8

اسلامی نظام خلافت کیا ہے؟

(مولانا سید عبدالوہاب شاہ)
3اپریل 2013 کوبی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ ایک برطانوی ادارے ’’برٹش کونسل‘‘ نے ابھی حال ہی میں ایک سروے کیا ہے، اس سروے میں اٹھارہ سے انتیس سال کے پانچ ہزار پاکستانی نوجوانوں سے سوالات کئے گئے اور معلومات اکھٹی کی گئیں، اس جائزے کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کی غالب اکثریت شرعی نظام کی حامی ہے،اور وہ جمہوری نظام کو پاکستان کے لئے درست نظام حکومت نہیں سمجھتے۔سروے کے مطابق غالب اکثریت نے اسلامی نظام کی حمایت کی جبکہ دوسرے نمبر پر فوجی حکومت اور تیسرے نمبر پر صرف 13فیصد نوجوانوں نے جمہوریت کی حمایت کی۔90فیصدسے زائد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ملک صحیح سمت میں نہیں جارہا، بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق یہ جائزہ ایک قنوطی نسل کی تصویر کشی کرتا ہے جو پانچ سالہ جمہوری دورسے ذرا بھی خوش نہیں۔94فیصد نوجوانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان غلط سمت میں جا رہا ہے ۔ دوہزار سات میں کئے گئے سروے میں یہ شرح 50فیصد تھی۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ پاکستان میں الیکشن کا موسم ہے، ایک حکومت اپنے پانچ سال مکمل کرکے دستبردار ہوچکی ہے اور ملکی سسٹم ایک نگران حکومت چلا رہی ہے۔اس رپورٹ میں جن دو نظاموں سے بحث کی گئی ہے یعنی جمہوری نظام اور اسلامی نظام، ہمارا مقصد ان میں سے دوسرانظام یعنی اسلامی نظام کے بارے میں مختصر سی بحث کرنا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ اسلامی نظام کی آسان فہم اصطلاح جو آج کل ہمارے ہاں بولی جاتی ہے اس کے لئے اصل اصطلاح کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟۔
اسلامی نظام حیات میں حکومت اور ریاست کو تین اصطلاحات سے تعبیر کیا جاتا ہے،۱۔امامت، ۲۔امارت، ۳۔خلافت۔ قرآن وسنت میں یہ تینوں اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں۔
امارت
امارت کا لفظ’’ء م ر‘‘ کے مادے سے بنا ہے، جس میں حکم والا معنی پایا جاتا ہے، اسی سے امیر ہے یعنی حکم دینے والا، امارت وہ منصب ہے جس میں آدمی صاحب حکم بن جاتا ہے۔
امامت
امامت کا لفظ ’’ء م م‘‘ کے مادے سے بنا ہے، جس میں ’’آگے ہونا، پیشوا ہونا، اور قیادت کرنے والا معنی پایا جاتا ہے۔ اسی سے امام ہے یعنی جس کی اقتداء کی جائے، امامت وہ منصب ہے جس میں آدمی لوگوں کی قیادت کرتا ہے اور لوگ اس کی اقتداء کرتے ہیں۔
شرعی تعریف
سید شریف جرجانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام وہ ہے جسے دینی اور دنیاوی دونوں امور میں عمومی حکمرانی حاصل ہو۔ امام ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امامت دین کی حفاظت کرنے اور اس کے ذریعہ دنیاوی امور کی تدبیر اور نظم ونسق کرنے میں نبوت کی نیابت ہے۔
علامہ تفتازانی فرماتے ہیں:
امامت دینی ودنیاوی معاملات میں نبی اکرم ﷺ کی اور فرع میں آپ ﷺ کے احکام کی جانشینی اختیار کرتے ہوئے عمومی اختیار واقتدار ہے۔
یہ لفظ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے:
قال انی جاعلک للناس اماما(بقرہ124)
میں تم کو لوگوں کا مقتدا بناوں گا۔
*۔۔۔خلافت۔۔۔*
یہ لفظ’’خ ل ف‘‘ کے مادے سے بنا ہے، جس میں قائم مقام اور جانشین ہونے والا معنی پایا جاتا ہے۔ اسی سے خلیفہ ہے، خلیفہ وہ شخص ہے جو اپنے سے پہلے آدمی کے پیچھے آئے یعنی اس کا جانشین ہو۔ المنجد میں ہے:
الخلیفۃ: جانشین، قائم مقام،بڑابادشاہ جمع خلفاء
الخلافۃ: امامت، قائم مقامی ، ۔ خلاصہ کلام یہ کہ امارت، امامت، اور خلافت ان تینوں کا تقریبا ایک ہی مفہوم ہے۔
شرعی تعریف
خلافت کی شرعی تعریف کرتے ہوئے علامہ نسفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
نیابۃ عن الرسول علیہ السلام فی اقامۃ الدین بحیث یجب علی کافۃ الامم الاتباع۔
دین کے قائم کرنے میں حضور ﷺ کی جانشینی ہے اس طرح کہ تمام اقوام پر خلیفہ کی اتباع فرض ہے۔
علامہ ابن خلدون فرماتے ہیں: درحقیقت خلافت دین کی حفاظت کرنے اور اس کے ذریعہ دنیوی امور کی تدبیر اور نظم ونسق کرنے میں صاحب شریعت(رسول اللہ ﷺ) کی نیابت اور جانشینی کا نام ہے۔
حضرت شاہ اسماعیل شہید فرماتے ہیں:
باید دانست کہ ریاست دریں مقام عبارت است از تربیت بندگان الہی برقانون معاش ومعاد بطریق امامت وحکومت(منصب امامت30)
یعنی سیاست سے مراد بندگان الہی کی اصلاح معاش ومعاد کے قوانین پر امامت وحکومت کے طریق سے تربیت کرنا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الخلافۃ ہی الریاسۃ العامۃ فی التصدی لاقامۃ الدین۔۔۔الخ(ازالۃ الخلفاء اول17)
خلافت عامہ وہ ریاست عامہ ہے جو نبی اکرم ﷺکی نیابت کرتے ہوئے عملااقامت دین کے لئے حاصل ہوئی ہو یعنی علوم دینیہ کا احیاء، ارکان اسلام کی اقامت، جہاد اور متعلقات جہاد کا قیام جیسے افواج کی تربیت، مجاہدین کو وظائف دینا، مال گنیمت کی تقسیم، نظام قضاء کا قیام، حدود کا اجراء، مظالم کو دور کرنا اورامربالمعروف ونہی عن المنکر۔ آگے پھر اس تعریف میں ذکر کردہ قیود کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ریاست عامہ کے لفظ سے وہ لوگ نکل گئے جن کو ریاست عامہ نہیں حاصل مثلا علماء قاضی، فوجی افسران، خطباء واعظین۔ اقامت دین کی قید سے ظالم اور جابر بادشاہ خارج ہو گئے جو ملک پر غلبہ اور تسلط حاصل کرکے غیر شرعی طریقہ سے خراج وصول کرتے ہیں۔ باالتصدی کی قید سے وہ شخص خارج ہو جاتا ہے جو اقامت دین کا اہل ہو لیکن بالفعل یعنی عملا ان امور کو سرانجام نہ دے اور نہ اس کو غلبہ حاصل ہوجیسے پوشیدہ اور غیر غالب امام مثلا اہل تشیع کے نزدیک امام مہدی۔ نیابت کی قید سے انبیاء علیھم السلام خارج ہو گئے کیونکہ وہ نبی تھے نہ کہ نائب نبی۔
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:خلافت کے معنی جانشینی ہے اور عرف شرع میں اس سے مراد ان امور کو عملا قائم کرنا ہے جن کے قائم کرنے کے لئے پیغمبر مبعوث ہوئے۔
خلافت رسول اللہ ﷺ کی نیابت کا نام ہے کیونکہ خلیفہ امت میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین ہوتا ہے۔
*۔۔۔خلافت کا مقصد کیا ہے؟۔۔۔*
موجودہ دور میں سیاسی پارٹیاں اپنا اپنا ایک منشور بناتی ہیں اور پھر اس منشور کو عوام کے سامنے رکھ کر اسی منشور کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیتی ہیں، پھر کوئی ایک پارٹی جیت کر ان مقاصد کے حصول کے لئے کام کرتی ہے جن کے لئے اس نے حکومت حاصل کی۔ اسی طرح اسلامی حکومت کے بھی کچھ مقاصد ہیں، اقتدار وحکومت بذات خود مقصود نہیں لیکن چونکہ یہ مقاصد غلبہ اور اقتدار کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے لہٰذا اسلام نے ان مقاصد کے حصول کے لئے غلبہ اور اقتدار حاصل کرنا لازمی قرار دیا ہے۔اب سوال پیداہوتا ہے کہ مقاصد خلافت کیا ہیں؟حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اس کا خلاصہ یوں بیان فرماتے ہیں:
خلافت کامعنی جانشینی ہے اور عرف شریعت میں ان امور کے قائم کرنے کی کوشش کرنا جن کے قائم کرنے کیلئے پیغمبر مبعوث ہوئے۔ یعنی پیغمبر اسلام جو احکامات الہیہ لائے اور ان کو عملا نافذ بھی کیا خواہ ان کا تعلق دین سے ہویا دنیا سے ان کو عملا نافذ کرنا یہی نظام خلافت کا مقصد ہے۔نہایت ہی اختصار کے ساتھ مقاصد خلافت کو اگر بیان کیا جائے تو وہ مندرجہ ذیل ہیں:
1۔اقامت دین
سورۃ حج آیت نمبر41کی تفسیر میں امام رازی فرماتے ہیں: آیت کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو اس بات سے موصوف کیا ہے کہ اگر انہیں زمین میں طاقت واقتدار دیا جائے تو وہ چار امور یعنی نماز،زکوۃ، امرباالمعروف اور نہی عن المنکر کو قائم کریں گے۔ اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدین کی نصرت کی اور اپنا وعدہ پورا کردیکھایا حتیٰ کہ انہیں عرب و عجم پر مسلط کیا اور ان کے زمانے میں مسلمانوں کو کفار کی زمین، گھروں اور ان کے مال ودولت کا وارث بنایا۔اور شاہ صاحب فرماتے ہیں:خلافت شرعی اس تمکین فی الارض کا نام ہے جو اقامت دین کے ساتھ ہویعنی ان کو اگر تمکین فی الارض ہو گی تو وہ ضرور اقامت دین کریں گے اور خلافت راشدہ کے یہی معنی ہیں۔
خلاصہ یہ کہ خلافت کا مقصداقامت دین ہے یعنی دین کے ہر شعبے کو قائم کرنا۔
2۔قوانین شریعت کا نفاذ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: انی جاعل فی الارض خلیفۃ۔ امام ابن جوزی فرماتے ہیں انسان اللہ کی شریعت قائم کرنے، توحید کے دلائل قائم کرنے اور مخلوق میں حکومت کرنے میں اللہ کا خلیفہ ہے، یعنی یہ وہ ذمہ داریاں ہیں جو خلیفہ سرانجام دے گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ میں فرمایا: حاکم اپنی رعیت کی ان امور میں خبر گیری کرے گا جن کا حکم اللہ نے دیا ہے یعنی اللہ نے جس چیز کا حکم دیا حاکم ان چیزوں کا حکم رعیت کو کرے گا اور اللہ نے جن چیزوں سے منع کیا ان سے منع کرے گا۔امام بغوی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: انسان اللہ کا خلیفہ ہے ان کے احکام اور فیصلوں کو نافذ کرنے میں۔اس سے معلوم ہوا کہ مقاصد خلافت میں سے ایک مقصد قوانین شریعت کا نفاذ بھی ہے۔
3۔غلبہ اسلام
حضورﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور دین اسلام قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ دین اسلام کے آنے کے بعد تمام مذاہب منسوخ ہوگئے ، اب صرف اسلام ہی قیامت تک رہے گالہٰذا اب تمام نظاموں، مذاہب اور نظریات کو ختم کرکے اسلامی نظام کا نفاذ ضروری ہے اور یہی حضور ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی ہے، جیسا کہ فرمایا:
ھوالذی ارسل رسولہ باالھدیٰ ودین الحق لیطھرہ علی الدین کلہ۔
امام اہلسنت مولانا عبدالشکور فاروقی لکھنوی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: اس آیت میں اگر سمجھنے کی کوئی چیز ہے تو وہ یہ ہے کہ غالب کرنے سے کیا مراد ہے؟ غلبہ دو قسم کا ہوتا ہے ایک دلیل میں غالب کرنا اور دوسرا تیغ وسناں کے ذریعہ غالب کرنا ہم کہتے ہیں یہاں دونوں غلبے مراد ہیں۔
4۔امت کی سیاست
یعنی امت کے دینی ودنیوی امور کا نظم ونسق بھی مقاصد خلافت میں شامل ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
ان بنی اسرائیل کانت تسوسھم الانبیاء کلما مات نبی قام نبی وانہ لیس نبی بعدی قال رجل فما یکون بعدک یا رسول اللہ؟ قال تکون خلفاء۔۔۔الخ
بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے جب ایک نبی انتقال کرتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ، ایک صحابی نے عرض کیا آپ کے بعد کون ہوگا تو فرمایا میرے بعد خلفاء ہوں گے۔
حضور ﷺ نے گورنر یمن عمروبن حزم انصاری کو جو خط لکھا اس میں بھی ریاست سے متعلق اہم امور اور حاکم کی تمام ذمہ داریوں کو بیان کیا یعنی امر ابالمعروف نہی عن المنکر، قرآنی تعلیمات کی اشاعت، عدل وانصاف عبادات اور ارکان اسلام کا قیام۔
5۔ امت کی اجتماعیت
مقاصد خلافت میں سے ایک مقصد امت کا اتحاد اور اجتماعیت بھی ہے چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا جس میں خلیفہ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:
قد استخلف اللہ علیکم خلیفۃ لیجمع بہ الفتکم ویقیم بہ کلمتکم۔
اللہ نے تم پر خلیفہ بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ تمہارا اتحاد رہے اور تمہارا کلمہ(مرکزیت)قائم رہے۔
6۔نظام عبادت کا قیام
انسان کی تخلیق کا اہم مقصد اللہ کی عبادت ہے اس لئے عبادات کے نظام کی تشکیل بھی مقاصد خلافت میں سے ہے۔ سورہ انبیاء کی آیت نمبر73 کی تفسیر میں امام قرطبی فرماتے ہیں:
یعنی ہم نے انہیں سردار(حکمران)بنایا ہے کہ اچھے کاموں اور فرماں برادری والے اعمال میں ان کی پیروی کی جاتی ہے۔
7۔نظام جہاد کا قیام
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امام(خلیفہ) اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ وہ نظام صلوۃ کو قائم کرے، صدقات وصول کرے، حدود قائم کرے، احکام کا نفاذ کرے، دشمنوں سے جہاد کرے۔
8۔عدالتی نظام
عوام کو بروقت اور مفت عدل وانصاف فراہم کرنا خلافت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے تاکہ وہ امن وامان کے ساتھ زندگی گزار سکیں، قرآن پاک میں ارشاد ہے:
یاداوٗد انا جعلنٰک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس باالحق۔
اے داود ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔
خلیفہ اور بادشاہ میں فرق
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت کعب اور حضرت سلمان رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے پوچھا کہ خلیفہ اور بادشاہ میں کیا فرق ہے؟ طلحہ اور زبیر نے کہا ہمیں نہیں معلوم۔پھر سلمان نے فرمایا خلیفہ وہ ہے جو لوگوں میں عدل کرے اور برابر تقسیم کرے اور اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرے۔
حضرت شاہ صاحب مقاصد خلافت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جب رسو اللہ ﷺ تمام مخلوق کے لئے مبعوث ہوئے تو مخلوق کے ساتھ معاملات وتصرفات فرمائے اور ان امور کے لئے نائبین مقرر کئے۔ ان معاملات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصد اقامت دین ہے اور باقی تمام امور اس کے تحت ہیں۔
*۔۔۔اصول خلافت۔۔۔*
جس طرح ہر نظام کے کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں اسی طرح نظام خلافت کے بھی چار بنیادی اصول ہیں:
1۔حاکمیت صرف اللہ کے لئے
فتعالی اللہ الملک الحق(طہ114) فاالحکم للہ العلی الکبیر(غافر12) ان الحکم الا للہ۔ ولایشرک فی حکمہ احدا(کہف26) الیس اللہ باحکم الحاکمین (التین)
وہ بادشاہ برحق بلند تر ہے۔ حکم اللہ ہی کے لئے ہے جو حاکم حقیقی ہے۔ حکومت خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی نہیں۔ اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔ کیا اللہ سب حاکموں سے زیادہ حاکم نہیں۔
2۔قانون شریعت
کسی بھی ریاست کے نظام میں اس کے قانون کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے جس پر حکومت کی تشکیل اور ترقی ہوتی ہے۔ دنیا کے ہر انون کی کوئی نہ کوئی بنیاد بھی ہوتی ہے اسی طرح اسلامی نظام کی بنیاد ذات باری تعالیٰ ہے وہاں سے حکم جاری ہوتا ہے خلفاء اس کو زمین پر نافذ کرتے ہیں۔ اسی کو قانون شریعت کہتے ہیں۔
یاایہاالذین امنوا اطیعواللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم فان تنازعت فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول(نساء59)
اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اور اولی الامر کی پھر اگر کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لے جاؤ۔
فاحکم بینھم بما انزل اللہ(مائدہ48)
پس آپ ان میں اس کے ساتھ فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا(یعنی قرآن)۔
ومن لم یحکم بما انزل اللہ فألئک ھم الفاسقون(مائدہ47)
ومن لم یحکم بما انزل اللہ فألئک ھم الظلمون۔
ومن لم یحکم بما انزل اللہ فألئک ھم الکافرون(مائدہ44)
اور جو نہ فیصلہ کرے اس کے ساتھ جو اللہ نے نازل کیا تو وہی فاسق ہے، وہی ظالم ہے، وہی کافر ہے۔
3۔شورائیت
نظام خلافت کی بنیاد شورائیت پر ہوتی ہے، شورائیت کا مطلب ہے کسی معاملے میں ماہرین فن کی رائے لینا اور امیر کا قرآن وسنت کی روشنی میں ان آراء میں سے بہتر اور مفید رائے پر (کثرت اور قلت نہیں بلکہ) قوت دلیل کا اعتبارکرتے ہوئے اور اللہ پر توکل اور اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کرنا۔
وشاور ہم فی الامرفاذا عزمت فتوکل علی اللہ(آل عمران159)
اور ان سے مشورہ لیجئے کام میں، پھر جب قصد کرچکیں اس کام کا تو پھر بھروسہ کریں اللہ پر۔
وأمرھم شوریٰ بینھم(شوریٰ38)
اور کام کرتے ہیں آپس کے مشورہ سے۔
شورائیت میں امیر مشورہ لیتا ہے اور پھر فیصلہ خود کرتا ہے، جبکہ جمہوریت میں ووٹ ہی فیصلہ ہوتا ہے۔
شورائیت میں قلت اور کثرت کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ قوت دلیل کو دیکھا جاتا ہے، جبکہ جمہوریت میں قلت اور کثرت کو دیکھا جاتا ہے یعنی کھوتے، گدھے ، اور انسان سب برابر ہوتے ہیں، اسی لئے علامہ محمد اقبال مرحوم نے فرمایا تھا:
جمہوریت اک طرز حکومت ہے جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وانتطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ(انعام114)
اگرآپ اکثریت کی اطاعت کریں گے تو وہ آپ کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔
4۔وحدت خلیفہ
نظام خلافت کا ایک اصول یہ بھی ہے،پوری دنیا میں ایک ہی اسلامی حکومت اور ایک ہی خلیفہ ہو، یہ جمہور اہل سنت والجماعۃ کا مسلک ہے۔
حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دو آدمیوں کی خلافت کے لئے(بیک وقت) بیعت کی جائے تو ان میں سے جس کی آخر میں بیعت کی گئی ہے اسے قتل کردو۔
اسی طرح آپ ﷺ کی وفات کے بعد انصار نے دو امیر(ایک انصاری اور ایک مہاجر) منتخب کرنے کا مشورہ دیا لیکن کبار صحابہ نے اسے رد کریا۔
*۔۔۔فرضیت خلافت۔۔۔*
مسلمانوں کی دنیا وآخرت کی کامیابی اسلامی نظام خلافت کیساتھ وابستہ ہے اور حضور ﷺ کی بعثت کے مقصد (اظہاردین) کا حصول بھی خلافت ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اقامت خلافت کو فرض قرار دیا تاکہ ہر دور میں خلافت کے ذریعہ مقصد رسالت(اظہاردین) حاصل کیا جاتا رہے۔
1۔ ارشاد ربانی ہے:
إنی جاعل فی الارض خلیفۃ۔(بقرہ30)
امام قرطبی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ہذہ الاٰیۃ اصل فی نصب امامٍ وخلیفۃ یُسمع لہٗ ویُطاع لتجمع بہ الکلمۃ وتُنفذ بہ احکام الخلیفۃ ولا خلافَ فی وجوب ذالک بین امۃ ولا بین الأئمۃ۔
یہ آیت امام وخلیفہ کے تقرر کے بارے میں قاعدہ کلیہ کی حیثیت رکھتی ہے، ایسا امام جس کی بات سنی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے تاکہ کلمہ(اسلام کی شیرازہ بندی) اس سے مجتمع رہے اور خلیفہ کے احکام نافذ رہوں۔ امت اور آئمہ میں خلیفہ کے تقرر کے واجب(فرض کفایہ) ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
مندرجہ بالا تفسیر سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ امام اور خلیفہ کا تقرر واجب ہے اور اس میں فقہائے کرام کا کوئی اختلاف نہیں۔
2۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یاایہاالذین اٰمنوا اطیعوااللہ واطیعوالرسول واولی الامرمنکم (النساء59)
اے ایمان والو تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی بھی جو تم میں سے صاحب حکم ہیں۔
جمہور کے نزدیک اولی الامر سے مراد حاکم اور امراء ہیں۔ان کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے لازمی قرار دیا ہے، تو اولی الامر کی اطاعت تب ہی ممکن ہے کہ اولی الامر کا وجود بھی ہو لہٰذا اطاعت اولی الامر کی فرضیت سے اولی الامر کے تقرر کی فرضیت مقتضائے نص سے ثابت ہوتی ہے۔
3۔قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق فیصلے کرنے کا حکم ہے:
فاحکم بینھم بماانزل اللہ(مائدہ48) وان حکم بینھم بماانزل اللہ(مائدہ49) واذ حکمتم بین الناس اَن تحکموا باالعدل(نساء58)
ظاہر بات ہے جب خلیفہ ہی نہیں ہوگا تو پھر احکامات الٰہیہ پر عمل کون کرائے گا، لہٰذا یہاں سے بھی قیام حکومت اور تقرر خلیفہ کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
4۔ اسی طرح سورہ انفال کی آیت نمبر40میں فرمایا:
واعدوا لھم مااستطعتم من قوۃ۔۔۔۔۔۔الخ
دشمن کے مقابلے میں قوت جمع کرنا اور دشمن کے لئے ترہیب کا سامان کرنا بھی خلیفہ کے بغیر ناممکن ہے جب خلیفہ ہوگا تو وہ اس پر بتمام کمال عمل کرسکے گا۔
5۔ جو آیات ’’جہاد ‘‘ کو فرض قرار دیتی ہیں وہ اقامت خلافت کو بھی فرض قرار دیتی ہیں کیونکہ قاعدہ ہے:
مقدمۃ الواجب واجبۃ
6۔ ہر مسلمان پر خلیفہ کی بیعت فرض ہے، ارشاد نبوی ﷺ ہے:
من مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃ(مسلم، کتاب الامارہ باب وجوب الوفاء ببیعہ الخلفاء)
جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں(کسی خلیفہ کی) بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
اس حدیث میں خلیفہ کی بیعت کو فرض قرار دیا گیا ہے اور خلیفہ کی بیعت اس کے تقرر کے بغیر نہیں ہوسکتی لہٰذا خلیفہ کا تقرر فرض ہوا۔ ایک اور حدیث میں ہے:
من مات ولیس علیہ امام مات میتۃ جاہلیۃ
جو شخص اس حال میں مرا کہ اس پر کوئی امام(خلیفہ کی حکومت) نہیں تو وہ جاہلیت کی (سی) موت مرا۔
مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے:
من خرج من الطاعۃ وفارق الجماعۃ فمات میتۃ جاہلیۃ۔
یعنی جو شخص امام کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے جدا ہوگیا تو وہ جاہلیت کی سی موت مرا۔
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
ای علی صفت موتھم من حیث ھم فوضی لا امام لھم۔
یعنی وہ کفار کی موت کی صفت پر مرا اس حیثیت سے کہ وہ کفار بغیر کسی امیر کے ہیں اور ان کا کوئی امام نہیں۔
7۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی تدفین سے قبل ہی صحابہ کرام نے خلیفہ کا تقرر کیا، اس حوالے سے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں:
صحابہ کرام کی توجہ آنحضرت ﷺ کے دفن سے بھی پہلے خلیفہ کے تعین وتقرر کی طرف مائل ہوئی لہٰذا اگر صحابہ کرام کو شریعت کی طرف سے خلیفہ مقرر کرنے کی فرضیت معلوم نہ ہوتی تو وہ حضرات ہر گز خلیدہ کے تقرر کو آنحضرت ﷺ کے دفن پر مقدم نہ کرتے۔
یہ قاعدہ ہے کہ جب صحابہ کرام سے کوئی قول یا فعل ایسا صادر ہو جس کا اداراک رائے سے ثابت نہ ہو سکتے تو وہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔ صحابہ کرام کے اس عمل سے فرضیت خلافت پر اجماع صحابہ بھی منعقد ہو گیا، کسی صحابی نے اس کی نفی نہیں کی۔
صحابہ کرام کی طرح تمام ائمہ کا بھی اس بات پر اجماع ہے جسے ملا علی قاری، امام قرطبی، علامہ ابن حزم اور امام الماوردی رحمہم اللہ نے نقل کیا ہے۔
اسی طرح علامہ تفتازانی، امام قرطبی، امام ابن تیمیہ، قاضی ابویعلی، امام عبدالقاہر البغدادی، امام علاء الدین، علامہ ابن عابدین، علامہ عبدالشکور السالمی رحمہم اللہ نے اقامت خلافت کو فرض قرار دیا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:مسلمانوں پر قیامت تک خلیفہ کا تقرر واجب(فرض کفایہ) ہے۔
الغرض یہ کہ مسلمانوں پر خلیفہ کا تقرر اور نظام خلافت کا قیام فرض کفایہ ہے اور اگر کوئی بھی یہ کام نہ کرے تو پھر سب گناہ گار ہوں گے

………..

پی ڈی ایف ڈاون لوڈ

اسلامی نظام خلافت کیا ھے؟

آن لائن پڑھیں

ڈاون لوڈ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں