ کے لیے کوئی استثناء میسر نہیں ، لہذا کسی کا کوئی انفرادی فعل ایسا کرنے کی دلیل نہیں ہو سکتا ۔
::::: (3) :::::ممنوع ،جو قران ، اور صحیح سُنّت شریفہ کی روشنی میں ممنوع قرار پاتا ہے ،
اس میں عام طور پرتین طریقے اِستعمال کیے جاتے ہیں :::
::::: (۱) ::::: قران کریم میں سے کوئی یا کچھ آیات مُبارکہ کسی برتن میں لکھ کر اس میں پانی یا پینے والا کوئی حلال مشروب ڈال کر مریض (نظر بد ، جادُو، یا آسیب وغیرہ میں) مبتلا کو پلایا جانا ،
اس طریقے کی سُنّت شریفہ میں ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے کہیں کوئی دلیل نہیں ملتی ، لہذا اس پر عمل کرنا جائز نہیں ، اگر یہ طریقہ عِلاج بالقران میں درست ہوتا تو ہمیں کم از کم صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہاں اس پر عمل کی کوئی صحیح ثابت شدہ دلیل میسر ہوتی ، جب کہ ایسا نہیں ، اور کسی شک و شبہے کے بغیر یہ حق ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہاں سے دلیل میسر نہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ یہ طریقہ جائز نہیں ۔
فتاوی اللجنۃ الدائمۃ/فتویٰ رقم 4519،
::::: (۲) ::::: قران کریم میں سے کوئی یا کچھ آیات مُبارکہ کسی برتن میں لکھ کر اس میں پانی ڈال کر اس پانی کومریض (نظر بد ، جادُو، یا آسیب وغیرہ میں)مبتلا کے جسم پر بہانا ، یا اُس پانی سے نہلانا ، یہ طریقہ پہلے والے سے زیادہ برا اور قران کریم کی توھین والا ہے ، نَعُوذُ باللَّہِ مِن ذَلِکَ و مِن کُل سُوءٍ ،
::::: (۳) ::::: قران کریم میں سے کوئی یا کچھ آیات مُبارکہ کسی کاغذ پر لکھ کر اُسے جلایا جانا ، اور مریض (نظر بد ، جادُو، یا آسیب وغیرہ میں)مبتلا کو اُس کے دھواں سونگھایا جانا ، یہ طریقہ پہلے دونوں طریقہ سے زیادہ برائی والا حرام ہے کہ اِس میں قران کریم کی توھین پہلے والے دونوں طریقوں سےزیادہ ہے ، وَلاحَولَ وَلا قُوۃَإِلَّا بِاللَّہ،
اس طریقے کو استعمال کرنا کسی بھی صُورت میں جائز نہیں ،
کچھ دیر پہلے میں نے کہا تھا کہ “”” کسی کا کوئی انفرادی فعل ایسا کرنے کی دلیل نہیں ہو سکتا “””لہذا خوب اچھی طرح سے سمجھ لینے والی بات ہے کہ اگر کہیں کسی صحابی رضی اللہ عنہ ُ یا تابعی رحمہُ اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات ملتی ہے کہ انہوں نے اِن کاموں میں سے کوئی کام کیا ہو ، یا کرنے کے جواز ہونے کے بارے میں کہاہو ، تو اِس میں ہمارے لیے ، یا کسی بھی مسلمان کے لیے کسی ایسے کام پر عمل کرنے کی دلیل نہیں ملتی۔
::: (3) ::: نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بتائی ہوئی دُعاؤں اور الفاظ کے ذریعے دَم کرنا :::
اگر عائن (نظر لگانے والے) کا پتہ نہ ہو ، اور معین (جسے نظر لگی ہو )یا کوئی اور یقینی طور پر عائن کے بارے میں بتا نہ سکتا ہو ، تو ایسی صُورت میں عائن کو معین کے وضوء اور دُھلائی والے پانی سے دھونا تو ممکن نہیں ہوسکتا ، لہذا اِس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سکھائے ہوئے الفاظ میں مریض (نظر بد ، جادُو، یا آسیب وغیرہ میں)مبتلا پر دَم کیا جاتا ہے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نظر لگنے والے پر دَم کرنے کی تعلیم اور تربیت دی ہے ، دلائل درج ذیل ہیں :::
::: (۱) :::اِیمان والوں کی امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کا فرمان ہے کہ﴿أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى مِنَ الْعَيْنِ:::رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ نظر لگنے کی صُورت میں دَم کروایا جائے﴾صحیح بخاری /حدیث /5738کتاب الطِب /باب35،صحیح مُسلم /حدیث /5851کتاب السلام/باب21،
::: (۲) ::: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُم سلمہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کے گھر میں ایک بچی کو دیکھا جِس کے چہرے پر کالی سی پیلاہٹ (زردی) اور روکھا پن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿اسْتَرْقُوا لَهَا ، فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ:::اِس پر دِم کرواؤ کیونکہ اِس پر نظر کا اثر ہے﴾صحیح بخاری /حدیث /5739کتاب الطِب /باب35،
::: (۳) :::أسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا و أرضاھا (جعفر طیار رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہ ُ کی بیوہ)نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ”””يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِى جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ فَأَسْتَرْقِى لَهُمْ؟::: اے اللہ کے رسول ، جعفر کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے تو کیا میں انہیں دَم کروا سکتی ہوں؟ “””،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ ::: جی ہاں (کراؤ )کیونکہ اگر تقدیر پر کوئی حاوی ہو سکتا ہوتا تو یقیناً نظربد حاوی ہو جاتی﴾سُنن ابن ماجہ/حدیث /3639کتاب الطِب/باب33،إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،
اس واقعہ کی ایک روایت “”” بڑوں کی نسبت بچوں پر نظر بد کا اثر کا جلدی ہوتا ہے””” میں بھی ذِکر کی جا چکی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِن شاء اللہ ، اب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سکھائے ہوئے دَم ذِکر کرتا ہوں ،
::: (۱) :::رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو اُس پر یہ دَم فرماتے ، اور بیماری کی حالت میں خود اپنے اوپر بھی فرمایا :::
﴿أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ. وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِى لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا :::بیماری دُور فرمادے (اے)لوگوں کے رَب ، اور شِفاء عطاء فرما ، تُو ہی شِفاء دینے والا ہے ، تیری (دی ہوئی) شِفاء کے عِلاوہ کوئی شِفاء نہیں ،تیری (دی ہوئی )شِفاء(ہی )وہ شِفاء ہے جو کوئی بیماری نہیں چھوڑتی﴾صحیح بخاری /حدیث /5675کتاب المرضیٰ/باب20،صحیح مُسلم/حدیث /5838کتاب السلام/باب19،سُنن ابن ماجہ/حدیث /1687کتاب الجنائز/باب64،سُنن ابو داؤد/حدیث /3885کتاب الطِب/باب17،سُنن الترمذی/حدیث /3565کتاب الدعوات/باب112 في دعاء المريض،تینوں سُنن کی روایات کو إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::: (۲) :::وہ دِم جو جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر کیا :::
﴿بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِى الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ::: میں اللہ کے نام سے آپ پر دَم کرتا ہوں ، اور اللہ ہی آپ کو شفاء دے گا ، ہر ایک بیماری سے جو آپ میں ہے، (اور)گرہوں پر(گانٹھوں پر جادُواور ٹونے کر کر کے)پھونکنے والیوں کے شر سے ،(اور)حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرتا ہے﴾سُنن ابن ماجہ/حدیث /3652کتاب الطِب/باب36،سُنن الترمذی/حدیث /972کتاب الجنائز/باب5،دونوں روایات کو إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ، صحیح ابن حبان اور مُسند احمد میں بھی”حسن ” سند کے ساتھ منقول ہے ،
::: ملاحظہ :::اسے مریض پر تین دفعہ پڑھا جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::: (۳) :::وہ دَم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم (ہر قِسم کے)مریضوں پر فرمایا کرتے تھے :::
﴿امْسَحِالْبَاسَرَبَّالنَّاسِ،بِيَدِكَالشِّفَاءُ،لاَكَاشِفَلَهُإِلاَّأَنْتَ :::تکلیف کو مٹا دے ، اے لوگوں کے رب ، شِفاء(دینا صِرف )تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بیماری (تکلیف وغیرہ )کو دُور کرنے والا تیرے سِوا اور کوئی بھی نہیں﴾صحیح بخاری/5744/کتاب الطِب /باب 38 ،
﴿بِسْمِاللَّهِ،تُرْبَةُأَرْضِنَا . بِرِيقَةِبَعْضِنَا،يُشْفَىسَقِيمُنَابِإِذْنِرَبِّنَا :::اللہ کے نام سے (میں دَم کرتا ہوں)، ہماری زمین کی (یہ )مٹی، ہم میں سے کسی کے لُعاب دہن سے ملی ہوئی ، ہمارے مریضوں کو شِفاء ملے گی ہمارے رب کے حُکم سے﴾صحیح بخاری/5745/کتاب الطِب /باب 38 ،صحیح مُسلم /حدیث /5848کتاب السلام /باب 21،
اس حدیث شریف کی شرح میں امام بدر الدین العینی الحنفی رحمہُ اللہ (تاریخ وفات 855ہجری )نے أئمہ کرام کے مختلف اقوال ذِکر کئے اور علامہ(شھاب الدِین ابی عبداللہ فضل الله ، بن أٔبي سعيد الحسن، یا ، حسن)التوربشتي رحمہُ اللہ (تاریخ وفات 660 کے ارد گرد*)کی شرح کو سب سے اچھا قرار دیا ، جو واقع ہی خالص توحید اور اللہ جلّ جلالہ ُ کے سامنے اپنی حقیقت کے اعتراف ، اور اُس کی قُدرت اور تخلیق کے کمال کے اعتراف پر مبنی ہے ، اِن شاء اللہ اس کو پڑھنا ہر ایک قاری کے لیے فائدہ مند ہو گا ،
علامہ فضل اللہ التوربشتی رحمہُ اللہ نے لکھا :::
“””المراد بالتربة الإشارة إلى فطرة آدم والريقة الإشارة إلى النطفة كأنه تضرع بلسان الحال أنك اخترعت الأصل الأول من التراب ثم أبدعته منه من ماء مهينفهين عليك أن تشفي من كانت هذه نشأته::: مٹی (استعمال کرنے، اور اُس کا ذِکر کرنے )سے مُرادآدم (علیہ السلام اور اُن کی اولاد)کی فطرت (یعنی تخلیق کی بنیاد)کی طرف اِشارہ کرنا ہے ، اور منہ ُ کا لعاب(استعمال کرنے، اور اُس کا ذِکر کرنے )سے مُرادنطفے کی طرف اِشارہ ہے ، گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ز ُبان حال سے اللہ سُبحانہ ُ وتعالیٰ کے حضور (کمال بندگی کے ساتھ)انتہائی عاجزی اور لجاجت سے عرض کیا کہ اے اللہ تُو نے پہلے انسان کسی سابقہ مثال کے بغیر مٹی سےتخلیق فرمایا، اور پھر اُسی میں سے اُس کے پانی کے ذریعے اُس کی نسل چلا دی ، پس جِس کی ابتداء اور نسل افروزی تُو نے اِس طرح مقرر فرما دِی اُس کو شفاء عطاء فرمانا تو ، تیرے لیے بہت آسان ہے”””۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::: (4) ::: نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم دی ہوئی اجازت کے مطابق جائز دُعاؤں دَم کرنا :::
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے شِفاء کی غرض سے دِم کرنے کی ایک مشروط اجازت عطاء فرمائی ہے ،
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت یعنی اسلام سے پہلے کے دور میں دَم کیا کرتے تھے ، تو ایک دفعہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے عرض کیا کہ “”” اے اللہ کے رسول ، ہم لوگ جاہلیت کے دور میں اپنے مریضوں پر دَم کیا کرتے تھے ، اب آپ اِس معاملے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ “”” ،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿اعْرِضُوا عَلَىَّ رُقَاكُمْ لاَ بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ :::مجھے وہ کچھ بتاؤ جو تُم دَم کرتے ہو، اگر دَم(کے الفاظ اور طریقے وغیرہ)میں کوئی شرک نہیں تو دَم کرنے میں کوئی حرج نہیں﴾صحیح مُسلم / حدیث/5862کتاب السلام /باب 22،صحیح ابن حبان / حدیث/6094کتاب الرقیٰ و التمائم ،سُنن ابو داؤد/ حدیث/3888کتاب الطِب/باب 18،آخر الذِکر دو احادیث کی اسناد کو بھی إِمام الالبانی رحمہ ُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ہے ،
تو اِس حکم مبارک سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ کسی مریض پر ایسا دَم کرنا جائز ہے جِس میں کسی بھی قِسم کے شرک کی آمیزش نہ ہو ، اور اِس کا فیصلہ وہی شخص کر سکتا ہے جو توحید اور شرک کو خوب اچھی طرح سے سمجھتا ہو ،
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم فرمایا کہ وہ جس طرح دَم کرتے ہیں وہ الفاظ ، اور طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سامنےپیش کریں ،
قارئین کرام ، غور فرمایے ، اگر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی تعلیم کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اُن کے دَم کے الفاظ و طریقے خود جانچتے ہیں ، تو آج ہم جیسے کسی عاممُسلمان، یا کسی بھی مدرسے سے روایتی انداز میں پگڑی و دستار حاصل کر لینے والے مولوی صاحب کا اپنی طرف سے دَم بنا بنا کر کیے جانے میں کس قدرخطرناک معاملہ ہے ،
لہذا ، خوب اچھی طرح سے سمجھ رکھیے کہ دِین کا ہر ایک معاملے میں سب سے بہترین اور محفوظ ترین راستہ یہی ہے کہ ہم اُنہی معلومات کے مطابق عمل کریں جو صحیح طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے متفقہ اقوال و افعال کی موافقت والا ہو ،
الحمد للہ ، یہاں تک ہم نے سابقہ معلومات کی روشنی میں یہ جانا ، اور سمجھا کہ دَم کرنا ، دُعاء ہے، جو کسی بھی مریض کے پاس رہتے ہوئے ، کبھی اُس کے جسم کو چھو کر اور کبھی بنا چھوئے ، جائز الفاظ کے استعمال کے ساتھ کی جاتی ہے ،
اِس حدیث شریف میں ہمیں یہ حکم فرما دیا گیا ہے کہ ہم کوئی ایسا دَم نہیں کر سکتے ،یعنی شِفاء کے لیے کوئی ایسی دُعا ء نہیں کر سکتے جِس میں شرک ہو ، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکار کر دُعاء کرنا ، ناجائز واسطےاور وسیلے دے کر دُعا ء کرنا ، اللہ کے ہاں کسی کے درجے اور رتبے کے صدقے دُعاء کرنا وغیرہ وغیرہ ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::::: أسماء الحسنیٰ ، یعنی اللہ کے ناموں کے ذریعے دَم کرنا :::::
جی ہاں ، اللہ تعالیٰ کےصِرف اُن ناموں کے ذریعے ، جن ناموں کی اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود یا اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے خبر دی ہے ، صِرف اور صِرف اُن ناموں کو استعمال کرتے ہوئے شفاء طلب کرنا ، اور کوئی بھی دوسری دُعاء کرنا ایک جائز ذریعہ اور واسطہ ہے ،
لیکن لوگ جِس طرح اپنی طرف سے اِن ناموں میں کمی یا بیشی کرتے ہیں ، یا واقعتا قران کریم اور صحیح احادیث شریفہ میں مذکور نام ہی استعمال کرتے ہیں ،لیکن اُن کو ذِکر کرنے کے لیے اپنے پاس سے عدد ، وقت اور کیفیات وغیرہ مقرر کر لیتے ہیں ، یہ سب ناجائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے متفقہ افعال میں بھی ایسا کوئی ذِکر ، کوئی دَم ، کوئی دُعا ء میسر نہیں ، جس میں اللہ کے ناموں کو یا اُن میں سے کسی ایک نام کو کسی خاص عدد ، وقت اور کیفیت وغیرہ کی قید کے ساتھ کسی خاص کام یا دُعاء کا طریقہ بتایا گیا ہو،
خاص طور پر وہ ذِکر جو اللہ کے ناموں کی صِرف پکار ہی ہوتی ہے ، جیسا کہ یا رحیم ، یا کریم ، یا رحمن ، وغیرہ ،
صِرف نام پکارے جاتے ہیں اور کوئی دعاء نہیں کی جاتی، عام طور پر اِس کے پیچھے یہ خیال ہوتا ہے کہ اللہ تو سب جانتا ہے کہ میں اُسے کیوں پکاررہا ہوں لہذا مجھے اپنی حاجت پیش کرنے ،دُعاء کرنے کی ضرورت نہیں ،
::::: اللہ جلّ جلالہ ُ سے دُعاء نہ کرنے والا کا انجام :::::
جی ہاں ، اِس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سب جانتا ہے ، لیکن اُسی اللہ جلّ و عُلا نے ہمیں یہ حکم دِیا ہے کہ ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ:::اور تُم لوگوں کے رب کا کہنا ہے کہ مجھ سے دُعاء کرو میں تمہارے لیے (تُم لوگوں کی) دُعائیں قُبُول کروں گا﴾اورساتھ ہی ساتھ دُعاء کو اپنی عبادت قرار دیتے ہوئے ، دُعاء نہ کرنے والوں کے لیے یہ انجام بھی بتا دِیا کہ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ :::یقیناً جو لوگ میری عِبادت (یعنی مجھ سے دُعاء)کرنے میں تکبر کرتے ہیں ، وہ لوگ بہت جلد ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے﴾سُورت غافر(40)/آیت 60،
::::: تکبر کے بارے میں ایک وضاحت :::::
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ تکبر کا صِرف وہ معنی اور مفہوم ہی نہیں جو عام طور پر ہم لوگ جانتے ہیں ، لہذا اللہ کے ناموں کی صِرف پکاریں لگانے والے میرے بھائی اور بہنیں یہ نہ سمجھیں کہ اِس آیت شریفہ میں ذِکر فرمودہ عذاب سے وہ لوگ محفوظ ہیں کیونکہ وہ تکبر کی وجہ سے دُعاء کرنے سے باز نہیں ، بلکہ عاجزی ، انکساری ، اور اللہ کے علم کے ادب و احترام میں دُعاء کرنے سے باز رہتے ہیں ،
میرے وہ بھائی اور بہنیں جو دُعاء کے بغیر خود ساختہ طور طریقوں پر صِرف اللہ کے ناموں کی پکاریں دیتے ہیں ، تسبیحیں کرتے ہیں ، اور دیگر ذِکر أذکار اور چلہ کشیاں کرتے ہیں ، وہ ہمارے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان شریف اچھی طرح سے یاد کر لیں اور پھر اس کے مطابق اپنے طور طریقوں کو جانچیں ،
رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے واضح فرما دِیا ہے کہ ﴿الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ:::حق کو نہ ماننا اور لوگوں کو حقیر جاننا (اصل )تکبر ہے﴾صحیح مُسلم /حدیث/275کتاب الإِیمان/باب41 ،
::::: سائنسی کسوٹی ::::::
کچھ لوگوں نے اس کام کو سائنسی دِکھانے کی کوشش میں کئی قِسم کی باتیں کر رکھی ہیں کہ اللہ کے مختلف ناموں کی انسانوں کے جسم پر مختلف تاثیر ہونا فُلاں فُلاں طور پر ثابت ہے ، لہذا فُلاں قِسم کے مریض کو یا فُلاں قِسم کے مرض کے لیے ، یا جِسم کے فُلاں حصے کی صحت کے لیے ، اللہ کے ناموں میں فُلاں نام اتنی اتنی دفعہ پڑھیں ، وغیرہ وغیرہ ،
قطع نظر اِس کے کہ انسانی جِسم پر کسی نام ، یا کسی لفظ ، یا کسی آواز کے کیا اثرات مرتب ہونا آلات کی مدد سے دیکھا یا جانا جا سکتا ہے ، ہم اپنےصحیح اِسلامی عقائد کی روشنی میں اِس طریقہ علاج کو نا دُرُست قرار دیتے ہیں ، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ناموں کو کسی بھی قِسم کے علاج کے لیے اس طرح استعمال کرنے کا اگر کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ جلّ و عُلا خوداِس کا ذِکر فرما دیتا ، یا اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے اس کا ذِکر ضرور کروا دیتا ، اور ایسا کوئی ذِکر ہمیں کہیں نہیں ملتا ،
لہذا دِین ، دُنیا اور آخرت کی خیر اور کامیابی صِرف اور یقیناً صِرف اُسی میں ہے جو اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حُدود میں ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::::: حاصل کلام :::::
یہ ہوا کہ کسی بھی (جسمانی ، روحانی ، نفسیاتی ،نظر بد، جادُو ، ٹونہ ، یا آسیب وغیرہ کے) مریض پر شفاء کے حصول کے لیے ، عِلاج کے طور پر ، اور ایسے کسی بھی معاملے سے محفوظ رہنے کے لیے حفاظتی ذریعے کے طور پر مذکورہ بالا طریقوں کو اِستعمال کر کے دَم کرنا دُرُست ہے ،
اِس کے عِلاوہ جو طریقے لوگوں نے خود بنا رکھے ہیں ، اور جو الٹے سیدھے الفاظ بطور دَم ایجاد کر رکھے ہیں ،وہ سب ناجائز ہیں ، اللہ اور اُس کے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی ہیں ، اور اُن میں کسی قِسم کی کوئی خیر نہیں ،
اگر اللہ تعالیٰ کسی کا کوئی مقصد اُن خود ساختہ ناجائز ذرائع سے پورا ہو کر دیتا ہے تو اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ ذریعہ جائز ہے ، دینے کو تو اللہ تعالیٰ اُن کو بھی دیتا ہے جو اللہ پر تو کیا کسی باطل معبود پر بھی کوئی یقین نہیں رکھتے ، لہذا ہمارے لیے کسی بھی قول یا فعل کے جائز یا ناجائز ہونے کی پہچان کی کسوٹی اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ اور اس کے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین و احکام ، اور محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ عملی اور تقریری سُنّت شریفہ ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے متفقہ اقوال و افعال ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::::::: نظر بد کے عِلاج کے اِنکار کی حقیقت:::::::
اللہ کی کتاب قران کریم کا نام لے کر ، اللہ کی کتاب قران مجید کی آڑ بنا کر ، اُسی کتاب مقدس میں دیے گئے احکام کے خلاف سوچ و فکر نشر کرنے والے ،اور کچھ دیگر مادہ پرست عقلوں کے ڈسے ہوئے لوگ نظر بد کے اثر انداز ہونے کے بھی منکر ہیں ، اورصحیح احادیث شریفہ میں منقول ، عائن کے وضوء اور دُھلائی میں استعمال شدہ پانی والے عِلاج کا مزید شدت کے ساتھ اِنکار بھی کرتے ہیں ، اور اپنی اندھیری عقل کے مطابق اعتراضات بھی کرتے ہیں ،
چونکہ وہ لوگ اِیمان بالغیب کی صِفت سے محروم ہوتے ہیں ، اورصحیح ثابت شدہ سُنّت شریفہ میں مذکور ہر خبر کو صِرف اپنی محدود عقل اور اپنے محدود علم کے مطابق جانچتے ہیں ،اللہ نے ان لوگوں کی عقلیں اس طرح ماؤف کررکھی ہیں کہ مادی علوم جن میں ظاہر ہونے والی تحقیق عموماً تبدیل ہوتی رہتی ہے ، اللہ کی کتاب کریم اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شُدہ سُنّت شریفہ کو اُن علوم کے موافق بنانے میں قران اور سنت کا انکار تک کر بیٹھتے ہیں ، کبھی صاف صریح انکار ، اور کبھی باطل قِسم کی تاویالت کر کے معنوی تحریفات کر کے انکار ،
لہذا اپنی اِسی جہالت میں وہ لوگ نظر بد کے شکار ہونے والے کے لیے عائن کے وضوء اور دُھلائی والے پانی کے عِلاج والی احادیث شریفہ کا بھی انکار کرتے ہیں ،بلکہ مذاق اُڑاتے ہیں ، اور اپنی جہالت کے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں ، اور اُمت کے اماموں رحمہم اللہ ، جنہوں نے صدیوں پہلے ان معاملات کی روحانی اور مادی تشریحات مہیا کر رکھی ہیں ، اُن اماموں رحمہم اللہ کے بارے میں ایسی بکواسیات کہتے اور لکھتے ہیں ، جوعقلی اور منطقی طور پر ، اِن عقل سے فارغ اعتراض کرنے والے اور انکار کرنے والے لوگوں کی اللہ کے دِین حق اِسلام سے اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ، اور اللہ کے دِین حق اِسلام کے عُلماء اور أئمہ رحمہم اللہ و حفظھم جمعیا ً سے دُشمنی کا واضح ثبوت ہے ،
معاف فرمایے گا ، محترم قارئین ، یہاں میرا موضوع اللہ کے دِین کے وہ دُشمن نہیں ہیں ، بس اُن کا کچھ تعارف اس لیے پیش کیا کہ آپ صاحبان کو اُن کی دسیسہ کاریوں کا کچھ اندازہ رہے ،
[[[الحمد للہ ، کہ جِس کی عطاء کردہ توفیق سے، کافی عرصہ سے ، اِن لوگوں کی دھوکہ دہیوں ، اور جھوٹی خرافاتی باتوں کے علمی جائزے اور جوابات نشر کرتا چلا آرہاہوں ، جن کا مطالعہ آپ پاک نیٹ، صِراط الھُدیٰ اور میرے بلاگ پر کر سکتے ہیں ، اِن شاء اللہ]]]
ہم بات کر رہے تھے نظر بد کے اُس عِلاج کے انکار اور اس پر اعتراضات کی ، جو عِلاج صحیح ثابت شدہ سُنّت شریفہ میں سیکھایا گیا ہے ،
ایک اِیمان والے کے لیے تو اتنا ہی کافی ہے کہ، وہ عِلاج پرکھ کی صحیح کسوٹیوں پر پورا اترتے ہوئے عِلاجءِ نبوی کے طور پر ثابت شدہ ہے ، پس اُس اِیمان والے کواِس طریقہ عِلاج پر یقین رکھنے اور اسے اپنانے کے لیے کسی اوراطمینان کی حاجت نہیں ،
رہا معاملہ اُن دِلوں کا جِن میں اِیمان کمزور ہوتا ہے ، اور حق کے ساتھ ساتھ کچھ وسوسوں کی آمیزش بھی ہوتی ، اور اُن دِماغوں کا کہ جن دِماغوں کو عام طور پر جائز اور ناجائز روحانیت کا فرق روا رکھے بغیر کوئی بھی وہ بات یا کام سمجھ نہیں آ پاتے جن کا تعلق کسی طور روحانیت سے ہو جائے ،
تو دونوں ہی قِسم کے لوگوں کے لیے ہم یہ ہی کہیں گے کہ ایک مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام اورمقرر کردہ حُدود سے خارج نہ ہو ، نہ قولاً ، نہ علماً اور نہ ہی فِکری اور نظریاتی طور پر ، خاص طور پر عقیدے اور عبادات کا تو کوئی بھی معاملہ کسی بھی طور، کسی بھی کمی یا بیشی کے بغیر ، صِرف اور صِرف وہ اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام اور مقرر کردہ حُدودمیں ہی رکھا جانا ہے ، جو اُس سے باہر ہوا وہ گناہ میں داخل ہوا ،
اللہ جلّ جلالہُ ہم سب کو اور ہمارے ہر کلمہ گو بھائی کو یہ حقائق سمجھنے ، ماننے ، اپنانے اور ان پر عمل پیرا رہتے رہتے اُس کے سامنے حاضر ہونے کی توفیق عطاء فرمائے ،
یاد رکھیے ، کہ،
یہ شہادت گہہ اُلفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مُسلماں ہونا
والسلام علیکم ، طلبگارء دُعاء ،
آپ کا بھائی ، عادل سہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 23/10/2013 ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں