11

ایک جنونی شخص ایلن مسک

ایلن مسک ایک ایسا جنونی شخص ہے جس نے SpaceX اور Tesla جیسے ادارے تخلیق کیے ہیں۔ وہ شمسی توانائی کو لوگوں میں عام کرنا چاہتا ہے اور عام لوگوں کو مریخ پر پہنچا کر انہیں وہاں آباد دیکھنے کا خواہش مند ہے۔

وہ تو یہ بھی چاہتا ہے کہ جب وہ ریٹائرمنٹ لے تو اس وقت مریخ پر رہ رہا ہو۔ ایلن مسک دور حاضر کا ایک ایسا جنونی سائنس داں ہے جس کا موازنہ آج کے ماہرین تھامس ایڈیسن اور اسٹیو جابس سے کرتے ہیں۔ وہ ناممکن کو ممکن بنانے میں ماہر ہے۔ چاہے بات Tesla نامی برقی کرسیاں تیار کرنے والے ادارے کی ہو یا SpaceX نامی راکٹوں کی ہو، وہ یہ سب کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ ایلن مسک ایک تجارتی فرم PayPal کا معاون بانی بھی ہے۔

جدید اختراعات اور ایجاد کے شوق نے اسے امریکا کا سب سے دولت مند انسان بنادیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی دولت کم و بیش دس ارب امریکی ڈالرز پر مشتمل ہے۔ ایک طرف تو لوگ اسے ایک محنتی انسان تسلیم کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی اس کے نہایت سخت قسم کے طریقوں پر اسے تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ وہ ایک اچھا باس نہیں ہے۔ وہ جس طرح کے غیرروایتی طریقے اپناتا ہے، وہ قطعی طور پر قابل عمل نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر مریخ پر انسانی آبادی کا قیام عام لوگوں کی نظر میں ناقابل عمل ہوگا، مگر ایلن مسک کی لغت میں تو ناممکن کا لفظ ہی نہیں ہے۔

کچھ عرصے پہلے اس کا انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو دوبارہ سپلائی کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا، کیوں کہ اس کا بھیجا ہوا راکٹ اپنے سفر پر روانہ ہوتے ہی پھٹ گیا۔ ایلن مسک ایک غیرمعمولی انسان ہے۔ جب اس سے کچھ باتیں کی گئیں یا لوگوں نے اس کے دل میں جھانکنے کی کوشش کی تو اندازہ ہوا کہ وہ دوسروں سے مختلف کیوں ہے۔ اس نے جنوبی افریقا میں جس طرح کا بچپن گزارا، اس کے بعد اس کی شخصیت میں جو تبدیلیاں آئیں، انہی نے اسے ایسا بنادیا جیسا وہ اب نظر آتا ہے۔

ایلن مسک جنوبی افریقا میں پیدا ہوا تھا، لیکن اس کی جڑیں مختلف سمتوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کا نصف خاندان شمالی امریکا، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور کینیڈا میں تھا، اور باقی نصف برطانیہ سے جنوبی افریقا تک تھا۔ اس کے نام میںElon کا لفظ اس کی ماں کے خاندان کی طرف سے آتا ہے یعنی امریکی سائیڈ سے۔ اس کے پردادا کا نام جون ایلن ہالڈی مین تھا، اس لیے یہ اس کا فیملی نام ہوا اور مسک  کا نام اس کے ڈیڈ کی طرف سے ملا ہے۔ وہ جنوبی افریقا کے دارالحکومت پری ٹوریا میں 28جون 1971کو پیدا ہوا تھا۔ ایلن مسک  کی ماں کا نام مائی ہالڈی مین اور باپ کا ایرل مسک تھا۔

اس کی ممی کینیڈا کی ایک ماڈل تھیں اور ڈیڈی جنوبی افریقا کے ایک الیکٹرومیکینیکل انجینیر تھے۔ اس کا ایک چھوٹا بھائی کمبال اور چھوٹی بہن ٹوسکا بھی ہے۔ اس نے اسٹین فورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔

شروع میں ایلن مسک نے پرائیویٹ تعلیم حاصل کی اور ایک انگریزی اسکول واٹرلوف ہاؤس پریپیٹری میں داخل ہوگیا۔ بعد میں اس نے پری ٹوریا بوائز ہائی اسکول سے گریجویشن کیا اور جون 1989میں کینیڈا چلا گیا۔ اس وقت تک وہ اٹھارہ سال کا بھی نہیں ہوا تھا۔ اسے کینیڈا کی شہریت اس کی کینیڈا میں پیدا ہونے والی ممی کی وجہ سے ملی تھی۔ 19سال کی عمر میں ایلن مسک کو انڈر گریجویٹ اسٹڈی کے لیے کوئنز یونی ورسٹی کنگسٹن ، اونٹاریو میں داخلہ مل گیا۔

اس کے بعد اس کا تبادلہ یونی ورسٹی آف پنسلوانیا میں ہوگیا اور صرف 24 سال کی عمر میں اس نے بیچلر آف سائنس کی ڈگری بھی لے لی۔ ساتھ ہی اس نے اکنامکس کے مضمون میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری بھی لے لی۔ جب یہ یونی ورسٹی آف پنسلوانیا میں تعلیم حاصل کررہا تھا تو اس نے اور اس کے ساتھی پین نے دس کمروں کا ایک سوشل کلب قائم کیا جسے ان لوگوں نے ایک نائٹ کلب کے طور پر استعمال کیا تھا۔

1995میں جب ایلن مسک کی عمر 24سال تھی تو وہ کیلی فورنیا چلا گیا جہاں اس نے اسٹین فورڈ یونی ورسٹی میں اپلائیڈ فزکس میں پی ایچ ڈی کرنا شروع کیا، مگر صرف دو روز بعد ہی اس کا ارادہ بدل گیا، وہ اس کام کو ادھورا چھوڑ کر عملی میدان میں آگیا اور نئی جدوجہد شروع کی۔ اس کی ساری سرگرمیاں انٹرنیٹ اور ری نیو ایبل انرجی کے گرد گھومتی تھیں۔ 2002میں اس نے امریکی شہریت حاصل کرلی۔

٭کیریئر:

٭٭Zip2:

1995میں ایلن مسک اور اس کے بھائی کمبال نے اپنے والد سے 28000 امریکی ڈالر لے کر Zip2 نامی ویب سافٹ ویئر کمپنی قائم کی جو بعد میں ترقی کرکے اخبارات اور پبلشنگ انڈسٹری کے لیے ایک سٹی گائیڈ بن گئی۔

٭٭X.com اور PayPal:

مارچ 1999میں ایلن مسک نے ایک آن لائن فنانشل سروس اور ای میل پیمنٹ کمپنی X.com میں معاون فاؤنڈر کا کردار ادا کیا۔ اس کے ایک سال بعد کمپنی ایک زر بھیجنے والی کمپنیPayPal کے روپ میں سامنے آئی۔

٭٭ SpaceX:

2001میں ایلن مسک نے “Mars Oasis” نامی پراجیکٹ کا تصور پیش کیا جس کے تحت مریخ پر ایک تجرباتی گرین ہاؤس قائم کیا جانا تھا۔ اس کا پروگرام مریخ پر فصلیں اگانا بھی تھا۔ اس نے یہ فیصلہ خلا میں عوامی دل چسپی کو دیکھتے ہوئے کیا تھا۔

اکتوبر 2001 میں Elon Musk خلائی سفر کو آسان بنانے کے لیے ماسکو گیا، تاکہ وہاں ماہرین سے اس سلسلے میں بات کرسکے، مگر وہاں سے خالی ہاتھ واپس لوٹا۔ اگلے سال وہ پھر ماسکو گیا جہاں اس نے سیٹیلائٹس اور اسپیس کرافٹ بنانے والے ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔

اس کے بعد جون 2002 ء میں Musk Elon نے SpaceX کی داغ بیل ڈالی۔ وہ ایک حقیقی خلائی تہذیب تخلیق کرنا چاہتا تھا۔

SpaceX خلاء میں جانے والی مخصوص خلائی گاڑیاں تیار کرتی ہے۔ ستمبر 2009میں SpaceX کا تیار کردہ فالکن 1راکٹ وہ پہلا راکٹ ثابت ہوا جو پہلا نجی طور پر تیار کیا گیا تھا اور جس نے ایک سیارہ زمین کے مدار میں چھوڑا تھا۔ اس کے بعد فالکن سلسلے کے راکٹ مسلسل تیار ہوتے رہے۔ اب ایلن مسک کا ناسا سے معاہدہ بھی ہوگیا اور وہ اس کے لیے کام کرنے لگا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عام لوگوں کو ایلن مسک ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جس میں بہت سے سقم یا خرابیاں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اس کا بچپن بتایا جاتا ہے جو اس نے جنوبی افریقا میں گزارا تھا اور اسی وقت یا مدت نے اس کی شخصیت کو ایسا بنایا جیسا وہ اب نظر آتا ہے۔ ایلن مسک نے ایک بار بتایا تھا کہ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ جنوبی افریقا میں میرا بچپن صحیح گزرا، مگر سچ یہ ہے کہ یہ وقت کافی تکلیف دہ تھا۔

میرے ڈیڈی ایک انجینیر تھے اور اچھا کماتے تھے، اس لیے مجھے روپے پیسے کا کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ میرے گھر میں دولت کے ڈھیر تھے۔ لیکن میرے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب میرے ممی ڈیڈی میں اس وقت طلاق ہوگئی جب میں بہت چھوٹا تھا۔ اس کے بعد کبھی میں ممی کے پاس رہتا تھا اور کبھی ڈیڈی کے پاس۔ ان دونوں کے درمیان چوں کہ پیار و محبت کا کوئی تعلق نہیں تھا، اس لیے اس کا اثر میری ذات پر بھی پڑا۔ ان دونوں کے تعلقات میں شروع سے ہی ٹوٹ پھوٹ واقع ہوگئی تھی۔ جہاں تک میرے ڈیڈی کا تعلق ہے تو وہ میری نفسیات سے کھیلتے تھے۔

ایک چھوٹے بچے کی حیثیت سے میں نے ٹنوں کے حساب سے سائنس فکش پڑھا، اس میں مجھے شروع سے ہی دل چسپی تھی۔میں چاہتا تھا کہ مجھے دنیا کی ہر بات معلوم ہو، لیکن میری یہ عادت میری فیملی سے باہر کے لوگوں کو بالکل پسند نہیں تھی۔کئی بار اسکول میں میرا اپنے ساتھیوں سے جھگڑا بھی ہوا۔ایک بار تو اس جھگڑے کے دوران کسی نے میرے سر پر لات ماری تو مجھے ایک ہفتے تک اسپتال میں بھی رہنا پڑا۔اپنی الگ تھلگ رہنے کی عادت کی وجہ سے میں تنہا ہوگیا تھا۔

میرا کوئی دوست نہیں تھا۔ بعد میں بھی یہی صورت حال رہی۔ گویا مجھ پر خصوصی توجہ کی ضرورت تھی، مگر وہ مجھے نہیں ملی۔ ایلن مسک پر جب کام یابیوں کے دروازے کھلے اور اس پر دولت برسنے لگی تو کئی صحافیوں نے اس پر مضامین لکھنے کی کوشش کی، اس کے انٹرویوز بھی کیے اور ایک صحافی نے اس پر کتاب لکھنے کی پیشکش بھی کرڈالی۔ کافی غور و فکر کے بعد ایلن مسک کتاب کے لیے تیار ہوگیا۔

اس دوران اس نے کتاب ترتیب دینے والے صحافی کو کافی پریشان کیا، کیوں کہ وہ ہر چیز میں مداخلت کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ ایک لفظ بھی اس کی اجازت اور اس کی نظر سے گزرے بغیر نہ جائے۔ مگر بعد میں اسے اندازہ ہوا کہ یہ سب کتاب لکھنے یا لکھوانے کے ضابطے کے خلاف ہے تو اس نے اپنا انداز بدل لیا۔

ایلن مسک ایک ایسا انسان ہے جو راکٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتا۔ اس نے ڈھیروں نصابی کتب پڑھی ہیں۔ پھر اس نے لاس اینجیلس میں ایک کمپنی قائم کی جہاں اس نے ڈھیروں نوجوان اور محنتی انجینیر ملازم رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کو اندازہ تھا کہ وہ کیا کررہے ہیں، مگر اکثر کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہے اور وہ لوگ کیا کررہے ہیں۔ وہ تو بس خاموشی سے اپنا کام پوری محنت اور ایمان داری سے کرتے رہے اور اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رہے۔

آخرکار انہوں نے ایک راکٹ بنالیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اسے لانچ کہاں سے کیا جائے۔ فلوریڈا اور کیلی فورنیا میں تو ایسی جگہیں نہیں تھیں جہاں ایسا کوئی لکھ پتی یہ کام کرسکے جس نے پہلے کبھی یہ کام نہ کیا ہو۔ بھلا خلاء میں راکٹ کبھی کسی نے بھیجا ہے! وہ خود بتاتا ہے کہ اس کے بعد ہم نے بحرالکاہل کے ایک جزیرے Kwajelain میں کام کیا جہاں امریکی فوج اسٹار وار کا کام کرتی تھی اور میزائل لانچنگ کے تجربے کرتی تھی۔ ہم نے وہاں شاورز بھی بنوائے اور barbeque pits بھی۔ وہاں دو سال تک ہمارے دو سو SpaceX انجینیر مقیم رہے۔ اس دوران ان بے چاروں کے سروں پر ہر وقت راکٹ پھٹتے رہتے تھے۔

آج ایلن مسک کی کاروباری سلطنت میں SpaceX سب سے کام یاب کمپنی ہے۔ یہ کمپنی دنیا کے مختلف ملکوں اور کمپنیوں کے لیے سیٹیلائٹس اوپر خلا میں لے جارہی ہے اور انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے لیے ری سپلائی کا کام بھی کررہی ہے۔ ان کے پاس اگلے پانچ برسوں میں کرنے کے لیے لگ بھگ آٹھ ارب ڈالرز کے ریزرو آرڈرز ہیں۔ وہ کم و بیش ہر تیسرے ہفتے پرواز کرتے ہیں۔ اب وہ دوبارہ استعمال کے قابل راکٹس اور دیگر چیزوں کے بہت قریب ہیں۔

ایلن مسک نے ایک بار کہا تھا کہ اس کی خواہش ہے کہ وہ مریخ پر جاکر مرے۔ وہ مسلسل ترقی کی طرف گام زن ہے۔ رات کو جب وہ سوتا ہے تو اس کی تجارتی سلطنت میں کسی نہ کسی نئی چیز کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس نے ایسی برقی کار بنانے کا ارادہ کیا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم یا فرسودہ نہیں ہوگی، بل کہ زیادہ بہتری کی طرف جائے گی۔

جلد ہی اس کی کمپنی ایک Gigafactory قائم کررہی ہے جو ایک بیٹری فیکٹری ہوگی اور اس پیمانے کی ہوگی کہ لوگوں نے ایسی پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ ایلن مسک ایک ایسی برقی کار بنانا چاہتا ہے جس کی قیمت عام لوگوں کے لیے قابل برداشت ہوگی۔ اس کے علاوہ وہ گھروں میں سامان کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایسے سسٹم تیار کرے گا جن میں شمسی توانائی والے سستے پینل لگے ہوں گے۔

ایلن مسک ایک کام یاب انسان ہے۔ بعض لوگ اس کا موازنہ بل گیٹس اور اسٹیو جابس سے کرتے ہیں جس پر اس کا کہنا ہے:’’ان کے صارفین مجھ سے کہیں زیادہ ہیں، یہ دونوں نام ہر گھر میں موجود ہیں۔ ان کے اداروں کی تیار کردہ چیزیں ہر گھر کی زینت ہیں۔ میں تو ابھی سیکھ رہا ہوں اور خود کو ایک طالب علم سمجھتا ہوں۔ ابھی مجھے خود کو ثابت کرنا ہے۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایلن مسک وہ انسان ہے جس نے شمسی توانائی عام لوگوں تک پہنچادی۔ اس کی کمپنی ’’سولر سٹی‘‘ نے برقی کاریں تیار کرکے گلوبل وارمنگ کے مسئلے کو حل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بلاشبہہ یہ ایلن مسک کی بڑی کام یابی ہے۔

ایلن مسک ایک ایسا انسان ہے جسے آپ کی روزمرہ زندگی سے کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ اسے لوگوں کی کوئی فکر نہیں البتہ انسانیت کے لیے فکرمند رہتا ہے۔ وہ ہر وقت یہ سوچتا رہتا ہے کہ آیا انسانیت کی شکلیں یا قسمیں آئندہ بھی جاری و ساری رہیں گی یا نہیں۔ کہیں انسانیت ختم تو نہیں ہوجائے گی۔

وہ انسانیت کی بقا اور سلامتی کے لیے فکرمند بھی ہوتا ہے اور اس کے لیے آنسوؤں سے روتا بھی ہے۔ بے شمار لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ایلن مسک خوش خیالی یا آٹزم کا شکار ہے۔ اس کے نہ جذبات ہیں اور نہ احساسات، اسے عام لوگوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ مگر بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ہر چیز اور ہر مسئلے کو پوری گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے اور اس کی فکر کرتا ہے۔

ایلن مسک نے اپنے بچپن میں خود کو سائنس فکشن کی کتابوں میں غرق کرلیا تھا، مگر وہ یہ کبھی نہیں مانتا تھا کہ یہ سب فرضی اور خیالی کہانیاں ہیں جن کا حقیقت کی دنیا سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اس کے خیال میں یہ سب اصل کہانیاں تھیں۔ ایک بار اس نے کہا تھا کہ وہ مریخ پر مرنا چاہتا ہے اور ایک بار یہ کہا تھا کہ وہ مریخ پر جاکر ریٹائر ہوجائے گا اور وہاں ریٹائرمینٹ کی زندگی گزارے گا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایلن مسک کے خیالات میں ٹھہراؤ نہیں ہے۔ ابھی وہ جو بات کررہا ہے، تھوڑی دیر بعد خود ہی اس کی نفی کردے گا اور کوئی اور خیال پیش کردے گا۔

عام لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں تک شمسی توانائی سے چلنے والی کاروں اور دیگر ایجادات کا تعلق ہے تو ایلن مسک کے تمام دعوے تسلیم کیے جاسکتے ہیں، اسی طرح SpaceX کا منصوبہ بھی قابل عمل ہے، مگر جہاں تک مریخ پر جانے اور وہاں آباد ہونے کا خیال ہے تو یہ بات ابھی تک سمجھ میں نہیں آرہی۔ یہ ایک ایسا بڑا اور اہم سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے سکے گا۔

ایلن مسک کے نئے اور جدید منصوبے Hyperloopاورspace Internet ہیں۔ ان کے بارے میں ایلن مسک کہتا ہے کہ Hyperloopایک انتہائی تیز ترین مونو ریل ہے جس کے اندر ایک ٹیوب ہے جس میں پوڈز لگے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ یہ مونو ریل 800میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گویا ہوا کے گھوڑے پر سفر کرے، تاکہ آپ آدھے گھنٹے میں سان فرانسسکو سے لاس اینجیلس پہنچ جائیں۔

جہاں تک Space Internet کا تعلق ہے تو یہ زمین کو ہزاروں چھوٹے سیٹیلائٹس اور بیمز (شعایں) سے گھیرلے گا۔ اس وقت دنیا کی نصف آبادی فائبر آپٹک انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں کرسکی ہے۔ ان بے چاروں کو بہت خراب اور بہت سست سروس ملی ہوئی ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک ٹرمنل ہو جہاں آپ ان خلائی سیاروں میں ٹیپ کرسکیں تو آپ کو بھی دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی تیز ترین سہولت مل سکتی ہے۔

ایلن مسک کی ذاتی زندگی میں کام یابی کی کیا وجوہ ہیں، اس بارے میں اس کا کہنا ہے کہ جب کسی کو نہایت کم عمری میں ذہنی جھٹکے لگے ہوں اور اس کے ماں باپ کے درمیان علیحدگی ہوگئی ہو تو ایسے بچے کا کیا حال ہوگا۔ میں وہ بچہ ہوں جسے اس عمر میں ذہنی صدمات ملے جب اس کے ذہن کی نشوونما ہونی تھی۔

پھر بھی میں نے تو خود کو کسی حد تک سنبھال لیا اور لوگوں کو دیکھ اور سمجھ کر ہی آگے بڑھا، بس میں چاہتا تھا کہ خود کو ثابت کروں اور ساری دنیا کو یہ دکھاسکوں کہ میرے ذہن میں کیا ہے اور میں مستقبل میں کیا کرنے کا خواہش مند ہوں۔ میرے خیال میں میری زندگی اور میرے کردار کی اچھی بات یہ رہی کہ میں نے زندگی کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا اور پرکھا۔ اب جہاں تک مریخ پر انسانی آبادی کے قیام کی خواہش ہے تو اس میں، میں ایسا کیا غلط سوچ رہا ہوں۔

میرے خیال میں جب دنیا میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے انسان کا رہنا مشکل ہوجائے گا تو اسے اپنی رہائش کے لیے کوئی اور ٹھکانا تو ڈھونڈنا ہوگا ناں، بس میں نے وہی کیا ہے! میں زندگی میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم بھی ہوں اور پرعزم بھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایلن مسک ایک بے مثال انسان ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے اپنے اطراف غیرمعمولی ذہین لوگوں کو جمع کرلیا ہے جو اس کی دلی خواہش سے بھی واقف ہیں اور اس کے حصول کے لیے بھی دن رات جدوجہد کررہے ہیں۔

اس کی سبھی کمپنیاں اچھے اور کام کرنے والے مخلص کارکنوں سے بھری پڑی ہیں۔ ان کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے، یہ الگ بات ہے، لیکن یہ سچ ہے کہ اس نے اپنے ہم مزاج لوگوں کو اپنے ساتھ جمع کرلیا ہے اور جب ایک جیسے دماغ ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں تو اچھے کام خود بخود انجام پاتے چلے جاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں