61

موسمیاتی تبدیلیاں کیلوں کے لیے خطرہ بن گئیں

کیلے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پھل ہے مگر موسمیاتی تبدیلیاں اس کی بقا کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔

جی ہاں ہوسکتا ہے کہ بہت جلد دنیا کے اس مقبول ترین پھل کو کھانا ناممکن ہوجائے بلکہ یہ ماضی کا قصہ بن کر رہ جائے۔

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایشیا میں پودوں میں پائے جانے والی فنگس انفیکشن 1960 کی دہائی کے بعد سے لاطینی امریکا اور کیرئیبین تک پھیل گیا تھا اور موسمیاتی تبدیلیاں اس تباہ کن انفیکشن کے پھیلاﺅ میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

بلیک سیگاتوکا یا بلیک لیف اسٹریک نامی یہ انفیکشن پودوں کو متاثر کرکے پھلوں کی پیداوار 80 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

جریدے جرنل Philosophical Transactions of the Royal Society B میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ انفیکشن کیلے کے پودے کے پتوں پر حملہ آور ہوتا ہے جس کے باعث کیلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

یہ انفیکشن 1972 میں سب سے پہلے ہونڈراس میں رپورٹ ہوا جس کے بعد 1998 میں برازیل اور کیرئیبین جزائر تک پہنچا جبکہ اگست 2004 میں پیورٹو ریکو میں کیلوں کی فصل اس سے متاثر ہوئی۔

اب یہ انفیکشن امریکی ریاست فلوریڈا تک پھیل چکا ہے جس کے باعث کیلوں کی پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے کیونکہ اس انفیکشن کو کنٹرول کرنے کے لیے بہت زیادہ ادویات کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور وہ بہت ادویات بہت زیادہ مہنگی ہیں۔

کیلے دنیا کا سب سے قیمتی پھل ہے جس کی 2001 سے 2012 کے درمیان 11.9 سے لے کر 16.5 ملین ٹن مقدار کو برآمد کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم واضح طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ مستقبل میں کیا ہوگا کیونکہ وہ مقامات جہاں کا موسم زیادہ نمی والا ہے وہاں یہ مرض زیادہ بدتر ہوجائے گا جبکہ جو مقامات وقت کے ساتھ خشک ہوجائیں گے وہاں یہ اتنا خطرناک نہیں ہوگا مگر کیلوں کی پیداوار کے لیے پانی کا استعمال کرتے ہوئے بہت زیادہ خیال رکھنا ہوگا۔

اور یہ واحد انفیکشن نہیں جو کیلوں کے لیے خطرہ ہے درحقیقت 2015 میں نیدرلینڈ کے محققین نے بتایا تھا کہ جنوبی ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں اگائے جانے والے کیلوں میں پانامہ فنگس نامی مرض سنگین حد تک پھیل چکا ہے۔

یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ مرض جنوبی امریکا سے دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلا ہے جہاں کیلوں کی 82 فیصد تعداد کو حاصل کیا جاتا ہے۔

پانامہ فنگس مرض کسی بھی زمین کی سطح پر 30 برس تک موجود رہ سکتا ہے اور یہ پودوں کے نظام میں مداخلت کرکے انہیں خشک کردیتا ہے اور وہ جلد مرجاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں